پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 NOV 2026 6:17PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا نے آج آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، راجکوٹ میں جدید ریڈیوتھراپی سہولت کا افتتاح کیا اور اسے قوم کے نام وقف کیا۔ جدید ریڈی ایشن تھراپی ٹیکنالوجی سے لیس یہ سہولت راجکوٹ اور وسیع تر سوراشٹر خطے کے لوگوں کے لیے کینسر کے خصوصی علاج تک رسائی کو بہتر بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
تقریباً 39 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے ایمس راجکوٹ میں یہ سہولت پردھان منتری سواستھیہ سرکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی) کے تحت قائم کی گئی ہے۔ یہ اقدام اعلیٰ سطحی صحت خدمات کی دستیابی میں علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے جناب جے پی نڈا نے کہا کہ کینسر کے مرض سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو طبی، جذباتی، سماجی اور مالی اعتبار سے بھاری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بروقت علاج نہایت اہم ہے اور کسی بھی شخص کو اس کی رہائش کے مقام یا مالی حالات کی وجہ سے معیاری کینسر علاج سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اس نئی سہولت سے خاص طور پر سوراشٹر اور کچھ کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا، جنہیں اس سے قبل خصوصی علاج کے لیے احمد آباد اور ممبئی جیسے دور دراز شہروں کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے اس سہولت کو خطے میں کینسر کے علاج تک رسائی بہتر بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
جناب نڈا نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ایمس اداروں کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے نئی دہلی میں ایک ایمس سے آگے بڑھتے ہوئے 22 میں سے 18 ایمس اداروں کو فعال بنانے میں پیش رفت کی ہے، جس سے اعلیٰ سطح کی خصوصی طبی خدمات تک لوگوں کی رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صحت خدمات کی مختلف سطحوں کے درمیان بہتر تال میل اور مربوط نظام ضروری ہے، تاکہ مریضوں کو ان کی ضرورت کے مطابق مناسب علاج فراہم کیا جا سکے۔
بیماریوں کی روک تھام اور ان کی جلد تشخیص کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب نڈا نے آیوشمان آروگیہ مندروں کے ذریعے جاری اسکریننگ مہمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2018 سے اب تک ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس، دونوں کی تقریباً 44-44 کروڑ اسکریننگ کی جا چکی ہیں، جبکہ منہ کے کینسر کے لیے تقریباً 37.7 کروڑ افراد کی جانچ کی گئی ہے، جس کے دوران تقریباً 2.5 لاکھ معاملات کی نشاندہی ہوئی ہے۔ چھاتی کے کینسر کی اسکریننگ کے تحت تقریباً 17.7 کروڑ خواتین کی جانچ کی گئی، جن میں تقریباً 95,000 معاملات سامنے آئے، جبکہ سروائیکل کینسر کے لیے 9.8 کروڑ خواتین کی اسکریننگ کی گئی، جس میں تقریباً ایک لاکھ معاملات کی نشاندہی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جلد تشخیص سے مریضوں کو بروقت علاج شروع کرنے کا موقع ملتا ہے اور صحت یابی کے امکانات بہتر ہوتے ہیں۔
وزیر موصوف نے لینسیٹ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے پیش کیے گئے نتائج کا بھی ذکر کیا، جن کے مطابق کینسر کے 90 فیصد مریضوں کا علاج 30 دن کے اندر شروع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بروقت علاج تک رسائی میں بہتری کی ایک وجہ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے ذریعے مالی تحفظ کے دائرے میں توسیع کو قرار دیا، جس کی بدولت معاشی طور پر کمزور مریض مالی رکاوٹوں کی اسی شدت کے بغیر علاج کرا سکتے ہیں۔ ایمس راجکوٹ میں اے بی پی ایم-جے اے وائی کے اہل مستفیدین کینسر کا علاج مفت حاصل کر سکیں گے، جبکہ دیگر مریضوں کو رعایتی نرخوں پر علاج فراہم کیا جائے گا، تاکہ ان پر مالی بوجھ کم سے کم ہو۔
حکومت گجرات کے وزیر مملکت برائے صحت، خاندانی بہبود اور طبی تعلیم (آزادانہ چارج) جناب پرفل پنشیریا نے اس سہولت کے افتتاح کا خیرمقدم کیا اور خطے میں صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کے لیے معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ریڈیوتھراپی سہولت سے سوراشٹر بھر کے لوگوں کو کافی فائدہ پہنچے گا۔
