پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 OCT 2026 10:35AM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی وزارتِ ثقافت، حکومتِ اروناچل پردیش، بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن (آئی بی سی) اور نیشنل میوزیم، نئی دہلی کے اشتراک سے 31 اکتوبر سے 21 نومبر 2026 تک اروناچل پردیش میں شاکیہ منی بدھ کے مقدس باقیات کی نمائش کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس نمائش کا انعقاد بدھ مت کے عقیدے اور ورثے کے تین اہم مراکز، توانگ، بومڈیلا اور نامسائی میں کیا جائے گا، جہاں عقیدت مندوں اور عام لوگوں کو ان مقدس باقیات کی زیارت اور عقیدت کے اظہار کا موقع ملے گا۔
ثقافت و سیاحت کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت 31 اکتوبر 2026 کو تاریخی گاڈن نمگیال لاٹسے(توانگ خانقاہ) میں منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر حکومتِ اروناچل پردیش کے ممتاز نمائندے، بدھ سنگھ کے معزز بھکشو، بدھ مت کے اداروں کے نمائندے، عقیدت مند اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود ہوں گی۔
اس نمائش کا اہتمام مقدس باقیات کی گہری روحانی اہمیت اور بھارت کے بدھ مت کے ثقافتی منظرنامے میں اروناچل پردیش کے منفرد مقام کے اعتراف میں کیا جا رہا ہے۔ یہ ملک کے بدھ مت کے ورثے کے تحفظ، نگہداشت اور فروغ کے لیے حکومتِ ہند کے مسلسل عزم اور بھارت سمیت بیرونِ ملک بدھ مت کی پیروکار برادریوں کے ساتھ ثقافتی اور روحانی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا بھی عکاس ہے۔

توانگ خانقاہ
توانگ میں مقدس باقیات کی رسمی منتقلی اور افتتاحی تقریب
مقدس باقیات ، جو اس وقت نیشنل میوزیم، نئی دہلی میں محفوظ ہیں، 30 اکتوبر 2026 کی شب عجائب گھر میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ اپنے مقدس سفر کا آغاز کریں گی۔ اس کے بعد انہیں مزید سفر کے لیے فضائیہ کے ہوائی اڈے پالَم لے جایا جائے گا۔
مجوزہ سفری پروگرام کے مطابق، مقدس باقیات کو 31 اکتوبر 2026 کی علی الصبح بھارتی فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعے پالَم سے روانہ کیا جائے گا اور گوہاٹی کے فضائیہ کے ہوائی اڈے بورجھار پہنچایا جائے گا۔ وہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے توانگ لے جایا جائے گا۔
وہاں پہنچنے پر مقدس باقیات کا مذہبی رسومات اور عقیدت و احترام کے ساتھ استقبال کیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں توانگ خانقاہ لے جایا جائے گا، جہاں انہیں زیارت کے لیے مخصوص مقام پر رکھا جائے گا اور افتتاحی تقریب منعقد ہوگی۔ یہ تقریب 31 اکتوبر 2026 کو صبح 10 بجے سے 11:30 بجے کے درمیان منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے علاوہ، نمائش اور اس سے متعلق خصوصی نمائش گاہ کا افتتاح یکم نومبر 2026 کو کیا جائے گا۔ اس تقریب میں اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو مہمانِ خصوصی ہوں گے۔
یہ پروگرام ایسے وقت پر ہورہا ہے جب اس دن لہباب دُچین کا تہوار بھی ہے، جو تبتی بدھ مت کی روایت کا ایک اہم تہوار ہے اور اس دن بھگوان بدھ کے آسمانی عالم سے زمین پر واپس آنے کی یاد منائی جاتی ہے۔ اس طرح یہ نمائش ایک ایسے روحانی ماحول میں مذہبی رسومات، ثقافتی ورثے اور عوامی شرکت کو یکجا کرے گی، جو گہری روحانی معنویت کا حامل ہوگا۔
مقدس باقیات کی منتقلی اور انہیں مخصوص مقام پر رکھنے کے انتظامات کرتے وقت ان کی تقدیس، حفاظت اور محفوظ رکھے جانے کے تقاضوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزارتِ ثقافت، وزارتِ دفاع، بھارتی فضائیہ، حکومتِ اروناچل پردیش، قومی عجائب گھر اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ضروری انتظامی اور عملی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔

بومڈیلا خانقاہ
نمائش کا شیڈول: توانگ، بومڈیلا اور نمسائی
مقدس آثار درج ذیل مقامات پر عوامی درشن کے لیے دستیاب ہوں گے:
|
تاریخیں
|
مقام
|
پروگرام
|
|
31 اکتوبر 2026
|
گادین نامگیال لہاتسے، توانگ خانقاہ
|
آمد، رسمی استقبال اور افتتاحی تقریب
|
|
1-7 نومبر 2026
|
توانگ خانقاہ
|
عوامی درشن اور نمائش
|
|
8-13 نومبر 2026
|
ٹی جی ایل خانقاہ (لوئر گومپا)، بومڈیلا
|
عوامی درشن اور نمائش
|
|
14-20 نومبر 2026
|
گولڈن پگوڈا، نامسائی
|
عوامی درشن اور نمائش
|
|
21 نومبر 2026
|
نامسائی-تیزو-نئی دہلی
|
قومی عجائب گھر میں مقدس آثار کی رسمی روانگی اور واپسی۔
|
8 نومبر کو مقدس باقیات کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے توانگ سے روپا لے جانے اور وہاں سے سڑک کے راستے بومڈیلا پہنچانے کا پروگرام ہے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق، لوئر گومپا میں باقیات کو زیارت کے لیے مخصوص مقام پر رکھنے سے پہلے اپر گومپا میں مذہبی رسومات کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا۔ اس موقع پر افتتاحی تقریب دوپہر 3 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان منعقد ہوگی۔
14 نومبر کو مقدس باقیات کو سڑک کے راستے بومڈیلا سے روپا اور وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامسائی کے نالونگ ہیلی پیڈ پہنچایا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں گولڈن پگوڈا لے جایا جائے گا، جہاں انہیں زیارت کے لیے مخصوص مقام پر رکھنے اور افتتاحی تقریب کا اہتمام صبح 11 بجے سے دوپہر 12 بجے تک کیا جائے گا۔
نامسائی میں عوام کے لیے زیارت کا سلسلہ مکمل ہونے کے بعد، مقدس باقیات کو 21 نومبر 2026 کو تیزو ہوائی اڈے اور فضائیہ کے ہوائی اڈے پالَم کے راستے واپس قومی عجائب گھر، نئی دہلی پہنچایا جائے گا۔
آمد و رفت کے اوقات اور نقل و حمل کے انتظامات موسم، حفاظتی تقاضوں اور دیگر عملی حالات کے پیش نظر تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

نامسائی پاگوڈا (معبد)
مقدس پپرہوا باقیات : آثارِ قدیمہ اور روحانی ورثے کا ایک غیر معمولی خزانہ
اروناچل پردیش لے جائے جانے والے مقدس باقیات کا تعلق موجودہ اتر پردیش کے ضلع سدھارتھ نگر میں واقع پپرہوا سے ہے۔ یہ ایک اہم آثارِ قدیمہ کا مقام ہے، جس کا تعلق قدیم کپل وستو اور بھگوان بدھ کی شاکیہ روایت سے ہے۔
بدھ مت کی آثارِ قدیمہ کی تاریخ میں پپرہوا کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ 1898 میں ولیم کلیکسن پیپے نے اس مقام پر ایک اسٹوپا کی کھدائی کی اور وہاں سے ایسے باقیات کے ظروف دریافت کیے، جن میں ہڈیوں کے ٹکڑے اور قیمتی اشیا موجود تھیں۔ اس دریافت نے اس کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کی جانب عالمی توجہ مبذول کرائی۔
بعد ازاں، محکمہ آثارِ قدیمہ ہند نے ماہرِ آثارِ قدیمہ جناب کے۔ ایم۔ سریواستو کی نگرانی میں 1971 سے 1977 کے درمیان مزید کھدائیاں کیں۔ ان کھدائیوں کے دوران گہری سطحوں سے باقیات کے دو مزید ظروف برآمد ہوئے، جن میں ہڈیوں کے قدیم مقدس آثار موجود تھے اور جنہیں روایتی طور پر بھگوان بدھ سے منسوب کیا جاتا ہے۔
بڑے ظرف میں ہڈیوں کے 12 مقدس ٹکڑے جبکہ چھوٹے ظرف میں 10 ٹکڑے موجود تھے۔ اس طرح ان کھدائیوں کے دوران مجموعی طور پر 22 مقدس باقیات برآمد ہوئے۔ ان میں سے 20 قومی عجائب گھر، نئی دہلی میں اور دو بھارتی عجائب گھر، کولکاتا میں محفوظ ہیں۔
یہ باقیات قدیم ہڈیوں پر مشتمل ہیں اور انہیں غیر معمولی طور پر نایاب آثار تصور کیا جاتا ہے۔ بدھ مت کے پیروکار ان سے گہری مذہبی عقیدت رکھتے ہیں۔ ان کی تاریخی اور آثارِ قدیمہ کی اہمیت کے ساتھ ساتھ گہری روحانی معنویت بھی وابستہ ہے، جس کی بنیاد باقیات کی زیارت اور تعظیم کی قدیم بدھ مت روایت میں پیوست ہے۔
کُشی نگر میں بھگوان بدھ کے مہاپرینروان کے بعد ان کے جسدِ مبارک کے باقیات کو اسٹوپوں میں محفوظ کرنے کی روایت نے بدھ مت میں عقیدت کے ایک اہم اظہار کی شکل اختیار کرلی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مقدس مقامات زیارت، مذہبی تعلیم اور ثقافتی تبادلے کے اہم مراکز بن گئے۔
موجودہ نمائش عقیدت مندوں کو اس قدیم روحانی روایت سے وابستہ ہونے کا موقع فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ آنے والی نسلوں کے لیے آثارِ قدیمہ اور مذہبی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرے گی۔
اروناچل پردیش: بدھ مت کی مختلف روایات کا سنگم
بھارت کے بدھ مت کے ثقافتی جغرافیے میں اروناچل پردیش کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہاں کی خانقاہیں، مذہبی ادارے اور زندہ روایات ہمالیائی خطے اور بدھ مت کے ایشیا کے دیگر علاقوں کے ساتھ تاریخی روابط کی عکاسی کرتی ہیں۔
ریاست کے مغربی اور شمالی حصے سمیت توانگ اور ویسٹ کامینگ، بالخصوص ہمالیائی بدھ مت کی مہایان اور وجریان روایات سے وابستہ ہیں۔
توانگ خانقاہ، جسے گادین نامگیال لہاتسے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، خانقاہی تعلیم، مذہبی معمولات اور ثقافتی روایات کے تسلسل کا ایک اہم مرکز ہے۔ اسی طرح بومڈیلا کی خانقاہیں بھی اس خطے کی روحانی اور فنّی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اروناچل پردیش کے مشرقی حصے، بالخصوص نامسائی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں، تائی خامتی اور بدھ مت کی دیگر برادریوں کے پیروکاروں کی تھیرواڈا روایات، بھارت کے متنوع بدھ مت ورثے کے ایک اور اہم پہلو کی نمائندگی کرتی ہیں۔
اس طرح توانگ، بومڈیلا اور نامسائی میں منعقد ہونے والی یہ نمائش مقدس باقیات کو بدھ مت کی مختلف روایات کی نمائندگی کرنے والی برادریوں تک پہنچائے گی۔ اس سے ریاست میں بدھ مت کی روایات کے تنوع اور ان کی مشترکہ روحانی بنیادوں کی عکاسی ہوگی۔
مذہبی اہمیت کے علاوہ، اس اقدام سے اروناچل پردیش کے بدھ مت ورثے کے بارے میں بیداری کو فروغ ملنے، ثقافتی تبادلے کو تقویت پہنچنے اور بھگوان بدھ کی تعلیمات سے وابستہ امن، ہمدردی، عدم تشدد اور ہم آہنگی جیسی آفاقی اقدار کو فروغ دینے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
بدھ مت کے ورثے کے تحفظ کے لیے حکومتِ ہند کا مسلسل عزم
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومتِ ہند نے ملک کے بدھ مت ورثے کے تحفظ، نگہداشت، فروغ اور بین الاقوامی سطح پر تشہیر کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
ان کوششوں میں بدھ مت کی تاریخی یادگاروں اور مقدس اشیا کا تحفظ، زیارت گاہوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بدھ مت کے علمی و تحقیقی کاموں اور ثقافتی تبادلوں کی حوصلہ افزائی، اہم تاریخی نوادرات کی واپسی اور مقدس باقیات کی بین الاقوامی نمائشوں کا انعقاد شامل ہے۔
حکومت کا نقطۂ نظر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ بھارت کے تہذیبی ورثے کا تحفظ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان ثقافتی اور روحانی روابط کو مستحکم کرنا بھی اہم ہے جو بھارت کو دنیا بھر کی بدھ مت برادریوں سے جوڑتے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک اہم حالیہ پیش رفت 2025 میں پپرہوا کے جواہرات کے مجموعے کی بھارت واپسی تھی، جس کا تعلق 1898 کی تاریخی دریافت سے ہے۔ اس مجموعے کی مجوزہ بین الاقوامی نیلامی کے بعد وزارتِ ثقافت نے اس کی واپسی کے لیے کوششیں کیں، جن کے نتیجے میں تقریباً 127 سال بعد یہ قیمتی نوادرات وطن واپس لائے گئے۔
ان قیمتی اشیا کی وطن واپسی بھارت کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بازیابی کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی اور اس سے پپرہوا کی تاریخ اور ابتدائی بدھ مت روایت کے بارے میں عوامی دلچسپی کو ایک بار پھر فروغ ملا۔
حکومتِ ہند کے یہ اقدامات ’’وکاس بھی، وراثت بھی‘‘ کے وسیع تر اصول کی بھی عکاسی کرتے ہیں، جس میں ترقی اور ورثے کے تحفظ دونوں کی اہمیت کو یکساں طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی نمائشیں: بھارت کے بدھ مت کے ثقافتی روابط کو مستحکم کرنے کی کوشش
بھارت کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر مقدس باقیات کی نمائشوں کے ذریعے اپنے بدھ مت ورثے کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ ان نمائشوں کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم عقیدت مندوں کو بھی اجتماعی طور پر مقدس باقیات کی زیارت اور عقیدت کے اظہار کا موقع ملتا ہے اور دوستی کے تاریخی رشتے مزید مستحکم ہوتے ہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران حکومتِ ہند کے تعاون سے سری لنکا، منگولیا، سنگاپور، جمہوریہ کوریا اور تھائی لینڈ سمیت متعدد ممالک میں ایسی نمائشوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں بھی اس طرح کے اقدامات کے ذریعے ثقافتی سفارت کاری اور عوامی سطح پر باہمی روابط کو مسلسل فروغ ملا ہے۔
2022 میں منگولیا میں بھگوان بدھ کے مقدس باقیات کی نمائش نے بھارت اور منگولیا کے درمیان بدھ مت سے وابستہ دیرینہ روابط کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔
2024 میں بھگوان بدھ کے مقدس باقیات کے ساتھ ان کے دو اہم ترین شاگردوں، ارہنت ساری پتر اور ارہنت مہاموگّلائن کے باقیات بھی عوامی زیارت کے لیے تھائی لینڈ لے جائے گئے۔ ان کی نمائش بنکاک، چیانگ مائی، اوبن رتچاتھانی اور کرابی میں کی گئی، جس میں لاکھوں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
2025 میں ویساک کی تقریبات کے موقع پر بھگوان بدھ کے مقدس باقیات ویتنام لے جائے گئے، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کی زیارت کی۔ اسی سال روس کے کالمیکیا علاقے اور بھوٹان میں بھی ایسی نمائشوں کا اہتمام کیا گیا، جس سے ان خطوں کی بدھ مت برادریوں کے ساتھ بھارت کے روحانی اور ثقافتی تعلقات مزید مستحکم ہوئے۔
فروری 2026 میں دیونی موری کے مقدس باقیات عوامی زیارت کے لیے سری لنکا لے جائے گئے، جو دونوں ممالک کے درمیان بدھ مت سے وابستہ دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔
مئی 2026 میں لداخ میں بھگوان بدھ کے مقدس باقیات کی نمائش نے ہمالیائی خطے کے عقیدت مندوں اور خانقاہی برادریوں کو اجتماعی دعاؤں اور عقیدت کے اظہار کا ایک اہم موقع فراہم کیا۔
اس کے بعد مئی تا جون 2026 کے دوران سانچی سے تعلق رکھنے والے ارہنت ساری پتا اور ارہنت مہاموگّلائن کے مقدس باقیات کو ایک خصوصی نمائش کے لیے منگولیا کے دارالحکومت اولان باتر میں واقع گاندان تیگچین لنگ خانقاہ لے جایا گیا۔
یہ تمام اقدامات باہمی احترام، ثقافتی ہم آہنگی اور روحانی اخوت کے جذبے کے تحت اپنے بدھ مت ورثے کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کے بھارت کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
اروناچل پردیش میں منعقد ہونے والی یہ نمائش بھی اس مسلسل کوشش کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔ اس کے ذریعے قومی عجائب گھر میں محفوظ مقدس ورثے کو بھارت کے شمال مشرقی ہمالیائی خطے کی بدھ مت برادریوں کے مزید قریب لایا جا رہا ہے۔
خصوصی نمائش: ’’مقدس پپرہوا کی بازیافت‘‘
ایک اہم ضمنی اقدام کے طور پر، بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن توانگ، بومڈیلا اور نامسائی میں ’’مقدس پپرہوا کی بازیافت: بھگوان بدھ کے مقدس باقیات اور ان کی دریافت کی داستان‘‘ کے عنوان سے ایک نمائش کا اہتمام کرے گی۔
اس نمائش میں بدھ مت میں مقدس باقیات کی تعظیم اور زیارت کی تاریخی اور روحانی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا۔ اس کا آغاز سدھارتھ گوتم کی زندگی اور تعلیمات سے ہوگا اور بھگوان بدھ کے مہاپرینروان کے بعد ان کے مقدس باقیات کو محفوظ کرنے کی روایت کے ارتقا کو بھی پیش کیا جائے گا۔
نمائش میں پپرہوا میں ہونے والی آثارِ قدیمہ کی دریافتوں کا جائزہ لیا جائے گا، جن میں 1898 میں ولیم کلیکسن پیپے کی جانب سے کی گئی کھدائی اور اس کے بعد محکمہ آثارِ قدیمہ ہند کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات بھی شامل ہیں۔
اس نمائش میں پپرہوا کے جواہرات کے تاریخی سفر، پیپے خاندان کے ذخیرے سے ان کے تعلق، 2025 میں ان کی مجوزہ بین الاقوامی نیلامی اور اس کے بعد انہیں بھارت واپس لانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اس تفصیل کے ذریعے زائرین کو آثارِ قدیمہ کی تحقیق، مذہبی روایات، ورثے کے تحفظ اور ثقافتی اہمیت کی حامل اشیا کی بازیابی کے باہمی تعلق کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
توقع ہے کہ یہ نمائش اس تقریب کا ایک اہم تعلیمی اور ثقافتی جزو ثابت ہوگی، بالخصوص طلبہ، محققین، نوجوان زائرین اور بھارت کی بدھ مت تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے عام لوگوں کے لیے یہ خصوصی اہمیت کی حامل ہوگی۔
’’بدھ مت: ہمالیائی خطے اور اس سے آگے اس کا فروغ اور اس کی اشاعت‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس
بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن، حکومتِ اروناچل پردیش کے اشتراک سے 2 نومبر 2026 کو توانگ کے کلاوانگپو کنونشن ہال میں ’’بدھ مت: ہمالیائی خطے اور اس سے آگے اس کی اشاعت‘‘ کے عنوان سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا بھی اہتمام کرے گی۔
توقع ہے کہ اس کانفرنس میں بھارت، نیپال، سری لنکا، میانمار، ملائیشیا، انڈونیشیا اور جرمنی کے معزز بدھ بھکشو، بدھ مت کے محققین اور مندوبین شرکت کریں گے۔
یہ کانفرنس بدھ مت کی تعلیمات کی تاریخی اشاعت، خانقاہی اداروں کے ارتقا، بدھ مت کے علمی ورثے کے تحفظ اور بدھ مت کے فلسفے و اخلاقی اصولوں کی موجودہ دور میں معنویت جیسے موضوعات پر علمی تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔
کانفرنس میں ہونے والی بحث و مباحثے کو تین وسیع موضوعات کے تحت ترتیب دیا جائے گا:
1۔ مہاپرینروان کے بعد بھگوان بدھ کی میراث کو آگے بڑھانا
اس موضوع کے تحت بھگوان بدھ کے مہاپرینروان کے بعد ان کی تعلیمات اور مذہبی معمولات کے تسلسل کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس میں چار عظیم حقائق کو ایک زندہ ورثے کے طور پر برقرار رکھنے، قدیم نوادرات اور مادی ثقافت کے تحفظ، مذہبی اداروں کے ارتقا، مقدس باقیات کی بین الاقوامی نمائشوں کے ذریعے عالمی روابط اور مشترکہ ثقافتی روایات میں بدھ مت کے کردار جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
2۔ بدھ مت کا تاریخی اور اعتقادی تسلسل
اس موضوع میں بدھ مت کے مذہبی متون اور خانقاہی سلسلوں کی ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقلی پر توجہ مرکوز کی جائے گی، بالخصوص اروناچل پردیش کے حوالے سے۔ اس کے علاوہ بدھ مت کے مختلف مکاتبِ فکر، مشترکہ اعتقادی بنیادوں، زبان اور تشریح، تدریسی روایات اور فن و ثقافتی اظہار کے ذریعے بدھ مت کے افکار کے تحفظ کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
3۔ بدھ مت اور باعزت روزگار
تیسرے موضوع کے تحت بدھ مت کی اخلاقی تعلیمات کی موجودہ دور میں معنویت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس میں نالندہ کی علمی روایات اور جدید تعلیمی اداروں کے درمیان روابط، ثقافتی سیاحت اور مذہبی زیارت، ہنرمندی کی ترقی، پائیدار ذرائع معاش اور بدھ مت، عالمگیریت اور صارفیت کے باہمی تعلق جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔
اس کانفرنس میں ایک زندہ بدھ مت ورثے کے مرکز کے طور پر اروناچل پردیش کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا، جہاں خانقاہی اداروں، اجتماعی مذہبی معمولات اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے مختلف روایات کو برقرار رکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، یہ کانفرنس اس بات کا جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرے گی کہ بدھ مت کے افکار اور اخلاقی اصول تعلیم، پائیداری، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور پُرامن بقائے باہمی سے متعلق موجودہ دور کے مباحث میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
ادارہ جاتی تال میل اور عوامی سہولتوں کے انتظامات
اس نمائش کا اہتمام وزارتِ ثقافت، حکومتِ اروناچل پردیش، قومی عجائب گھر، بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں سے کیا جا رہا ہے۔
