راجیہ سبھا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

راجیہ سبھا کی کامرس کمیٹی کی 200ویں رپورٹ پر پریس ریلیز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 AUG 2026 5:49PM by PIB Delhi

تجارت سے متعلق محکمہ جاتی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی، جس کی سربراہی راجیہ سبھا کی رکن محترمہ ڈولا سین کر رہی ہیں، نے 6 اگست 2026 کو ’بھارت اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کا جائزہ‘ کے موضوع پر اپنی 200ویں رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی۔ اس رپورٹ میں کمیٹی نے بھارت اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کا جائزہ لیا ہے، معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کرنے والے امریکی محصولات کے اقدامات سے پیدا ہونے والے اہم چیلنجوں کی نشاندہی کی ہے اور ان شعبوں سے متعلق اہم خدشات کو دور کرنے کے لیے سفارشات پیش کی ہیں۔

کمیٹی نے سات گھنٹے اور 50 منٹ پر محیط اپنے چار اجلاسوں کے دوران وزارتِ تجارت و صنعت کے محکمۂ تجارت، وزارتِ خزانہ کے محکمۂ مالیاتی خدمات، وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے محکمۂ ماہی پروری، وزارتِ خارجہ، وزارتِ بھاری صنعت، وزارتِ ایم ایس ایم ای، وزارتِ ٹیکسٹائل، وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود کے محکمۂ زراعت و کسانوں کی بہبود، وزارتِ ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری، زرعی اور ڈبہ بند غذائی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کی اتھارٹی، بھارتی برآمدی تنظیموں کی فیڈریشن، کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری، فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، بینکوں اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں سمیت مختلف متعلقہ فریقوں کے ساتھ اس موضوع کا جائزہ لیا اور تبادلۂ خیال کیا۔ کمیٹی نے 5 اگست 2026 کو منعقدہ اپنے اجلاس میں رپورٹ کے مسودے پر غور کرنے کے بعد اسے منظور کیا۔ اس رپورٹ میں کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ سفارشات اور مشاہدات منسلک ہیں۔

مکمل رپورٹ https://sansad.in/rs پر بھی دستیاب ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ’کمیٹیز‘، پھر ’ڈی آر ایس سی پی۔ آر ایس‘، ’کامرس‘ اور پھر’رپورٹ‘  پر جائیں۔

سفارشات اور مشاہدات — ایک نظر میں

تعارف

  1. کمیٹی نے ملک بھر کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے متعلقہ فریقوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں، جن میں سمندری مصنوعات اور ماہی گیر برادری، چمڑے، گاڑیوں کی صنعت، ٹیکسٹائل بشمول جوٹ اور کپاس، قیمتی پتھروں اور زیورات، کیمیکلز اور پیٹروکیمیکلز، فولاد، زراعت اور زرعی بنیاد پر قائم صنعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ ان تمام فریقوں نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے امریکی محصولات میں اضافے کے حوالے سے اپنے خیالات اور خدشات پیش کیے ہیں۔ مذکورہ بالا صورتِ حال کے پیش نظر، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ملک اور اس کے شہریوں کے مفاد میں بھارت اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ (پیراگراف 1.5)

بھارت اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات

  1. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دے، ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنائے کہ بھارت کے مفادات کا پوری طرح تحفظ کیا جائے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ محکمہ کو ’مشن 500‘ پہل کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک مقررہ مدت پر مشتمل لائحۂ عمل بھی تیار کرنا چاہیے۔ اس کے تحت اشیا اور خدمات کی تجارت کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے، ’ٹرسٹ‘ (اسٹریٹجک ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے تعلقات میں تبدیلی) کے فریم ورک کے تحت اہم ٹیکنالوجیز کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے، سپلائی چین کو مزید مستحکم بنانے اور بھارتی برآمد کنندگان کو درپیش محصولات اور غیر محصولات سے متعلق تجارتی رکاوٹوں اور منڈی تک رسائی کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ (پیراگراف 2.5)
  2. کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ اس لائحۂ عمل پر جامع طور پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ برآمدی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور عالمی سطح پر رسد کی فراہمی میں اچانک پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے مقابلے میں لاگت کے اعتبار سے مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے ملک میں پہلے سے جاری ’پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیموں‘ (پی ایل آئی)کے مؤثر اور حکمتِ عملی پر مبنی استعمال پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی پیشہ ورانہ خدمات، ادویہ سازی اور زرعی معیارات کے شعبوں میں باہمی شناخت کے معاہدوں کو ترجیحی بنیاد پر تیزی سے حتمی شکل دی جائے، تاکہ امریکی بندرگاہوں پر تجارت کے سلسلے میں من مانی تکنیکی رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔ کمیٹی مزید تجویز کرتی ہے کہ کرنسی کی شرحِ تبادلہ میں اتار چڑھاؤ اور رسد و ترسیل سے متعلق مسائل کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ایک ادارہ جاتی نظام قائم کرنا بھی ناگزیر ہے، تاکہ چھوٹی، خردہ اور اوسط درجے کی صنعتوں پر مبنی برآمدی شعبوں کو اچانک ضابطہ جاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ اس سے بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک مضبوط، زیادہ متوازن اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری قائم کرنے میں مدد ملے گی۔(پیراگراف 2.6)
    موجودہ تجارتی صورتحال
  3. کمیٹی کی رائے ہے کہ حکومت کو منڈی تک رسائی سے متعلق مسائل حل کرنے، غیر محصولات سے متعلق تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور بھارتی برآمد کنندگان، بالخصوص خردہ، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کی معاونت کے ذریعے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ چھوٹی صنعتوں کو محصولات میں غیر یقینی اور بار بار ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے محکمہ کو مقامی سطح پر مالیاتی تحفظ کے مؤثر انتظامات اور برآمدی قرض کی سہولت فراہم کرنے والے پروگراموں پر فعال طور پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ (پیراگراف 3.5)
  4. کمیٹی اس بات پر تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ بھارتی اشیا پر عائد کیے جانے والے غیر ملکی محصولات میں بہت تیزی سے اور غیر متوقع طور پر تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ بھارتی برآمد کنندگان کے مفادات سے کوئی سمجھوتہ کیے بغیر مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے، تاکہ دونوں ملکوں کے کاروباری ادارے ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی تجارتی ماحول سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس معاہدے کو مؤثر بنانے کے لیے کمیٹی کی رائے ہے کہ حکومت مذاکرات کے دوران بھارت کی اہم برآمدی مصنوعات، مثلاً عام استعمال کی ادویات، اہم معدنیات اور اسمارٹ فونز کو امریکہ کی جانب سے مستقبل میں محصولات میں کسی بھی غیر متوقع اضافے سے مکمل چھوٹ دلانے کی کوشش کرے۔ مزید برآں، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کو ایک خصوصی اور فوری کارروائی کرنے والا نگرانی کا شعبہ قائم کرنا چاہیے، جو امریکہ میں کسٹم کے معائنے اور جانچ پڑتال کے عمل پر حقیقی وقت میں نظر رکھے، تاکہ بھارتی برآمد کنندگان کو درآمدات سے متعلق کسی بھی نئے ضابطے کے بارے میں فوری طور پر خبردار کیا جا سکے۔ (پیراگراف 3.6)
  5.  کمیٹی یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ ایم ایس ایم ای کی وزارت چھوٹے کاروباری اداروں کو ان کی دستاویزی کارروائی بہتر بنانے کے لیے فوری تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرے، تاکہ وہ خام مال کے ماخذ کی درست تفصیلات دستاویزات کے ذریعے ثابت کر سکیں اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کی برآمدی کھیپیں امریکی سرحدوں پر نہ پھنسیں اور نہ ہی ان کی ترسیل میں تاخیر ہو۔ (پیرا گراف3.7)
  6. محکمہ نے کمیٹی کو مطلع کیا کہ امریکہ کو بھارت کی خدمات کی برآمدات 51.20 ارب امریکی ڈالر رہی ہیں، جن میں 2020 سے اب تک اوسط سالانہ شرحِ نمو 11.58 فیصد درج کی گئی ہے۔ اسی دوران امریکہ سے بھارت کی خدمات کی درآمدات بڑھ کر 47.32 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جن کی اوسط سالانہ شرحِ نمو 18.68 فیصد رہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ کے ساتھ خدمات کی مجموعی تجارت دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جو 2014 میں 40.53 ارب امریکی ڈالر تھی اور 2024 میں بڑھ کر 98.52 ارب امریکی ڈالر ہو گئی۔ امریکہ سے بھارت کی خدمات کی درآمدات میں اضافے کی رفتار (18.68 فیصد اوسط سالانہ شرحِ نمو) ہماری خدمات کی برآمدات (11.58 فیصد اوسط سالانہ شرحِ نمو) کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ (پیراگراف 3.8)
  7. کمیٹی کا خیال ہے کہ تجارت میں فاضل آمدنی کے اس رجحان کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، کمیٹی کی رائے ہے کہ محکمہ کو بھارت کی تجارت اور کاروبار کو متاثر کرنے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھنی چاہیے، جس میں امریکہ کی جانب سے محصولات سے متعلق اقدامات اور غیر محصولات سے متعلق تجارتی رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔ محصولات کے اقدامات کے منفی اثرات سے دوچار ہونے والے شعبوں کو بروقت پالیسی جاتی معاونت فراہم کی جانی چاہیے، تاکہ بھارت کی برآمدات کی ترقی متاثر نہ ہو۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل صحت اور انجینئرنگ تحقیق جیسی اعلیٰ قدر کی علمی خدمات کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ایک ہدفی حکمتِ عملی تیار کرے، تاکہ خدمات کے شعبے میں بھارت کی طویل مدتی مسابقتی برتری برقرار رکھی جا سکے۔ (پیراگراف 3.12)
  8. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ محکمہ عالمی سطح پر ’دوست ممالک میں پیداواری سرگرمیوں کی منتقلی‘ کے رجحان سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی صنعت کاروں کو امریکہ کی اہم  سپلائی چینز میں گہرائی سے شامل کرے، بالخصوص الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز اور صاف توانائی کے شعبوں میں۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھارت کے پیداواری شعبے میں راغب کرنے کے لیے ہدفی سرمایہ کاری کے فروغ کی حکمتِ عملیاں بھی اختیار کی جانی چاہئیں، تاکہ طویل مدت تک برآمدات کی ترقی برقرار رکھنے کے لیے درکار پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔ (پیراگراف 3.13)
  9. کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ امریکہ کی بلندجی ڈی پی کی شرح کے باعث بھارتی اشیا کے لیے خدمات اور تجارتی اشیا، دونوں شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ تال میل قائم کرتے ہوئے مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے، اختراع کو فروغ دینے، سپلائی کے نظام کو مضبوط بنانے، ہنرمندی کی ترقی، رسد کے اخراجات میں کمی اور برآمد کنندگان کو امریکہ کے بدلتے ہوئے ضابطہ جاتی معیارات پر پورا اترنے میں مدد فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔ مزید برآں، کمیٹی کی رائے ہے کہ خردہ، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے، تاکہ وہ برآمدات میں مؤثر طور پر حصہ لے سکیں اور امریکہ کے محصولات سے متعلق اقدامات کے مقابلے میں اپنی لچک اور مزاحمت کی صلاحیت بڑھا سکیں۔ (پیراگراف 3.15)
  10. کمیٹی کی رائے ہے کہ محکمہ کو سیمی کنڈکٹرز، صاف توانائی، اہم معدنیات اور جدید ٹیکنالوجیز کی منتقلی جیسے شعبوں میں امریکہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ ان شعبوں میں شراکت داری سے ملک کی اندرونِ ملک پیداواری صلاحیتوں کو فروغ ملے گا اور درآمدات کے لیے کسی ایک ذریعے پر حد سے زیادہ انحصار بھی کم ہوگا۔ (پیراگراف 3.17)
  11. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ مختلف شعبوں کے لیے مخصوص حکمت عملی اختیار کرے، جس کے تحت خصوصی صنعتی راہداریوں کے ذریعے برقی مشینری اور آلات کے شعبے میں تیز رفتار ترقی کے عمل کو مزید تقویت دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکسٹائل اور ملبوسات نیز موتیوں اور قیمتی پتھروں جیسے روایتی اور محنت پر مبنی شعبوں میں گرتی ہوئی ترقی کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کی غرض سے خصوصی مالی امداد فراہم کی جائے، تاکہ ملک میں روزگار کے مواقع کا تحفظ کیا جا سکے۔ (پیراگراف 3.18)
  12. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ ادویہ سازی کی مصنوعات اور نامیاتی کیمیکلز کی برآمدات میں دیکھی جانے والی مسلسل ترقی کو تیز کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے بھارت میں ادارہ جاتی سطح پر پیشگی منظوری کے نظام اور مشترکہ جانچ کی سہولیات قائم کی جائیں، جو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (یو ایس ایف ڈی اے) کے رہنما خطوط کے مطابق ہوں۔ (پیراگراف 3.19)
  13. کمیٹی کا ماننا ہے کہ روایتی برآمدات میں جمود کی صورتِ حال پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ بازار کی ضروریات سے منسلک ایک خصوصی ترغیبی اسکیم تیار کرے، تاکہ ٹیکسٹائل اور جواہرات و زیورات کے برآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کے ڈیزائن میں تنوع لانے اور امریکہ میں صارفین کی بدلتی ہوئی پسند و ترجیحات کے مطابق انہیں ڈھالنے میں مدد مل سکے۔ (پیراگراف 3.20)
  14. کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے محصولات عائد کیے جانے کے باوجود بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کی معیشتیں ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس سے اشیا کی باہمی تجارت کو مزید فروغ دینے کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ (پیراگراف 3.22)
  15. کمیٹی کی رائے ہے کہ محکمہ کو امریکی منڈی میں بھارت کی حصہ داری بڑھانے کے لیے ایک طویل مدتی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ، کمیٹی کا پختہ خیال ہے کہ محکمہ کو برآمد کی جانے والی مصنوعات میں تنوع لانے، عالمی قدر کی زنجیروں سے وابستگی مضبوط کرنے، پائیدار رسدی نظام تیار کرنے، قدر میں اضافے والی اشیا کی تیاری کو فروغ دینے اور مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو بروقت حتمی شکل دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ مزید برآں، تجارت سے متعلق ابھرتے ہوئے مسائل کو حل کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں میں بھارت کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے صنعتوں اور برآمد کنندگان کے ساتھ باقاعدگی سے مشاورت بھی کی جانی چاہیے۔ (پیراگراف 3.23)
  16. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ محکمہ ڈیجیٹل معیشت اور خدمات کے شعبے کے لیے ایک مخصوص لائحہ عمل تیار کرے، جس میں سرحد پار ڈیٹا کے بہاؤ کو ہم آہنگ بنانے اور تخلیقی و اختراعی حقوق کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ امریکی منڈی میں بھارت کے عالمی صلاحیتی مراکز (جی سی سی) اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ (پیراگراف 3.24)
  17. کئی ارب ڈالر تک پھیلتے ہوئے تجارتی حجم کے پیش نظر، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ امریکی تجارتی حکام کے ساتھ مل کر ایک مخصوص اور تیز رفتار دوطرفہ ادارہ جاتی نظام قائم کرنے کی کوشش کرے۔ اس نظام کے تحت تجارتی تنازعات اور ضابطوں کی تعمیل سے متعلق اختلافات کی بروقت نشاندہی کی جائے، ان پر تبادلۂ خیال کیا جائے اور انہیں حل کیا جائے، تاکہ یہ مسائل بڑھ کر تجارت پر پابندی عائد کرنے والے محصولات کی صورت اختیار نہ کر لیں۔ (پیراگراف 3.25)
  18. کمیٹی کا ماننا ہے کہ ترقی کی بلند رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ملک میں مضبوط بنیادی ڈھانچے کا ہونا ضروری ہے۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ، وزارتِ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے ساتھ تال میل قائم کرکے خصوصی تیز رفتار برآمدی راہداریاں اور خودکار کسٹم کلیئرنس زون قائم کرے، جو خاص طور پر امریکہ بھیجی جانے والی بڑی مقدار کی تجارتی اشیا کے لیے مخصوص ہوں۔ (پیراگراف 3.26)

شعبہ وار تجزیہ

  1. کمیٹی کی رائے ہے کہ محکمہ کو مجوزہ بھارت-امریکہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کو ترجیح دینی چاہیے، جس میں انجینئرنگ اشیا، آٹوموبائل کے پرزوں اور گاڑیوں کی صنعت سے متعلق دیگر مصنوعات پر محصولات میں کمی لانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ بھارتی برآمد کنندگان پر امریکہ کی جانب سے عائد اضافی محصولات ختم ہونے سے بھارت کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس سے برآمد کنندگان کو اپنے کاروبار کے لیے طویل مدتی حکمت عملی تیار کرنے میں بھی ضروری یقین دہانی اور استحکام حاصل ہوگا۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون اور رسدی زنجیروں کے باہمی انضمام کو بھی فروغ ملے گا۔(پیراگراف 4.5)
  2. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ انجینئرنگ کے شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ یہ مقصد ٹیکنالوجی کو جدید بنانے، خودکاری کو فروغ دینے، تحقیق و ترقی، معیار میں بہتری اور عالمی پیداواری معیارات کو اپنانے کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ پیداواری نظام کی ساختی خامیوں کو کم کرنے سے پیداواری لاگت میں نمایاں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں محصولات کے بدلتے ہوئے نظام کے باوجودبھارتی آٹوموبائل پرزے امریکی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکیں گے۔ (پیراگراف 4.6)
  3. کمیٹی کا ماننا ہے کہ بھارتی صنعت کاروں اور امریکہ کے اصل سازوسامان تیار کرنے والے اداروں (او ای ایم)، درجہ اوّل کے سپلائرز اور بڑے خریداروں کے درمیان کاروباری شراکت داری کو فروغ دینے میں محکمہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ متعلقہ وزارتوں کے ساتھ تال میل قائم کرکے برآمد کنندگان کو بروقت برآمدی قرضے، نئی منڈیوں تک رسائی، تجارتی مالیات، برآمدات سے متعلق ضابطوں کی تکمیل، نقل و حمل اور رسد کی سہولیات نیز بیرونِ ملک گوداموں کے قیام وغیرہ کے سلسلے میں بھی مدد فراہم کرے۔ کمیٹی مزید تجویز کرتی ہے کہ ایک ہی ملک پر انحصار کم کرنے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ یورپ، افریقہ، لاطینی امریکہ، خلیجی خطے اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں سمیت متبادل خطوں میں انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے وسیع پیمانے پر منڈی تک رسائی کی مہمات بھی شروع کی جائیں۔ (پیراگراف 4.7)
  4. کمیٹی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ آٹوموبائل کا شعبہ بڑی تعداد میں چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) پر مشتمل ہے، جن کے پاس محصولات میں اچانک اضافے کے اثرات برداشت کرنے کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل نہیں ہوتے۔ اس لیے کمیٹی ایک مخصوص ’ایم ایس ایم ای برآمدی استحکام اسکیم‘ شروع کرنے کی سفارش کرتی ہے۔ کمیٹی تجویز کرتی ہے کہ اس اسکیم کے تحت محکمہ چھوٹی صنعتوں کو ہدف بنا کر مالی امداد فراہم کرے، برآمدی قرضوں پر شرحِ سود کم رکھے اور ضابطوں کی پیچیدہ شرائط کو پورا کرنے میں ان کی مدد کے لیے ادارہ جاتی سطح پر تکنیکی رہنمائی بھی فراہم کرے۔ (پیراگراف 4.8)
  5. اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کہ خریداروں کی مخصوص اور سخت تکنیکی شرائط کے باعث بھارتی پرزوں کو فوری طور پر نئی منڈیوں کا رخ نہیں دلایا جا سکتا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت ایک قومی فنڈ قائم کرنے کے امکان کا جائزہ لے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ اس فنڈ کے ذریعے بھارتی سپلائرز کو مالی مراعات اور مساوی مالی امداد فراہم کی جانی چاہیے، تاکہ نئی عالمی رسدی زنجیروں میں شامل ہونے کے لیے مصنوعات کے نئے ڈیزائن تیار کرنے، نئے آلات و سانچوں میں سرمایہ کاری کرنے، نمونہ مصنوعات تیار کرنے اور بیرونِ ملک سے درکار تکنیکی اسناد حاصل کرنے پر آنے والی بھاری لاگت کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ (پیراگراف 4.9)
  6. بھارت کی برآمدی معیشت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے اور عالمی خریداروں کے ترجیحی تجارتی شراکت داروں کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایک منظم لائحہ عمل تیار کیا جائے، تاکہ بھارتی سپلائرز پائیدار طریقۂ پیداوار اختیار کر سکیں۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ محکمہ توانائی کے مؤثر استعمال، کاربن کے اخراج کے نقشے کی تیاری اور ماحولیات، سماجی ذمہ داری اور حکمرانی (ای ایس جی) سے متعلق عالمی معیارات کی پابندی کے لیے ترغیبات فراہم کرے، کیونکہ یہ امور اب مغربی ممالک کی اعلیٰ درجے کی رسدی زنجیروں میں داخلے کے لیے لازمی شرائط بنتے جا رہے ہیں۔ (پیراگراف 4.10)
  7. اس صنعت پر براہِ راست انحصار کرنے والے لوگوں کے روزگار کو برقرار رکھنے کے لیے، کمیٹی مسلسل صلاحیت سازی کے پروگرام کی سفارش کرتی ہے۔ کمیٹی کا مشورہ ہے کہ محکمہ، ہنرمندی کے فروغ کی وزارت کے اشتراک سے، صنعت 4.0 کی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جدید تربیتی مراکز قائم کرے۔ ان مراکز میں سمارٹ آٹومیشن، روبوٹکس، باریک انجینئرنگ اور برقی گاڑیوں (ای وی) کے پرزے تیار کرنے سے متعلق تربیت فراہم کی جائے، کیونکہ اس سے تکنیکی صلاحیتوں کے فقدان کو دور کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ بھارتی پرزے عالمی منڈی کی آئندہ نسل کی ضروریات پر پورا اتریں۔ تاہم، کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت کے سالانہ بجٹ میں اضافہ کیا جانا ضروری ہے، بصورتِ دیگر بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہنرمندی کے فروغ کی کوششیں حقیقی معنوں میں مؤثر ثابت نہیں ہوں گی۔ (پیراگراف 4.11)
  8. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ نئے تجارتی شراکت داروں کی نشاندہی کرنے اور مسابقتی صلاحیت، منڈیوں اور مصنوعات میں تنوع پیدا کرنے کی کوششوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔ ان اقدامات سے بھارت کی جواہرات اور زیورات کی برآمدات کی طویل مدتی ترقی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ (پیراگراف 4.20)
  9. کمیٹی کی رائے ہے کہ محکمہ اس شعبے کے لیے ایک جامع امدادی پیکیج فراہم کر سکتا ہے، جس میں برآمدی قرضے، شرحِ سود میں رعایت، برآمدی بیمہ، کاروباری سرمائے کی فراہمی اور بالخصوص چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے تجارتی مالیات شامل ہوں۔ کمیٹی کی پختہ رائے ہے کہ مالیاتی اداروں اور بینکوں کو سستے قرضوں کی بروقت دستیابی یقینی بنانی چاہیے، تاکہ برآمد کنندگان عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتِ حال کے باعث پیدا ہونے والی عارضی رکاوٹوں سے مؤثر طور پر نمٹ سکیں۔ (پیراگراف 4.21)
  10. کمیٹی کا خیال ہے کہ مصنوعات کی قدر میں اضافے، برانڈ سازی، ہال مارکنگ، ڈیزائن میں جدت اور جدید پیداواری ٹیکنالوجیز پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ اعلیٰ قدر کی مصنوعات، مثلاً تجربہ گاہوں میں تیار کیے گئے ہیرے، ڈیزائنر زیورات، برانڈڈ زیورات اور قیمتی دھاتوں کے زیورات کے لیے خصوصی مراعات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ تحقیق، ڈیزائن کی تیاری اور ہنرمندی میں اضافے کے عمل کو مضبوط بنایا جائے، تاکہ بھارت عالمی قدر کی زنجیر میں مزید بلندی حاصل کر سکے اور اپنی برآمدات سے ہونے والی آمدنی میں اضافہ کر سکے۔ (پیراگراف 4.22)
  11. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ محکمہ جواہرات اور زیورات کے شعبے پر محصولات اور غیر محصولاتی رکاوٹوں کے اثرات کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ایک مخصوص نگرانی کا نظام قائم کرے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ ابھرتے ہوئے تجارتی خطرات کی نشاندہی کرنے، بین الاقوامی منڈی کے حالات میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنے اور بروقت پالیسی اقدامات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک پیشگی انتباہی نظام تیار کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ صنعتی انجمنوں، برآمدات کے فروغ سے متعلق کونسلوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل مشاورت کی جائے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ شعبے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق بروقت امداد فراہم کی جاتی رہے۔ (پیراگراف 4.33)
  12. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ 2025 کے محصولات سے متعلق اقدامات کے نتیجے میں بھارت کی جواہرات اور زیورات کی برآمدات میں ہونے والی 48 فیصد کی بھاری گراوٹ سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے ساتھ ہدف پر مبنی دوطرفہ تجارتی مذاکرات شروع کرے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور میکسیکو جیسے عالمی حریف ممالک کے برابر محصولاتی شرحیں حاصل کرنابھارت کے بازاری حصے میں مزید کمی کو روکنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ (پیراگراف 4.24)
  13. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ بیرونِ ملک بھارتی مشن، جواہرات اور زیورات کی برآمدات کے فروغ سے متعلق کونسل (جی جے ای پی سی) اور صنعتی انجمنوں کے اشتراک سے بھارتی جواہرات اور زیورات کی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے خریداروں اور فروخت کنندگان کی میٹنگ، تجارتی نمائشوں اور کاروباری وفود کے دوروں کا اہتمام کریں۔ اس کے علاوہ، خلیجی خطے، یورپ، مشرقی ایشیا، آسیان، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں برآمدات کو وسعت دے کر بھارتی  برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے کی کوششیں بھی کی جانی چاہئیں۔ (پیراگراف 4.25)
  14. کمیٹی کو تشویش ہے کہ تجارت سے متعلق طویل غیر یقینی صورتِ حال اس شعبے میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ اس شعبے میں افرادی قوت کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے کمیٹی کی رائے ہے کہ حکومت کی حمایت سے برآمدی بلوں کی رعایتی نقد کاری کی سہولت قائم کی جانی چاہیے، تاکہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتیں (ایم ایس ایم ایز) مالی طور پر فعال رہیں اور لاکھوں کارکنوں کے روزگار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ (پیراگراف 4.26)
  15. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ہانگ کانگ، تھائی لینڈ اور برطانیہ جیسی وسعت پذیر منڈیوں میں ’’انڈیا جیولری ٹریڈ اینڈ ڈسٹری بیوشن ہبز‘‘ قائم کیے جائیں۔ کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ امریکہ کے بھاری محصولات سے بچنے کے لیے برآمد کنندگان پہلے ہی ان خطوں کی منڈیوں کا رخ کرکے ازخود اپنے تجارتی مراکز میں تنوع پیدا کر رہے ہیں۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ ان متبادل تجارتی مراکز میں محفوظ گوداموں اور محصولات سے مستثنیٰ ذخیرہ اندوزی کی سہولیات قائم کرنے سے ان کامیابیوں کو مستقل ادارہ جاتی شکل دی جا سکے گی۔ کمیٹی کی یہ بھی رائے ہے کہ کسی ایک منڈی پر انحصار کم کرنا عالمی جغرافیائی و سیاسی خطرات سے طویل مدت تک محفوظ رہنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ (پیراگراف 4.27)
  16. کمیٹی کا خیال ہے کہ مجوزہ بھارت-امریکہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کے تحت فولاد، ایلومینیم، تانبے اور کیمیائی مصنوعات سے متعلق محصولاتی مسائل کے حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ، محکمہ کو امریکہ کے ساتھ سرگرمی سے بات چیت کرنی چاہیے، تاکہ دفعہ 232 کے تحت عائد محصولات اور دفعہ 301 کے تحت ہونے والی تحقیقات کے سلسلے میں ملکی صنعت کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور ساتھ ہی بھارتی برآمد کنندگان کے لیے منڈی تک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ امریکی حکام کے ساتھ پیشگی طور پر سرگرم رابطہ قائم کرے، تاکہ امریکہ سے ایلومینیم اور تانبے کے پرانے اسکریپ تک طویل مدتی اور بلا رکاوٹ رسائی حاصل کی جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں امریکہ کی جانب سے ناکارہ دھاتوں اور اسکریپ کی برآمد پر عائد کی جانے والی کسی بھی پابندی سے بھارت کی ذیلی صنعتوں کو خام مال کی فراہمی کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ (پیراگراف 4.38)
  17. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کو جدید بنانے، خودکاری کو فروغ دینے، تحقیق و ترقی، توانائی کے مؤثر استعمال اور اعلیٰ قدر کی مصنوعات کی تیاری کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ان شعبوں کی عالمی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ نقل و حمل اور رسد کے اخراجات کم کرنے اور بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے، تاکہ بھارتی مصنوعات عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھ سکیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ اس مسابقتی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے محکمہ ایک مخصوص ٹاسک فورس قائم کرے، جو بھارتی برآمد کنندگان کو کاربن سرحدی محصولات جیسے بدلتے ہوئے بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات کے مطابق ڈھلنے میں مدد دے، تاکہ بھارت کی غیر لوہ دھاتوں سے بنی مصنوعات امریکی منڈی کے لیے درکار پائیداری کے معیارات پر پوری اتر سکیں۔ (پیراگراف 4.39)
  18. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ فولاد، ایلومینیم اور تانبے کی ذیلی صنعتوں سے وابستہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کو سستے قرضوں، برآمدی مالیات، جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور بین الاقوامی معیار کی اسناد تک آسان رسائی فراہم کرکے خصوصی امداد دی جائے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ خاص طور پر ایلومینیم اور تانبے کے اسکریپ کی دوبارہ تیاری کے لیے ملکی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے، تاکہ خام مال کی لاگت کم کرنے اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔ (پیراگراف 4.40)
  19. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ اعلیٰ معیار کی قدر افزا غیر لوہ دھاتی مصنوعات کی تیاری کے لیے مشترکہ منصوبوں میں امریکہ سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنے کی غرض سے بھارت کی ذیلی پیداواری صنعتوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ اس ہم آہنگی کے نتیجے میں بھارتی صنعت کار امریکہ کی فضائی و خلائی، دفاعی اور برقی گاڑیوں (ای وی) کی سپلائی چین کا حصہ بن سکیں گے۔ اس طرح دوطرفہ تجارتی تعلقات محض اسکریپ کے بدلے تیار شدہ مصنوعات کی تجارت تک محدود رہنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایک مضبوط مشترکہ پیداواری شراکت داری میں تبدیل ہو سکیں گے۔ (پیراگراف 4.41)
  20. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ اہم معدنیات اور دھاتوں کی گلوبل سپلائی چین میں بھارت کی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے قومی مشن برائے اہم معدنیات، عالمی سطح پر معدنیات کی نکاسی اور تیاری کے عمل کو مستحکم بنانے کا فورم (ایف او آر جی ای)، بھارت-امریکہ اسٹریٹجک معدنیات کی بازیابی کا اقدام، ہند-بحرالکاہل اقتصادی فریم ورک (آئی پی ای ایف) اور کواڈ کا اہم معدنیات سے متعلق اقدام جیسے اہم حکمت عملی پر مبنی پروگراموں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ کمیٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ معدنیات کی تلاش اور نکاسی، ان کی تیاری و تطہیر، دوبارہ استعمال، نایاب ارضی عناصر، بیٹریوں میں استعمال ہونے والے خام مال اور جدید پیداواری ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں سرمایہ کاری راغب کرنے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔(پیراگراف 4.42)
  21. کمیٹی یہ سفارش بھی کرتی ہے کہ محکمہ صنعتی انجمنوں اور برآمد کنندگان کے ساتھ باقاعدگی سے مشاورت کا اہتمام کرے، تاکہ بھارت کی برآمدی مسابقت کو برقرار رکھنے اور اس کے پیداواری شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے بروقت پالیسی اقدامات کیے جا سکیں۔ پیراگراف 4.43)
  22. کمیٹی ماہی پروری کے محکمے، ایم پی ای ڈی اے، سی آئی ایف ٹی، ای آئی سی اور دیگر اداروں کی جانب سے سراغ رسانی کے نظام کو مضبوط بنانے، ماہی گیری کے پائیدار طریقوں کو فروغ دینے، ملک میں تیار کردہ کچھوؤں کو جال میں پھنسنے سے بچانے والے آلات وضع کرنے اور سمندری ممالیہ جانوروں سے متعلق تقابلی معیار حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتی ہے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ اعلیٰ قدر والی برآمدی منڈیوں تک مسلسل رسائی برقرار رکھنے کے لیے ان کوششوں کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ضروری ہوگا۔( پیراگراف 4.54)
  23. کمیٹی کا یہ بھی خیال ہے کہ قدر افزا سمندری غذائی مصنوعات، سمندر میں آبی جانداروں کی پرورش، سمندری گھاس کی کاشت، کھلے سمندر میں پنجروں کے ذریعے مچھلیوں کی پرورش اور جدید طریقۂ کار سے مصنوعات کی تیاری جیسے شعبوں میں تنوع پیدا کرکے بھارت سمندری مصنوعات کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتا ہے، کیونکہ اس شعبے میں ابھی بھی بے پناہ امکانات سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔ کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ سمندری مصنوعات کی برآمدات کی ترقی کی اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے)، مرکزی سمندری ماہی پروری تحقیقی ادارہ (آئی سی اے آر-سی ایم ایف آر آئی)، مرکزی ادارہ برائے ماہی پروری ٹیکنالوجی (آئی سی اے آر-سی آئی ایف ٹی) اور قومی ماہی پروری ڈیجیٹل پلیٹ فارم (این ایف ڈی بی) جیسے اداروں نے آبی جانداروں کی زیرِ نگرانی افزائش، بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اقسام کی تیاری، ماہی گیری کے بعد مصنوعات کی تیاری و تحفظ، غذائی تحفظ اور مصنوعات کی قدر میں اضافے سے متعلق ٹیکنالوجیز وضع کی ہیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ فوری طور پر پکانے کے لیے تیار اور کھانے کے لیے تیار سمندری غذائی مصنوعات، سردخانوں اور سرد رسدی زنجیروں کے بنیادی ڈھانچے، مصنوعات کی تشہیر و برانڈ سازی اور معیار کی توثیق و اسناد کے حصول پر زیادہ توجہ دی جائے، کیونکہ ان اقدامات سے برآمدات سے ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ (پیراگراف 4.55)
  24. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ سمندری مصنوعات کے شعبے کے لیے ایک جامع امدادی پیکیج تیار کیا جائے، جس میں رعایتی شرحوں پر برآمدی قرضے، کاروباری سرگرمیوں کے لیے درکار سرمایہ فراہم کرنے میں مدد، شرحِ سود میں رعایت، قرضوں کی ضمانت اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں سے متاثرہ برآمد کنندگان، مصنوعات کی تیاری و عمل کاری کرنے والوں، مچھلیوں کی افزائش کے مراکز اور جھینگے پالنے والے کسانوں کے لیے قرضوں کی تنظیمِ نو کی سہولیات شامل ہوں۔ کمیٹی یہ سفارش بھی کرتی ہے کہ مالیاتی ادارے اور بینک سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات سے وابستہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے راحتی اقدامات پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کریں۔ مزید برآں، کمیٹی کا خیال ہے کہ محکمہ کو امریکی تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کے ساتھ اعلیٰ سطح پر دوطرفہ تجارتی مذاکرات شروع کرنے چاہیے، تاکہ اینٹی ڈمپنگ اور جوابی محصولات میں من مانے اضافے کے خلاف خصوصی طور پر آواز اٹھائی جا سکے اور محصولات کا ایک ایسا قابلِ پیش گوئی نظام وضع کیا جا سکے جو ساحلی علاقوں کے بنیادی پیداواری طبقے کے منافع کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ (پیراگراف 4.56)
  25. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے کے لیے سمندری مصنوعات کی برآمدات کی ترقی کی اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے)، ماہی پروری کے محکمے اور وزارتِ تجارت مشترکہ طور پر کوششیں کریں۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ یورپی یونین، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں برآمدات بڑھا کر یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ قدر افزا سمندری غذائی مصنوعات کے فروغ، ان کی برانڈ سازی اور ملک میں سمندری غذائی مصنوعات کی منڈی کو ترقی دینے پر توجہ دی جائے، تاکہ برآمدات کے لیے کسی ایک ملک یا منڈی پر حد سے زیادہ انحصار کم کیا جا سکے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ رسد سے متعلق کمزوریوں اور خطرات سے نمٹنے کے لیے محکمہ کو خود کفالت کی ایک اسکیم نافذ کرنی چاہیے، جس کے تحت مخصوص جراثیم سے پاک (ایس پی ایف) افزائشی مچھلیوں کی مقامی سطح پر افزائش اور خصوصی خوراک کی ملک میں تیاری کو فروغ دیا جائے، تاکہ آبی زراعت کے لیے درکار خام مال اور وسائل کے معاملے میں بھارت کا امریکہ پر انحصار مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ (پیراگراف 4.57)
  26. کمیٹی کا خیال ہے کہ جدید پیداواری و پراسیسنگ مراکز، جانچ کی تجربہ گاہوں، پنجروں کے ذریعے مچھلیوں کی پرورش اور اسناد کے حصول کے نظام میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ کمیٹی مزید رائے دیتی ہے کہ کچھوؤں کو مچھلی پکڑنے والے جال میں پھنسنے سے بچانے والے آلات کے ملک گیر استعمال کو تیز کرنے کے لیے بھی کوششیں کی جانی چاہئے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ محکمہ کو مخصوص تشہیری مہمات کے ذریعے دوسری منڈیوں میں برآمدات بڑھانے اور ملک میں جھینگے کی کھپت کو فروغ دینے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس سے برآمدات میں ممکنہ کمی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی، جو بصورتِ دیگر کسانوں کو جھینگے کی پرورش کے لیے تالابوں میں ذخیرہ ڈالنے اور پیداوار شروع کرنے سے روک سکتی ہے، اور اس کے نتیجے میں متعلقہ شعبوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ (پیراگراف 4.58)
  27. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ، امریکہ کی قومی سمندری و ماحولیاتی انتظامیہ (این او اے اے) سے سند حاصل کرنے، بھارتی سمندری جھینگوں کی جنگلی ماحول سے پکڑی جانے والی اقسام پر عائد امریکہ کی موجودہ پابندی ختم کرانے اور کھوئی ہوئی منڈی میں دوبارہ اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے، آئی سی اے آر-سی آئی ایف ٹی کے تیار کردہ کچھوؤں کو جال میں پھنسنے سے بچانے والے آلات (ٹی ای ڈیز) کی تمام مشینی ٹرالر کشتیوں میں لازمی تنصیب کے عمل کو تیزی سے نافذ کرے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنائے، نیز ان آلات کی تنصیب کے لیے فوری طور پر مالی اعانت فراہم کرے۔ (پیراگراف 4.59)
  28. کمیٹی کا خیال ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھارت کی طویل مدتی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے تکنیکی ٹیکسٹائل، مصنوعی ریشوں سے تیار کردہ مصنوعات، پائیدار ٹیکسٹائل، گھریلو آرائش و استعمال کی اشیا اور اعلیٰ قدر کے ملبوسات کی تیاری پر زیادہ توجہ دینا ضروری ہوگا۔ کمیٹی اس ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ اس شعبے کو جدید بنانے اور پیداواری صلاحیت مستحکم کرنے کے لیے پی ایم مترا پارکس، پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) اور سامرتھ اسکیم جیسے اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے۔ کمیٹی وزارتِ ٹیکسٹائلز کو سفارش کرتی ہے کہ کپاس پر انحصار کم کرنے کے لیے نئے پی ایم مترا پارکس میں مصنوعی ریشوں (ایم ایم ایف) کی تیاری کے لیے مخصوص صنعتی کلسٹر قائم کیے جائیں۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کو مقامی سطح پر فوری طور پر مصنوعی خام مال دستیاب ہوگا اور ان کی پیداوار کو عالمی منڈیوں میں زیادہ طلب والی مصنوعات کے مطابق ڈھالنے میں مدد ملے گی۔ (پیراگراف 4.69)
  29. کمیٹی کا خیال ہے کہ حکومت کو برآمد شدہ مصنوعات پر محصولات اور ٹیکسوں کی واپسی کی اسکیم (آر او ڈی ٹی ای پی)، ریاستی اور مرکزی ٹیکسوں اور محصولات کی واپسی کی اسکیم (آر او ایس سی ٹی ایل)، شرحِ سود میں رعایت کی اسکیم اور برآمدات کے فروغ کے لیے دیگر اقدامات کے تحت فراہم کی جانے والی معاونت کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کو رعایتی شرحوں پر کاروباری سرمایہ، برآمدی قرضوں، قرضوں کی ضمانت اور مالی امداد کی تیز تر فراہمی کے ذریعے نقدی کی دستیابی میں مزید سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو برآمدی قرضوں کی منظوری بروقت یقینی بنانی چاہیے اور محصولات سے متعلق رکاوٹوں کے باعث عارضی مالی دباؤ کا سامنا کرنے والے قابلِ عمل برآمد کنندگان کو مناسب تعاون فراہم کرنا چاہیے۔ کمیٹی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ تکنیکی ٹیکسٹائل، مصنوعی ریشوں سے تیار کردہ مصنوعات، پائیدار ٹیکسٹائل اور قدر افزا ملبوسات کے فروغ کے لیے کوششیں تیز کرے۔ (پیراگراف 4.70)
  30. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایسی اسکیم متعارف کرانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے، جس کے تحت ریاستی اور مرکزی ٹیکسوں اور محصولات کی واپسی کی اسکیم (آر او ایس سی ٹی ایل) کے تحت ہنگامی امداد کا ایک پروگرام شروع کیا جا سکے، تاکہ امریکی خریداروں کی جانب سے قیمتوں میں کمی کے مطالبے کے نتیجے میں چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی ٹیکسٹائل برآمدی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کو ہونے والے مالی نقصان کی تلافی کی جا سکے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ اس اقدام کا مقصد بحران کے دوران مالی سہارا فراہم کرکے کاروبار بند ہونے اور ممکنہ طور پر روزگار کے مواقع ختم ہونے سے روکنا ہے۔ (پیراگراف 4.70)
  31. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارت صنعتی انجمنوں کے اشتراک سے امریکہ کی بڑی بندرگاہوں پر، جہاں درآمدی سامان کی ترسیل ہوتی ہے، حکومت کی مالی اعانت سے ٹیکسٹائل مصنوعات کے گودام قائم کرے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ امریکہ میں فروخت کے لیے تیار مال کا ذخیرہ مقامی سطح پر رکھنے اور بھارتی بندرگاہوں پر کسٹم سے تیزی سے کلیئرنس کے لیے گرین چینل راہداریاں قائم کرنے سے بھارتی برآمد کنندگان سامان کی ترسیل میں لگنے والے طویل وقت کو نمایاں طور پر کم کر سکیں گے، درمیانی ایجنٹوں کی جانب سے وصول کی جانے والی بھاری قیمتوں سے بچ سکیں گے اور عالمی حریفوں کی تیز رفتار ترسیلی صلاحیت کا مؤثر طور پر مقابلہ کر سکیں گے۔ (پیراگراف 4.72)
  32. کمیٹی کو تشویش ہے کہ زیادہ محصولات اور امریکی منڈی میں طلب میں کمی کے باعث دست کاروں کی آمدنی اور روزگار کے مواقع میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جبکہ ترکی، پاکستان، نیپال اور چین جیسے حریف ممالک کے سپلائرز اپنی منڈی کا حصہ بڑھانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ قالین برآمد کنندگان کو تجارتی میلوں، برانڈ سازی، جغرافیائی شناخت (جی آئی) کے فروغ، خریداروں اور فروخت کنندگان کی میٹنگ اور ڈیزائن کی ترقی کے ذریعے مناسب تشہیری معاونت فراہم کی جائے۔ (پیراگراف 4.73)
  33. کمیٹی کو تشویش ہے کہ محصولات سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال طویل عرصے تک برقرار رہنے سے روایتی بُنکربرادریوں اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی برآمدی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ہتھ کرگھا مصنوعات کی بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت، برانڈ سازی، جغرافیائی شناخت (جی آئی) کے فروغ، ڈیجیٹل تشہیر، مصنوعات میں تنوع، ڈیزائن میں جدت اور برآمدات کے فروغ کے لیے مزید معاونت فراہم کی جائے۔ کمیٹی یہ سفارش بھی کرتی ہے کہ روایتی بُنائی کے مراکز کو مصنوعات کا معیار بہتر بنانے اور نئی منڈیوں تک برآمدات بڑھانے کے لیے بھی تعاون فراہم کیا جائے۔ (پیراگراف 4.74)
  34. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ دست کاروں کی فلاح و بہبود کے دائرے کو وسعت دینے، دست کاری کے مراکز میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، برانڈ سازی اور جغرافیائی شناخت (جی آئی) کی حامل مصنوعات کو فروغ دینے، ڈیجیٹل تجارت اور براہِ راست برآمدی ذرائع کو سہل بنانے، ڈیزائن کی تیاری، مصنوعات میں جدت اور بین الاقوامی تشہیر کے لیے مربوط اقدامات کرے، تاکہ ملک کے بھرپور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے بھارت کی روایتی دست کاریاں عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھ سکیں۔ (پیراگراف 4.75)
  35. سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کے پیش نظر ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور درست پیمائش پر مبنی زرعی طریقوں کو اپنانےکی سفارش کی جا رہی ہے۔ تاہم، اس ضمن میں بھارتی زراعت کی زمینی حقیقتوں، بالخصوص چھوٹے اور حاشیے پر موجود کسانوں کی بڑی تعداد کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کے تناظر میں زراعت، زرعی پیداوار اور زرعی بنیادوں پر تیار کردہ مصنوعات سے متعلق معاملات میں مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں، تاکہ بھارتی کسانوں کو یکساں مواقع میسر ہوں اور یہ اقدامات ملک کی مجموعی زرعی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ کسانوں کی مجموعی معاشی حالت سے بھی ہم آہنگ ہوں۔ (پیراگراف 4.80)
