خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کو گود لینے کے عمل کو فروغ دینے کے لیے کارا کے زیرِ اہتمام رانچی میں مشرقی خطے کی پانچویں علاقائی مشاورتی ورکشاپ


جھارکھنڈ، بہار، اڈیشہ اور مغربی بنگال کے 115 اضلاع سے تعلق رکھنے والے 175 سے زائد متعلقہ فریقوں نے معذور بچوں کی خاندانی ماحول میں بحالی کے نظام کو مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 OCT 2026 4:56PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کی خواتین اوربچوں کے بہبود کی وزارت کے زیرِ سرپرستی گود لینے کے وسائل سے متعلق مرکزی ادارے (کارا) نے جھارکھنڈ حکومت اور گود لینے کے وسائل سے متعلق ریاستی ادارے (سارا)، جھارکھنڈ کے اشتراک سے 27 اکتوبر 2026 کو جھارکھنڈ کے رانچی میں مشرقی خطے کی پانچویں علاقائی مشاورتی ورکشاپ منعقد کی۔ اس ورکشاپ میں خاندانی ماحول میں بچوں کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانے اور خصوصی ضروریات کے حامل بچوں (دیویانگ بچوں) کو محفوظ، مستقل اور محبت بھرا خاندانی ماحول فراہم کرنے کے مواقع بڑھانے کے تئیں کارا کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

d7fcce8d47c761f1fe967482da857af1.jpg

گود لینے کے بارے میں بیداری مہم 2025 کے تحت کارا کی مسلسل کوششوں کے حصے کے طور پر منعقد کی گئی اس ورکشاپ کا موضوع’’بچوں کی ادارہ جاتی نگہداشت سے ہٹ کرخاندانوں کے ساتھ معمول کی زندگی گزارنے کو فروغ دینا ‘‘ تھا۔ ورکشاپ میں متعلقہ فریقوں کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے، زمینی سطح پر درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کو گود لینے اور ان کی بحالی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے عملی حکمتِ عملی وضع کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

مشرقی خطے میں جھارکھنڈ، بہار، اڈیشہ، مغربی بنگال اور سکم شامل ہیں، جو جغرافیائی اور انتظامی اعتبار سے ایک متنوع خطہ ہے۔ اس ورکشاپ میں جھارکھنڈ، بہار، اڈیشہ اور مغربی بنگال کے تقریباً 115 اضلاع کی نمائندگی کرنے والے لگ بھگ 175 متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اس نے مختلف شعبوں کے درمیان تبادلۂ خیال، بہترین طور طریقوں کے اشتراک اور جامع، خاندانی ماحول میں بچوں کی بحالی کو فروغ دینے کے لیے مربوط حکمتِ عملی تیار کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔

اس ورکشاپ میں کارا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ بھاونا سکسینہ، محکمہ خواتین، اطفال، سماجی بہبود اور سماجی تحفظ کے سکریٹری جناب اُما شنکر سنگھ، معذور افرادسے متعلق امور کی ریاستی کمشنر محترمہ کیرتی شری جی، جھارکھنڈ کی ڈائریکٹر برائے سماجی بہبود محترمہ کرن پاسی، جے ایس سی پی ایس کے ڈائریکٹر اور رکن سکریٹری جناب بیجے کمار سنہا اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

a872adda24edec4508b140659bda6197.jpg

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کارا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ بھاونا سکسینہ نے ہدف پر مبنی رسائی اور متعلقہ فریقوں کی شمولیت کے ذریعے حاصل ہونے والی حوصلہ افزا پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مسلسل اور باہمی تعاون پر مبنی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گود لینے کے عمل میں تاخیر کا سبب بننے والی رکاوٹوں کو دور کرنے اور بچوں کو گود لینے کے خواہش مند والدین کے لیے دستیاب معاونت کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ مسلسل بیداری پیدا کرنا اور بچوں کی ضروریات کو مرکز میں رکھتے ہوئے حساسیت کے ساتھ کام کرنا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ خصوصی ضروریات کے حامل مزید بچوں کو مستقل خاندانی ماحول میسر آ سکے۔

محکمہ خواتین، اطفال، سماجی بہبود اور سماجی تحفظ کے سکریٹری جناب اُما شنکر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ بیداری پیدا کرنے تک محدود رہنے کے بجائے مسلسل اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جانے چاہئیں، تاکہ خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کو خاندانی زندگی، دیکھ بھال اور اپنائیت کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا، ’’بچوں کے تحفظ سے متعلق حکام، صحت کے ماہرین اور بچوں کو گود دینے والی ایجنسیوں کے درمیان مسلسل تعاون کے ذریعے ہمیں اپنے عزم کو بچوں کے لیے بامعنی نتائج میں تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘

اس ورکشاپ میں ریاستی ادارہ ہائے وسائل برائے گود لینے (سارا)، خصوصی ادارہ ہائے گود لینے (ایس اے اے)، بچوں کی نگہداشت کے اداروں (سی سی آئی)، ضلعی اکائیوں برائے تحفظِ اطفال (ڈی سی پی یو)، چیف میڈیکل افسران (سی ایم او)، بچوں کی بہبود کی کمیٹیوں (سی ڈبلیو سی)، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں اور تحفظِ اطفال سے وابستہ تنظیموں کے افسران اور نمائندوں نے شرکت کی۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شرکاء کی موجودگی سے بچوں کو گود لینے کے عمل کے طبی، قانونی، طریقۂ کار سے متعلق اور انتظامی پہلوؤں کا جامع جائزہ لینے میں مدد ملی۔

غور و خوض کے دوران طبی معائنے، قانونی اور طریقۂ کار سے متعلق تقاضوں، مالی معاملات، شکایات کے ازالے اور مختلف محکموں کے درمیان تال میل سے متعلق اہم چیلنجوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس سلسلے میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں اور تحفظِ اطفال کے نظام کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا، تاکہ بروقت طبی جانچ، مناسب نگہداشت کے منصوبے اور بچوں کو گود لینے کے نسبتاً آسان عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

گروپ مباحثوں کے ذریعے متعلقہ فریقوں کو خطے کے مخصوص چیلنجوں کا جائزہ لینے اور عملی، قابلِ عمل اور مقررہ مدت میں مکمل کی جانے والی سفارشات مرتب کرنے کا موقع ملا۔ ان مباحثوں میں عوام تک رسائی بڑھانے، اداروں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، طریقۂ کار میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور بچوں کو گود لینے کے عمل کے ہر مرحلے پر خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے لیے معاونت بہتر بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔

ورکشاپ کے دوران خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کو گود لینے کی ایک کامیاب مثال پر مبنی مختصر دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ حقیقی زندگی کے ایک متاثر کن واقعے کے ذریعے اس فلم میں خاندانی ماحول میں نگہداشت کے تبدیلی لانے والے اثرات کو اجاگر کیا گیا اور یہ دکھایا گیا کہ محبت و شفقت سے بھرپور خاندان بچوں کو تحفظ، جذباتی سہارا، وقار اور اپنائیت کا مستقل احساس فراہم کر سکتا ہے۔

رانچی میں منعقدہ ورکشاپ کے ساتھ کارا نے علاقائی مشاورتی ورکشاپوں کے سلسلے کی پانچویں ورکشاپ مکمل کر لی ہے۔ اس سے قبل شمالی خطے کے لیے راجستھان، شمال مشرقی خطے کے لیے آسام، وسطی خطے کے لیے مدھیہ پردیش اور مغربی خطے کے لیے مہاراشٹر میں مشاورتی اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔ ان تمام مشاورتی اجلاسوں نے خطوں کے مخصوص چیلنجوں کی نشاندہی کرنے، مؤثر طور طریقوں کے تبادلے اور بچوں کو گود لینے اور تحفظِ اطفال کے شعبوں سے وابستہ متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔

مشرقی خطے کے مشاورتی اجلاس سے سامنے آنے والی سفارشات سے مستقبل کے ایسے اقدامات کی منصوبہ بندی میں مدد ملنے کی توقع ہے، جن کا مقصد بچوں کو گود لینے کے عمل میں سہولت فراہم کرنا، صحت کی دیکھ بھال کے اداروں اور تحفظِ اطفال کے نظام کے درمیان تال میل مضبوط بنانا اور ملک بھر میں خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے لیے خاندانی ماحول میں بحالی کے مواقع بڑھانا ہے۔

ان مشاورتی اقدامات کے ذریعے کارا بچوں کو گود لینے کے عمل میں بچوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئےسماجی شمولیت کو فروغ دینے کے اپنے عزم کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اس طرح اس اصول کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے کہ ہر بچے کو محض نگہداشت ہی نہیں، بلکہ ایسے خاندان میں پرورش پانے کا موقع بھی ملنا چاہیے جہاں اسے محبت، قدر و منزلت اور بھرپور تعاون حاصل ہو۔

******

) ش ح ۔ ع و ۔ م ا)

UR.No. 6772


(ریلیز آئی ڈی: 2329054) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English