قومی عجائب گھر، نئی دہلی، اس نمائش کے مرکزی ادارے کی حیثیت سے مقدس باقیات کے تکنیکی امور اور ان کے تحفظ سے متعلق ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ ان میں باقیات کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے، ان کی منتقلی، مخصوص مقام پر رکھنے اور بحفاظت واپس لانے کے انتظامات شامل ہیں۔
حکومتِ اروناچل پردیش متعلقہ مقامات پر تمام ضروری انتظامات میں تال میل قائم کر رہی ہے۔ ان میں سلامتی، استقبال، بنیادی سہولتوں کی فراہمی، بھیڑ کا انتظام، طبی سہولتیں، صفائی ستھرائی، مقامی نقل و حمل اور عوامی سہولتوں کے انتظامات شامل ہیں۔
بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن مذہبی امور میں تال میل، معزز بدھ بھکشوؤں کی شرکت، متعلقہ ثقافتی اور علمی پروگراموں، پپرہوا نمائش اور بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد میں تعاون فراہم کر رہی ہے۔
وزارتِ دفاع اور بھارتی فضائیہ سے مقدس باقیات کی منتقلی کے لیے مطلوبہ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اروناچل پردیش کے دشوار گزار جغرافیائی حالات اور عملی ضروریات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
نمائش اور اس سے متعلق پروگراموں کے بارے میں معلومات عام کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ذرائع ابلاغ میں تشہیر اور عوام تک معلومات پہنچانے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ان تمام انتظامات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عوام کے لیے زیارت کا سلسلہ منظم، محفوظ اور باوقار انداز میں جاری رہے اور اس دوران مذہبی تقدس اور باقیات کے تحفظ کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھے جائیں۔
امن، ہمدردی اور ہم آہنگی کا مشترکہ پیغام
اروناچل پردیش میں بھگوان بدھ کے مقدس باقیات کی نمائش روحانی غور و فکر، ثقافتی شرکت اور بھارت کے بدھ مت ورثے کے جشن کا ایک اہم موقع ہے۔
مقدس باقیات کو توانگ، بومڈیلا اور نامسائی لے جانے کے اس اقدام کے ذریعے بدھ مت کی مختلف روایات سے تعلق رکھنے والے عقیدت مندوں کو اجتماعی طور پر زیارت میں شرکت اور اپنے مشترکہ روحانی ورثے سے وابستگی کی تجدید کا موقع ملے گا۔
اس موقع پر منعقد ہونے والی خصوصی نمائش اور بین الاقوامی کانفرنس مذہبی عقیدت کو تاریخی شعور، علمی تحقیق اور ثقافتی تبادلے سے جوڑ کر اس تقریب کی اہمیت میں مزید اضافہ کریں گی۔
اس نمائش کا پیغام اس سے کہیں زیادہ وسیع اہمیت کا حامل ہے۔ بھگوان بدھ کی تعلیمات، جن میں ہمدردی، عدم تشدد، حکمت، اعتدال اور پُرامن بقائے باہمی شامل ہیں، ایک دوسرے سے تیزی سے جڑتی ہوئی دنیا میں آج بھی انسانیت کے لیے قابلِ قدر رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
مقدس ورثے کے تحفظ اور اسے ذمہ دارانہ انداز میں دنیا تک پہنچانے کے ذریعے حکومتِ ہند ثقافتی ہم آہنگی کو مستحکم کرنے، عوام کے درمیان روابط کو فروغ دینے اور بھگوان بدھ کے امن و آشتی کے لازوال پیغام کو عام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ نمائش 21 نومبر 2026 کو مقدس باقیات کی رسمی طور پر قومی عجائب گھر، نئی دہلی واپسی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔
*******
) ش ح – ع ح-ع ن)
U.No.6941