پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 4:48PM by PIB Delhi
محنت سے متعلق ضابطوں، محنت کشوں کی فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ کے موضوع پر دو روزہ ریاستی سطح کا تربیتی اور بیداری پروگرام ’’شرم سمواد‘‘، وزارتِ محنت و روزگار، حکومتِ ہند اور محکمۂ محنت، حکومتِ اتر پردیش کے مشترکہ اہتمام سے 26 اور 27 اکتوبر 2026 کو تاج ہوٹل، لکھنؤ میں منعقد کیا گیا۔
اس پروگرام کا مقصد نئے محنت سے متعلق ضابطوں اور ان کے تحت وضع کردہ قواعد کے بارے میں آجروں، انسانی وسائل، قانونی امور اور مالیات کے شعبوں سے وابستہ ماہرین میں بیداری بڑھانا تھا۔ اس کے علاوہ، محنت سے متعلق اصلاحات، فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ کے بارے میں آگاہی اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ مرکز اور ریاست کے درمیان تال میل، متعلقہ فریقوں کی شمولیت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے محنت و روزگار سے متعلق خدمات کی فراہمی کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی گئی۔ اس پروگرام میں وزارتِ محنت و روزگار، محکمۂ محنت، حکومتِ اتر پردیش، چیف لیبر کمشنر (مرکزی)، ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن، ملازمین کی ریاستی بیمہ کارپوریشن اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف لیبر ویلفیئر کے سینئر افسران کے علاوہ آجرین، صنعتوں کے نمائندوں اور قانونی امور، انسانی وسائل اور مالیات کے شعبوں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔
پہلا دن: موضوع کا تعارف، کلیدی خطاب اور تکنیکی اجلاس


پہلے دن کے اجلاسوں میں محنت سے متعلق اصلاحات، سماجی تحفظ اور ریاست میں محنت سے متعلق نظام پر توجہ مرکوز کی گئی۔ جناب انیل راج بھر، وزیرِ محنت و روزگار، حکومتِ اتر پردیش نے پروگرام سے خطاب کیا۔ ڈاکٹر آشیش کمار گوئل، ایڈیشنل چیف سکریٹری، محنت و روزگار، حکومتِ اتر پردیش نے استقبالیہ خطاب کیا اور پروگرام کے اغراض و مقاصد کا تعارف پیش کیا۔ ڈاکٹر چندر بھوشن کمار، سکریٹری، محنت و روزگار، حکومتِ ہند نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے محنت سے متعلق ضابطوں کی انقلابی صلاحیت، تعمیراتی کارکنوں کی فلاح و بہبود، سماجی تحفظ، ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات کی فراہمی اور مرکز و ریاست کے درمیان بہتر تال میل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔


تکنیکی اجلاسوں میں اتر پردیش میں محنت سے متعلق ضابطوں کے نفاذ، سماجی تحفظ کی اسکیموں کے باہمی تال میل اور غیر منظم شعبے کے محنت کشوں، عارضی نوعیت کے کام کرنے والے کارکنوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے کام کرنے والے کارکنوں تک ان اسکیموں کی رسائی بڑھانے، تعمیراتی کارکنوں کے اندراج، سیس کی وصولی اور فلاحی فوائد، بین الاقوامی نقل و حرکت، ریاست میں اختیار کیے گئے بہترین طریقوں، ملازمین کی ریاستی بیمہ کارپوریشن اور ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے اقدامات، نیز ای-شرم، شرم سویدھا پورٹل، سمادھان پورٹل اور لیبر اسٹیک سمیت ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کا احاطہ کیا گیا۔ ان اجلاسوں سے وزارتِ محنت و روزگار، حکومتِ اتر پردیش، ملازمین کی ریاستی بیمہ کارپوریشن اور ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے سینئر نمائندوں نے خطاب کیا۔
دوسرا دن: محنت سے متعلق ضابطوں کا نفاذ اور آئندہ کا لائحۂ عمل

دوسرے دن کے پروگرام میں آجروں، صنعتوں کے نمائندوں اور قانونی امور، انسانی وسائل اور مالیات کے شعبوں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ اتر پردیش حکومت کے وزیر مملکت برائے محنت و روزگار، جناب منوہر لال منّو کوری نے شرکاء سے خطاب کیا۔ محنت سے متعلق ضابطوں پر منعقدہ تکنیکی اجلاس کی صدارت وزارتِ محنت و روزگار کے پرنسپل لیبر اکنامکس ایڈوائزر (پی ایل ای اے)، جناب آلوک چندر نے کی۔ وزارتِ محنت و روزگار کے ڈائریکٹر (محنت سے متعلق اصلاحات)، ڈاکٹر پی کے جینا نے محنت سے متعلق ضابطوں کا مجموعی جائزہ پیش کیا، جس کے بعد متعلقہ موضوعات پر خطاب کیا گیا۔ ان اجلاسوں میں اجرت سے متعلق ضابطہ، 2019؛ صنعتی تعلقات سے متعلق ضابطہ، 2020؛ سماجی تحفظ سے متعلق ضابطہ، 2020؛ اور پیشہ ورانہ تحفظ، صحت اور کام کے حالات سے متعلق ضابطہ، 2020 کے تحت تعمیل کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان اجلاسوں میں وزارتِ محنت و روزگار اور حکومتِ اتر پردیش کے سینئر نمائندوں نے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ گفتگو میں چاروں محنت سے متعلق ضابطوں کے تحت عملی تقاضوں کی تعمیل اور نفاذ سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی۔

پروگرام میں پردھان منتر ی وِکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم وی بی آر وائی) پر بھی اجلاس منعقد کیا گیا، جس کی نظامت وزارتِ محنت و روزگار کی ڈائریکٹر محترمہ رچا شرما نے کی۔ اس اجلاس سے ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے اے سی سی، جناب اُدے بخشی نے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ، پردھان منتری شرم یوگی مان دھن یوجنا (پی ایم-ایس وائی ایم) پر بھی ایک اجلاس منعقد ہوا، جس سے وزارتِ محنت و روزگار کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف لیبر ویلفیئر کے ویلفیئر کمشنر جناب پردیومن کمار رانا نے خطاب کیا۔ اس کے بعد سوال و جواب کا ایک کھلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں شرکاء کو محنت سے متعلق ضابطوں اور قواعد کی دفعات، ان کے نفاذ اور تعمیل کے تقاضوں کے بارے میں وضاحت طلب کرنے کا موقع ملا۔
بچہ مزدوری کے خاتمے کے لیے روک تھام، بچاؤ، بازآبادکاری، مختلف محکموں کے درمیان تال میل اور ضلعی سطح پر نگرانی کے علاوہ بندھوا مزدوری کے معاملے میں متاثرہ افراد کی شناخت، رہائی، بازآبادکاری اور بین المحکمہ جاتی تال میل پر ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔ یہ اجلاس بچوں سے متعلق بچہ مزدوری کے امور کے ریاستی رابطہ کار جناب سید رضوان علی نے پیش کیا۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر جناب اشوک کمار نے وِیل پور میں بچہ مزدوری کے مستقل خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کا تجربہ پیش کیا اور اس مسئلے کے مکمل خاتمے اور متاثرہ بچوں کی بازآبادکاری کی حکمت عملیوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

آجروں اور پیشہ ور افراد کو محنت سے متعلق ضابطوں اور قواعد کے مؤثر نفاذ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے وزارتِ محنت و روزگار کی جانب سے تیار کردہ ’’آجروں کے لیے تعمیل سے متعلق رہنما کتابچہ‘‘ اور ’’اکثر پوچھے جانے والے سوالات کا مجموعہ‘‘ بھی شرکاء میں تقسیم کیا گیا۔ ضابطوں اور قواعد کی دفعات نیز سماجی تحفظ کی اسکیموں کو سمجھنے میں موجود ابہام دور کرنے اور شرکاء کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے دونوں دن کھلے اجلاس بھی منعقد کیے گئے، جن میں 100 سے زائد سوالات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پروگرام کا اختتام حکومتِ اتر پردیش کے محکمۂ محنت و روزگار کے خصوصی سکریٹری جناب کنال سلکو کے اختتامی کلمات اور اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ اس پروگرام نے محنت سے متعلق اصلاحات اور سماجی تحفظ کی وسیع تر فراہمی کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے باہمی تال میل سے اقدامات کرنے، تعمیل کے طریقۂ کار کو آسان بنانے، ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی فراہمی اور مختلف اسکیموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت کو پھر سے اجاگر کیا۔ حکومتِ اتر پردیش نے ریاست کے دیگر صنعتی اضلاع میں بھی اسی طرح کے ’’شرم سمواد‘‘ پروگرام منعقد کرنے کے اپنے ارادے کا یقین دلایا۔
****
ش ح۔ ا ع خ۔ خ م
U.NO.6770