بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے بھارت کو کنٹینر سازی کا عالمی مرکز بنانے کے لیے 10,000 کروڑ روپے کی اسکیم کو منظوری دے دی


کنٹینر مینوفیکچرنگ پروموشن اسکیم کے تحت ملک میں کنٹینر سازی کی صلاحیت کو دس گنا بڑھا کر 7.5 لاکھ ٹی ای یو تک پہنچایا جائے گا اور بھارت کی بحری سپلائی چین کو مضبوط بنایا جائے گا

میک ان انڈیا کو فروغ دینے کے لیے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سونووال نے کہا: درآمدات پر انحصار کم کرنے اور ہماری لاجسٹکس چین کو محفوظ بنانے کی جانب ایک مضبوط قدم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 6:09PM by PIB Delhi

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں آج مرکزی کابینہ نے کنٹینر مینوفیکچرنگ پروموشن اسکیم (سی ایم پی ایس) کو منظوری دے دی۔ یہ 10,000 کروڑ روپے کی اسکیم مرکزی بجٹ 2026-27 میں اعلان کی گئی تھی، جس کا مقصد بھارت میں کنٹینر سازی کا ایک عالمی سطح پر مسابقتی نظام قائم کرنا ہے۔ یہ اسکیم مالی سال 2027-28 سے مالی سال 2039-40 تک جاری رہے گی، جس میں پیداواری یونٹ قائم کرنے کے لیے تین سال اور پیداوار کے لیے معاونت فراہم کرنے کی غرض سے دس سال مختص کیے گئے ہیں۔

اس اسکیم کے تحت نئی فیکٹریوں کے قیام کے ساتھ ساتھ موجودہ یونٹ کی توسیع میں بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کا مقصد بھارت کی سالانہ کنٹینر سازی کی صلاحیت کو موجودہ تقریباً 70,000 ٹی ای یو سے تقریباً دس گنا بڑھا کر 7.5 لاکھ ٹی ای یو تک پہنچانا ہے۔ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ملک میں کنٹینر سازی کے شعبے میں میک ان انڈیا مہم کو مزید تقویت دینے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔

سربانند سونووال نے کہا، ”میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت کے لیے تہہ دل سے اظہار تشکر کرتا ہوں۔ ان کی میک اِن انڈیا مہم ہمارے کنٹینر مینوفیکچررز کو بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کرنے کا اعتماد فراہم کر رہی ہے اور یہ اسکیم درآمدات پر انحصار کم کرنے کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔“

بھارت کی تجارت کا انحصار کنٹینروں پر ہے، لیکن ان میں سے تقریباً تمام بیرون ملک تیار کیے جاتے ہیں۔ میری ٹائم امرت کال وژن کے تحت بھارت میں کنٹینر ٹریفک 2024 میں تقریباً 2.4 کروڑ ٹی ای یو سے بڑھ کر 2047 تک 17.5 کروڑ ٹی ای یو ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس لیے ملک میں کنٹینر سازی کی صلاحیت کو فروغ دینا انتہائی اہم ہے۔

اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی سہولیات

  • سود میں رعایت کے لیے مالی معاونت (859 کروڑ روپے): گرین فیلڈ پلانٹس کے لیے، جن کی سالانہ پیداواری صلاحیت کم از کم 1,00,000 ٹی ای یو ہو، اور براؤن فیلڈ یونٹس کی توسیع کے لیے، جن کی اضافی سالانہ صلاحیت کم از کم 25,000 ٹی ای یو ہو، اہل مدتی قرضوں پر سالانہ 3 فیصد سود میں رعایت فراہم کی جائے گی۔
  • عملی اخراجات کے لیے مالی معاونت (8,891 کروڑ روپے): عالمی جہاز رانی کے معیارات کے مطابق تیار کیے جانے والے اور اہل مینوفیکچرر کے ذریعے فروخت کیے جانے والے ہر کنٹینر پر مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ درآمد شدہ کنٹینروں کے مقابلے میں لاگت کے فرق کو کم کیا جا سکے۔ اس کے لیے کنٹینروں میں گھریلو اجزا کا تناسب 70 فیصد سے بڑھا کر 90 فیصد کرنا ہوگا۔
  • جانچ اور سرٹیفکیشن (150 کروڑ روپے): بیرون ملک جانچ پر انحصار کم کرنے کے لیے مشترکہ سہولیات قائم کی جائیں گی، جن میں متحرک طولی اثرات کی جانچ کی سہولت بھی شامل ہے۔
  • اسکیم کا انتظام (100 کروڑ روپے): انتظامی امور، نگرانی اور صلاحیت سازی کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
  • بڑی بندرگاہوں پر زمین: مقررہ شرح کے 25 فیصد پر زمین لیز پر فراہم کرنے کے لیے معاونت دی جائے گی۔

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے سکریٹری کی صدارت میں ایک بین وزارتی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو رہنما خطوط کی منظوری دے گی اور مالی معاونت کی منظوری و اجرا کا فیصلہ کرے گی۔

توقع ہے کہ اس اسکیم سے تقریباً 3,000 براہ راست اور 50,000 سے زیادہ بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، خصوصاً اسٹیل، پرزہ جات اور لاجسٹکس کے شعبوں میں۔ اس سے متعلقہ معاون صنعتوں، مثلاً کارنر کاسٹنگ، خصوصی اسٹیل، لکڑی کے فریم اور پینٹ کی صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا۔ حکومت کا تخمینہ ہے کہ مالی سال 2039-40 تک اس اسکیم سے تقریباً 75,000 کروڑ روپے کی اقتصادی پیداوار حاصل ہوگی، جو فراہم کی جانے والی مالی معاونت سے سات گنا سے بھی زیادہ ہے۔ کنٹینروں کی طلب میں اضافے کی توقع عالمی بحری بیڑے میں کنٹینروں کی تبدیلی، بھارت کنٹینر شپنگ لائن اور وادھاون اور گالیتھیا بے جیسی نئی میگا بندرگاہوں کے قیام کے باعث ہے۔

سونووال نے مزید کہا، ”کنٹینر ہماری تجارت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ بھارت میں ان کی تیاری سے ہم بحری لاجسٹکس کی اس سپلائی چین کو مضبوط بناتے ہیں جس پر ہماری بندرگاہوں، برآمد کنندگان اور جہاز رانی کی کمپنیوں کا انحصار ہے۔ اس طرح ہم خود کفیل بھارت اور میری ٹائم امرت کال وژن 2047 کے اہداف کے حصول کی جانب ایک اور قدم بڑھاتے ہیں۔“

                                               **************

 

ش ح۔ ف ش ع

28-10-2026

                                                                                                                                       U: 6853

 


(ریلیز آئی ڈی: 2329760) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil