پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 OCT 2026 5:00PM by PIB Delhi
آج نئی دہلی میں ’’جیو اسپیشل (جغرافیائی معلومات) کے شعبے میں تبدیلی کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان ہم آہنگی: 2047 تک وکست بھارت کے لیے جیو اسپیشل پر مبنی معیشت کی مشترکہ تشکیل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک ورکشاپ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت(آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، وزارت عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، محکمۂ جوہری توانائی اور محکمۂ خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جیو اسپیشل سےمتعلق صلاحیتیں ہندوستان کی مستقبل کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم فیصلہ ساز ثابت ہوں گی۔ اس ورکشاپ کا انعقاد حکومت ہند کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی) کے سروے آف انڈیا نے کیا تھا۔
وزیر موصوف نے جیو اسپیشل کے شعبے کو آگے بڑھانے کے مواقع، چیلنجوں اور مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کے لیے سینئر سرکاری افسران اور صنعت سے وابستہ رہنماؤں کے ساتھ گول میز مباحثے میں بھی شرکت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نمائش کا افتتاح کیا اور نمائش میں شریک اداروں کے نمائندوں سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ جیو اسپیشل اب نقشہ سازی اور سروے کے ایک تکنیکی وسیلے سے آگے بڑھ کر اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم قومی اثاثہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی حوصلہ افزائی سے گزشتہ 12 سے 13 برسوں کے دوران جیو اسپیشل کے شعبے میں کئی دور رس اصلاحات کی گئی ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے ہمت اور پختہ عزم کی ضرورت تھی۔
وزیر موصوف نے سروے آف انڈیا میں آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ روایتی اور محنت طلب سروے کے کام پر توجہ مرکوز کرنے والی تنظیم سے تبدیل ہوکر اب سیٹلائٹ پر مبنی نقشہ سازی، ڈرون اور کمپیوٹر پر مبنی ٹیکنالوجیز کو اپنا رہا ہے۔ دہرہ دون میں واقع اس کے کیمپس کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کام کرنے کے تاریخی انتظامات ماضی میں سروے کے کام کی جسمانی مشقت کی عکاسی کرتے تھے، جب کہ آج کے تقاضوں کے تحت ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کی مہارت رکھنے والے نوجوان پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے منڈیوں کو وسعت دینے، قابلِ عمل کاروباری نمونے تیار کرنے اور نئے کاروباری اداروں نیز چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان مضبوط شراکت داری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی جیو اسپیشل پالیسی 2022 ایک ایسا کھلا خاکہ فراہم کرتی ہے جس میں جیو اسپیشل یعنی جغرافیائی معلومات سے متعلق مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کو کام کی رفتار اور درستگی بہتر بنانے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام شعبوں میں اس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
وزیر موصوف نے سرکاری محکموں پر زور دیا کہ وہ ایسے شعبوں کی نشاندہی کریں، جن میں سروے آف انڈیا کے ساتھ اشتراک کرکے کام کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سروے جنرل سے کہا کہ وہ مختلف محکموں کو اس ادارے کی صلاحیتوں اور خدمات سے واقف کرانے کے لیے مجازی اجلاسوں کا اہتمام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح وسیع پیمانے پر بیداری پیدا ہونے سے سرکاری محکموں اور نجی صنعت کو باہمی اشتراک کے نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔اس شعبے کو آگے بڑھانے میں صنعت کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی کی راہ ’’سہولت فراہم کرنا، سرمایہ کاری کرنا اور اپنانا‘‘ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اعتماد پیدا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے، صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کاری کی جائے اور اقتصادی ترقی کو رفتار دینے کے لیے جیواسپیشل یعنی جغرافیائی معلومات پر مبنی حل اختیار کیے جائیں۔
محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے سکریٹری پروفیسر امیش وی واگھمارے نے کہا کہ جیواسپیشل کا بنیادی ڈھانچہ قومی وسائل سے متعلق معلومات کو منظم کرنے اور ان کے بہترین استعمال میں مدد فراہم کر سکتا ہے، جس میں توانائی کے شعبے میں منتقلی کے دوران ان کا استعمال بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل جیواسپیشل پالیسی 2022 میں محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کو جیو اسپیشل کے شعبے کے لیے مرکزی نوڈل ایجنسی تسلیم کیا گیا ہے اور اعداد و شمار کی تیاری، ان تک رسائی اور ان کے استعمال کے لیے ایک لچکدار ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
پروفیسر واگھمارے نے سیٹلائٹ اور ڈرون ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت، بصری علوم اور اعداد و شمار کی تیز رفتار پراسیسنگ کے باہمی امتزاج کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات کا تعین حقیقی حالات میں ان ٹیکنالوجیز کے عملی استعمال اور صنعت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ جیو اسپیشل کا بنیادی ڈھانچہ ہندوستان کی متنوع ضروریات پوری کرنے، مقامی اختراعات اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، عالمی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ہندوستان کے سروے جنرل جناب ایس کے سنہا نے جغرافیائی معلومات کے شعبے میں اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے رہنمائی اور تعاون فراہم کرنے پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل جیو اسپیشل پالیسی 2022 نے ایک ایسے کھلے نظام کی بنیاد رکھی ہے ،جو اختراعات کو فروغ دیتا ہے اور اس شعبے کی صلاحیتوں کو اقتصادی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت، صنعت اور تعلیمی اداروں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سروے آف انڈیا بنیادی جغرافیائی معلومات (جیو اسپیشل)اور محل وقوع کے تعین کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے حکومت کے اہم پروگراموں کی معاونت کے لیے صنعت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ ورکشاپ مشترکہ وژن کو باہمی تعاون پر مبنی عملی اقدامات میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
گول میز مباحثے کے دوران وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت طریقۂ کار کو آسان بناکر، غیر ضروری ضوابط ختم کرکے اور اختراعات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کاروبار کے لیے زیادہ سازگار اور سہولت بخش ماحول پیدا کرنے کے لیےپرعزم ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے خلائی ٹیکنالوجی اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں کامیاب نمونوں کو اجاگر کیا، جنہیں ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے دوسرے شعبوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ طریقۂ کار کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کریں، حکومت کی جانب سے فراہم کردہ معاونتی نظام سے فائدہ اٹھائیں اور جیو اسپیشل شعبے کی وسیع تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے مل کر کام کریں۔
اس ورکشاپ میں ہندوستان کے سروے جنرل جناب ایس کے سنہا، جیو اسپیشل کے اعداد و شمار کے فروغ اور ترقیاتی کمیٹی کے چیئرمین جناب سری کانت شاستری اور محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے سکریٹری پروفیسر امیش وی واگھمارے نے شرکت کی۔




*****
ش ح ۔م ع ن۔ ت ع
U. No.6957