وزارت صحت و خاندانی بہبود کی سکریٹری محترمہ پنیہ سلیلا سریواستو نے اس افتتاح کو ایمس راجکوٹ کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے پیش کردہ وکست بھارت کے تصور کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے قومی صحت پالیسی 2017 کا ذکر کیا، جو مرکزی وزیر صحت کی رہنمائی میں تیار کی گئی تھی۔ اس پالیسی میں احتیاطی، فروغِ صحت، علاج، بحالی اور تکلیف میں راحت فراہم کرنے والی خدمات پر مشتمل جامع صحت نظام کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس میں سبھی کے لیے صحت کی سہولیات کی فراہمی کو قومی ہدف قرار دیا گیا ہے۔
محترمہ سریواستو نے کہا کہ حکومت نے 1.8 لاکھ سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندروں اور پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن کے ذریعے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے جدید علاج اور تحقیق کے شعبے میں ایمس راجکوٹ کے تعاون، سوستھ ناری سشکت پریوار مہم کے تحت کینسر کی اسکریننگ کی کوششوں اور کینسر کی ادویات کو سستا بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ ان اقدامات میں تجارتی منافع کے مارجن کو معقول بنانا، امرت فارمیسیز، جن اوشدھی کیندروں اور بنیادی کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان میں کار-ٹی (کار-ٹی) سیل تھراپی بھی سستی قیمتوں پر دستیاب ہے۔
ایمس راجکوٹ کے صدر ڈاکٹر جے ایس تیتھیال نے اس سہولت کو خطے میں کینسر کے علاج کے شعبے میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔ انہوں نے اس خدمت کے قیام میں تعاون کے لیے حکومت ہند اور حکومت گجرات کی ستائش کی اور اس کے قیام میں کردار ادا کرنے والے فیکلٹی ممبران، ڈاکٹروں، نرسوں اور تکنیکی عملے کی خدمات کو بھی سراہا۔
توقع ہے کہ جدید ریڈیوتھراپی سہولت سوراشٹر کے مختلف علاقوں میں تقریباً 1.54 کروڑ کی آبادی کو خدمات فراہم کرے گی۔ اس میں راجکوٹ، جام نگر، جوناگڑھ، پوربندر، امریلی، بھاؤ نگر، موربی، سریندر نگر، گیر سومناتھ، دیو بھومی دوارکا اور بوٹاڈ شامل ہیں۔ اس سے اس خطے کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا، جہاں بڑی تعداد میں دیہی، نیم شہری اور معاشی طور پر کمزور طبقے آباد ہیں۔
یہ سہولت ہائی انرجی لینیئر ایکسیلیریٹر (ایل آئی این اے سی)، وائیڈ بور سی ٹی سمیولیٹر اور ہائی ڈوز ریٹ (ایچ ڈی آر) بریکی تھراپی یونٹ سے لیس ہے۔ لینیئر ایکسیلیریٹر کے ذریعے جدید تکنیکیں استعمال کی جا سکتی ہیں، جن میں انٹینسٹی موڈیولیٹڈ ریڈیوتھراپی (آئی ایم آر ٹی)، والیومیٹرک موڈیولیٹڈ آرک تھراپی (وی ایم اے ٹی)، امیج گائیڈڈ ریڈیوتھراپی (آئی جی آر ٹی)، اسٹیریوٹیکٹک ریڈیو سرجری (ایس آر ایس)، اسٹیریوٹیکٹک ریڈیوتھراپی (ایس آر ٹی) اور اسٹیریوٹیکٹک باڈی ریڈیوتھراپی (ایس بی آر ٹی) شامل ہیں۔ ان تکنیکوں کی مدد سے ملی میٹر کی سطح تک درستگی کے ساتھ شعاعوں کے ذریعے علاج ممکن ہوتا ہے۔ وائیڈ بور سی ٹی سمیولیٹر علاج کی منصوبہ بندی کے لیے سہ جہتی امیجنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ ہائی ڈوز ریٹ بریکی تھراپی کے ذریعے امراضِ نسواں کے کینسر، سر و گردن کے کینسر، سارکوما اور دیگر رسولیوں کا مخصوص مقام پر اندرونی شعاعوں کے ذریعے علاج کیا جا سکتا ہے۔
ریڈی ایشن آنکولوجی کا شعبہ کینسر کے مربوط علاج کے نظام کے تحت کام کرتا ہے، جسے کیموتھراپی اور سرجری کی خدمات حاصل ہیں۔ ان میں سر و گردن، آرتھوپیڈک، امراضِ نسواں سے متعلق آنکولوجی اور جنرل سرجری شامل ہیں۔ اس کثیر شعبہ جاتی نظام کے تحت مریضوں کو ایک ہی ادارے میں کینسر کے علاج کی مختلف سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
یہ شعبہ 29 مئی 2026 سے فعال ہے اور اس نے ریڈیوتھراپی اور کیموتھراپی کی خدمات فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔ توقع ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اس سہولت کے ذریعے سالانہ تقریباً 500 سے 700 مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔ اس میں سرا ور گردن، امراضِ نسواں، چھاتی، ہڈیوں اور نرم بافتوں کے کینسر سمیت دیگر اقسام کے سرطان کے علاج پر توجہ دی جائے گی۔
اس پروگرام میں رکن پارلیمنٹ جناب پرشوتم بھائی روپالا اور جناب کیسر دیو سنگھ جھالا، ایمس راجکوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایل این دورائی راجن، وزارت صحت کے دیگر سینئر افسران، فیکلٹی ممبران اور طبی خدمات سے وابستہ ماہرین نے بھی شرکت کی۔
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 7112