پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 OCT 2026 9:54PM by PIB Delhi
محکمہ سرمایہ کاری اور سرکاری اثاثوں کے انتظام (ڈی آئی پی اے ایم) کی جانب سے پہلا یا ابتدائی بولی کا مرحلہ مالی سال 26-2025 کے دوران اس کے داخلی طریقۂ کار کے مطابق انجام دیا گیا تھا جو رہنما ہدایات کی نوعیت کے حامل ہیں، نہ کہ ایسے سخت اور غیر لچکدار قواعد و ضوابط جن کی پابندی ہر حال میں لازم ہو۔ ان ہدایات کے دیباچے میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ تجویز کردہ طریقۂ کار کو ایک سخت قانونی ڈھانچے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ لین دین کو مقررہ مدت میں کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بہترین مفاد میں اس میں مناسب تبدیلی یا ترمیم کی جا سکتی ہے۔ اسٹریٹجک لین دین کی پیچیدہ نوعیت کے پیش نظر، ان رہنما ہدایات میں لچک رکھی گئی ہے تاکہ طویل عمل پر صرف ہونے والی لاگت اور وقت ضائع نہ ہو۔
مورخہ 14 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ پریس نوٹ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ بولی لگانے کے لیے پہلے سے کوئی معیار یا مقررہ قیمت متعین نہیں کی گئی ہے۔ بولی لگانے والے خود اپنی جانب سے قدر کا تخمینہ لگاتے ہیں اور خفیہ طور پر اپنی بولیاں جمع کراتے ہیں۔ اس ادارے کی منصفانہ قدر کا موجودہ حالات کے مطابق تخمینہ لگانے کے لیے آزاد ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جسے جمع کرائی گئی بولیوں کے معقول ہونے کا جائزہ لینے کے لیے تقابلی معیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے بولی کے عمل سے حاصل ہونے والی قیمت اور تقابلی تخمینے میں سے کوئی بھی ایک دوسرے سے زیادہ یا کم ہو سکتا ہے۔
اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے درخواست برائے تجویز (آر ایف پی) کے پیراگراف 5.3.6 (iii) میں پہلے ہی ایک واضح التزام شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق: ’’اگر سب سے زیادہ بولی لگانے والے کی مالی بولی محفوظ قیمت سے کم ہو تو حکومتِ ہند مزید کارروائی کے طریقۂ کار کا فیصلہ کرے گی اور اہل دلچسپی رکھنے والے بولی دہندگان (کیو آئی پی) اس سلسلے میں حکومتِ ہند کے کسی بھی فیصلے پر بعد میں سوال نہیں اٹھا سکیں گے۔‘‘
اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ڈی آئی پی اے ایم کے داخلی طریقۂ کار میں کوئی مخصوص ضابطہ مقرر نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے کابینہ کی اقتصادی امور سے متعلق کمیٹی (سی سی ای اے) نے سرمایہ کشی سے متعلق سکریٹریوں کے بنیادی گروپ (سی جی ڈی) کو خصوصی اختیارات تفویض کیے ہیں۔ سی سی ای اے نے 16 اگست 2017 کو ’ اسٹریٹجک سرمایہ کشی کا طریقۂ کار اور نظام—اختیارات کی تفویض‘ کے عنوان سے پیش کردہ نوٹ کی منظوری دیتے ہوئے سی جی ڈی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ سی سی ای اے کی منظور کردہ اسٹریٹجک سرمایہ کشی کے معاملات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مقررہ طریقۂ کار سے انحراف سمیت تمام دشواریوں کو دور کرے ۔اس فیصلے کا خلاصہ درج ذیل ہے:
’’8.1 اسٹریٹجک سرمایہ کشی کے معاملے میں کابینہ کی اقتصادی امور سے متعلق کمیٹی (سی سی ای اے) کی منظوری حاصل کی جائے گی۔۔۔ (ii) سرمایہ کشی سے متعلق سکریٹریوں کے بنیادی گروپ (سی جی ڈی) کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ طریقۂ کار سے متعلق امور پر پالیسی فیصلے کرے اور سی سی ای اے کے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً حسبِ ضرورت مقررہ طریقۂ کار سے انحراف کی منظوری بھی دے سکے۔‘‘اس فیصلے کو16 اگست 2017 کو منعقدہ سی سی ای اے کے اجلاس میں منظوری دی گئی۔
ان اختیارات کا باقاعدہ استعمال کرتے ہوئے، دوسرے یا بہترین پیشکش کے مرحلے کے لیے طریقۂ کار کا تعین خود سی جی ڈی نے کیا تھا۔ ریزرو پرائس میں نہ تو کوئی کمی کی گئی اور نہ ہی اضافہ، بلکہ ابتدائی بولیاں منظور نہ کیے جانے کے بعد بولی کا پہلا مرحلہ خود بخود غیر مؤثر ہو گیا۔
بہترین پیشکش کے لیے بولیاں طلب کیے جانے سے قبل اپریل 2026 میں سی جی ڈی نے قدر کے تعین کے پورے طریقۂ کار کا جائزہ لیا تھا۔ چونکہ تقابلی جائزے کے لیے استعمال ہونے والا تخمینہ موصولہ بولیوں کے وقت کے حالات کے مطابق ہونا ضروری ہے اور 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتامی حسابات اپریل کے اواخر میں عوامی سطح پر جاری کیے گئے تھے، اس لیے آزادانہ تخمینہ لگانے والی ایجنسیوں نے مئی 2026 میں ہی نظرثانی شدہ تخمینوں پر کام شروع کر دیا تھا۔ یہ پورا عمل دوہری رازداری کے اصول کے تحت انجام دیا گیا، جس میں بولی دہندہ کو تخمینے کی قیمت کا علم نہیں تھا اور تخمینہ لگانے والی ایجنسیوں کو بولیوں تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ مکمل صورتِ حال صرف سی جی ڈی کے سامنے ہوتی ہے، جو موصولہ بولیوں کا منصفانہ تخمینوں سے تقابل کرکے ان کی معقولیت کے بارے میں حتمی فیصلہ کرتا ہے۔
قدر کا تعین دو الگ الگ مشیروں کے ذریعے کیا گیا، جنہوں نے ایک دوسرے سے آزادانہ طور پر مختلف اور جداگانہ طریقۂ کار اختیار کیے۔ مقررہ ضابطے کے مطابق کاروباری قدر کا تعین ہمیشہ لین دین کے مشیر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس معاملے کی پیچیدہ نوعیت کے پیش نظر مشیر نے مزید ایسے پیشہ ور ماہرین کی خدمات حاصل کیں، جنہیں بازار کے کثیر جہتی طریقۂ کار میں خصوصی تربیت حاصل تھی۔ مختصراً، بازار کا کثیر جہتی طریقۂ کار کی دو ذیلی قسمیں ہیں: تقابلی کمپنیوں کا طریقۂ کار اور تقابلی لین دین کا طریقۂ کار۔ چونکہ اس معاملے میں تقابل کے لیے موزوں لین دین دستیاب نہیں تھے، اس لیے تقابلی کمپنیوں کا طریقۂ کار اختیار کیا گیا، جس کے تحت تمام فہرست شدہ سرکاری شعبے کے بینکوں کو تقابل کی بنیاد بنایا گیا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آئی ڈی بی آئی 2019 تک حکومت کی ’ملکیت‘ والا بینکنگ ادارہ تھا، لیکن 2019 میں ایل آئی سی کی جانب سے اکثریتی حصص کے حصول کے بعد یہ حکومت کے ’زیرِ کنٹرول‘ بینکنگ ادارے میں تبدیل ہو گیا۔ اس صورتِ حال کے لیے کوئی مخصوص ضابطہ جاتی طریقۂ کار موجود نہ ہونے کے باعث، ریزرو بینک آف انڈیا نے ضابطہ جاتی مقاصد کے لیے اسے ایک نجی بینک کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا، حالاں کہ اس کی ملکیت بدستور بڑی حد تک ایل آئی سی اور حکومتِ ہند کے پاس رہی اور بازار کے سرمایہ کار بھی اس کی قدر کا تعین سرکاری شعبے کے ادارے کے طور پر کرتے رہے۔
اثاثوں کی قدر کا تعین کرنے والے ماہر نے بھی مستند اور آزمودہ طریقۂ کار اختیار کیے جن میں متنازع ٹیکس مطالبات کے لیے اضافی قدر کو بھی شامل کیا گیا، جس کی تلافی کی ضمانت تمام اہل بولی دہندگان کے مشترکہ مطالبے پر فراہم کی گئی، تاکہ بولی کی پیشکش میں اضافہ ہو سکے۔ اس صورتِ حال کے پیش آنے کا امکان بہت کم ہے اور اس سے حکومت کی آمدنی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ اگر اضافی ٹیکس مطالبہ ادا کرنا پڑا، تبھی اس کی رقم کی واپسی کی اہل ہوگی۔ اس ضمن میں ممکنہ مالی ذمہ داری صرف 627 کروڑ روپے تھی، جب کہ بولی کے عمل سے حاصل ہونے والی قیمت میں 3917 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا، جس سے حکومتِ ہند اور ایل آئی سی کے لیے اس لین دین کی قدر میں اضافہ ہوا۔
آئی ڈی بی آئی کے محدود پیمانے پر خرید و فروخت ہونے والے حصص کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی تفصیلات اور اس طریقۂ کار کو مسترد کیے جانے کی وجوہات 14 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ پریس نوٹ میں وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ حکومتِ ہند اور ایل آئی سی نے اپنے باقی ماندہ حصص اپنے پاس رکھے ہیں، تاکہ مستقبل میں آئی ڈی بی آئی بینک کی حکمتِ عملی کے تحت تنظیمِ نو کے نتیجے میں اس کی قدر میں متوقع اضافے سے مزید فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔م ش ۔ن م۔
U-6937