پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 OCT 2026 3:53PM by PIB Delhi
|
پی ایم کسان اسکیم کے تحت اہل کسان خاندانوں کو سالانہ 6,000 روپے تین قسطوں میں فراہم کیے جاتے ہیں، جس سے زرعی سرمایہ کاری اور گھریلو مالی استحکام کو فروغ ملتا ہے۔ اس اسکیم کی 24ویں قسط کے تحت 9.34 کروڑ کسانوں کو 18,690 کروڑ روپے سے زائد کی رقم منتقل کی گئی، جس کے ساتھ ہی اب تک تقسیم کی جانے والی مجموعی رقم 4.64 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ آدھار سے منسلک بینک کھاتوں، براہِ راست رقمی منتقلی، ای کے وائی سی اور رقمی توثیق کے ذریعے شفافیت کو فروغ ملتا ہے اور درمیانی افراد کا کردار کم ہوتا ہے۔ اس اسکیم کو 2030-31 تک جاری رکھنے اور اس کے لیے 3.15 لاکھ کروڑ روپے کے مالیاتی بجٹ کی فراہمی سے کسانوں کی آمدنی کے تحفظ کے لیے مسلسل تعاون کو تقویت ملتی ہے۔
|
پی ایم کسان: کسانوں کی آمدنی کے تحفظ کو مستحکم بنانے کی پہل
حکومت نے 30 اکتوبر 2026 کو گجرات کے بناس کانٹھا میں پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم کسان) کی 24ویں قسط جاری کی۔ اس کے تحت 9.34 کروڑ سے زائد اہل کسانوں کو تقریباً 18,690 کروڑ روپے کی براہِ راست مالی امداد فراہم کی گئی۔ یہ رقم راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) نظام کے ذریعے منتقل کی گئی، جس سے شفافیت کو یقینی بنانے اور درمیانی افراد کے کردار کو ختم کرنے میں مدد ملی۔ اس اسکیم کو ’’انّ داتا سمان‘‘ (غذائی اجناس فراہم کرنے والے کسانوں کا احترام) کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم اقدام تصور کیا جاتا ہے۔
حال ہی میں، جولائی 2026 میں مرکزی کابینہ نے پی ایم کسان اسکیم کو 27-2026 سے 31-2030 تک جاری رکھنے کی منظوری دی۔ اس مدت کے دوران اسکیم کے لیے مجموعی طور پر 3.15 لاکھ کروڑ روپے کے مالیاتی بجٹ کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ منظوری اس عہد کا اعادہ کرتی ہے کہ کسانوں کی خوش حالی ہی ملک کی خوش حالی کی بنیاد ہے۔
پی ایم کسان کے تحت چھوٹے اور حاشیے پرپڑے کسانوں کو براہِ راست مالی امداد
پی ایم کسان (پردھان منتری کسان سمان ندھی) اسکیم کا آغاز 24 فروری 2019 کو کیا گیا تھا۔ یہ مرکز کی مالی اعانت سے چلنے والی ایک اسکیم ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں قابلِ کاشت زمین رکھنے والے کسان خاندانوں کو یقینی آمدنی کی مدد فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہر اہل کسان خاندان کو سالانہ 6,000 روپے کی مالی امداد دی جاتی ہے۔ یہ رقم 2,000 روپے کی تین مساوی قسطوں میں آدھار سے منسلک ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے۔
پی ایم کسان اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی مالی امداد سے کسانوں کو بیج، کھاد، آبپاشی، زرعی مشینری اور دیگر زرعی ضروریات پر بروقت سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملی ہے۔ اس سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، غیر رسمی ذرائع سے قرض لینے پر ان کا انحصار کم ہوا ہے اور دیہی گھرانوں کے مالی استحکام کو تقویت ملی ہے۔
اب تک اس اسکیم کی 24 قسطوں کے ذریعے ملک بھر کے اہل کسان خاندانوں کو 4.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ اس اسکیم کے فوائد ان کسانوں کو فراہم کیے جاتے ہیں جن کے اراضی کے ریکارڈ پی ایم کسان پورٹل پر درج اور منسلک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے لیے بینک کھاتوں کو آدھار سے منسلک کرنا اور برقی طریقے سے شناخت کی تصدیق (ای-کے وائی سی) کا عمل مکمل کرنا بھی ضروری ہے۔ کسانوں کی آمدنی کے تحفظ کو مزید مستحکم بنانے کے حکومت کے مسلسل عزم کا اظہار کرتے ہوئے، مرکزی بجٹ 27-2026 میں پی ایم کسان اسکیم کے لیے 60,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس اسکیم کا مقصد زرعی ضروریات کی تکمیل کے لیے مالی امداد فراہم کرکے چھوٹے اور حاشیے پر پڑے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس سے فصلوں کی صحت اور پیداواریت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ براہِ راست مالی امداد کی فراہمی سے کسانوں کا غیر رسمی ذرائع سے قرض لینے پر انحصار بھی کم ہوتا ہے اور زرعی سرگرمیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ پی ایم کسان دنیا کے سب سے بڑے براہِ راست رقمی منتقلی (ڈی بی ٹی) کے اقدامات میں سے ایک ہے۔ یہ اسکیم کسانوں تک براہِ راست مالی امداد پہنچانے کے لیے ایک اہم ادارہ جاتی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔
پی ایم کسان کے تحت رقم کی منتقلی کا سفر
اس عمل کا آغاز پی ایم کسان پورٹل، موبائل ایپ یا کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی) کے ذریعے کسانوں کے اندراج سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد ریاستی حکومتیں کسانوں کی اہلیت کی تصدیق کرتی ہیں اور مستفیدین کی تفصیلات پورٹل پر اپ لوڈ کرتی ہیں۔ اگلے مرحلے میں نظام کے ذریعے آدھار اور بینک کھاتے کی تفصیلات کی توثیق کی جاتی ہے اور نااہل درخواست گزاروں کو فہرست سے خارج کردیا جاتا ہے۔ ریاست کی جانب سے حتمی منظوری ملنے کے بعد اعداد و شمار کو کھاتے کی تصدیق کے لیے عوامی مالیاتی انتظامی نظام (پی ایف ایم ایس) کو بھیج دیا جاتا ہے۔
اہل قرار دیئے جانے والے مستفیدین کے ریکارڈ کی بنیاد پر فنڈز کی منتقلی کی درخواستیں اور ادائیگی کے احکامات تیار کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد محکمہ زراعت اور کسانوں کی بہبود کی جانب سے منظوری کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔ ادائیگیوں کا عمل اسپانسر بینکوں اور نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔ آخر میں رقم براہِ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں جمع کردی جاتی ہے، جس سے فوائد کی تیز رفتار، شفاف اور مؤثر فراہمی یقینی بنتی ہے۔

اہل مستفیدین کا تعین، ان کی شناخت اور اعداد و شمار کا انتظام
ریاستی حکومتیں اہل کسان خاندانوں کی شناخت کرنے اور مستفیدین کا ایک جامع اعداد و شمار پر مبنی ریکارڈ تیار کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ اس ریکارڈ میں نام، عمر، زمرہ، آدھار نمبر، بینک کھاتے کی تفصیلات اور موبائل نمبر جیسی اہم معلومات شامل ہوتی ہیں۔ ریاستیں ان تفصیلات کی درستگی کو یقینی بناتی ہیں تاکہ ایک ہی مستفید کو دوہری ادائیگی نہ ہونے پائے ۔ ان ریکارڈ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے، رقمی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے اور فوائد کی بلا رکاوٹ براہِ راست منتقلی کو ممکن بنانے کے لیے آدھار اور بینک کھاتے کی تفصیلات سے منسلک کیا جاتا ہے۔
شفافیت کو فروغ دینے کے لیے اہل مستفیدین کی فہرستیں گاؤں کی سطح پر عوامی طور پر آویزاں کی جاتی ہیں۔ اس سے ان کسانوں کو بھی مناسب شکایتی ازالے کے طریقۂ کار کے ذریعے فہرست میں اپنا نام شامل کرانے کا موقع ملتا ہے، جو کسی وجہ سے نادانستہ طور پر اس سے محروم رہ گئے ہوں۔ اس کے علاوہ، ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے نااہل افراد کو فراہم کی گئی مالی امداد کی واپسی کے لیے بھی کارروائی کرتے ہیں۔ ان نااہل افراد میں انکم ٹیکس ادا کرنے والے، سرکاری ملازمین، سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یو) کے ملازمین اور آئینی عہدوں پر فائز افراد شامل ہیں۔ دسمبر 2025 تک ملک بھر میں نااہل مستفیدین سے مجموعی طور پر 416.75 کروڑ روپے کی رقم واپس وصول کی جا چکی ہے۔
نگرانی اور شکایات کے ازالے کا کثیر سطحی نظام
پی ایم کسان اسکیم کی نگرانی قومی، ریاستی اور ضلعی سطح پر کام کرنے والے ایک کثیر سطحی ادارہ جاتی نظام کے ذریعے کی جاتی ہے۔ قومی سطح پر جائزہ لینے کے نظام کی سربراہی کابینہ سکریٹری کرتے ہیں، جبکہ ریاستی اور ضلعی نگرانی کمیٹیاں اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں اسکیم کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہیں۔
کسان پی ایم کسان پورٹل اور مرکزی عوامی شکایات کے ازالے اور نگرانی کے نظام (سی پی جی آر اے ایم ایس) کے ذریعے اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔ اس سے شکایات کا بروقت ازالہ اور ان کے انتظام میں شفافیت یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران پی ایم کسان پورٹل پر مجموعی طور پر 24,605 شکایات درج کی گئیں۔
پی ایم کسان کے تحت ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی فراہمی کا نظام
پی ایم کسان اسکیم کو کسانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کردہ ایک رقمی بنیادی ڈھانچے کی مدد حاصل ہے، جو فوائد تک رسائی کو آسان بناتا ہے اور ان کی فراہمی میں شفافیت کو فروغ دیتا ہے۔ آدھار پر مبنی تصدیق اس نظام کا ایک اہم ستون ہے، جس کے ذریعے مستفیدین کی محفوظ شناخت اور ادائیگیوں کی توثیق میں سہولت ملتی ہے۔ کسان درج ذیل طریقوں سے برقی تصدیقِ شناخت (ای-کے وائی سی) کا عمل مکمل کر سکتے ہیں:
- (او ٹی پی) کے ذریعے تصدیق
- بائیومیٹرک شناخت کے ذریعے تصدیق
- چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق

پی ایم کسان ویب پورٹل مستفیدین کے اندراج، تصدیق اور اعداد و شمار کے انتظام کے لیے مرکزی رقمی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس پر کسانوں کا ایک متحدہ قومی ڈیٹا بیس موجود ہے اور عوامی مالیاتی انتظامی نظام (پی ایف ایم ایس) کے ساتھ مربوط ہونے کی بدولت مالی امداد کی منتقلی میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ پورٹل ملک بھر میں مالی لین دین کی حقیقی وقت میں نگرانی کو بھی ممکن بناتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ مستفید ہونے والے کسانوں کی مقام کے لحاظ سے فہرستیں بھی فراہم کرتا ہے، جس سے اسکیم کے نفاذ میں شفافیت کو فروغ ملتا ہے۔
ویب پورٹل کی تکمیل کرتے ہوئے، 2020 میں شروع کی گئی پی ایم کسان موبائل ایپلی کیشن ان خدمات کو موبائل صارفین تک بھی پہنچاتی ہے۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے کسان اپنا اندراج خود کر سکتے ہیں، مالی امداد کی منتقلی کی صورتِ حال معلوم کر سکتے ہیں اور برقی تصدیقِ شناخت (ای-کے وائی سی) کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ 2023 میں اس ایپلی کیشن کو چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کی سہولت سے آراستہ کیا گیا۔ اس کے ذریعے کسان اپنا چہرہ اسکین کرکے ای-کے وائی سی کا عمل مکمل کر سکتے ہیں، جس سے او ٹی پی یا انگلیوں کے نشانات کے ذریعے تصدیق کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اس طرح یہ اقدام اسکیم تک رسائی کو آسان بنانے میں نہایت معاون ثابت ہوا ہے۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون نظام: کسان ای-متر
ستمبر 2023 میں حکومت نے کسان ای-متر متعارف کرایا، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک چیٹ بوٹ ہے اور پی ایم کسان کے رقمی نظام سے مربوط ہے۔ اسے ایکس اسٹیپ فاؤنڈیشن اور بھاشنی کے تکنیکی تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ چیٹ بوٹ کسانوں کو اسکیم کے تحت ادائیگیوں، اندراج اور اہلیت سے متعلق تازہ ترین معلومات متعدد ہندوستانی زبانوں میں فراہم کرتا ہے۔
یہ پلیٹ فارم 11 بڑی زبانوں میں چوبیس گھنٹے مدد فراہم کرتا ہے، جن میں ہندی، انگریزی، تمل، بنگالی، اوڈیا، ملیالم، گجراتی، پنجابی، تیلگو، مراٹھی اور کنڑ شامل ہیں۔ اس سے مختلف زبانیں بولنے والے صارفین کے لیے اسکیم تک رسائی آسان ہوتی ہے۔ صوتی اور تحریری سوالات کے ذریعے کسان اپنی درخواستوں کی صورتِ حال معلوم کر سکتے ہیں، ادائیگیوں سے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور اسکیم سے متعلق دیگر تفصیلات بھی جان سکتے ہیں۔
مسلسل مالی امداد کے ذریعے زرعی شعبے کو مستحکم بنانا
پی ایم کسان بروقت اور براہِ راست مالی امداد فراہم کرکے کسانوں کی آمدنی کے تحفظ کا ایک اہم ستون بن کر ابھری ہے۔ اس کی 24ویں قسط کی ادائیگی اس عہد کو مزید مستحکم کرتی ہے، جس کے تحت 9.34 کروڑ سے زائد کسانوں کو 18,690 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 4.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ یہ اسکیم بدستور زرعی سرمایہ کاری اور دیہی خاندانوں کے معاشی استحکام میں معاونت کر رہی ہے۔ اس کا ٹیکنالوجی پر مبنی نظامِ فراہمی شفافیت، جواب دہی اور وسیع تر رسائی کو فروغ دیتا ہے۔ اسکیم کو 31-2030 تک جاری رکھنے کی منظوری کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے طویل مدتی عزم کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ کسانوں کی زرعی ضروریات پر سرمایہ کاری کرنے اور کھیتی باڑی کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت کو مستحکم بنا کر پی ایم کسان جامع زرعی ترقی اور ملک کے کسانوں کی خوش حالی کے وسیع تر وژن کو آگے بڑھا رہی ہے۔
حوالہ جات
وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود
https://pmkisan.gov.in/
https://x.com/pmkisanofficial?lang=en
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2330171®=48&lang=2
کابینہ
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292437®=48&lang=1
پی آئی بی بیک گراونڈر
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2275744®=48&lang=2
پی ڈی ایف کے لیے یہاں کلک کریں:
****
ش ح۔ ا ک۔ خ م
U.NO.6954