پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 4:59PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملے، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا کے محکمے کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کا وسیع جینیاتی تنوع ملک کو جین کی تحقیق کے لیے ایک اہم عالمی وسیلہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ آنے والے برسوں میں دیگر ممالک ہندوستان کے منفرد جینیاتی وسائل کے حصول کے لیے اس کا رخ کریں گے۔
نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو (ای ایس ٹی آئی سی) 2026 کے دوران نظامی اور مصنوعی حیاتیات کے موضوع پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں ملکی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور ہندوستان کی سائنسی قوت کو تحقیقی مواقع اور عملی استعمال میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کا غیرمعمولی جینیاتی تنوع اور حیاتیاتی خصوصیات میں پائی جانے والی گوناگوں تحقیق کے لیے، بالخصوص بیماریوں کے پھیلاؤ اور ان کی نوعیت میں پائے جانے والے فرق کو سمجھنے اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں نئے امکانات تلاش کرنے کے لیے ایک قیمتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جیسے جیسے ہندوستان اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دے گا اور ان کا دائرہ وسیع کرے گا، ویسے ویسے وہ عالمی سائنسی برادری کے لیے جینیاتی وسائل کا ایک اہم مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جین کی ترکیب کے شعبے میں مقامی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ تحقیق کی مخصوص ضروریات کے لیے بیرونِ ملک سپلائرز پر انحصار کرنے سے ہندوستانی سائنس دانوں کو وقت، رسائی اور تحقیق کے تسلسل کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس شعبے میں ملکی صلاحیتیں فروغ دینے سے محققین کو اپنا کام زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور ملک کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان میں سائنسی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور حکومت نے تحقیق و اختراع کو اعلیٰ ترجیح دی ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے تحقیق کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری معاون نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں صنعت کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور امید افزا سائنسی کام کے لیے مالی وسائل کی فراہمی شامل ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مختلف علمی شعبوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اشتراک اور حیاتیات، انجینئرنگ، ریاضی اور دیگر شعبوں کی مہارتوں کو یکجا کرنے کی ضرورت پر بھی بات کی۔ سائنسی تحقیق کے زیادہ پیچیدہ استعمال اور ٹیکنالوجی کے نئے طریقوں کی جانب بڑھنے کے ساتھ، مختلف شعبوں کے درمیان اس طرح کا تعاون مسلسل اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
نیوکلیئر میڈیسن (جوہری طب) کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے تحقیق کے ابھرتے ہوئے مواقع کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے اور اس شعبے میں وسیع تر شمولیت کو ممکن بنانے کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا۔ ڈاکٹر سنگھ نے حال ہی میں نافذ کیے گئے شانتی ایکٹ کے ان التزامات کا ذکر کیا جو جوہری طب میں تحقیق کے لیے نجی شعبے کی شمولیت کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات تحقیق کو آگے بڑھانے اور صنعت کی شمولیت کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
بات چیت کے دوران سائنسی دریافت سے ٹیکنالوجی کی تیاری اور اس کے عملی استعمال تک کے مراحل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی بات کی گئی۔ تحقیقی اداروں، صنعت اور کاروباری افراد کے درمیان زیادہ سے زیادہ اشتراک سے امید افزا سائنسی دریافت کو ایسی مصنوعات اور حل میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں۔
اس اجلاس میں حیاتیاتی ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے محکمۂ کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے بھی شامل تھے۔ اجلاس میں سائنس دانوں اور ماہرین نے شرکت کی اور انہوں نے نظامی اور مصنوعی حیاتیات کے امکانات اور ہندوستان میں حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں صلاحیتوں کو فروغ دینے کے موضوع پر تبادلۂ خیال کیا۔
ای ایس ٹی آئی سی 2026 میں سائنس دانوں، پالیسی سازوں، صنعت کے رہنماؤں، نئے کاروباری اداروں اور نوجوان محققین کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا ہے، تاکہ سائنسی تحقیق، تکنیکی اختراع اور قومی ترقی کے درمیان روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ کانکلیو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا جائزہ لینے، باہمی تعاون کو فروغ دینے اور سائنسی علم کو عملی استعمال میں لانے کی کوششوں کو تقویت فراہم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔




**********
ش ح۔۔ ش م۔ ر ب
U-6773