پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 7:33PM by PIB Delhi
مرکزی کابینہ کے میرے ساتھی ڈاکٹر جتیندر سنگھ جی، ملک کے اہم سائنسی مشیر اجے سود جی، نوبل انعام یافتہ تمام سائنس داں، دیگر تمام معزز خواتین و حضرات۔
آج یہاں سائنس اور تکنالوجی کی دنیا کے متعدد مندوبین موجود ہیں۔ ہمارے نوجوان اختراع کار بھی ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے میں نے کچھ اسٹارٹ اپس کے ساتھیوں سے بات چیت کی۔ بھارت کے نوجوان جس پیمانے پر سوچ رہے ہیں، جس خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، وہ حوصلہ افزا ہے۔
ساتھیو،
میں اس اجلاس میں پچھلی مرتبہ بھی آیا تھا۔ اس مرتبہ ہم 'ایمرجنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی' کے موضوع پر بحث کر رہے ہیں۔ دہائیوں پہلے ایک وقت تھا، جب بھارت کے لیے سائنس اور تکنالوجی کا مطلب تھا 'کیچ اپ'۔ دنیا میں کچھ نیا ایجاد ہوتا تھا، تو کچھ سال بعد وہ تکنالوجی ہم تک پہنچتی تھی۔ ہم اسے اپناتے تھے یا اس میں کچھ چھوٹی موٹی تبدیلیاں کر کے آگے بڑھا دیتے تھے، لیکن آج 21ویں صدی کا بھارت ایک نئی سوچ اور نئے خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اب ہمارا ہدف بھارت کے لیے، دنیا کے لیے، آج کے لیے اور آنے والے کل کے لیے نئی تکنالوجی وضع کرنا، اس کا رخ طے کرنا اور دنیا کے مسائل کا حل فراہم کرنے کی طاقت پیدا کرنا ہے۔ کورونا کے دور میں ہم نے اس کی مثال دیکھی ہے۔ جب دنیا کے کئی ممالک ویکسین کی دستیابی کے حوالے سے چنوتیوں کا سامنا کر رہے تھے، بھارت نے اپنی ویکسین تیار کی، بھارت نے بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری کی، اور دوسرے ممالک کو بھی ویکسین بھیجی۔ یہی 21ویں صدی کے بھارت کی خود اعتمادی ہے۔ ہم پہلی ہی کوشش میں مریخ (Mars) تک پہنچ جاتے ہیں۔ ہم چاند کے اس ساؤتھ پول پر پہنچتے ہیں جہاں کوئی نہیں پہنچ سکا، اور اسی لیے میرا یہ یقین ہے - بھارت کو مستقبل کی تکنالوجی کو اپنانا چاہیے، دلیری سے نئی ایجادات کرنی چاہئیں اور ان کی تخلیق میں دنیا کی قیادت کرنی چاہیے۔
ساتھیو،
صفر کی دریافت سے لے کر نمبر سسٹم اور علمِ فلکیات تک، بھارت کی روایت علم اور تحقیق کی رہی ہے۔ آج ہم اپنی اسی سائنسی میراث کو جدید تکنالوجی اور نئی خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک برس کی چند مثالوں سے یہ تبدیلی اور بہتر طریقے سے سمجھ آتی ہے۔ 30 اکتوبر کو ملک ڈاکٹر ہومی جہانگیر بھابھا کی یومِ پیدائش منائے گا۔ اس لیے شروعات نیوکلیائی توانائی سے کرتے ہیں۔
ساتھیو،
آپ سب جانتے ہیں کہ ایک وِکست بھارت کی تعمیر کے لیے ہمیں بڑی مقدار میں نیوکلیائی توانائی کی ضرورت ہوگی۔ نیوکلیائی ایندھن کے لیے درآمدات پر انحصار ہماری توانائی کے تحفظ کے سامنے ایک چنوتی ہے۔ اسی لیے بھارت اپنی 'فاسٹ بریڈر ری ایکٹر ٹیکنالوجی' پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ کچھ ماہ پہلے ہی ملک کا 500 میگاواٹ کا پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر، 'فرسٹ کریٹیکلیٹی' تک پہنچ چکا ہے۔ یہ نیوکلیائی توانائی کے شعبے میں ہماری طویل مدتی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک انتہائی بڑا اور اہم قدم ہے۔
ساتھیو،
توانائی کا تحفظ ہو یا تکنالوجی میں خود انحصاری، بھارت کا ہدف صرف اپنی ضرورتیں پوری کرنا نہیں ہے۔ ہمارا ہدف اہم تکنالوجیوں میں اپنی طاقت کو وسعت دینا بھی ہے۔ اسی سال بھارت نے خلائی شعبے میں بھی نئی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بھارت کے ایک اسپیس اسٹارٹ اپ نے 'میڈ ان انڈیا' راکٹ کے ذریعے، پہلی ہی کوشش میں سیٹلائٹ کو مدار میں نصب کیا۔ بھارت نے سیٹلائٹ ڈاکنگ کی صلاحیت بھی حاصل کی۔ آج بھارت کے متعدد اسٹارٹ اپس، خلائی سائنس میں نئے حل لے کر آئے ہیں۔ خلائی شعبے میں نوجوان سائنسدانوں اور کاروباریوں کی شراکت داری بھی بہت بڑی تعداد میں بڑھ رہی ہے۔
ساتھیو،
بھارت جتنے الگ الگ شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، وہ بے مثال ہیں۔ اسی سال بھارت نے 'اے آئی امپیکٹ سمٹ' منعقد کی اور اپنا ماڈل بھی لانچ کیا۔ بھارت میں تیار ہونے والی چپس کی پہلی کھیپ اب دنیا تک پہنچنا شروع ہو چکی ہے۔ بیٹری اسٹوریج کے شعبے میں بھی ہم ایسی صلاحیتیں پیدا کرنے پر کام کر رہے ہیں، جو بھارت میں دستیاب خام مال پر ہی مبنی ہو۔
ساتھیو،
نیوکلیئر سے اسپیس تک، اے آئی سے سیمی کنڈکٹرز تک، ان تمام شعبوں کی ضرورتیں الگ ہیں۔ لیکن ان کا پیغام ایک ہی ہے۔ بھارت ابھرتی ہوئی تکنالوجی میں اپنی طاقت اور اپنا بھروسہ، دونوں بڑھا رہا ہے۔ بھارت کی ایک اور صلاحیت 'سولوشن ایٹ اسکیل' ہے۔ بھارت میں کوئی حل کامیاب ہوتا ہے، تو اس سے دنیا کے کئی ممالک کے مسائل کے حل کا راستہ بھی ہموار ہوتا ہے۔ ہمارا 'ڈیجیٹل اسٹیک' اس کی شاندار مثال ہے۔ ہماری 5جی ٹیکنالوجی بھی اس کی ایک مثال ہے۔ بھارت ایسے محفوظ حل تیار کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جو بڑے پیمانے پر لوگوں تک پہنچ سکیں۔
ساتھیو،
آپ سب جانتے ہیں، سائنس اور تکنالوجی کی دنیا میں ہمیشہ سے ایک چنوتی رہی ہے، اس کا بطور ہتھیار دیکھا جانا۔ جبکہ بھارت کی سوچ یہ ہے کہ، سائنس اور تکنالوجی انسانیت کی خدمت کا ذریعہ ہیں۔ سائنس کی اصل کامیابی تب ہوتی ہے، جب وہ لیب سے نکل کر عام شہری کی زندگی کو بہتر بناتی ہے۔ لیب سے زمین تک ٹیکنالوجی کی کامیابی صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ وہ کتنی ایڈوانسڈ ہے۔ اس کی اصل طاقت اس بات میں ہے کہ وہ کتنے بڑے مسئلے کا حل فراہم کرتی ہے، اور یہی نہیں بلکہ وہ کتنے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لاتی ہے۔ اسی لیے ہمارے لیے 'ایمرجنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی' کا مطلب ایسے حل ہیں، جو صحت کے شعبے کو مضبوط کریں، جو زراعت کے شعبے کو تبدیل کریں، جو تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں، جو آفات سے بچاؤ میں کام آئیں۔ مجھے اطمینان ہے کہ بھارت کی اسٹارٹ اپ تحریک میں ایسے سوالات کو ترجیح مل رہی ہے۔ ایک اسٹارٹ اپ، 'ویئربل ای ای جی ٹیکنالوجی' پر کام کر رہا ہے، جو دماغی سرگرمیوں کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔ بھارتی کمپنیاں مقامی وائرلیس اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن سلوشنز تیار کر رہی ہیں۔ غذائیت کے شعبے میں خاص غذائی ضروریات کو دھیان میں رکھ کر پروڈکٹس تیار کیے جا رہے ہیں۔ سیمی کنڈکٹر شعبے میں بھارتی کمپنیاں نئی تکنالوجیوں پر کام کر رہی ہیں۔ اسٹیل سلیگ جیسے صنعتی فضلے کے استعمال کے حل کی دریافتیں بھی ہمارے یہاں ہو رہی ہیں۔
ساتھیو،
کچھ دن پہلے ہی، مجھے چنئی جانے کا موقع ملا تھا۔ میں وہاں کا تجربہ بھی آپ سے ساجھا کرنا چاہتا ہوں۔ وہاں میں نے آئی آئی ٹی مدراس میں ایک جدید 'برین سینٹر' کا افتتاح کیا۔ اس سینٹر نے ایک 'برین امیجنگ ٹیکنالوجی پلیٹ فارم' بنایا ہے، جو دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہے۔ یہ برین سینٹر انسانی دماغ کی ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل تھری ڈی تصاویر تیار کرنے میں مصروف ہے۔ اس مشن کی کامیابی، دماغ سے جڑی متعدد بیماریوں کی پیچیدگیوں کو سلجھانے میں مدد کرے گی۔ 'سائنس برائے معاشرہ، تکنالوجی برائے تغیر'، یہی ہماری سائنسی ترقی کی کسوٹی ہونی چاہیے، اور بھارت اسی کسوٹی پر خود کو پرکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔
ساتھیو،
ہم سب جانتے ہیں، کسی ملک کی ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی بنانے کی صلاحیت اس کی تحقیق پر منحصر ہوتی ہے۔ ریسرچ وہ طاقت ہے، جو کسی ملک کو اپنے مسائل کے حل تلاش کرنے، اور اہم تکنالوجیوں میں آتم نربھر بننے کی قوت دیتی ہے۔ اور اسی لیے میں نے کہا ہے - جے وگیان، جے انوسندھان! ترقی یافتہ بھارت کے لیے ہم اپنا ریسرچ سیکٹر مسلسل مضبوط کر رہے ہیں۔ اسی عزم کے ساتھ 'انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن' کو تیز رفتاری دی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال اسی اسٹیج پر، تحقیق، ترقی اور اختراع کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کے فنڈ کا عزم کیا گیا تھا، اور آج اس کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے ایسی تکنالوجیوں کے لیے مختص کیے جا چکے ہیں، جو لیب سے نکل کر مارکیٹ کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ اور اس میں نجی سرمایہ کار بھی برابر کی شراکت داری کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے 12 ہزار کروڑ روپے کے عزم کے ساتھ، پرائیویٹ سیکٹر بھی 12 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یعنی، صرف ایک سال میں تحقیق و ترقی کے لیے مجموعی طور پر 24 ہزار کروڑ روپے کا نیا عزم ہوا ہے۔
ساتھیو،
بھارت کے تحقیقی نظام میں بھی مسلسل وسعت دکھائی دے رہی ہے۔ پیٹنٹ کی درخواستوں میں بھی بہت بڑا اضافہ ہوا ہے۔ دس سال پہلے سال بھر میں 50 ہزار سے بھی کم پیٹنٹ درخواستیں داخل ہوتی تھیں۔ گزشتہ سال یہ تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار صرف بڑھتی ہوئی تعداد کو نہیں دکھاتے، بلکہ یہ اس تبدیلی کا اشارہ ہیں جس میں بھارت کے اندر تحقیق اور ایجادات ایک مضبوط ثقافت بن کر ابھر رہی ہیں۔
ساتھیو،
21ویں صدی کے اس دوسرے کوارٹر میں، ایک اور سوال بہت اہم ہو گیا ہے۔ اے آئی کے اس دور میں سائنسی فہم و فیصلہ کاری کیسے پروان چڑھے گی؟ ہماری لیبارٹریوں کی قیادت کرنے والے سائنسدانوں نے برسوں کے تجربے سے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا ہے۔ ہمارے اسٹیج پر بھی دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان موجود ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں، انہوں نے چھوٹی چھوٹی مشکلات کو سلجھاتے ہوئے، تجربات کرتے ہوئے اور اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہوئے اپنی سمجھ اور فہم کو تیار کیا ہے۔ ایک سائنسدان صرف دستیاب معلومات کو دہراتا نہیں ہے، بلکہ وہ پہلے سے قائم شدہ پیٹرنز پر سوال اٹھاتا ہے۔ وہ مسائل کے حل کو نئے زاویے سے دیکھتا ہے۔ وہ ان پہلوؤں کو پہچانتا ہے، جن پر دوسروں کی نظر نہیں گئی۔ اسی عمل سے سائنسی فہم پیدا ہوتی ہے۔ لیکن آج اے آئی کے دور میں ہمارے سامنے ایک نیا چیلنج بھی ہے۔ اے آئی کئی روٹین کے کاموں کو بہت تیزی سے پورا کر سکتا ہے۔ اس سے ریسرچ کی پیداواری صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اے آئی سائنسدانوں کی سوچ اور آزادانہ فکر کو محدود نہ کرے، بلکہ اسے مزید تقویت اور وسعت دے۔ اے آئی سے بچنے والے وقت کا استعمال زیادہ چیلنجنگ مسائل پر کام کرنے، نئے تجربات کرنے اور نئے خیالات کو پرکھنے میں ہونا چاہیے۔ اے آئی ہمیں جواب جلدی دے سکتا ہے، لیکن اس جواب کی سچائی اور درستگی کو پرکھنے کی ذمہ داری سائنسدان کی ہی ہونی چاہیے۔
ساتھیو،
ہمیں اپنے سائنسدانوں اور اداروں کو آج کی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ مستقبل کے چیلنجوں کے لیے بھی تیار کرتے رہنا ہے۔ سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجیز، بائیوٹیکنالوجی، ایڈوانسڈ میٹریریلز، روبوٹکس، اسپیس، ماحول دوست توانائی اور نیکسٹ جنریشن کمیونیکیشنز؛ یہ ایسے شعبے ہیں جو مستقبل کو نئی شکل دیں گے۔ بھارت ان شعبوں میں مضبوط سائنسی بنیادیں تیار کر رہا ہے۔ اس کے لیے الگ الگ نیشنل مشنز بھی شروع کیے گئے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ان شعبوں میں نئی اور بڑی کامیابیاں بھارت سے بھی آئیں۔ اور ہماری ذمہ داری صرف ایجادات تک محدود نہیں ہے۔ اے آئی ہو، سنتھیٹک بائیولوجی ہو یا خود کار نظام؛ ان میں سیفٹی اور سکیورٹی کو ترجیح دینی ہوگی۔ اے آئی کے اس دور میں، سائبر سکیورٹی کو لے کر بھی نئی چنوتیاں اور نئے خطرات جنم لے رہے ہیں۔ ہمارے مالیاتی نظام سے لے کر ہماری قومی سلامتی تک، سب کے سامنے یہ چنوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایسے اے آئی بیسڈ سلوشنز پر کام کریں، ایسے کوانٹم سیکیورٹی سلوشنز پر آگے بڑھیں، جو اس خطرے سے ملک کے نظام کو محفوظ بنائیں۔ ہمارا ہدف ایسی تکنالوجیاں تیار کرنا ہے جو بھارت کو بااختیار بنائیں اور انسانیت کے مسائل کے حل میں بھی اپنا تعاون دیں۔
ساتھیو،
اس کانفرنس میں موجود ہر محقق، صنعتی رہنما، اسٹارٹ اپ کے بانی اور نوجوان طلبہ سے میری گزارش ہے کہ وہ اپنے لیے ایک ٹھوس ہدف مقرر کریں۔ آئندہ تین برسوں میں وہ کون سی تکنالوجی، کون سا پروٹوٹائپ، کون سا پائلٹ پروجیکٹ یا وہ کون سا پروڈکٹ تیار کرنے میں اپنا تعاون دیں گے؟ ہمیں ایسی ایجادات کرنی چاہئیں جو بھارت کو ایک ترقی یافتہ بھارت بنانے میں مددگار ثابت ہوں، جو ہمیں دنیا کے مسائل کے حل کا مرکز بنائیں۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ یہ کانفرنس صرف خیالات کے تبادلے تک محدود نہ رہے، بلکہ یہ قابلِ پیمائش نتائج کا ایک پلیٹ فارم بنے۔
ساتھیو،
آج بھارت دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے۔ ہمارے پاس ٹیلنٹ ہے۔ کچھ نیا کرنے کا عزم ہے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے، جو ابھرتی ہوئی سائنس اور ٹیکنالوجی میں صرف حصہ دار نہ ہو، بلکہ اس کی قیادت کرے۔ ہمارا جذبہ ہونا چاہیے، 'وی وِل ڈو اٹ'۔ ہمارا یقین ہونا چاہیے، 'وی ول ڈو اِٹ'۔ آپ سبھی کو اس کانفرنس کی کامیابی کے لیے ایک بار پھر میری طرف سے بہت بہت مبارکباد۔
شکریہ!
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:6797