سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مالی مشکلات سے صحت یابی تک: موہن لال کا سفر


نمستے اسکیم اور آیوشمان بھارت — پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت طبی امداد

بروقت طبی سہولیات تک رسائی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتی ہے، خصوصاً ان محنت کشوں کے لیے جو معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 OCT 2026 6:43PM by PIB Delhi

اتر پردیش کے جھانسی سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ کچرا چننے والے موہن لال (بدلا ہوا نام) کی کہانی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ سماجی تحفظ اور طبی امداد کس طرح کمزور طبقوں سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کو صحت کے سنگین مسائل پر قابو پانے اور بہتر زندگی کی طرف بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

معاشی طور پر کمزور خاندان سے تعلق رکھنے والے موہن لال نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کنٹریکٹ پر صفائی کارکن اور کچرا چننے والے کے طور پر کام کرتے ہوئے گزارا۔ اس کام سے وہ روزانہ 101 سے 250 روپے تک کماتے تھے۔ ان کی معمولی آمدنی بمشکل خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی تھی، جس کے باعث بچت یا اچانک پیش آنے والے اخراجات کے لیے بہت کم گنجائش باقی رہ جاتی تھی۔ جب ان میں دل کی شریان میں سنگین رکاوٹ کی تشخیص ہوئی اور اس کے لیے خصوصی علاج کی ضرورت پیش آئی، تو طبی علاج کے بھاری اخراجات ان کے اور ان کے خاندان کے لیے ایک بڑی تشویش بن گئے۔

قومی اسکیم برائے مشینی صفائی نظام (نمستے) کے تحت کچرا چننے والوں کے لیے مختص جزو میں اندراج کے بعد، موہن لال کو آیوشمان بھارت — پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم-جے اے وائی) کے تحت آیوشمان کارڈ جاری کیا گیا۔ اس امداد کی بدولت وہ 8 مئی 2026 کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، نئی دہلی میں دل کی شریان کی رکاوٹ کا علاج کروا سکے، اور ان کے علاج کے تمام اخراجات کی ادائیگی کی گئی۔

کامیاب علاج کے بعد موہن لال صحت یاب ہوگئے اور دوبارہ کام پر جانے کے ساتھ اپنے خاندان کی کفالت کرنے کے قابل ہوگئے۔ طبی سہولت تک رسائی نے ان کی اچانک طبی ضرورت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو کم کیا اور انہیں صحت یابی پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دی۔ بروقت طبی امداد سے ان کا اعتماد بھی بحال ہوا اور مستقبل کے لیے نئی امید پیدا ہوئی۔

موہن لال کا سفر کچرا چننے والوں اور دیگر کمزور طبقوں سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کے لیے قابلِ رسائی طبی سہولیات اور سماجی تحفظ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی صحت یابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فلاحی اقدامات کس طرح ضروری طبی علاج کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے، انسانی وقار کے تحفظ اور خاندان کی فلاح و بہبود کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان کی کہانی اس بات کی حوصلہ افزا مثال ہے کہ بروقت مدد کس طرح لوگوں کو مشکل حالات سے نکلنے اور نئے اعتماد کے ساتھ مستقبل کی جانب دیکھنے کے قابل بنا سکتی ہے۔

******

ش ح۔ ف ا۔ م ر

U-NO. 6788


(ریلیز آئی ڈی: 2329200) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी