پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 NOV 2026 7:04PM by PIB Delhi
’’صنفی اعداد و شمار اور شماریات: شواہد سے پالیسی بصیرت تک‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) نے یو این ویمن کے اشتراک سے 2 نومبر 2026 کو نئی دہلی میں کیا۔ کانفرنس میں پالیسی سازوں، مرکزی وزارتوں اور محکموں نیز ریاستی حکومتوں کے نمائندوں، شماریات دانوں، محققین، تعلیمی اداروں، تکنیکی ماہرین اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے صنفی اعداد و شمار کے تجزیے اور ان کے استعمال کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور و خوض کرنا تھا۔
اس کانفرنس کا انعقاد ایم او ایس پی آئی کی اہم اشاعت ’ویمن اینڈ مین اِن انڈیا 2025‘ (ہندوستان میں خواتین اور مرد 2025) کے نتائج کا جائزہ لینے اور انہیں اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا۔ اس کا مقصد کلیدی نتائج اور مختلف شعبوں میں ان کے باہمی روابط کے بارے میں فہم کو مزید گہرا کرنا، وزارتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان تبادلۂ خیال کو فروغ دینا اور صنفی اعداد و شمار کے تجزیاتی مطالعے اور پالیسی سازی میں ان کے استعمال کو مستحکم کرنے کے مواقع کی نشاندہی کرنا تھا۔

کانفرنس کا آغاز یو این ویمن انڈیا کی کنٹری ریپریزنٹیٹو محترمہ شوکو اشیکاوا کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے صنفی بنیاد پر الگ الگ اعداد و شمار کی اہمیت اور اعداد و شمار جمع کرنے والے اداروں اور ان کے استعمال کنندگان کے درمیان فاصلے کو کم کرنے پر زور دیا۔ ہندوستان میں یوروپی یونین (ای یو) کے سفیر جناب جین ایرک پیک نے صنفی مساوات اور خواتین کی اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے میں یوروپی یونین اور ہندوستان کی اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر پریتم بی یشونت نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔ اس کے بعد ایم او ایس پی آئی کے ڈائریکٹر جنرل (مرکزی شماریات) ڈاکٹر دلیپ سنگھ نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی رہنمائی کے لیے صنفی تفاوت کی نشاندہی کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکن ڈاکٹر شمیکا روی نے روزگار کے معیار کو بہتر بنانے، ریاستی سطح پر تجزیے کو فروغ دینے اور پالیسی اصلاحات کی رہنمائی کے لیے مضبوط صنفی اعداد و شمار کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے فلاحی خدمات کی فراہمی اور خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔
افتتاحی اجلاس کا اختتام ایم او ایس پی آئی کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محترمہ سپریا رائے کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے مقررین، شرکاء اور یو این ویمن کے تعاون کا اعتراف کیا۔
کانفرنس میں چار موضوعاتی تکنیکی اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں درج ذیل موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی:
- صحت اور زندگی بھر صحت و بقا
- لڑکیوں کی تعلیم، حصولِ علم اور تعلیمی مراحل میں منتقلی
- خواتین کا کام، اجرت، روزگار کی رسمی حیثیت اور نگہداشت
- خواتین کی روزی روٹی، کاروباری سرگرمیاں، ہنر اور مالی شمولیت
ان اجلاسوں میں ماہرین، پالیسی سازوں اور عملی میدان میں کام کرنے والے ماہرین نے ’ہندوستان میں خواتین اور مرد 2025‘ کے کلیدی نتائج کا جائزہ لیا، خواتین اور مردوں کے درمیان نتائج میں پائے جانے والے فرق کی نشاندہی کی اور شماریاتی شواہد کو قابلِ عمل پالیسی بصیرت میں تبدیل کرنے کے امکانات پر غور کیا۔
صحت اور بقا سے متعلق اجلاس میں غذائیت اور نوعمروں کی صحت کے چیلنجوں کو اجاگر کیا گیا، جبکہ زچگی کی صحت کی دیکھ بھال اور ضروری صحت خدمات کی فراہمی میں ہونے والی پیش رفت کو بھی تسلیم کیا گیا۔ لڑکیوں کی تعلیم، حصولِ علم اور تعلیمی مراحل میں منتقلی سے متعلق اجلاس میں تعلیمی اندراج میں بہتری کا ذکر کیا گیا، تاہم حصولِ علم کے نتائج، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے شعبوں میں لڑکیوں کی شرکت اور روزگار کے مواقع تک رسائی میں پائے جانے والے فرق کو بھی نمایاں کیا گیا۔
خواتین کے کام، اجرت، روزگار کی رسمی حیثیت اور نگہداشت سے متعلق اجلاس میں خواتین کی افرادی قوت میں بڑھتی ہوئی شرکت کو تسلیم کیا گیا، تاہم روزگار کے معیار، اجرت میں عدم مساوات اور بلا معاوضہ نگہداشت کے کام سے متعلق چیلنجوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔
خواتین کی روزی روٹی، کاروباری سرگرمیوں، ہنر اور مالی شمولیت سے متعلق اجلاس میں کاروباری سرگرمیوں اور مالی شمولیت کے میدان میں ہونے والی پیش رفت کو تسلیم کیا گیا۔ اس کے ساتھ خواتین کی فیصلہ سازی کی خودمختاری اور تحفظ کو یقینی بنانے نیز قرض، منڈیوں اور پائیدار ذرائع معاش تک ان کی بہتر رسائی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اختتامی اجلاس میں یو این ویمن انڈیا کی ویمنز اکنامک امپاورمنٹ کی کنٹری پروگرام منیجر محترمہ سہیلا خان اور ایم او ایس پی آئی کی ڈائریکٹر جنرل (این ایس ایس) محترمہ گیتا سنگھ راٹھور نے صحت، تعلیم اور اقتصادی شرکت کے شعبوں میں صنفی عدم مساوات کو مسلسل دور کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ اس سلسلے میں روزگار کے معیار، بلا معاوضہ نگہداشت کے کام اور مالی شمولیت پر خصوصی زور دیا گیا۔
اس اجلاس میں ہونے والے تبادلۂ خیال سے ’ہندوستان میں خواتین اور مرد‘ کی آئندہ اشاعتوں، بالخصوص 2026 کے ایڈیشن کے لیے بھی قیمتی معلومات حاصل ہوئیں۔ اس موقع پر صنفی تفاوت کی بہتر پیمائش، بین الوزارتی ہم آہنگی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ کانفرنس کا اختتام ایم او ایس پی آئی کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محترمہ سنیتا بھاسکر کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔
کانفرنس میں ہندوستان کے صنفی شماریاتی نظام کو مضبوط بنانے اور سرکاری اداروں، شماریاتی ایجنسیوں، محققین اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مسلسل تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ جامع ترقی اور صنفی مساوات کو آگے بڑھانے کے لیے صنفی بنیاد پر الگ الگ اعداد و شمار کو بامعنی پالیسی بصیرت میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
***
UR-7116
(ش ح۔اس ک )