  36. کمیٹی کی رائے ہے کہ محکمہ جدید جانچ تجربہ گاہیں، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرٹیفکیشن مراکز، ڈیجیٹل نظامِ سراغ رسانی، زرعی مصنوعات میں باقیات کی نگرانی کے لیے تجربہ گاہیں اور مربوط کولڈ چین قائم کرکے معیاری بنیادی ڈھانچے کو فروغ دے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ اعلیٰ معیار کی منڈیوں میں بھارتی  زرعی مصنوعات کی قبولیت بڑھانے کے لیے زرعی طریقہ ہائے کار کے بہتر اصولوں (جی اے پی) کو اپنانے، باقیات سے پاک کاشت کاری اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ غذائی تحفظ کے معیارات کے فروغ کے اقدامات کیے جائیں۔ کمیٹی یہ سفارش بھی کرتی ہے کہ محکمہ امریکہ کے کسٹمز اور محکمہ برائے خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) کے ساتھ پیشگی منظوری کا طریقۂ کار وضع کرنے کے امکانات کا جائزہ لے، تاکہ زرعی مصنوعات کی تمام بڑی کھیپوں کی بھارتی بندرگاہوں پر ہی پیشگی جانچ کی جا سکے۔ اس سے امریکی سرحدوں پر غذائی تحفظ کے تقاضے پورے نہ ہونے کے سبب مصنوعات کی بڑی تعداد میں مسترد کیے جانے کے واقعات کو روکا جا سکے گا اور برآمد کنندگان کو ہونے والے بھاری مالی نقصان سے بچایا جا سکے گا۔ (پیراگراف 4.81)
  37. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ قومی پروگرام برائے نامیاتی پیداوار (این پی او پی) کے تحت تصدیق کے طریقۂ کار کو آسان بنا کر اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے امریکی محکمۂ زراعت کے قومی نامیاتی پروگرام (این او پی) کے لین دین کے سرٹیفکیٹس سے متعلق ضابطہ جاتی مسائل کو حل کرکے نامیاتی زراعت کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ نامیاتی کاشت کاری کے مراکز کے فروغ اور نامیاتی مصنوعات کی تصدیق کے لیے بھی معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ محکمہ اور زرعی و ڈبہ بند غذائی مصنوعات کی برآمدات کی ترقی کی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) کو امریکی منڈی میں سفارتی سطح پر دفاعی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے، تاکہ عالمی حریفوں کی جانب سے مقامی سطح پر گمراہ کن برانڈ سازی کے ذریعے باسمتی چاول جیسی بھارت کی منفرد جغرافیائی شناخت (جی آئی) کی حامل مصنوعات کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا سدباب کیا جا سکے اور ان مصنوعات کی اعلیٰ قیمت برقرار رکھنے کی صلاحیت محفوظ رہے۔ (پیراگراف 4.82)
  38. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ بھارت ایک زرعی معیشت ہے، اس لیے ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو زراعت اور زرعی بنیادوں پر قائم صنعتوں کو مناسب معاونت فراہم کریں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ مالیاتی ادارے اور بینک قرضوں کی فراہمی، دیہی گوداموں، مربوط پیک ہاؤسز، غذائی اشیا کی تیاری کے بنیادی ڈھانچے، کسانوں کی پیداواری تنظیموں اور زرعی نقل و حمل و رسد کی سہولیات کو مضبوط بنا کر برآمدات پر مبنی زراعت کے لیے اپنی معاونت میں مزید اضافہ کریں۔ اس کے علاوہ، کمیٹی کی رائے ہے کہ برآمدات کے لیے موزوں فصلوں کی اقسام تیار کرنے، پیداواریت بہتر بنانے اور عالمی زرعی منڈیوں میں بھارت کی مسابقتی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر)، زرعی جامعات، زرعی و ڈبہ بند غذائی مصنوعات کی برآمدات کی ترقی کی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) اور صنعت کے درمیان زیادہ سے زیادہ اشتراک کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ کمیٹی یہ سفارش بھی کرتی ہے کہ وزارتِ زراعت بڑے برآمدی مراکز کے نزدیک خودکار شعاع ریزی اور بخارات کے ذریعے حرارتی عمل (وی ایچ ٹی) کی سہولیات کے قیام اور ان کی مالی معاونت کا انتظام کرے، تاکہ تازہ پھلوں اور سبزیوں کی درآمد کے لیے امریکہ کے سخت نباتاتی و زرعی صحت سے متعلق تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ (پیراگراف 4.83)
  39. کمیٹی کی رائے ہے کہ فصلوں کی افزائش کے عمل کو تیز کرنے اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے تیز رفتار افزائشِ نسل اور نسلوں کی تیز رفتار پیش رفت (آر جی اے) کی سہولیات قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان سہولیات کو جدید ماحولیاتی کنٹرول نظام اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ٹیکنالوجیز سے مربوط کیا جانا چاہیے۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ بڑے زرعی تحقیقی اداروں میں ایسی جدید ترین سہولیات قائم کرے اور انہیں مزید مستحکم بنائے، تاکہ زیادہ پیداوار دینے والی، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی فصلوں کی اقسام کی تیاری کا عمل تیز کیا جا سکے۔ (پیراگراف 4.86)
  40. کمیٹی کا خیال ہے کہ اس طرح کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے سے فصلوں کی افزائشِ نسل کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہوگا، محققین کو کم وقت میں فصلوں کی بہتر اقسام تیار کرنے میں مدد ملے گی اور کسانوں کو بہتر بیج بروقت دستیاب ہو سکیں گے۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ملک کے مختلف خطوں کے متنوع زرعی و موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، علاقائی بنیادوں پر پورے ملک میں تیز رفتار افزائشِ نسل اور نسلوں کی تیز رفتار پیش رفت (آر جی اے) کی سہولیات مرحلہ وار قائم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ (پیراگراف 4.87)
  41. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ جغرافیائی شناخت (جی آئی) کی حامل مصنوعات، ضلع کی مخصوص زرعی مصنوعات اور ’ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ ‘ (او ڈی او پی) کے اقدامات کو ہدفی برانڈ سازی، بین الاقوامی سطح پر تشہیر اور برآمدات کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرکے فروغ دیا جائے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ بیرونِ ملک اعلیٰ معیار کی منڈیوں میں بھارتی مسالوں، باسمتی چاول، شہد، ڈبہ بند غذائی اشیا، نامیاتی مصنوعات اور باغبانی کی پیداوار کی برانڈ سازی کے لیے بھی زیادہ معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔ (پیراگراف 4.88)
  42. کمیٹی یہ سفارش بھی کرتی ہے کہ محکمہ تجارت کے تحت زرعی و ڈبہ بند غذائی مصنوعات کی برآمدات کی ترقی کی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے)، بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر)، قومی زرعی و دیہی ترقیاتی بینک (نابارڈ) اور ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے ایک مستقل زرعی تجارتی سہولت مرکز قائم کیا جائے، جو محصولات سے متعلق رکاوٹوں، حفظانِ صحت اور نباتاتی و حیوانی صحت سے متعلق مسائل، مصنوعات میں باقیات کے مقررہ معیارات، نقل و حمل اور رسد کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور منڈیوں کے ابھرتے ہوئے مواقع کی نگرانی کرے۔ (پیراگراف 4.89)
  43. کمیٹی کی رائے ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھارتی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اعلیٰ معیار کے جوتے، برانڈڈ چمڑے کی مصنوعات، فیشن سے متعلق لوازمات، کھیلوں کے جوتے، حفاظتی جوتے اور اعلیٰ درجے کی چمڑے کی مصنوعات کی تیاری پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ کمیٹی کا یہ بھی خیال ہے کہ ڈیزائن، مصنوعات کی تیاری اور دست کاری کے شعبوں میں بھارت کی صلاحیتیں زیادہ قدر والی مصنوعات کی برآمدات کی جانب پیش رفت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ (پیراگراف 4.99)
  44. مزید برآں، کمیٹی چمڑے کے شعبے کی ہنرمندی کونسل (ایل ایس ایس سی) کی جانب سے جدید پیداواری طریقۂ کار میں کارکنوں کو ہنر مند بنانے اور ان کی مہارتوں کو مزید نکھارنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا نوٹس لیتی ہے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ پیداواریت، مصنوعات کے معیار اور پیداواری کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے خودکار نظام، کمپیوٹر کی مدد سے ڈیزائن اور تیاری کے نظام (سی اے ڈی/سی اے ایم)، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل طریقے سے مصنوعات کی تیاری، سہ جہتی طباعت اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کو زیادہ سے زیادہ اپنانا ضروری ہوگا۔ (پیراگراف 4.100)
  45. کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ چمڑے کی صنعت میں ماحولیاتی پائیداری یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک کی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ خریدار اب ماحولیاتی تحفظ، کاربن کے اخراج، مصنوعات کی سراغ رسانی، گندے پانی کی صفائی اور ذمہ دارانہ طریقے سے خام مال کے حصول سے متعلق بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیارات کی پابندی کا تقاضا تیزی سے کر رہے ہیں۔ کمیٹی مشترکہ فضلے کی صفائی کے کارخانوں (سی ای ٹی پیز) کے قیام، مائع فضلے کے مکمل اخراج کو روکنے والے نظام کواپنانے اور ماحول دوست طریقوں سے چمڑے کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے صنعت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو تسلیم کرتی ہے۔ کمیٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ اعلیٰ معیار کی منڈیوں میں بھارت کی مسابقتی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے ماحول دوست پیداواری ٹیکنالوجیز اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پائیداری کے سرٹیفکیشن میں مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ ماحول دوست پیداواری وسائل سے فائدہ اٹھانے اور متعلقہ فریقوں کو اس حوالے سے حساس بنانے کے لیے کوششیں کرے۔ (پیراگراف 4.101)
  46. کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ چمڑے اور جوتوں کا شعبہ ’میک اِن انڈیا‘، ’آتم نربھر بھارت‘ اور روزگار پر مبنی صنعتی ترقی کے مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ مناسب پالیسی معاونت، منڈیوں تک بہتر رسائی، ٹیکنالوجی کے استعمال، سرمایہ کاری کے فروغ اور مصنوعات کی قدر میں اضافے کے ذریعے بھارت عالمی چمڑے اور جوتوں کی منڈی میں اپنا حصہ نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے اور دنیا کے اہم ترین ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جہاں سے عالمی خریدار اپنی مصنوعات حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ چمڑے، چمڑے کی مصنوعات اور جوتوں کے لیے ترجیحی یا محصولات سے پاک منڈی تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں کی جائیں، تاکہ امریکی منڈی میں بھارت کی مسابقتی صلاحیت بحال ہو سکے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ برآمد کنندگان، بالخصوص چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کو برآمدی قرضوں، شرحِ سود میں رعایت، کاروباری سرمائے کی معاونت، برآمدی قرضوں کی ضمانتوں اور تجارت کو سہل بنانے کے دیگر اقدامات کے ذریعے ہدفی راحت فراہم کی جائے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو عارضی تجارتی رکاوٹوں سے متاثر ہونے والے اہل برآمد کنندگان کے لیے سستے قرضوں کی بروقت دستیابی یقینی بنانی چاہیے۔ (پیراگراف 4.104)
  47. کمیٹی تحقیق و ترقی، خودکار نظام، صنعت 4.0 کی ٹیکنالوجیز، روبوٹکس، کمپیوٹر کی مدد سے ڈیزائن اور تیاری کے نظام (سی اے ڈی/سی اے ایم)، ڈیجیٹل طریقے سے مصنوعات کی تیاری اور جدید پیداواری طریقۂ کار میں سرمایہ کاری کی سفارش کرتی ہے۔ مزید برآں، کمیٹی کی رائے ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ چمڑے کے اداروں کو صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنر مندی کے فروغ کے پروگراموں کو بھی مضبوط بنانا چاہیے، تاکہ اعلیٰ مہارت کے حامل افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ چمڑے کے ادارے پائیدار مصنوعی پولیمر اور ماحول دوست غیر چمڑے کی مصنوعات کی تیاری سے متعلق خصوصی تکنیکی نصاب متعارف کرائیں، تاکہ ہنر مندی کے نظام کو کھیلوں اور روزمرہ استعمال کے غیر چمڑے کے جوتوں کی امریکی منڈی میں بہت زیادہ طلب کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ (پیراگراف 4.105)
  48. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ بیرونِ ملک بھارتی مشنز، چمڑے کے شعبے کی کونسلوں، برآمدی اداروں اور صنعتی انجمنوں کے اشتراک سے خریداروں اور فروخت کنندگان کی میٹنگ، تجارتی میلوں، کاروباری وفود کے دوروں اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق سرگرمیوں میں فعال طور پر سہولت فراہم کریں۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ برآمد کنندگان کو یورپ، برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا، خلیجی خطے، لاطینی امریکہ اور افریقہ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے معاونت فراہم کی جائے، تاکہ برآمدات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکے اور ان کا تنوع بڑھایا جا سکے۔ (پیراگراف 4.106)
  49. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کو جانچ کی سہولیات، معیار کی تصدیق، ڈیجیٹل تجارتی پلیٹ فارموں اور بین الاقوامی ضابطوں و معیارات کی پابندی کے تقاضوں تک آسان رسائی فراہم کرکے ان کے لیے معاونت کو مضبوط بنایا جائے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ چھوٹے برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے صنعتی مراکز پر مبنی بنیادی ڈھانچے، مشترکہ سہولت مراکز اور نقل و حمل و رسد کی معاونت کو بھی وسعت دی جانی چاہیے۔ (پیراگراف 4.107)
  50. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ متعلقہ کونسل اور دیگر فریقوں سے مشاورت کے بعد ایک مخصوص نظام قائم کیا جائے، جو بین الاقوامی محصولات کے اقدامات، غیر محصولات سے متعلق رکاوٹوں اور صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کی مسلسل نگرانی کرے، تاکہ بروقت پالیسی اقدامات کیے جا سکیں اور عالمی چمڑے اور جوتوں کی صنعت میں بھارت کی طویل مدتی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ (پیراگراف 4.108)
  51. کمیٹی کا خیال ہے کہ کیمیکلز کے شعبے میں بھارت کی طویل مدتی مسابقتی صلاحیت کا انحصار تحقیق و ترقی، جدت طرازی، جدید مینوفیکچرنگ اور اعلیٰ قدر کے خصوصی کیمیکلز کی تیاری میں مسلسل سرمایہ کاری پر ہوگا۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ مجوزہ بھارت-امریکہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کے تحت کیمیائی اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کو متاثر کرنے والے محصولات سے متعلق مسائل کے حل کو حکومت اولین ترجیح دے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ مسلسل دوطرفہ بات چیت کے ذریعے محصولات اور غیر محصولات سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے بھارتی کیمیائی مصنوعات کی برآمدات کے لیے مستحکم اور قابلِ پیش گوئی منڈی تک رسائی یقینی بنانے کی کوششیں کی جائیں۔ (پیراگراف 4.123)
  52. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ امریکہ کے ساتھ کیمیائی مصنوعات کی تجارت میں بھارت کو حاصل 7,580 کروڑ روپے کے تجارتی سرپلس کو ایک اہم تزویراتی وسیلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بھارتی پیٹروکیمیکل اور زرعی کیمیائی مصنوعات پر محصولات میں کمی کے لیے مذاکرات کیے جائیں، کیونکہ ان مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں گراوٹ آئی ہے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ تجارتی پالیسی فورم (ٹی پی ایف) کے تحت ایک باضابطہ اور اعلیٰ سطحی ادارہ جاتی نظام قائم کیا جائے، تاکہ منڈی تک رسائی کے حوالے سے یقینی صورتِ حال برقرار رہے اور مستقبل میں اچانک محصولات میں اضافے کو روکا جا سکے۔ (پیراگراف 4.124)
  53. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ حکومت خصوصی کیمیائی مصنوعات، کارکردگی پر مبنی کیمیائی مصنوعات، ماحول دوست کیمیائی مصنوعات اور اعلیٰ قدر کی درمیانی مصنوعات کے فروغ کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کرے، جس میں تحقیق و ترقی، جدت طرازی اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ زیادہ برآمدی امکانات کی حامل اعلیٰ قدر کی کیمیائی مصنوعات کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے مالی ترغیبات دینے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ (پیراگراف 4.125)
  54. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کیمیائی مصنوعات کی نقل و حمل اور ترسیل کے لیے مخصوص بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے، جس میں کیمیکل پارک اور خصوصی ذخیرہ گاہوں کے مراکز شامل ہوں۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ اہم برآمدی منڈیوں میں بروقت ترسیل کو یقینی بنانے اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے برآمدات کے فروغ کے مشن کے تحت مجوزہ بیرونِ ملک گوداموں اور ترسیلی مراکز کے قیام پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے۔ (پیراگراف 4.126)
  55. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ بھارت کے ضروری تیلوں کے شعبے کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور جامع نظام وضع کیا جائے، جس کی عالمی منڈی میں 85 فیصد حصہ داری ہے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ حکومت کو ایک قومی مرکزِ امتیاز برائے ضروری تیل قائم کرنا چاہیے، جو معیار کی جانچ اور جغرافیائی شناخت (جی آئی) کے نشان کے اجرا کے ذریعے عالمی منڈی میں جعلی مصنوعات کی روک تھام کو یقینی بنائے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ مارکیٹ تک رسائی کے اقدام (ایم اے آئی) اسکیم کے تحت مخصوص تشہیری مہمات کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جائیں، تاکہ بھارتی ضروری تیلوں کی برآمدات کو خام تیل کی بڑی مقدار میں ترسیل سے ہٹا کر ایسی اعلیٰ منافع بخش مصنوعات کی تیاری اور برآمد کی طرف منتقل کیا جا سکے جو عالمی کاسمیٹکس، علاج معالجے اور ذائقہ سازی کی صنعتوں کے لیے خوردہ فروخت کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔ (پیراگراف 4.127)
  56. کمیٹی کی رائے ہے کہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) سے تعلق رکھنے والے برآمد کنندگان کو برآمدی قرضوں تک آسان رسائی، شرحِ سود میں رعایت، کاروباری سرمائے کی فراہمی، برآمدی قرضوں کی ضمانتوں، معیار کی تصدیق کے لیے معاونت اور بیرونِ ملک مصنوعات کے اندراج میں مدد کے ذریعے مزید تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ بھارت کی برآمدات کی بنیاد کو وسیع کرنے کے لیے پہلی مرتبہ برآمدات کرنے والوں اور برآمدی مرکز کے طور پر ترقی دیے جانے والے اضلاع میں واقع کاروباری اداروں کو بھی خصوصی ترجیح دی جانی چاہیے۔ (پیراگراف 4.128)
  57. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ چھوٹی اور کم وسائل کی حامل ایم ایس ایم ای صنعتوں کو بین الاقوامی حفاظتی معیارات اور مصنوعات کے اندراج پر آنے والے بھاری اخراجات برداشت کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک مالیاتی اسکیم وضع کی جائے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ برآمدات کے فروغ کے مشن کے تحت قائم کیے جانے والے بیرونِ ملک گوداموں میں مخصوص درجۂ حرارت پر محفوظ رکھنے کی سہولیات سے آراستہ خصوصی ذخیرہ گاہیں بھی شامل ہوں، جہاں خطرناک کیمیائی مادّوں کو محفوظ طریقے سے رکھا جا سکے، تاکہ بھارت کے چھوٹے برآمد کنندگان عالمی خریداروں تک اپنی مصنوعات تیزی سے پہنچا سکیں۔ (پیراگراف 4.129)
  58. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ ماحول دوست کیمیا، وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی پیداواری عمل، فضلے کی دوبارہ تیاری و استعمال، گردشی معیشت کے طریقوں، قابلِ تجدید توانائی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ماحولیاتی اسناد کے حصول کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ماحول دوست اور پائیدار صنعتی پیداوار کو فروغ دیا جائے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، ملک میں پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور بھارتی کاروباری اداروں کو عالمی کیمیائی رسدی زنجیروں سے جوڑنے پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ، کمیٹی کی رائے ہے کہ کیمیائی مصنوعات کے ایک قابلِ اعتماد عالمی فراہم کنندہ کے طور پر بھارت کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے برانڈ سازی، معیار کی یقین دہانی، تجارت کو ڈیجیٹل ذرائع سے آسان بنانے اور بین الاقوامی معیارات کی پابندی پر بھی زیادہ زور دیا جانا چاہیے۔ (پیراگراف 4.130)

اشیا اور خدمات کی تجارت

  1. کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برآمدی طلب میں غیر یقینی صورتِ حال، زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ، جس کے نتیجے میں اگست 2026 تک ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 95 بھارتی روپے ہو گئی تھی، اور اجناس کی قیمتوں میں تبدیلی، یہ تمام عوامل مل کر اخراجات میں اضافہ کرتے ہیں اور برآمد کنندگان کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ کمیٹی مزید نوٹ کرتی ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جہاں عالمی منڈی میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا ہے، وہیں اسی عرصے میں بھارت میں پٹرول، ڈیزل اور کھانا پکانے والی گیس، بشمول سی این جی اور ایل پی جی، کی گھریلو قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اس تضاد کے باعث بھارت کی تجارت اور مجموعی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ کمیٹی یہ بھی مشاہدہ کرتی ہے کہ چند ماہ قبل امریکہ نے اپنے محصولات میں نمایاں اضافہ کیا تھا، جس کے بعد ان میں کسی حد تک کمی کی گئی، تاہم یہ اب بھی 18 فیصد ہیں، جو پہلے کی 3 فیصد شرح کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ محصولات کی یہ بلند شرح بدستور بھارت کی برآمدات اور معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ (پیراگراف 5.12)
  2. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ان تمام عوامل کو باریک بینی سے مدنظر رکھتے ہوئے بھارت اور امریکہ کے تجارتی تعلقات پر ازسرِنو غور کیا جائے اور ان کا جائزہ لیا جائے، نیز ان تمام معاملات میں یکساں مواقع اور مساوی مسابقت کو یقینی بنایا جائے۔ (پیراگراف 5.13)
  3. کمیٹی بھارت اور امریکہ کی شراکت داری کو بھارت کے لیے ایک قابلِ اعتماد عالمی پیداواری اور سپلائی چین کے طور پر ابھرنے کا ایک اہم موقع تصور کرتی ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ میک اِن انڈیا، پیداوار سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیموں، قومی رسدی پالیسی، پی ایم گتی شکتی اور بھارت کی پیداواری مسابقت کو بہتر بنانے کے مقصد سے شروع کیے گئے دیگر اقدامات کو ترجیح دی جائے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ ان اقدامات سے بھارت میں عالمی کمپنیوں کی پیداواری سرگرمیوں میں شمولیت کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ (پیراگراف 5.14)
  4. دوطرفہ تجارت میں اضافے کے باوجود کئی چیلنجز بدستور اس کی مکمل صلاحیتوں کے بروئے کار آنے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں محصولات اور غیر محصولات سے متعلق رکاوٹیں، ضابطہ جاتی تقاضوں کی پیچیدگیاں، مصنوعات کے معیارات، نقل و حمل اور رسد کے اخراجات، کسٹم کے طریقۂ کار، منڈی تک رسائی کی مشکلات، ضابطوں کی پابندی پر آنے والے اخراجات اور عالمی قدر کی زنجیروں میں چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کی محدود شمولیت شامل ہیں۔ (پیراگراف 5.15)
  5. کمیٹی کی پختہ رائے ہے کہ ان بنیادی نوعیت کے چیلنجز کو دور کرنے سے بھارت کی برآمدی مسابقت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور دوطرفہ تجارت کی زیادہ متوازن اور پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا۔ کمیٹی یہ بھی نوٹ کرتی ہے کہ بھارت نے اپنی برآمدی مصنوعات کے دائرے کو کافی حد تک متنوع بنایا ہے، تاہم اعلیٰ قدر کی تیار شدہ اشیا اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی خدمات کی برآمدات کو مضبوط بنانے اور چند مخصوص منڈیوں اور مصنوعات کے زمروں پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ (پیراگراف 5.16)
  6. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ان شعبوں کو مسلسل پالیسی معاونت فراہم کی جائے جو منفی طور پر متاثر ہوئے ہیں، لیکن امریکہ میں جن کی برآمدات کے امکانات مضبوط ہیں۔ ان میں انجینئرنگ کا سامان، الیکٹرانکس، ادویہ سازی، کیمیائی مصنوعات، قیمتی پتھر اور زیورات، ٹیکسٹائل، سمندری مصنوعات، زرعی مصنوعات اور چمڑے کی مصنوعات شامل ہیں۔ مزید برآں، کمیٹی کی رائے ہے کہ ڈیجیٹل تجارت، عالمی صلاحیت مراکز (جی سی سی)، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، مالیاتی ٹیکنالوجی، انجینئرنگ خدمات اور تحقیق و ترقی کو فروغ دے کر خدمات کی برآمدات کے عالمی مرکز کے طور پر بھارت کی حیثیت مستحکم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کی جانی چاہیے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ بھارت کی علمی معیشت کو مضبوط بنانے سے طویل مدتی برآمدی ترقی میں نمایاں مدد ملے گی۔ (پیراگراف 5.17)
  7. کمیٹی کی رائے ہے کہ برآمدی مالیات تک بہتر رسائی، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں، معیار کی تصدیق، بین الاقوامی تشہیر کے لیے معاونت، ہنرمندی کے فروغ اور گلوبل سپلائی چین سے منسلک ہونے کے ذریعے دوطرفہ تجارت میں چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو آسان بنانے کے لیے مخصوص پالیسی اقدامات متعارف کرائے جائیں۔ مزید برآں، کمیٹی کا خیال ہے کہ شعبہ وار تجارتی مشنوں، منڈیوں سے متعلق بہتر معلومات اور بیرونِ ملک بھارتی مشنوں کے ساتھ قریبی روابط کے ذریعے تجارتی سفارت کاری کو مضبوط بنایا جائے، تاکہ نئے ابھرتے ہوئے مواقع کی نشاندہی کی جا سکے، منڈی تک رسائی سے متعلق مسائل حل کیے جا سکیں اور امریکہ سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں بھارتی مصنوعات اور خدمات کو فروغ دیا جا سکے۔ (پیراگراف 5.18)
  8. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت نقل و حمل اور رسد کے اخراجات، بنیادی ڈھانچے کی کمی، ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل اور سستے مالی وسائل تک رسائی سے متعلق بنیادی مسائل کو حل کرتے ہوئے بھارت کو عالمی سطح پر ایک ترجیحی پیداواری اور رسدی مرکز بنانے کی کوششوں میں تیزی لائے۔ اس سلسلے میں تزویراتی اہمیت کے حامل شعبوں میں ملک کی داخلی پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ (پیراگراف 5.19)

سرمایہ کاری کے تعلقات

  1. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ جدید پیداواری صنعت، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، صاف توانائی، اہم معدنیات، دفاعی پیداوار، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے جیسے ترجیحی شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کی زیادہ سے زیادہ مقدار کو راغب کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جائیں۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل ضابطہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرنے، سرمایہ کاری کے طریقۂ کار کو آسان بنانے، پالیسیوں میں استحکام یقینی بنانے اور باہمی مفاد پر مبنی دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کو جلد حتمی شکل دینے کے لیے کوششیں تیز کی جانی چاہیے، تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے اور دوطرفہ سرمایہ کاری میں تعاون کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ (پیراگراف 6.4)
  2. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ بھارتی اور امریکی کاروباری اداروں، تعلیمی اداروں اور تحقیقی تنظیموں کے درمیان وسیع تر شراکت داری کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ تحقیق و ترقی، اختراع اور ہنرمندی کے فروغ کو آگے بڑھانے کے لیے دوطرفہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے، تاکہ سرمایہ کاری کے بہاؤ سے طویل مدتی ترقیاتی فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جا سکے۔ (پیراگراف 6.5)

ادارہ جاتی فریم ورک اور معاہدے

  1. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ زراعت، ماہی پروری، غذائی تحفظ اور خدمات کے شعبے میں ملک کے ترقیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے مذاکرات میں سرگرمی سے حصہ لے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ بھارت شفاف اور قابلِ پیش گوئی کثیر فریقی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی تجارتی تنظیم کے ہم خیال رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے اور ایسی اصلاحات کی وکالت کرے جن میں ترقی پذیر ممالک کے مفادات اور خدشات کی مناسب عکاسی ہو۔ (پیراگراف 7.3)
  2. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ بھارت کی برآمدات کو متاثر کرنے والی منڈی تک رسائی کی دیرینہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تجارتی پالیسی فورم کو زیادہ فعال انداز میں استعمال کیا جائے۔ اس کے علاوہ، مشاورتی عمل میں صنعتی انجمنوں، چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)، برآمدات کے فروغ سے متعلق کونسلوں اور شعبہ جاتی ماہرین کی نمائندگی کو بھی شامل کیا جائے، تاکہ تجارتی مذاکرات کے ذریعے متعلقہ فریقوں کے خدشات کا مناسب طور پر ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ تجارتی پالیسی فورم تجارتی امور سے متعلق مسائل کے جائزے اور ان کے حل کی نگرانی کے لیے ایک مقررہ مدت پر مبنی نظام وضع کرے، جس کے تحت مختلف شعبہ جاتی ورکنگ گروپوں کی پیش رفت کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے۔ (پیراگراف 7.5)

تجارتی تعلقات میں اہم چیلنجز

  1. کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ دونوں ممالک نے تجارتی امور سے متعلق مسائل کے حل کے لیے بھارت-امریکہ تجارتی پالیسی فورم اور تجارتی مذاکرات جیسے ادارہ جاتی طریقۂ کار قائم کر رکھے ہیں، تاہم منڈی تک رسائی سے متعلق کئی خدشات اب بھی حل طلب ہیں۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ محصولات اور غیر محصولات سے متعلق رکاوٹوں کا برقرار رہنا دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک نے ’’مشن 500‘‘ کے تحت 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 500 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا پُرعزم ہدف مقرر کیا ہے۔ (پیراگراف 8.3)
  2. کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت بات چیت، مشاورت اور باہمی طور پر قابلِ قبول حل کے ذریعے تجارتی تنازعات کو دور کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ فعال طور پر رابطہ برقرار رکھے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے ادارہ جاتی طریقۂ کار کو مزید مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جانی چاہیےکہ ہر شعبے سے متعلق خدشات کو بروقت اٹھایا جائے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ غیر محصولات سے متعلق رکاوٹوں، بشمول معیار کے ضوابط، صحت و نباتاتی تحفظ سے متعلق اقدامات (ایس پی ایس)، تصدیق کے تقاضوں، مصنوعات پر لیبل لگانے کے ضوابط اور کسٹم سے متعلق کارروائیوں کی تکمیل جیسے امور کو دور کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس مقصد کے لیے ضابطہ جاتی تعاون کو فروغ دیا جائے اور جہاں بھی ممکن ہو، معیارات اور مطابقت کے جائزے کے طریقۂ کار کو باہمی طور پر تسلیم کیا جائے، تاکہ بھارتی برآمد کنندگان، بالخصوص چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے ضابطہ جاتی تقاضے پورے کرنے کی لاگت کم کی جا سکے۔ (پیراگراف 8.4)

بھارت-امریکہ تجارتی تعلقات میں تعاون کے ابھرتے ہوئے نئے شعبے

  1. کمیٹی اقدام برائے اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز (آئی سی ای ٹی) اور امریکہ-بھارت کمپیکٹ فریم ورک کا ذکر کرتی ہے، جن میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت، جدید مواصلاتی نظام، کوانٹم ٹیکنالوجیز اور اختراعی ماحول کو باہمی تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ ان شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے سے اقتصادی ترقی، تکنیکی پیش رفت، ہنرمندی کے فروغ اور اعلیٰ قدر کے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ اختراع کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل مسابقت کو بڑھانے کے لیے نئے کاروباری اداروں، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون کو آسان بنانے کی کوششیں کی جائیں۔ (پیراگراف 9.4)
  2. کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کو ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، اختراعی معاونت اور بین الاقوامی تعاون کے مواقع تک بہتر رسائی فراہم کرکے بھارت-امریکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی شراکت داریوں میں ان کی شرکت یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ کمیٹی یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تقاضوں کے مطابق افرادی قوت تیار کرنے کے لیے مشترکہ صلاحیت سازی اور جدید ڈیجیٹل ہنر مندی کے فروغ کے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ (پیراگراف 9.5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔رک)

U. No.6958


(ریلیز آئی ڈی: 2331539) وزیٹر کاؤنٹر : 18
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी