سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے 31 اکتوبر 2026 کو ’دی سینٹرل کرانیکل‘ (بھوپال) میں شائع رپورٹ میں کیے گئے دعوے کے سلسلے میں حقائق پر مبنی رپورٹ جاری کی.


ایم اے پی سی ای ٹی کی جانب سے تقرری کے اعداد و شمار کی تصدیق کیے بغیر کروڑوں روپے کی ادائیگی کا دعویٰ مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 OCT 2026 8:38PM by PIB Delhi

سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے 31 اکتوبر 2026 کو دی سینٹرل کرانیکل (بھوپال) میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیے گئے دعوے کے سلسلے میں حقائق پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے۔

مدھیہ پردیش کونسل فار ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ (ایم اے پی سی ای ٹی) کی جانب سے تقرری کے اعداد و شمار کی تصدیق کیے بغیر کروڑوں روپے کی ادائیگی کیے جانے سے متعلق دعویٰ مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔

وزارت کی جانب سے حقائق پر مبنی رپورٹ درستگی اور حقائق کے تناظر کے ساتھ اشاعت کے لیے منسلک کی گئی ہے:

31 اکتوبر 2026 کو سینٹرل کرانیکل، بھوپال میں شائع خبر کے سلسلے میں حقائق پر مبنی رپورٹ

کمشنر، محکمہ ترقیِ درج فہرست ذات کے دفتر نے ’درج فہرست ذات سب پلان کے لیے خصوصی مرکزی امداد‘ کے تحت ہنرمندی کی ترقی کی تربیت کے لیے 3,241.37 لاکھ روپے کی رقم منظور کی تھی۔

اس رقم میں سے 2021-22 کے دوران مدھیہ پردیش ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ کونسل (ایم اے پی سی ای ٹی) کو مجموعی طور پر 2,945.37 لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔ یہ رقم 1,296.00 لاکھ روپے (حکم نامہ نمبر 4695، مورخہ 26 نومبر 2021) اور 1,649.37 لاکھ روپے (حکم نامہ نمبر 10283، مورخہ 25 مارچ 2022) پر مشتمل تھی۔

مدھیہ پردیش کونسل فار ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ (ایم اے پی سی ای ٹی) نے 2021-22 کے لیے درج فہرست ذات (ایس سی) زمرے سے تعلق رکھنے والے خطِ غربت سے نیچے (بی پی ایل) خاندانوں کے مستحق افراد کو تربیت فراہم کرنے کے لیے درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) جاری کی تھی۔ انتخابی عمل کے بعد 34 تربیتی فراہم کنندہ تنظیموں کے ساتھ معاہدے کیے گئے اور اس کے بعد انہیں ورک آرڈر جاری کیے گئے۔ ان میں سے چھ تنظیموں نے کام شروع نہیں کیا۔

ایم اے پی سی ای ٹی کی جانب سے ورک آرڈر جاری کیے جانے کے بعد 28 اداروں نے 4,952 زیر تربیت افراد کو تربیت فراہم کی۔ کونسل کی جانب سے منعقد کیے گئے تربیتی پروگرام حکومت ہند کی وزارت ہنرمندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ (ایم ایس ڈی ای) کے مقرر کردہ معیارات کے مطابق ہیں۔ تمام تربیتی سرگرمیوں کا انتظام ایک مخصوص پورٹل کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس پر زیر تربیت افراد کا رجسٹریشن، روزانہ حاضری کی نگرانی اور تشخیصی نتائج اور تقرری سے متعلق اعداد و شمار اپ لوڈ کرنے کی سہولت موجود ہے۔

حکومت ہند کی وزارت ہنرمندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ (ایم ایس ڈی ای) کے نوٹیفکیشن نمبر 349، مورخہ 4 دسمبر 2020 کے تحت جاری گزٹ نوٹیفکیشن کے شیڈول IV کی شق 2.1.1 کے مطابق، بیچ کی بنیاد پر تربیت فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ادائیگی کے معیار درج ذیل ہیں:

 

No.

Instalment

Percentage of batch amount

Milestone

1

First

30%

Commencement of training

2

Second

40%

Successful completion of certification. Payment is made for the number of candidates certified, after adjustment of advance payments.

3

Third

30%

Achievement of 70% verified employment: continuous employment for three months, with desk verification and placement verification in accordance with standard norms.

 

تربیتی فراہم کنندہ تنظیموں کو پہلی اور دوسری قسط کی ادائیگی حکومت ہند کی وزارت ہنرمندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ (ایم ایس ڈی ای) کی جانب سے مقرر کردہ معیار اور معاہدے کی شرائط کے مطابق کی گئی ہے۔

پہلی قسط تربیتی بیچ شروع ہونے کے وقت زیر تربیت افراد کی فزیکل تصدیق کے بعد ادا کی جاتی ہے۔ دوسری قسط تربیت مکمل ہونے اور زیر تربیت افراد کے تشخیصی عمل سے گزرنے کے بعد ادا کی جاتی ہے۔

تشخیصی عمل نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (این سی وی ای ٹی) کی جانب سے نامزد اداروں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ تشخیص کے اہل ہونے کے لیے زیر تربیت افراد کے لیے ضروری ہے کہ انہوں نے تربیت میں کم از کم 70 فیصد حاضری مکمل کی ہو۔ اسی بنیاد پر پہلی اور دوسری قسط کی ادائیگی کی گئی ہے۔

تربیتی فراہم کنندہ اداروں کی جانب سے تربیت کے بعد تقرری سے متعلق ہارڈ کاپی میں فراہم کی گئی معلومات ملازمت کی پیشکش یا آفر لیٹرز پر مبنی ہیں۔ ایسی معلومات تیسری قسط جاری کرنے کی بنیاد نہیں بنتیں۔ تیسری قسط کے اہل ہونے کے لیے اداروں کو مقررہ معیار کے مطابق پورٹل پر تقرری سے متعلق تفصیلات اپ لوڈ کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی پورٹل تیسری قسط کی ادائیگی کے دعوے تیار کرسکتا ہے۔ چونکہ ان میں سے کسی بھی ادارے کے لیے ایسا کوئی ادائیگی دعویٰ تیار نہیں کیا گیا ہے، اس لیے تیسری قسط کی کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔

31 اکتوبر 2026 کو سینٹرل کرانیکل، بھوپال میں شائع خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایم اے پی سی ای ٹی نے تقرری کے اعداد و شمار کی تصدیق کیے بغیر کروڑوں روپے کی ادائیگی کی، مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔

  • تیسری قسط، جو تقرری سے مشروط ہے، کسی بھی ادارے کو ادا نہیں کی گئی ہے۔ لہٰذا اس قسط کی ادائیگی کے مقصد سے ایسی تقرریوں کی نگرانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
  • اداروں کو صرف پہلی اور دوسری قسطیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے کوئی بھی تقرری سے منسلک نہیں ہے۔ اس لیے پہلے سے کی گئی ادائیگیوں کے لیے تقرری یا تقرری کی نگرانی متعلقہ نہیں ہے۔

امیدواروں کی تربیت مکمل کرنے کے بعد ملازمت اختیار کرنے پر تیسری قسط کی ادائیگی کی جائے گی۔ تنظیم اس وقت تقرری کے عمل میں سہولت فراہم کر رہی ہے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :7026  )


(ریلیز آئی ڈی: 2331026) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English