سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ حکومت مقامی اختراعات کو بازار تک پہنچانے کے لیے اسٹارٹ اَپس اور صنعتوں کے درمیان روابط کو فروغ دے رہی ہے


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایسٹک 2026 میں نمائش کا دورہ کیا، جہاں منتخب 50 جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹارٹ اَپس، 13 محکموں کے اسٹال اور محکموں کی 10 ٹیکنالوجیز پیش کی گئیں، جو ہندوستان کی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں کے وسیع دائرے کی عکاسی کرتی ہیں

ایسٹک 2026 اسٹارٹ اَپس، سائنسی اداروں اور صنعتوں کو باہمی تعاون کے امکانات تلاش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجیز ہندوستان کی بڑھتی ہوئی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں کی عکاس ہیں: مرکزی وزیر

مودی حکومت اختراعات کو عملی استعمال اور وسیع تر اختیار کیے جانے سے جوڑنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی متعلقہ فریقوں سے ہندوستان کے اختراعی نظام کو مضبوط بنانے کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اپیل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 5:15PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسٹارٹ اَپس اور صنعتوں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ایسی شراکت داریوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جو مقامی اختراعات کو تحقیق و ترقی کے مرحلے سے آگے بڑھا کر انہیں وسیع پیمانے پر تجارتی طور پر اپنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کا پھیلتا ہوا اختراعی نظام اسٹارٹ اَپس کو صنعتوں اور ٹیکنالوجی کے دیگر ممکنہ صارفین سے جوڑنے، عملی استعمال کے طریقے وضع کرنے اور اپنے حل کو بڑے پیمانے پر رائج کرنے کے لیے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور ہندوستان کی اختراعات پر مبنی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے ان مواقع سے مؤثر طور پر فائدہ اٹھائیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں 27 سے 29 اکتوبر تک منعقد ہونے والے ’’ابھرتی ہوئی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے کنکلیو‘‘ (ایسٹک)-2026 میں اسٹارٹ اَپس، سائنسی اداروں اور محکموں کی ٹیکنالوجیز پر مشتمل نمائش کا دورہ کیا۔

اس کنکلیو میں منتخب 50 جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹارٹ اَپس، محکموں کے 13 اسٹال اور محکموں کی 10 ٹیکنالوجیز پیش کی گئی ہیں، جو ہندوستان کی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں کے وسیع دائرے کی عکاسی کرتی ہیں۔

دورے کے دوران وزیر موصوف نے مختلف اختراعات کا جائزہ لیا، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائنسی تحقیق خوراک اور غذائیت سے لے کر جدید الیکٹرانکس تک، مختلف شعبوں کے چیلنجوں سے نمٹنے میں کس طرح مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ نمائش میں سی ایس آئی آر کی تیار کردہ خصوصی چاول کی قسم بھی شامل تھی، جس میں پروٹین کی مقدار زیادہ اور گلائسیمک انڈیکس کم ہے۔ اسے سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل کے قومی ادارے برائے بین شعبہ جاتی سائنس و ٹیکنالوجی میں تیار کیا گیا ہے۔

اس چاول میں تقریباً 20 فیصد پروٹین پایا جاتا ہے اور اس کا گلائسیمک انڈیکس 54 بتایا گیا ہے، جس کی بنا پر اسے کم گلائسیمک انڈیکس والی قسم میں شمار کیا جاتا ہے۔ چاول کے مختلف اجزا اور اس کی ساخت میں تبدیلی کے ذریعے تیار کی گئی یہ اختراع ایسی غذائی مصنوعات وضع کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے، جن میں غذائیت کی خصوصیات بہتر ہوں اور جو اپنی خوراک کو بہتر طور پر متوازن رکھنے کے خواہش مند افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکیں۔

نمائش میں سگنل چِپ کے تیار کردہ جِیت، یعنی ایس سی ایم سی 4212 مائیکرو کنٹرولر یونٹ کو بھی پیش کیا گیا، جو مقامی طور پر سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانک نظام وضع کرنے کے میدان میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ مائیکرو کنٹرولر یَتی 32 بِٹ آر آئی ایس سی-وی  سی پی یو اور آوَرتا 32 بِٹ ڈیجیٹل سگنل پروسیسر سے چلتا ہے اور ایک مختصر ساخت میں میموری، توانائی کے انتظام اور دیگر عملی صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے۔ اس کے ممکنہ استعمالات میں پرواز کو کنٹرول کرنے والے آلات، اشیا کے باہمی رابطے پر مبنی آلات، اسمارٹ آلات، روبوٹکس اور صنعتی خودکاری شامل ہیں۔ اس طرح کی مقامی ٹیکنالوجیز اہم اور ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ملکی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مدد دے سکتی ہیں۔

نمائش میں حیاتیاتی بنیادوں پر تیار کردہ پیکیجنگ اور دوبارہ استعمال کے قابل یا مخصوص استعمال کے لیے تیار کردہ مصنوعات بھی پیش کی گئیں، جو مواد اور پائیداری کے شعبوں میں اختراعات کے وسیع امکانات کو ظاہر کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ نمائشیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ہندوستان کے سائنسی ادارے، صنعت کار اور ٹیکنالوجی تیار کرنے والے مختلف شعبوں میں عملی استعمال کے قابل حل وضع کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری اور تجارتی استعمال کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ سائنسی دریافتوں کو ٹھوس اقتصادی اور سماجی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے تحقیقی اداروں، اسٹارٹ اَپس، صنعتوں اور حکومت کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے۔ ایسٹک-2026 میں منعقدہ نمائش اسٹارٹ اَپس کو ممکنہ شراکت داروں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے، اپنی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے امکانات تلاش کرنے اور اپنی اختراعات کو بڑے پیمانے پر رائج کرنے کے طریقے دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

وزیر موصوف نے صنعتوں کے رہنماؤں، سرمایہ کاروں، تحقیقی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ اسٹارٹ اَپس اور مقامی ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں کے ساتھ سرگرمی سے رابطہ قائم کریں، باہمی طور پر مفید شراکت داریاں استوار کریں اور ہندوستان کی امید افزا اختراعات کو وسیع تر بازاروں تک پہنچانے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اختراعی نظام کے تمام فریقوں کے درمیان مضبوط تعاون سے ٹیکنالوجی کو اپنانے کے عمل میں تیزی لانے، ملکی تکنیکی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے اور 2047 تک وِکست بھارت کے قومی وژن کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261028171622_74f150.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261028171629_5d0968.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261028171637_1fc879.jpg

 

****

ش ح۔ ا ک۔ خ م

U.NO.6849


(ریلیز آئی ڈی: 2329651) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil