پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 OCT 2026 11:25AM by PIB Delhi
وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے تمام شکلوں میں دہشت گردی کے خاتمے اور اجتماعی علاقائی سلامتی کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے سلسلے میں نئی دہلی کا وسیع تجربہ محض نظریاتی یا کتابی علم نہیں ہے، بلکہ سرحد پار سلامتی کے پیچیدہ چیلنجوں کا براہِ راست سامنا کرتے ہوئے کئی دہائیوں میں عملی طور پر حاصل کیا گیا تجربہ ہے۔ 29 اکتوبر 2026 کو فلپائن کے شہر سیبو میں آسیان کے وزرائے دفاع کی 13ویں میٹنگ (اے ڈی ایم ایم) پلس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی ہر حکمتِ عملی کو حقیقی حالات میں ہونے والی کارروائیوں کی کسوٹی پر آزمایا، بہتر بنایا اور مؤثر ثابت کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے اس فعال اور عملی طور پر آزمودہ نظریۂ دفاع کا فیصلہ کن مظاہرہ آپریشن سندور کے دوران ہوا، جب بھارت نے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی واضح حد مقرر کی جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
وزیرِ دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور بھارت اجتماعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ مشقوں، صلاحیت سازی کے پروگراموں اور انٹیلی جنس کے مؤثر تبادلے کے ذریعے اے ڈی ایم ایم پلس کے شراکت داروں کے ساتھ اپنا عملی اور آزمودہ تجربہ بانٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ڈی ایم ایم پلس کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائی تعاون کا ایک اہم شعبہ ہے اور بھارت و ملائیشیا 2024 سے 2027 کے دورانیے کے لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے متعلق ماہرین کے ورکنگ گروپ کی مشترکہ صدارت کر رہے ہیں۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت آسیان کے مرکزی کردار اور ایک محفوظ، کھلے، جامع، مستحکم اور قواعد پر مبنی ہند-بحرالکاہل خطے کو اہمیت دیتا ہے، جہاں امن اور استحکام محض خواہشات نہیں بلکہ اجتماعی عزم کا نتیجہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آسیان کے ساتھ بھارت کی تزویراتی شراکت داری طویل مدتی نوعیت کی ہے اور مشترکہ مفادات، باہمی احترام اور عملی تعاون پر مبنی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں کوالالمپور میں منعقدہ آسیان-بھارت کے وزرائے دفاع کی دوسری غیر رسمی میٹنگ میں آسیان-بھارت جامع تزویراتی شراکت داری اور 2026 سے 2030 کے لیے آسیان-بھارت لائحۂ عمل کے دفاعی اور سلامتی سے متعلق پہلوؤں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا۔
تیرہویں اے ڈی ایم ایم پلس کا موضوع ’’اپنے مستقبل کی راہ، مل کر متعین کرنا‘‘ تھا۔ اس موضوع پر وزیرِ دفاع نے کہا کہ یہ بھارت کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کے اصولوں کے ساتھ ساتھ اس کے تہذیبی فلسفے ’’سروے بھونتو سُکھِنَہ‘‘ (سبھی جاندار خوش رہیں) کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو دنیا بھر کے تمام لوگوں کی خوشی، خوش حالی اور فلاح و بہبود کی خواہش کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ موضوع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری سب سے بڑی طاقت باہمی یکجہتی اور اپنے جغرافیائی، اقتصادی اور تزویراتی تنوع سے فائدہ اٹھانے کی مشترکہ صلاحیت میں مضمر ہے۔ بھارت ایک ایسے بین الاقوامی نظام پر یقین رکھتا ہے جو باہمی اعتماد، تعاون اور اجتماعی ذمہ داری پر قائم ہو۔ یہی جذبۂ تعاون ہمیں امن و امان کے لیے درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کی قوت عطا کرتا ہے۔‘‘
جناب راج ناتھ سنگھ نے آسیان کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں بحری تعاون کو 2026 کے دوران نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ نئی دہلی نے 2026 کو آسیان-بھارت بحری تعاون کا سال قرار دیا ہے اور آسیان-بھارت کی دوسری بحری مشق بھی منعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت بین الاقوامی بحری قوانین کے اصولوں کی محض وکالت نہیں کرتا، بلکہ بحری سلامتی سے متعلق عالمی قوانین پر ثابت قدمی سے عمل بھی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے اور عالمی بحری مواصلاتی راستوں کے تحفظ کے لیے ہمارا عزم کئی دہائیوں پر محیط مسلسل عملی تجربے سے تقویت پاتا ہے۔ 2008 سے بھارتی بحریہ خلیجِ عدن جیسے انتہائی غیر مستحکم سمندری راستوں میں مسلسل اور سرگرم موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور اس دوران نہ تو کسی پر دباؤ ڈالا گیا ہے اور نہ ہی یک طرفہ ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جو دوسرے ممالک کے حقوق کو نقصان پہنچائیں۔‘‘
وزیرِ دفاع نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت نے اپنے صفِ اوّل کے جنگی جہاز تعینات کرکے ہزاروں تجارتی جہازوں کو بحفاظت ان کی منزل تک پہنچایا ہے اور کھلے سمندر میں جہازوں کو اغوا کرنے کی درجنوں کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ اس طرح جہازوں کے پرچم یا قومیت سے قطع نظر تجارتی جہاز رانی کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو بھارت کی ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ایسے دور میں جب عالمی تجارت کے راستوں کو سرحدوں سے ماورا پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے، بھارت محض زبانی دعووں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ مؤثر کارروائی، مسلسل عملی موجودگی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ بھارت بحرِ ہند کے خطے اور وسیع تر ہند-بحرالکاہل خطے میں سلامتی فراہم کرنے والے ایک بھروسے مند ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘‘
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بحری سلامتی کا وسیع تر خطے کے تحفظ اور خوش حالی سے گہرا تعلق ہے، جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت قانون کی حکمرانی، بالخصوص سمندر کے قانون سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشن، پر زور دیتا ہے اور جہاز رانی اور فضائی پرواز کی آزادی کی وکالت کرتا ہے۔ یہ مؤقف کسی ملک کے خلاف نہیں، بلکہ خطے کے ان تمام متعلقہ فریقوں کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ہے جو کھلے سمندری راستوں اور مستحکم بحری نظم و نسق پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بحری تحفظ، تلاش و بچاؤ، انسانی امداد، پیشہ ورانہ روابط، صلاحیت سازی اور بین الاقوامی قانون کو مناسب اہمیت دیتا ہے اور ان شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آسیان کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیرِ دفاع نے بھارت اور آسیان کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے میں نوجوانوں کی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان آبادی کی یکساں خصوصیات اور امنگیں خطے میں مزید گہری شراکت داری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے ادارہ جاتی سطح پر عوامی روابط کو فروغ دینے، ڈیجیٹل اختراع کو آگے بڑھانے اور اے ڈی ایم ایم پلس کے اقدامات سے ہم آہنگ صلاحیت سازی کو آسان بنانے کے لیے دفاعی شعبے میں ایک مخصوص ’’یوتھ برج‘‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور انہیں علاقائی امن و سلامتی میں اپنا کردار ادا کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کرنا ’’نوجوان، امن اور سلامتی‘‘ کے موضوع سے مطابقت رکھتا ہے اور ایک پُرامن، مستحکم اور خوش حال ہند-بحرالکاہل خطے کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔رک)
U. No.6889