وزارت آیوش
azadi ka amrit mahotsav

 ایم ڈی این آئی وائی نے پاتنجل یوگ سوتر پر پانچ روزہ قومی ورکشاپ کا افتتاح کیا


ویاس بھاشیہ کے منظم مطالعے کے ذریعے وبھوتی پاد کا جائزہ لیا جائے گا

ماہرین نے انسانی ذہن، نظم و ضبط اور شعور کو سمجھنے میں پاتنجل یوگ سوتر کی اہمیت اجاگر کی

 

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 OCT 2026 6:53PM by PIB Delhi

آیوش کی وزارت کے ماتحت مرارجی دیسائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یوگا (ایم ڈی این آئی وائی) نے آج ’پاتنجل یوگ سوتر: وبھوتی پاد (ویاس بھاشیہ کی روشنی میں)‘ کے موضوع پر پانچ روزہ قومی ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ 26 سے 30 اکتوبر 2026 تک منعقد ہونے والی اس ورکشاپ کا مقصد پاتنجل یوگ سوتر اور اس کی روایتی تشریح کے منظم مطالعے کے ذریعے شرکا کی وبھوتی پاد سے متعلق سمجھ کو مزید گہرا کرنا ہے۔

بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو)، وارانسی کی فیکلٹی آف سنسکرت ودیا دھرم وگیان (ایس وی ڈی وی) کے شعبہ ویدک فلسفہ کے سابق پروفیسر پروفیسر کرشنا کانت شرما نے موضوع کے ماہر کی حیثیت سے شرکت کی اور کلاسیکی دانش کو عملی تعلیم کے ساتھ مربوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ایم ڈی این آئی وائی کلاسیکی یوگا متن پاتنجل یوگ سوتر کی گہری سمجھ کے ساتھ عملی علم فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ مہارشی پتنجلی کی تعلیمات یوگا کے ذریعے انسانی تکلیف کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کرتی ہیں۔‘‘

ایم ڈی این آئی وائی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر جیوتی کیسوَنی نے ذاتی نشوونما اور نظم و ضبط و بیداری پیدا کرنے میں پاتنجل یوگ سوتر کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ کلاسیکی متن ہمیں نظم و ضبط اور بیداری پیدا کرکے انا (اسمِتا) کو منظم کرنے اور بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہر مطالعہ ایک نیا نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ وبھوتی پاد میں سدھیوں کی وضاحت ایسے گہرے تصورات پیش کرتی ہے جو مزید فلسفیانہ تحقیق اور سائنسی جستجو کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ ہمیں اس روایتی علم کو کھلے ذہن کے ساتھ سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے، جبکہ اس کی اہمیت اور ممکنہ اطلاق کو سمجھنے کے لیے منظم تحقیق کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتا ہے۔‘‘

ایم ڈی این آئی وائی کے کمیونیکیشن اینڈ ڈاکیومنٹیشن آفیسر اور ڈی ڈی (انچارج) جناب محمد طیب عالم نے یوگا کی تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’یوگا کی حقیقی روح صرف یوگ سوتر کو یاد کرنے میں نہیں بلکہ اس کی دانش کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنے میں ہے۔ ویاس بھاشیہ کی فلسفیانہ گہرائی سے مالا مال وبھوتی پاد یوگا کے نظم و ضبط اور مقصد کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ورکشاپ مکالمے، سیکھنے اور ہندوستان کی کلاسیکی یوگ روایت کو عام کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔‘‘

ایم ڈی این آئی وائی کے پروگرام افسر ڈاکٹر آئی این آچاریہ نے پاتنجل یوگ سوتر کی عصری معنویت، خاص طور پر انسانی ذہن کو سمجھنے اور اسے منظم کرنے کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے کہا، ’’آج کی دنیا میں، جہاں معلومات تک رسائی مسلسل آسان ہو رہی ہے اور زندگی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، پاتنجل یوگ سوتر انسانی ذہن کو سمجھنے اور اسے منظم کرنے کے ساتھ ساتھ ذہن سازی اور بیداری کو فروغ دینے کے لیے قیمتی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔‘‘

وبھوتی پاد پاتنجل یوگ سوتر کا تیسرا باب ہے، جس میں یوگک مشق کے اعلیٰ مدارج، بشمول دھارنا، دھیان اور سمادھی، کا جائزہ لیا گیا ہے، جنہیں اجتماعی طور پر سمیَم کہا جاتا ہے۔ اس میں مختلف سدھیوں (یوگک حصولات)، ان کے مضمرات اور روحانی ترقی کی جستجو میں ان کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے امتیاز و بصیرت کی اہمیت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

ورکشاپ میں سوتر اور ویاس بھاشیہ کی روایتی تشریح کے منظم مطالعے کے ذریعے ان تصورات کی گہرائی سے تحقیق کے لیے ایک علمی پلیٹ فارم فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاتنجل یوگ کے فلسفیانہ بنیادوں اور یوگک نظم و ضبط و شعور کے اعلیٰ مدارج کو سمجھنے میں کلاسیکی یوگ کی تعلیمات کی معنویت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ایم ڈی این آئی وائی کی اسسٹنٹ پروفیسر، یوگا ایجوکیشن، ڈاکٹر اندو شرما ورکشاپ کی کوآرڈینیٹر ہیں۔

اس طرح کے علمی اقدامات کے ذریعے ایم ڈی این آئی وائی کلاسیکی یوگ متون کے منظم مطالعے کو فروغ دینے اور ہندوستان کے مالا مال یوگک اور فلسفیانہ ورثے کی سمجھ کو مزید مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 6728 )


(ریلیز آئی ڈی: 2328726) وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी