پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 OCT 2026 11:30AM by PIB Delhi
بھارتی بحریہ کے اہم سیمینار ’سوالَمبن 2026‘ کا پانچواں ایڈیشن 27 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے مانیک شا سینٹر میں اختتام پذیر ہوا۔ دو روزہ سیمینار کا موضوع ’’اختراع اور مقامی پیداوار کے ذریعے طاقت اور قوت‘‘ تھا۔ اس میں دفاعی افواج، صنعت، نئے کاروباری اداروں، چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں، تعلیمی اداروں اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ اس دوران ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، مقامی دفاعی صلاحیتوں اور بھارت کے دفاعی اختراعی نظام کو مضبوط بنانے کے موضوعات پر غور و خوض کیا گیا۔
پہلے دن کی کارروائی ٹیکنالوجی نمائش کے افتتاح اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن کے نمائش کے دورے سے شروع ہوئی۔ نمائش میں مختلف موضوعاتی شعبوں کے تحت مقامی اختراعات پیش کی گئیں، جن میں کامیابی کی مثالیں، بحری نگرانی، بغیر پائلٹ فضائی نظاموں کا مقابلہ کرنے کی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجیز، جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی دفاع و تحفظ، اور کارکردگی بڑھانے والے حل شامل تھے۔ نمائش میں پیش کی گئی اختراعات نے بھارتی بحریہ کی عملی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجیز تیار کرنے میں بھارتی اختراع کاروں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر بحری اور دفاعی اتاشیوں کے ساتھ بات چیت بھی ہوئی، جس میں ایک پریزنٹیشن کے بعد نمائش کا مشاہدہ کیا گیا۔
دن کی کارروائی خود انحصاری کے ذریعے اختراع اور مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے موضوع پر ایک تبادلۂ خیال کے اجلاس کے ساتھ آگے بڑھی، جس کی نظامت بحریہ کے سابق نائب سربراہ وائس ایڈمرل ترون سوبتی نے کی۔ اس اجلاس میں ممتاز مقررین جناب شری دھر ویمبو، جناب نکُنج پراشر اور محترمہ دیبجانی گھوش نے ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار، مقامی مصنوعات کی تیاری اور ٹیکنالوجی سے متعلق پالیسی کے بارے میں اپنے خیالات پیش کیے۔ اس غور و خوض میں اختراع پر مبنی کاروباری نظام کو فروغ دینے اور اختراعی خیالات کو عملی طور پر قابلِ استعمال حل میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
مکمل اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر عزت مآب وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے شرکت کی ، جنہوں نے نمائش کا دورہ کیا اور شریک صنعتی شراکت داروں کے ذریعہ تیار کردہ مقامی اختراعات اور تکنیکی حل کا جائزہ لیا ۔ نمائش کنندگان کے ساتھ ان کی بات چیت اور ان کی اختراعات میں گہری دلچسپی نے حصہ لینے والی صنعتوں کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ کے طور پر کام کیا ۔ عزت مآب وزیر دفاع نے دفاعی اختراع اور مقامی کاری میں ان کے تعاون کے اعتراف میں سیمینار کے ممتاز مقررین اور آئی ڈی ای ایکس اختراع کاروں کو بھی اعزاز سے نوازا ۔ اس سیشن میں سوولمبن 5.0 دستاویز اور ٹیکنالوجی کے تقاضوں ، مسائل کے بیانات اور مستقبل کے تصورات کا مجموعہ جاری کیا گیا ، جس کے بعد عزت مآب وزیر دفاع نے خطاب کیا ۔ (https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2328590)
دوسرے دن مستقبل کی ٹیکنالوجیز اور دفاعی اختراع کے فروغ کے لیے اختراعات کے نظام کے ذریعے خود انحصاری کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دو تبادلۂ خیال کے اجلاس منعقد کیے گئے۔
پہلے اجلاس کا موضوع ’’مستقبل کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز‘‘ تھا، جس کی نظامت بحریہ کے سابق نائب سربراہ وائس ایڈمرل ایس جے سنگھ (ریٹائرڈ)نے کی۔ اس اجلاس میں جناب انکت مہتا، جناب راہل نائر اور جناب سورَو جھا نے مقررین کی حیثیت سے شرکت کی۔ تبادلۂ خیال میں مربوط کثیر جہتی کارروائیوں کو ممکن بنانے، حالات سے متعلق آگاہی بڑھانے اور باخبر فیصلے کرنے میں بغیر پائلٹ نظاموں اور مصنوعی ذہانت کے بدلتے ہوئے کردار پر توجہ دی گئی۔ کوانٹم ٹیکنالوجیز پر غور و خوض کے دوران مواصلات اور حسّاس پیمائش کے شعبوں میں ان کے ابھرتے ہوئے استعمالات کا جائزہ لیا گیا، جب کہ ہائپرسونک ٹیکنالوجیز پر گفتگو میں مستقبل کی دفاعی صلاحیتوں کی تشکیل میں ان کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
دوسرے اجلاس کا موضوع ’’خود انحصاری اور آئی ڈیکس کے نظام کو فروغ دینا‘‘ تھا۔ اس کی نظامت بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل کے بی سنگھ (ریٹائرڈ)نے کی، جب کہ جناب اے پی وی ایس پرساد، جناب پنکج چڈھا اور پروفیسر منن سوری نے مقررین کی حیثیت سے شرکت کی۔ تبادلۂ خیال میں بغیر پائلٹ نظاموں کے لیے نظامی انجینئرنگ، آزمائش اور توثیق کے طریقۂ کار کو آسان بنانے، نئے کاروباری اداروں کی اختراعات کو دفاعی شعبے کے بڑے نظاموں میں شامل کرنے اور مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس اجلاس میں علمی تحقیق کو تجارتی طور پر قابلِ عمل جدید تکنیکی حل میں تبدیل کرنے اور نئے کاروباری اداروں، تعلیمی شعبے، توثیق کرنے والے اداروں اور قائم شدہ دفاعی صنعتوں کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
سرمایہ کاروں اور سرمایہ فراہم کرنے والے اداروں کے نمائندوں کے ساتھ تبادلۂ خیال سے مقامی دفاعی ٹیکنالوجیز کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے، ان کی پیداوار کو وسعت دینے اور انہیں تجارتی سطح پر متعارف کرانے کے امکانات کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ اس بات چیت سے واضح ہوا کہ امید افزا اختراعات کو ابتدائی نمونے کی تیاری سے لے کر پیداوار اور عملی استعمال تک پہنچانے کے لیے مسلسل مالی اور ادارہ جاتی تعاون نہایت اہم ہے۔
سیمینار کے حصے کے طور پر منعقد کی گئی ٹیکنالوجی نمائش کے ذریعے اختراع کاروں، صنعتی نمائندوں، محققین اور دفاعی شعبے سے وابستہ متعلقہ فریقوں کے درمیان باہمی رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس نمائش نے ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں کو ممکنہ صارفین سے تبادلۂ خیال کرنے، عملی ضروریات کو سمجھنے اور مقامی طور پر تیار کردہ حل کو مزید ترقی دینے اور دفاعی نظاموں میں شامل کرنے کے امکانات تلاش کرنے کا موقع فراہم کیا۔
دو روزہ سیمینار کے دوران ’’سوالَمبن 2026‘‘ میں عملی ضروریات، تکنیکی اختراعات اور مقامی صنعتی صلاحیتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تال میل کو اجاگر کیا گیا۔ غور و خوض میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف ابتدائی نمونے تیار کرنے تک محدود رہنے کے بجائے ان کی آزمائش، توثیق، تیاری، بڑے پیمانے پر پیداوار اور بالآخر دفاعی کارروائیوں میں شمولیت کی جانب پیش رفت ضروری ہے۔ پائیدار دفاعی خود انحصاری کے حصول کے لیے مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانا، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور نئے کاروباری اداروں نیز چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو ممکن بنانا اہم ترجیحات کے طور پر سامنے آیا۔
اس سیمینار میں اختراع کو فروغ دینے، دفاعی شعبے کے مقامی صنعتی نظام کو مضبوط بنانے اور ملک میں تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو عملی دفاعی صلاحیتوں میں تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے بھارتی بحریہ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ صنعت، تعلیمی اداروں اور اختراع کے وسیع تر نظام کے ساتھ مسلسل تعاون کے ذریعے بھارتی بحریہ کی بحری سیکورٹی سے متعلق تیاریوں اور مستقبل کی ضروریات کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ آتم نربھر بھارت کے قومی وژن کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔
(1)_20261029180249_601f94.jpeg)
(1)_20261029180336_3dc752.jpeg)
_20261029180409_910365.jpeg)
_20261029180436_3c1b4b.jpeg)
_20261029180514_ff1c02.jpeg)
***
) ش ح –ع و- ف ر )
U.No. 6920