پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 7:23PM by PIB Delhi
وزارت دیہی ترقی، حکومت ہند نے پردھان منتری آواس یوجنا – گرامین (پی ایم اے وائی-جی) کے تحت 27 اور 28 اکتوبر 2026 کو لکھنؤ میں دو روزہ علاقائی دیہی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ’سمواد‘ کے طور پر منعقد ہونے والی اس ورکشاپ میں اسکیم کے نفاذ اور اصلاحات پر غور و خوض کے لیے مختلف ریاستوں کے نمائندوں اور زمینی سطح پر کام کرنے والے اہلکاروں کو یکجا کیا گیا۔
اس ورکشاپ میں بہار، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، اڈیشہ، پنجاب، اتراکھنڈ، مغربی بنگال اور میزبان ریاست اتر پردیش کے تقریباً 150 افسران شرکت کر رہے ہیں۔
اس موقع پر اتر پردیش کے معزز نائب وزیر اعلیٰ جناب کیشو پرساد موریہ، حکومت ہند کے وزیر مملکت برائے دیہی ترقی جناب کملیش پاسوان اور اتر پردیش کی وزیر مملکت برائے دیہی ترقی محترمہ وجے لکشمی گوتم نے شرکت کی۔ وزارت اور ریاستی حکومت کے سینیئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اس موقع پر معززین نے اتر پردیش کے پی ایم اے وائی-جی مستفیدین کو ان کی ’گِرہ پرویش‘ (نئے گھر میں داخلے) کی تقریب کے تحت علامتی طور پر مکانات کی چابیاں سونپیں۔
پی ایم اے وائی-جی کا ہدف مارچ 2029 تک 4.95 کروڑ دیہی مکانات تعمیر کرنا ہے۔ اس تناظر میں شرکت کنندگان نے اگلے مرحلے کے لیے مجوزہ چار اصلاحات پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ ان میں کلسٹر پر مبنی رہائش، دیہی راج مستریوں کی تربیت کو مستحکم بنانا، امتیازی مراکز (سینٹر آف ایکسی لینس) کا قیام اور دیہی رہائش کے لیے قرض کا فریم ورک شامل ہیں۔ ریاستوں نے ان اصلاحات کے قابل عمل ہونے، ان کی تشکیل اور نفاذ کے طریقۂ کار سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے، جبکہ اتر پردیش کے ضلعی اور بلاک سطح کے اہلکاروں نے زمینی حقائق پر مبنی نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے عملی سطح کے چیلنجوں، بہتر طریقۂ کار، مختلف اسکیموں کے باہمی تال میل اور مؤثر نفاذ کے لیے درکار صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔
اس کے بعد ریاست وار پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس میں مکانات کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں، قسطوں کی بروقت ادائیگی اور تعمیراتی معیار پر توجہ مرکوز کی گئی۔ آواس سافٹ اور ایس این اے-اسپرش سے متعلق تکنیکی مسائل اور فنڈ کی منتقلی کے امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس سلسلے میں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار کے دوران اہل خاندان نادانستہ طور پر اسکیم کے فوائد سے محروم نہ رہ جائیں۔
دوسرے دن باقی ریاستیں اپنی پیش رفت پیش کریں گی، جس کے بعد پی ایم اے وائی-جی کے تحت تعمیر کیے گئے مکانات کا موقع پر دورہ کیا جائے گا۔
توقع ہے کہ یہ ورکشاپ ریاستوں کے درمیان ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے عمل کو فروغ دے گی، نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور اہل دیہی خاندانوں تک پی ایم اے وائی-جی کے فوائد کی مؤثر فراہمی کو مزید مستحکم کرے گی۔
************
ش ح۔ ف ش ع
U: 6795