کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تجارت و صنعت  کے مرکزی وزیرجناب پیوش گوئل کی برآمدات کے فروغ کی کونسلوں کے ساتھ ملاقات، برآمدات کو مزید مسابقتی بنانے اور منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے پر زور


جناب پیوش گوئل نے برآمدات کے فروغ کی کونسلوں کے ساتھ برآمدات کی صورت حال کا جائزہ لیا، منڈیوں تک رسائی اور عالمی مسابقت پر زور دیا

جناب گوئل نے برآمدات کو سہولت فراہم کرنے اور برآمد کنندگان کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اقدامات کو اجاگر کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 10:19PM by PIB Delhi

تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں برآمدات کے فروغ کی کونسلوں کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے برآمدات کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا، بین الاقوامی تجارت میں ابھرتے ہوئے مواقع اور چیلنجوں پر تبادلۂ خیال کیا اور ہندوستانی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات پر غور و خوض کیا۔

بات چیت کے دوران جناب گوئل نے عالمی تجارت کے بدلتے ہوئے منظرنامے کو اجاگر کیا، جس کی نمایاں خصوصیات میں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال، محصولات کے ڈھانچے میں تبدیلیاں، رسدی سلسلوں کی ازسرِنو ترتیب اور بڑی بین الاقوامی منڈیوں میں ضابطوں سے متعلق ابھرتے ہوئے تقاضے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ تبدیلیاں برآمد کنندگان کے لیے چیلنجز پیدا کرتی ہیں، تاہم یہ ہندوستان کے لیے ایک قابل اعتماد اور مسابقتی عالمی تجارتی شراکت دار کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

جناب گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی صنعت کو بین الاقوامی کاروباری ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے اور ان کا فوری حل تلاش کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہندوستان کی عالمی قدر کی زنجیروں میں شمولیت کو بڑھانے کے لیے مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے، جدت طرازی، لاگت کے اعتبار سے مسابقتی صلاحیت، رسد کی قابل اعتماد فراہمی اور بین الاقوامی معیارات کی پابندی پر توجہ مرکوز کریں۔

جرمنی اور نیدرلینڈز کے حالیہ دوروں سمیت اپنے حالیہ بین الاقوامی دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ مینوفیکچرنگ، خریداری اور سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر ہندوستان میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی صنعت اور بیرون ملک کاروباری اداروں کے درمیان مسلسل رابطے کے ذریعے ان دوروں اور ملاقاتوں کو ٹھوس کاروباری نتائج میں تبدیل کرنا اہم ہے۔ انہوں نے برآمدات کے فروغ کی کونسلوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے بین الاقوامی ہم منصبوں کے ساتھ فعال طور پر رابطہ قائم کریں، ممکنہ خریداروں کی نشاندہی کریں اور مستحکم اور ابھرتی ہوئی منڈیوں میں کاروباری شراکت داری کو فروغ دیں۔

وزیر موصوف نے ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدوں اور اقتصادی شراکت داریوں کے وسیع ہوتے ہوئے نیٹ ورک سے پیدا ہونے والے مواقع سے مؤثر طور پر فائدہ اٹھانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت ترجیحی منڈیوں تک رسائی کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ، منڈیوں میں رسائی کی توسیع اور بین الاقوامی تجارت میں ہندوستانی کاروباری اداروں کی وسیع تر شرکت یقینی ہونی چاہیے۔ برآمدات کے فروغ کی کونسلوں کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ شراکت دار ممالک میں برآمدات کے مواقع کا شعبہ وار جائزہ لیں اور برآمد کنندگان میں متعلقہ تجارتی مراعات، معیارات اور منڈیوں کے تقاضوں کے بارے میں بیداری کو فروغ دیں۔

جناب گوئل نے عالمی طلب میں تبدیلیوں اور رسدی سلسلوں کے ابھرتے ہوئے مواقع کے پیش نظر مصنوعات اور منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے کے لیے ایک مرکوز حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے برآمدات کے فروغ کی کونسلوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایسی مصنوعات کی نشاندہی کریں، جن میں برآمدات کی غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے، نئی منڈیوں کی تلاش کریں اور مخصوص منڈیوں کی ضروریات کے مطابق حکمت عملی تیار کریں۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ابھرتے ہوئے شعبوں میں صلاحیتیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے مستحکم شعبوں میں ہندوستان کی مسابقتی برتری کو مزید مستحکم کرنا بھی اہم ہے۔

برآمدات کو سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کاروبار کرنے میں سہولت کے نظام کو بہتر بنانے، تجارتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور برآمداتی کاروباری اداروں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے برآمدات کے فروغ کے مشن کو ایک اہم اقدام قرار دیا، جس کا مقصد بالخصوص بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کو برآمدی مالیات، منڈیوں تک رسائی اور بین الاقوامی مسابقت کے حوالے سے درپیش رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

ہندوستان کے برآمدی نظام میں بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کے تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے برآمدات کے فروغ کی کونسلوں سے اپیل کی کہ وہ چھوٹے کاروباری اداروں، نئے کاروباری منصوبوں، نئے برآمد کنندگان اور برآمدات کے ابھرتے ہوئے مراکز اور اضلاع میں قائم کاروباری اداروں تک اپنی رسائی بڑھائیں۔ انہوں نے ان اداروں کو عملی رہنمائی اور تعاون فراہم کرنے، منڈیوں سے متعلق معلومات تک بہتر رسائی یقینی بنانے اور انہیں عالمی منڈیوں سے زیادہ مؤثر طور پر جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر موصوف نے برآمدات کے فروغ کی کونسلوں کو اعداد و شمار پر مبنی اور نتائج پر مرکوز حکمت عملی اپنانے کی بھی ترغیب دی۔ انہوں نے بروقت منڈیوں سے متعلق معلومات، شعبہ وار مواقع کی نشاندہی، بین الاقوامی تجارتی رجحانات کی نگرانی اور عملی رکاوٹوں کو دور کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے برآمدات کے فروغ کی کونسلوں، صنعتی انجمنوں، ریاستی حکومتوں اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی)کے علاقائی دفاتر کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

بات چیت کے دوران برآمدات کے فروغ کی کونسلوں کے نمائندوں نے بھی بین الاقوامی تجارتی ماحول اور برآمدات کی مسابقتی صلاحیت، منڈیوں تک رسائی، رسد، ضابطہ جاتی تقاضوں اور تجارت کو سہل بنانے سے متعلق شعبہ وار مسائل پر اپنے خیالات پیش کیے۔ اس تبادلۂ خیال سے برآمد کنندگان کے خدشات دور کرنے اور حکومت و صنعت کے درمیان تال میل کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے خیالات کے تبادلے کا موقع ملا۔

صنعتی حلقوں سے وابستہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے ہندوستانی مصنوعات اور خدمات کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے اور ایک قابل اعتماد تجارتی شراکت دار کے طور پر ہندوستان کی ساکھ کو مضبوط کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

اس بات چیت سے ہندوستان کی برآمدات کا دائرہ وسیع کرنے، عالمی سطح پر ابھرنے والے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے اور برآمدات میں پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینے کے لیے حکومت اور برآمدات کے فروغ کی کونسلوں کے مشترکہ عزم کی عکاسی ہوئی۔

*****

ش ح ۔م ع ن۔  ع د

U. No.6885


(ریلیز آئی ڈی: 2329891) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी