ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کشتواڑ کے زلزلے  کےوسیع امکانات والے علاقے میں نئے زلزلہ پیما رصدگاہ کے افتتاح کے ساتھ آفات سے نمٹنے کی تیاریوں اور موسمیاتی نگرانی کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کو اجاگر کیا


ہندوستانی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے خطے میں موسمیاتی نگرانی کے نیٹ ورک کو مضبوط کیا ہے۔ 2014 میں یہاں ایک بھی ڈوپلر ویدر ریڈار موجود نہیں تھا، جبکہ گزشتہ 12 برسوں میں 4 ریڈار نصب کیے جا چکے ہیں اور مزید 4 نصب کیے جا رہے ہیں، جس سے ان کی مجموعی تعداد 8 ہو جائے گی۔ خودکار موسمیاتی مراکز کی تعداد 3 سے بڑھ کر 12 ہو گئی ہے، جن میں سے 4 کشتواڑ، جبکہ ڈوڈہ اور رام بن میں  2 - 2  مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ بارش کی نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی وسعت دی گئی ہے اور بارش ناپنے والے مراکز کی تعداد 9 سے بڑھا کر 15 کر دی گئی ہے

مزید 4 ڈوپلر ویدر ریڈار ڈوڈہ، کشتواڑ، اننت ناگ اور بارہمولہ میں نصب کیے جائیں گے؛ وزیر موصوف نے عوام سے سائنسی بنیادوں پر جاری کردہ موسمیاتی انتباہات پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی اپیل کی

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر میں موسمیاتی نگرانی کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کے ساتھ سائنسی موسمیاتی انتباہات پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 NOV 2026 4:23PM by PIB Delhi

آج ارضیاتی علوم  کی وزارت کے ذریعے کشتواڑ کے زلزلہ  کے وسیع امکانات والے علاقے میں نئی زلزلہ پیما رصدگاہ کا افتتاح کرتے ہوئے، سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، محکمۂ جوہری توانائی اور محکمۂ خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 2014 کے بعد جموں و کشمیر میں موسمیاتی اور موسم کی نگرانی کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی نمایاں توسیع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بالخصوص سابقہ ضلع ڈوڈہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال چسوتی میں بادل پھٹنے کے المناک واقعے کے بعد اس علاقے میں نگرانی کے مزید آلات نصب کیے گئے ہیں۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے خطے میں موسمیاتی نگرانی کے نیٹ ورک کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ 2014 میں یہاں ایک بھی ڈوپلر ویدر ریڈار موجود نہیں تھا، جبکہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران 4 ریڈار نصب کیے جا چکے ہیں اور مزید 4 نصب کیے جا رہے ہیں، جس سے ان کی مجموعی تعداد 8 ہو جائے گی۔ اسی طرح خودکار موسمیاتی مراکز کی تعداد 3 سے بڑھ کر 12 ہو گئی ہے، جن میں سے 4 کشتواڑ اور 2- 2 ڈوڈہ اور رام بن میں قائم کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر حکومتِ ہندکی ارضیاتی علوم کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر سری نواسا کمار تمّلا، سینئر سائنس داں سریش اور دیگر متعلقہ عہدیداران خصوصی طور پر نئی دہلی سے تشریف لائے تھے۔

پڈر-ناگسینی حلقۂ انتخاب کے رکنِ اسمبلی اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف جناب سنیل شرما، کشتواڑ اسمبلی حلقے کے رکنِ اسمبلی اور محترمہ شگن پریہار نے بھی اس موقع پر اظہارِ خیال کیا۔ ڈپٹی کمشنر کشتواڑ پنکج شرما اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کشتواڑ سنی گپتا سمیت دیگر عہدیداران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ سائنسی اور موسمیاتی نگرانی کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع سے اس خطے میں آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو بھی تقویت ملی ہے، کیونکہ یہ علاقہ زلزلوں، زمین کھسکنے اور موسم سے متعلق دیگر خطرات کے لیے حساس ہے۔

کشتواڑ میں قائم کی گئی نئی رصدگاہ جدید ترین ڈیجیٹل زلزلہ پیما آلات سے لیس ہے اور یہاں سے حاصل ہونے والا ڈیٹا حقیقی وقت میں نئی دہلی میں واقع قومی مرکز برائے زلزلہ پیما (نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی) کے 24 گھنٹے فعال زلزلہ نگرانی مرکز کو ارسال کیا جائے گا۔ اس نئی رصدگاہ کے قیام کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں زلزلہ پیما رصدگاہوں کی مجموعی تعداد چار ہو گئی ہے، جو جموں، سری نگر، ادھم پور اور کشتواڑ میں قائم ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ رصدگاہ خطے میں زلزلوں کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کرے گی اور اس کے زلزلے سے متعلق خطرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ اس کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات سے ضلع انتظامیہ اور امدادی ٹیموں کو ہنگامی حالات سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹنے میں مدد ملے گی، اس کے علاوہ محفوظ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں بھی سہولت حاصل ہوگی۔

2014 کے بعد موسمیاتی بنیادی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس سے قبل اس خطے میں ڈوپلر ویدر ریڈار کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ 2014 کے بعد بنی ہال، جوٹ، جموں اور سری نگر میں چار ڈوپلر ویدر ریڈار نصب کیے گئے ہیں، جس سے موسم کی نگرانی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2027 میں ڈوڈہ، کشتواڑ، اننت ناگ اور بارہمولہ میں مزید چار ڈوپلر ویدر ریڈار کام کرنا شروع کر دیں گے، جس سے موسمیاتی نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہوگا اور پورے خطے میں اس کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔

وزیر موصوف نے خودکار موسمیاتی مراکز کے نیٹ ورک میں ہونے والی نمایاں توسیع کو بھی اجاگر کیا۔ پہلے ادھم پور، کٹھوعہ اور رام بن میں صرف تین خودکار موسمیاتی مراکز قائم تھے، جن میں مزید 9 مراکز کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے ان کی مجموعی تعداد 12 ہو گئی ہے۔ ان میں کشتواڑ میں 4، ڈوڈہ اور رام بن میں 2-2 اور کٹھوعہ میں ایک مرکز شامل ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سائنسی بنیادی ڈھانچے کی توسیع خطے کی ضروریات اور جغرافیائی اعتبار سے موجود خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی حدود تبدیل ہو سکتی ہیں، لیکن جغرافیائی چیلنجز برقرار رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ خطرات سے دوچار علاقوں میں موسمیاتی نگرانی اور پیشگی انتباہی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

بارش کی نگرانی کے نیٹ ورک کو بھی وسعت دی گئی ہے اور پارلیمانی حلقے کے پانچ اضلاع میں بارش ناپنے والے مراکز کی تعداد 9 سے بڑھا کر 15 کر دی گئی ہے۔ یہ مراکز بارش سے متعلق باقاعدہ معلومات فراہم کرتے ہیں اور مقامی سطح پر موسمیاتی نگرانی کے نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔

موسمیاتی اور زرعی موسمیاتی خدمات کے دائرۂ کار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ اب پانچوں اضلاع کی تمام پنچایتوں میں پنچایت کی سطح پر موسم کی پیش گوئیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔ موسم کی پیش گوئی اور زرعی موسمیاتی مشاورتی خدمات سے 5,467 مستفیدین کو فائدہ پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں موسم سے متعلق معلومات تک عوام کی رسائی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے خطے میں خصوصی موسمیاتی سہولیات کو مضبوط بنانے کا بھی ذکر کیا، جن میں جموں و کشمیر کے پٹنی ٹاپ میں واقع بلند پہاڑی علاقوں کے بادلوں کی طبیعیات سے متعلق تجربہ گاہ (ہائی آلٹیٹیوڈ کلاؤڈ فزکس لیبارٹری) شامل ہے۔ جموں میں بھی علاقائی مرکزِ موسمیات (ریجنل میٹرولوجیکل سینٹر) کے قیام کے ذریعے موسمیاتی اور پیشگی انتباہی خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ موسم سے متعلق بروقت معلومات تک رسائی نے مقامی انتظامیہ اور آفات سے نمٹنے کی تیاریوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ حالیہ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسم کی پیشگی معلومات سے ضلع انتظامیہ کو سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور ان کا انتظام زیادہ آسانی اور بہتر انداز میں کرنے میں مدد ملی ہے۔

عوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر جاری کیے جانے والے موسمیاتی انتباہات اسی وقت انسانی جانیں بچا سکتے ہیں، جب انہیں سنجیدگی سے لیا جائے اور ان پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا جب موسم سے متعلق انتباہ کے بعد ٹریفک پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور بعد ازاں شاہراہ کو پہنچنے والے نقصان نے بروقت انتباہات پر عمل کرنے کی اہمیت کو واضح کر دیا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’معلومات اہم ہیں، لیکن ان پر عمل کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔‘‘ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ موسمیاتی انتباہات اور مشاورتی ہدایات کے دوران انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے غیر مصدقہ اور خوف و ہراس پھیلانے والی معلومات کا مقابلہ سائنسی اور شواہد پر مبنی ابلاغ کے ذریعے کرنے کی ضرورت پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ موسم سے متعلق معلومات اور پیش گوئیوں کو سائنسی جائزے اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر سمجھنا چاہیے۔

ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے مثبت امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ڈیجیٹل معلومات اور نئے پلیٹ فارم تک رسائی نے نوجوانوں، بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اب دستیاب مواقع اور سہولیات سے تعمیری انداز میں فائدہ اٹھائیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے خطے میں وسیع تر تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا اور بہتر رابطہ کاری کے ساتھ کشتواڑ کو بجلی کی پیداوار کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ترقی دینے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سلامتی اور فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ خطے کی سائنسی صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔

اس تقریب میں اعلیٰ سرکاری عہدیداران، عوامی نمائندوں اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

******

 

( ش ح ۔ م م ۔م ا )

UR.No-7101


(ریلیز آئی ڈی: 2331805) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी