پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 NOV 2026 6:39AM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ (عرف للن سنگھ) 2 سے 3 نومبر 2026 تک سکم کے گنگٹوک اور منگن اضلاع کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران مرکزی وزیر ڈیری کے فروغ وترقی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیں گے اور قومی پروگرام برائے ڈیری فروغ وترقی (این پی ڈی ڈی) کے تحت سکم ملک یونین کے لیے ایک خورد حیاتیاتی تجربہ گاہ کا افتتاح کریں گے۔ وہ سفید انقلاب 2.0 کے تحت 57 نئی ڈیری کوآپریٹیو سوسائٹیوں (ڈی سی ایس) کے قیام کے اقدامات کا بھی آغاز کریں گے اور حال ہی میں رجسٹرڈ پانچ ڈیری کوآپریٹیو سوسائٹیوں کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ تقسیم کریں گے۔ اس کے علاوہ، شمالی سکم میں15 نئی ڈیری کوآپریٹیو سوسائٹیوں کے قیام کا بھی آغاز کیا جائے گا، جس سے مزید ڈیری کسانوں کو باہمی تعاون پر مبنی ڈیری نیٹ ورک کا حصہ بننے کا موقع ملے گا۔ گنگٹوک اور جوریتھانگ میں تیار کیے جانے والے چھورپی پنیر کی شناخت اور اس کی تیاری کے مراحل کا سراغ لگانے سے متعلق ایک اقدام کا بھی آغاز کیا جائے گا۔

مرکزی وزیر حکومت ہند کی 10,000 کسان پیداواری تنظیموں (ایف پی او) کی اسکیم کے تحت سکم ملک یونین کے لیے چارہ پلس سے متعلق دو کسان پیداواری تنظیموں کو مزید فروغ دیں گے۔ وہ نامیاتی شہد، نائجر بیج ملے سفوف اور موٹے اناج و بک ویٹ سے تیار کردہ نامیاتی بسکٹ اور مٹھائیوں سمیت نئی مصنوعات بھی متعارف کرائیں گے۔ یہ مصنوعات کی اقسام میں تنوع پیدا کرنے اور ان کی قدر میں اضافہ کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہوگا۔
اس دورے میں حکومت سکم کے سینئر افسران، منگن ضلع انتظامیہ، حکومت ہند کے محکمہ مویشی پروری اور ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی)، متعلقہ وزارتوں، قومی ڈیری ترقیاتی بورڈ (این ڈی ڈی بی) کے نمائندوں کے علاوہ ڈیری کسان، ڈیری کوآپریٹیو سوسائٹیاں اور ڈیری کسان پیداواری تنظیمیں شرکت کریں گی۔
شمال مشرقی خطے (این ای آر) میں ڈیری کی ترقی وفروغ کے حوالے سے سکم نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2024-25 کے دوران ریاست میں دودھ کی پیداوار تقریباً 89.35 ہزار میٹرک ٹن رہی، جبکہ فی کس یومیہ دودھ کی دستیابی تقریباً 352 گرام تھی۔ ریاست میں ڈیری شعبہ کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے محکمہ مویشی پروری اور ڈیری نے 2014 سے اب تک راشٹریہ گوکل مشن (آر جی ایم) کے تحت 7,093.99 لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، مقامی سیری نسل کے مویشیوں کی ترقی اور تحفظ کے لیے 2,763.92 لاکھ روپے مالیت کے ایک خصوصی منصوبے کو منظوری دی گئی ہے۔
سکم میں یاک کی افزائش اور اس کے تحفظ کے لیے2023-24 کے دوران 100 لاکھ روپے جاری کیے گئے تھے۔ مزید برآں، راشٹریہ گوکل مشن کے تحت اعلیٰ جینیاتی معیار کے یاک نسل کے سانڈوں کی خریداری کے لیے موجودہ مالی سال 2026-27 کے دوران بھی 100 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

قومی پروگرام برائے ڈیری ترقی (این پی ڈی ڈی) کے تحت محکمہ مویشی پروری اور ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی) نے مجموعی طور پر 59.60 کروڑ روپے کے نو منصوبوں کو منظوری دی ہے، جن میں مرکزی حکومت کا حصہ 54.61 کروڑ روپے ہے۔ اس رقم میں سے 53.59 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ باون اعشاریہ چھ ایک کروڑ روپے استعمال کیے جا چکے ہیں۔
قومی مشن برائے مویشی پروری (این ایل ایم) کے تحت محکمہ مویشی پروری اور ڈیری نے مالی سال 2020-21 سے اب تک چارے کی پیداوار کے لیے ایک ہزار نوسو چودہ اعشاریہ انتالیس لاکھ روپے، مویشیوں کی بیمہ کے لیے530.62 لاکھ روپے، چھوٹے مویشیوں اور خنزیروں کی نسلوں کی بہتری کے لیے چار سو آٹھ اعشاریہ چونسٹھ لاکھ روپے اور تربیت و توسیعی سرگرمیوں کے لیے359.80 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی ہے۔
مرکزی وزیر کا یہ دورہ حکومت ہند کی جانب سے ڈیری اور مویشی پروری کے شعبوں میں سکم کے تعاون اور اس کی اہمیت کے اعتراف کا مظہر ہے۔ توقع ہے کہ ان شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور جاری اقدامات سے کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے ذرائع معاش کو مستحکم کرنے، مصنوعات کی قدر میں اضافہ کرنے، رسد کی زنجیر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ ان اقدامات سے مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کو بہتر منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں بھی سہولت ملے گی، جس میں اعلیٰ قدر والی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بھی شامل ہے۔ اس طرح ریاست میں ڈیری اور مویشی پروری کے شعبوں کی پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا۔
***
ش ح-ظ الف-ش ب ن
UR No. 7071