PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

 ہندوستان میں مالیاتی شمولیت: ہر شہری کو بینکاری نظام سے جوڑنا، ہر خاندان کو بااختیار بنانا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 AUG 2026 4:16PM by PIB Delhi

تعارف

مالیاتی شمولیت ہندوستان کی مساوی ترقی کے تصور کا ایک بنیادی جزو ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان نے بینکاری، ڈیجیٹل ادائیگیوں، قرضوں، بیمہ، پنشن اور سرمایہ کاری کے مواقع تک رسائی کو وسعت دی ہے۔ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور شہریوں پر مرکوز اصلاحات نے اس تبدیلی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان اب ہر شہری کو بینک کھاتہ فراہم کرنے کے دائرے سے آگے بڑھ کر باضابطہ مالیاتی نظام میں فعال شرکت کی جانب گامزن ہے۔ اس تبدیلی نے لاکھوں خاندانوں، کاروباری افراد اور اداروں کو بااختیار بنایا ہے۔

ہندوستان میں مالیاتی شمولیت کے اہم اشاریے

متعدد اشاریے ہندوستان بھر میں مالیاتی رسائی، بنیادی ڈھانچے اور عوامی شرکت کو وسعت دینے کے سلسلے میں حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کرتے ہیں۔

A graph of financial inclusionAI-generated content may be incorrect.

آر بی آئی کا مالیاتی شمولیت اشاریہ

آر بی آئی کا مالیاتی شمولیت اشاریہ مالیاتی خدمات تک رسائی، ان کے استعمال اور معیار کی بنیاد پر ملک میں مالیاتی شمولیت کی سطح کی پیمائش کرتا ہے۔ یہ ملک بھر میں باضابطہ مالیاتی خدمات کے دائرے کو وسعت دینے کے سلسلے میں پیش رفت کا ایک جامع اشاریہ ہے۔ مالیاتی شمولیت کا یہ اشاریہ مارچ 2017 میں 43.4 سے بڑھ کر مارچ 2026 میں 70.0 ہو گیا، جو ان تینوں شعبوں میں وسیع پیمانے پر ہونے والی بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔

عالمی بینک کا گلوبل فِنڈیکس

گلوبل فِنڈیکس ڈیٹابیس مالیاتی شمولیت سے متعلق دنیا میں اعداد و شمار کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ یہ مختلف معیشتوں میں بالغ افراد کی جانب سے مالیاتی خدمات تک رسائی اور ان کے استعمال کی پیمائش کرتا ہے۔ گلوبل فِنڈیکس 2025 مالیاتی شمولیت کے میدان میں ہندوستان کی غیر معمولی پیش رفت کو اجاگر کرتا ہے۔ 2011 کے بعد سے بینک کھاتوں کی ملکیت کا تناسب بڑھ کر 89 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران باضابطہ مالیاتی خدمات تک رسائی اور بینک کھاتوں کے فعال استعمال میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

بینکاری تک رسائی کا نیٹ ورک

بینک کی شاخیں ہندوستان کے باضابطہ بینکاری نظام کی بنیاد ہیں۔ یہ ملک بھر میں بچت، قرض اور دیگر مالیاتی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ ہندوستان میں 1.81 لاکھ سے زیادہ بینک شاخیں ہیں (17 جولائی 2026 تک)۔

بینکاری خدمات تک رسائی بینک شاخوں، کاروباری نمائندوں اور انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک (آئی پی پی بی) کے مراکز کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ 6 مارچ 2026 تک ملک کے 99.92 فیصد دیہات پانچ کلومیٹر کے دائرے میں بینکاری مراکز کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔

انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک (آئی پی پی بی )1.65  لاکھ سے زیادہ ڈاک خانوں کے ذریعے آخری سرے تک بینکاری خدمات کو مستحکم بنا رہا ہے (17 جولائی 2026 تک)۔ یہ 5.57 لاکھ دیہات اور قصبوں میں 11 کروڑ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔

کاروباری نمائندے  بینکنگ سہولیات سے محروم اور ناکافی بینکاری خدمات والے علاقوں میں گھر کی دہلیز پر بینکاری خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ہندوستان بھر میں 17.36 لاکھ سے زیادہ کاروباری نمائندے گھر کی دہلیز پر بینکاری خدمات کی فراہمی میں معاونت کر رہے ہیں (17 جولائی 2026 تک)۔

مالیاتی شمولیت کے بنیادی ستون

ہندوستان کا مالیاتی شمولیت کا نظام باہم مربوط پالیسیوں اور ادارہ جاتی ستونوں پر قائم ہے۔ یہ باضابطہ مالیاتی نظام تک سبھی کی رسائی اور اس میں بامعنی شرکت کو فروغ دیتے ہیں۔

عالمگیر بینکاری نظام

پردھان منتری جن دھن یوجنا

  • پردھان منتری جن دھن یوجنا (2014) کے تحت ہر ایسے بالغ فرد کو بنیادی بچت بینک کھاتہ فراہم کیا جاتا ہے، جو اب تک بینکاری سہولت سے محروم ہے۔ اس کھاتے میں کم از کم رقم برقرار رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
  • یہ اسکیم بچت، رقم کی منتقلی، قرض، بیمہ، پنشن اور براہِ راست فوائد کی منتقلی ( ڈی بی ٹی) کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
  • جن دھن کھاتہ داروں کو روپئے ڈیبٹ کارڈ اور حادثاتی بیمہ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ 28 اگست 2018 کے بعد کھولے گئے کھاتوں کے لیے بیمہ تحفظ کی رقم 2 لاکھ روپے اور اس تاریخ سے پہلے کھولے گئے کھاتوں کے لیے 1 لاکھ روپے ہے۔ اہل کھاتہ دار 10,000 روپے تک اوور ڈرافٹ کی سہولت سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
  • یہ اسکیم پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا (پی ایم جے جے بی وائی)، پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا ( پی ایم ایس بی وائی) اور اٹل پنشن یوجنا ( اے پی وائی) کے تحت اندراج کے ساتھ ساتھ مدرا قرضوں تک رسائی کو بھی سہل بناتی ہے۔

A blue hexagons with white textAI-generated content may be incorrect.

جے اے ایم تثلیث (ٹرینیٹی)

  • جے اے ایم تثلیث(ٹرینیٹی) کے تحت جن دھن بینک کھاتوں، آدھار اور موبائل کنکٹیویٹی کو مربوط کیا گیا ہے، تاکہ مالیاتی شمولیت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
  • یہ حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فوائد کی شفاف اور مؤثر ترسیل کے لیے براہِ راست فوائد کی منتقلی ( ڈی بی ٹی) کو ممکن بناتی ہے۔ ڈی بی ٹی فلاحی اسکیموں کے تحت فوائد کی فراہمی میں ہونے والی خامیوں کو کم کرتی ہے، فرضی مستفیدین کا خاتمہ کرتی ہے اور درمیانی واسطوں کی ضرورت کو کم سے کم کرتی ہے۔
  • جے اے ایم تثلیث باضابطہ بینکاری خدمات تک رسائی کو مستحکم بنانے کے ساتھ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات پر اعتماد کو بھی فروغ دیتی ہے۔

 کل ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر

اسکیموں کی تعداد

شامل وزارتوں کی تعداد

)10 اگست 2026 تک(

52,89,019 کروڑروپے

320

56

سب کے لیے سماجی تحفظ

پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا

  • پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا (2015) ایک سالانہ قابلِ تجدید زندگی بیمہ اسکیم ہے، جو 18 سے 50 سال کی عمر کے افراد کو 2 لاکھ روپے کا زندگی بیمہ تحفظ فراہم کرتی ہے۔
  • یہ اسکیم 436 روپے کے سالانہ پریمیم پر دستیاب ہے، جو سبسکرائبر کے بینک کھاتے سے خودکار طور پر  ڈیبیٹ کر دیا جاتا ہے۔
  • یہ اسکیم بیمہ شدہ شخص کی موت کی صورت میں اس کے خاندان کو مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
  • اس اسکیم کے تحت حادثاتی موت کی صورت میں فوری بیمہ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ غیر حادثاتی موت کی صورت میں 30 دن کی انتظار کی مدت مقرر ہے۔

مجموعی اندراجات

موصول ہونے والے دعوؤں کی تعداد

ادا کیے گئے دعوؤں کی تعداد

(30 جون 2026 تک)

27.78 کروڑ

11,31,505

10,97,751

 

پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا ( پی ایم ایس بی وائی)

  • پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا (2015) بھی بچت بینک کھاتہ رکھنے والے 18 سے 70 سال کی عمر کے افراد کے لیے ایک سالانہ قابلِ تجدید حادثاتی بیمہ اسکیم ہے۔
  • یہ حادثاتی موت یا مکمل معذوری کی صورت میں 2 لاکھ روپے اور جزوی معذوری کی صورت میں 1 لاکھ روپے کا بیمہ تحفظ فراہم کرتی ہے۔
  • یہ بیمہ 20 روپے کے سالانہ پریمیم پر دستیاب ہے، جو متعلقہ بینک کھاتے سے خودکار طور پر  ڈیبیٹ کر لیا جاتا ہے۔

مجموعی اندراجات

موصول ہونے والے دعوؤں کی تعداد

ادا کیے گئے دعوؤں کی تعداد

(30جون 2026 تک)

58.66 کروڑ

2,56,526

1,89,057

 

اٹل پنشن یوجنا ( اے پی وائی)

  • اٹل پنشن یوجنا (2015) غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے ایک حصہ جاتی تعاون پر مبنی پنشن اسکیم ہے، جس کا آغاز 2015 میں کیا گیا تھا۔
  • اس اسکیم کے تحت 60 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد ماہانہ 1,000 روپے سے 5,000 روپے تک کی ضمانت شدہ پنشن فراہم کی جاتی ہے۔
  • اس اسکیم میں تعاون کی رقم اندراج کے وقت سبسکرائبر کی عمر اور منتخب کردہ پنشن کی رقم کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔
  • بینکوں اور ڈاک خانوں کے ذریعے اس اسکیم میں اندراج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس سے کم آمدنی والے مزدوروں تک پنشن کی سہولت کی رسائی میں توسیع ہوتی ہے۔

کل سبسکرائبرز

مرد سبسکرائبرز

خواتین سبسکرائبرز

 خواجہ سرا سبسکرائبرز

(30جون 2026 تک)

9.29 کروڑ

4.72 کروڑ (50.8 فیصد)

4.56  کروڑ(49.16 فیصد)

26,599 (0.028 فیصد)

 

جامع قرضہ جاتی سہولیات

پی ایم مدرا یوجنا

  • پی ایم مدرا یوجنا (2015) کے تحت غیر کارپوریٹ، غیر زرعی مائیکرو اور چھوٹے کاروباری اداروں کو 20 لاکھ روپے تک کے بغیر کسی ضمانت کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان میں مینوفیکچرنگ، تجارت، خدمات اور زراعت سے متعلق معاون سرگرمیوں کے شعبوں میں کام کرنے والے ادارے شامل ہیں۔
  • مدرا قرضے آمدنی پیدا کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والی مختلف سرگرمیوں کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔
  • اس اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کی ترقی کی سطح کی بنیاد پر قرضوں کی چار اقسام پیش کی گئی ہیں، جن کے نام ششو، کشور، ترون اور ترون پلس ہیں۔

منظور شدہ قرضوں کی تعداد

منظور شدہ رقم

(27 مارچ 2026 تک)

57.79 کروڑ

  40.07 لاکھ کروڑ روپے

 

پی ایم سواندھی

  • پی ایم سواندھی اپنی نوعیت کی پہلی مائیکرو کریڈٹ اسکیم ہے، جس کا خصوصی مقصد سڑکوں پر کاروبار کرنے والے خوانچہ فروشوں کو قرض کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت حکومت کی جانب سے قرض کی ضمانت کا تعاون بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
  • اس اسکیم کے تحت بغیر کسی ضمانت کے تین مرحلوں میں بالترتیب 15,000 روپے، 25,000 روپے اور 50,000 روپے تک کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔
  • یہ اسکیم اہل خوانچہ فروشوں کو سود پر سبسڈی اور قرض کی ضمانت کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

کل استفادہ کنندگان

قرضے ادا کیے گئے

قرض کی کل قیمت

(مئی 2026 تک)

75.5 لاکھ سے زیادہ

1.12 کروڑ سے زیادہ

17,800 کروڑ سے زیادہ

 

کسان کریڈٹ کارڈ ( کے سی سی)

  • کسان کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بینکاری نظام کے توسط سے کسانوں کو بروقت اور مناسب قرض فراہم کیا جاتا ہے۔
  • اس اسکیم کے تحت اے ٹی ایم کی سہولت سے لیس ڈیبٹ کارڈ، ایک مرتبہ دستاویزات جمع کرانے اور ضرورت کے مطابق رقم نکالنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
  • کسان کریڈٹ کارڈ کے ذریعے فصلوں کی کاشت، کٹائی کے بعد کی ضروریات، زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ، کھیتی باڑی کی دیکھ بھال، گھریلو اخراجات اور زراعت سے متعلق دیگر سرگرمیوں کے لیے قرض فراہم کیا جاتا ہے۔

کے سی سی / آئی ایس ایس درخواستوں کی کل تعداد (10 اگست 2026 تک)

کمرشل بینک

دیہی بینک

کوآپریٹو بینک

763.6 لاکھ

368.6 لاکھ

1242.0 لاکھ

 

جن سمرتھ

  • جن سمرتھ، قرض سے منسلک سرکاری اسکیموں کے لیے ایک متحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔
  • یہ مستفیدین کو براہِ راست قرض فراہم کرنے والے اداروں سے جوڑتا ہے، جس سے حکومت کی سرپرستی میں فراہم کیے جانے والے قرضوں تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔
  • اس پلیٹ فارم پر 16 رجسٹرڈ قرض اسکیمیں، قرضوں کی 8 اقسام اور 300 سے زیادہ قرض فراہم کرنے والے ادارے شامل ہیں۔

 

  • اس پلیٹ فارم میں 16 رجسٹرڈ کریڈٹ اسکیمیں، 8 قرض کے زمرے اور 300 سے زیادہ قرض دہندگان ہیں۔

 درخواستوں پر رقم

درخواستوں کی تعداد

300951 کروڑ روپے

54.10 لاکھ

 

ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت

یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس ( یو پی آئی )

    • یو پی آئی ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن کر ابھرا ہے، جو مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دے رہا ہے۔
    • مالی سال 17-2016 اور مالی سال 26-2025کے درمیان لین دین کے حجم میں تقریباً 12,000 گنا اور لین دین کی مالیت میں تقریباً 4,000 گنا اضافہ ہوا۔
    • بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے لین دین کے حجم کے لحاظ سے یو پی آئی کو دنیا کا سب سے بڑا ریئل ٹائم ادائیگی کا نظام تسلیم کیا ہے، جو ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے شعبے میں ہندوستان کی قیادت کو اجاگر کرتا ہے۔

لین دین کا حجم

لین دین کی قدر

بینکوں کی تعداد  یو پی آئی  پر لائیو

(جولائی 2026 تک)

2,365.8 کروڑ

29,87,880.49 کروڑ

741

A graph of a graph showing a diagram of a graphAI-generated content may be incorrect.

مالیاتی خواندگی

قومی مرکز برائے مالیاتی تعلیم ( این سی ایف ای)

    • یہ مرکز قومی حکمتِ عملی برائے مالیاتی تعلیم کے تحت معاشرے کے تمام طبقات میں مالیاتی تعلیم اور بیداری کو فروغ دیتا ہے۔
    • یہ مالیاتی خواندگی کو مستحکم بنانے کے لیے سیمینار، ورکشاپس، تربیتی پروگرام اور بیداری مہمات کا انعقاد کرتا ہے۔
    • یہ مالیاتی منڈیوں اور ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا احاطہ کرنے والا مخصوص مالیاتی تعلیمی مواد بھی تیار کرتا ہے۔

ورکشاپس کا انعقاد

 مستفیدین

مرد

 خواتین

(10 اگست 2026 تک)

31,082

10,68,571

373,999 (35 فیصد)

694,572 (65 فیصد)

بالغ افراد کے لیے مالیاتی تعلیمی پروگرام ( ایف ای پی اے)

 

    • یہ پروگرام ستمبر 2019 میں قومی مرکز برائے مالیاتی تعلیم ( این سی ایف ای) کی جانب سے بالغ افراد میں مالیاتی بیداری کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
    • اس پروگرام کے تحت کسانوں، خواتین کے گروپوں، آشا اور آنگن واڑی کارکنوں،  خود امدادی گروپ(ایس ایچ جیز)، ملازمین اور ہنرمندی کے فروغ کے تربیتی پروگراموں میں شامل افراد کا احاطہ کیا جاتا ہے۔
    • یہ پروگرام مالیاتی تعلیم کے لیے قومی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ، خصوصی توجہ کے حامل اضلاع ( ایس ایف ڈیز) پر مرکوز ہے۔
  • یہ اسپیشل فوکسڈ اضلاع (ایس ایف ڈیز) پر فوکس کرتا ہے، جو کہ قومی حکمت عملی برائے مالیاتی تعلیم کے ساتھ منسلک ہیں۔

منعقدہ ورکشاپس

 مستفیدین

(10 اگست 2026 تک)

19266

648512

 

ملک گیر مالیاتی شمولیت کی تکمیل کی مہم

    • چار ماہ پر مشتمل اس مہم کا آغاز یکم جولائی 2025 کو ملک کی 2.70 لاکھ گرام پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں ( یو ایل بیز) میں مالیاتی شمولیت کو وسعت دینے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔
    • اس مہم کے دوران دیہات اور قصبوں میں 2.67 لاکھ سے زیادہ کیمپوں کا انعقاد کیا گیا۔
    • اس مہم کے تحت 5.19 کروڑ کھاتوں کی کے وائی سی کی دوبارہ تصدیق اور 1.20 کروڑ نامزدگیوں میں ترمیم کا عمل مکمل کیا گیا، جبکہ پی ایم جے جے بی وائی اور پی ایم ایس بی وائی کے تحت 92,066 دعوؤں کا تصفیہ کیا گیا۔

پی ایم جے ڈی وائی  کے تحت کھولے گئے کھاتے

 پی ایم جے جے بی وائی انداراجات

پی ایم ایس بی وائی اندراجات

 اے پی وائی اندراجات

(31  اکتوبر 2025 تک)

1.11 کروڑ

1.40 کروڑ

2.86 کروڑ

44.43 لاکھ

 

رسائی سے بااختیار بنانے تک

ہندوستان میں مالیاتی شمولیت کا سفر بینک کھاتوں کی تعداد میں اضافے سے آگے بڑھ کر مالیاتی نظام میں بامعنی شرکت کو ممکن بنانے تک وسعت اختیار کر چکا ہے۔ بینکوں کے مضبوط نیٹ ورک، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور سرکاری اسکیموں نے باضابطہ مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسیع کیا ہے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا ( پی ایم جے ڈی وائی )، جے اے ایم تثلیث(ٹرینیٹی)، سماجی تحفظ اور جامع قرضہ جاتی سہولیات نے معاشرے کے مختلف طبقات میں مالیاتی استحکام کو مستحکم بنایا ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی خواندگی کے ذریعے شہریوں کو باضابطہ مالیاتی نظام میں پراعتماد انداز میں شرکت کے قابل بھی بنایا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات ایک ایسے زیادہ قابلِ رسائی، مستحکم اور جامع مالیاتی نظام کی تشکیل کر رہے ہیں، جو ہمہ گیر ترقی میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔

حوالہ جات

وزارت خزانہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293812&reg=48&lang=1&noshow=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2246857&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293812&reg=48&lang=1&noshow=1

https://pmjdy.gov.in/scheme

https://pmjdy.gov.in/account

https://dbtbharat.gov.in/

https://dfs.dashboard.nic.in/DashboardF.aspx

https://www.jansamarth.in/home

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2188526&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2257087&reg=3&lang=1

NPCI

https://www.npci.org.in/product/upi/product-statistics

Ministry of Communications

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2138023&reg=48&lang=2

Ministry of Road Transport & Highways

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2086611&reg=48&lang=2

Ministry of Agriculture and Farmers Welfare

https://fasalrin.gov.in/

Ministry of Electronics and Information Technology

https://socialwelfare.vikaspedia.in/viewcontent/social-welfare/financial-inclusion/financial-literacy/national-centre-for-financial-education-ncfe?lgn=en

World Bank

https://www.worldbank.org/en/publication/globalfindex

PIB Backgrounders

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=154980&lang=1&reg=3

https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=149258&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158149&ModuleId=2&reg=20&lang=8

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=158322&NoteId=158322&ModuleId=3&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2266920&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2285236&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158466&ModuleId=3&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158056&ModuleId=3&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2269253&reg=3&lang=1

Others

https://newsonair.gov.in/countrys-improvised-financial-inclusion-index-shows-continued-progress-in-financial-services-rbi/

Financial Literacy App by NCFE

https://ncfe.org.in/

Financial Inclusion in India: Banking Every Citizen, Empowering Every Household

 

****

 (ش ح ۔ش ت۔ ش ب ن)

U. No.6956


(ریلیز آئی ڈی: 2330577) وزیٹر کاؤنٹر : 17
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali