دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی سرس میلہ 2026 میں کروڑوں روپے کے کاروباری ادارے قائم کرنے والی لکھ پتی دیدیوں کی کامیابی کے سفر


دہلی-این سی آر سے باہر منعقد ہونے والے پہلے قومی سرس میلے میں اپنی مدد آپ گروپوں(ایس ایچ جی) سے  لے کرکاروباری اداروں تک کا سفر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 OCT 2026 3:40PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کی دیہی ترقی کی وزارت، ایک پہل کے طور پر، آندھرا پردیش حکومت کے تعاون اور نابارڈ ، این آئی آر ڈی پی آر اور کڈمب شری کی حمایت سے منعقد ہونے والا ’قومی سرس میلہ‘روایتی دستکاری، کاروباری صلاحیتوں اور خواتین کے معاشی خودمختاری کی جانب بڑھنے کے حوصلہ افزا سفر کو جاننے اور سمجھنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

پُنّامی گھاٹ پر لگے ہر اسٹال کے پیچھے ایک ایسی خاتون ہے، جس نے اپنی مہارت، اپنے فن اور خود پر بھروسہ کیا تاکہ وہ ’لکھ پتی دیدی‘ بننے کا خواب پورا کر سکیں۔ میلے کے دوران، اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایج جی) سے وابستہ کچھ خواتین بتاتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنے خاندانی ہنر یا کسی ابتدائی خیال کو ایک کامیاب کاروبار میں تبدیل کیا۔ ان کے سفر میں ذمہ داری اٹھانے کا تجربہ، مختلف شہروں میں ان کے کام کو ملنے والی پذیرائی اور ہر قدم کے ساتھ بڑھتا ہوا ان کا اعتماد شامل ہے۔ ان میں سے بعض خواتین کا سالانہ کاروباری ٹرن اوور 60 لاکھ روپے سے لے کر ایک کروڑ روپے تک ہے۔

پُنّامی گھاٹ پر اسٹالوں کے درمیان گھومتے ہوئے، آپ کو ہر کاؤنٹر کے پیچھے ایک خاتون ملے گی، جس کی اپنی ایک کہانی ہے،ایک ایسی کہانی جو وجے واڑہ سے بہت دور کسی مقام پر شروع ہوئی تھی۔

لکھ پتی دیدی ایسی خاتون ہوتی ہے جس کا تعلق خود امدادی گروپ (ایس ایچ جی)سے وابستہ خاندان سے ہو اور جس کے خاندان کی سالانہ پائیدار آمدنی کم از کم ایک لاکھ روپے ہو۔ یہ اس ہدف کا ایک اہم حصہ ہے، جس کے تحت معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 2029 تک چھ کروڑ ’لکھ پتی دیدیاں‘ بنانے کا وژن پیش کیا ہے۔ ’دین دیال انتودیہ یوجنا—قومی دیہی روزی روٹی مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت خواتین کو ہنر مندی کی تربیت، مالی امداد اور بازار تک رسائی فراہم کی جاتی ہے، جس سے وہ اپنی آمدنی بڑھانے کے قابل بنتی ہیں۔ ان خواتین کے سفر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے بعد بھی ترقی اور کامیابی کے کتنے امکانات موجود ہیں۔

لکھپتی دیدی کے تجربات: زندگی بدل دینے والی کامیابیوں کی داستانیں

چندرکلا، لوٹس ایس ایچ جی، تروپتی، آندھرا پردیش:وہ ہنر جسے انہوں نے آگے بڑھایا

چندرکلا کے خاندان میں لکڑی پر نقش و نگار کا کام 2002 میں شروع ہوا تھا۔ ان کا خاندان بنیادی طور پر کھیتی باڑی سے وابستہ تھا۔ پانچ سال بعد، 2007 میں ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا اور اس کام کو چلانے کی ذمہ داری چندرکلا پر آگئی۔ ابتدائی مہینوں میں ان کی پوری توجہ آرڈر مکمل کرنے اور کاریگروں کا اعتماد برقرار رکھنے پر تھی۔ وہ ہر طرف اسی ہنر سے گھری ہوئی تھیں، لیکن گاہکوں سے معاملہ کرنا، حساب کتاب رکھنا اور فیصلے لینایہ سب ان کے لیے بالکل نئے تجربات تھے۔

لوٹس ایس ایچ جی نے انہیں ایسی خواتین کا ساتھ دیا،  جو ان کے کام کی اہمیت کو سمجھتی تھیں اور ایک ایسا پلیٹ فارم دیا، جہاں وہ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتی تھیں۔ اس کے بعد ان کا کام دور دور تک پہنچنے لگا۔ نمائشوں اور تجارتی میلوں کے ذریعے وہ چنئی، ممبئی، وجے واڑہ، وشاکھاپٹنم اور دہلی تک پہنچیں۔ ایک کسان خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون کے لیے ہر شہر ایک نیا تجربہ تھا،ایک نئی جگہ، ایک نیا اسٹال اور ایک ایسا گاہک جو ان کی بنائی ہوئی نقش و نگاری کو ہاتھ میں اٹھاتا، اسے پلٹ کر دیکھتا اور اس کی قیمت پوچھتا۔ انہیں وہ میلہ آج بھی یاد ہے، جہاں دن ختم ہونے سے پہلے ہی ان کا سارا سامان فروخت ہو گیا تھا۔ آج ان کے اس کاروبار کا سالانہ ٹرن اوور ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہے، وہ ہر ماہ تقریباً 10 لاکھ روپے جی ایس ٹی ادا کرتی ہیں اور 100 سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ وہ ’لیپاکشی ایمپوریم‘ کے شوروم کے ذریعے کئی دیگر شہروں میں بھی اپنی مصنوعات پہنچا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ وزراء اور مشہور شخصیات کو تحفے دینے کے لیے بھی ان کی تیار کردہ مصنوعات خریدی جاتی ہیں۔

اب ان کی خواہش صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں، ”میں اس کاروبار کو مزید آگے بڑھانا چاہتی ہوں اور 500 دیہی خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتی ہوں۔ اسی طرح، مجھے امید ہے کہ میں اس ورثے کو آگے بڑھا سکوں گی۔“

سدھی، مہامایا ایس ایچ جی، شمالی گوا: سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے کاروبار کو نئی پہچان دینا

چار سال پہلے، فیشن ڈیزائننگ میں ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد، سدھی نے تنہا ہی انسٹاگرام کے ذریعے روایتی ملبوسات کا کاروبار شروع کیا۔ اس کام کے لیے انہوں نے خود سرمایہ لگایا۔ سوشل میڈیا پر پہلے سے فعال ہونے کی وجہ سے، انہیں اپنے کام کے لیے ایک پیج بنانے اور گاہکوں تک پہنچنے کا موقع نظر آیا۔ مہامایا ایس ایچ جی نے انہیں ایسی خواتین سے جڑنے میں مدد دی جو ان کے ساتھ کام کر سکتی تھیں اور ساتھ ہی قرض لینے کے بارے میں رہنمائی بھی فراہم کی۔ وہ اس تعلق کو باہمی تعاون کا رشتہ قرار دیتی ہیں۔ یہ گروپ انہیں دست کاری کی مہارتوں اور مارکیٹنگ سے متعلق ورکشاپس کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتا رہتا ہے، جن میں سدھی اور ان کی ٹیم حصہ لیتی ہے۔

آج وہ اپنا ذاتی بوٹیک چلاتی ہیں، جس میں تقریباً سات سے دس افراد کی ایک ٹیم ہے۔ اس ٹیم میں ایسی خواتین بھی شامل ہیں جنہیں انہوں نے خود تربیت دی ہے۔ ضرورت پڑنے پر وہ خود بھی کپڑوں کی کٹائی کا کام سنبھال لیتی ہیں۔ ان کے کام میں سلائی، کپڑوں کی سلائی و تیاری، خام مال حاصل کرنا، پیکنگ کرنا اور نمائشوں میں مدد کرنا شامل ہے۔ وہ سوشل میڈیا اور اپنی ویب سائٹ ’بلِس بائی سدھی ڈاٹ اِن کے ذریعے مارکیٹنگ کا کام سنبھالتی ہیں۔ انسٹاگرام پر ملنے والے آرڈرز کو وہ انڈیا پوسٹ کے ذریعے بیرونِ ملک گاہکوں تک پہنچاتی ہیں، جن میں سنگاپور، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور کئی دیگر ممالک شامل ہیں۔ ان کے کاروبار کا سالانہ ٹرن اوور 60 لاکھ روپے ہے۔

ابتدا میں، ان کے آس پاس کے لوگ اس خیال کے حق میں نہیں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ سدھی کوئی باقاعدہ ملازمت کریں، خاص طور پر سرکاری نوکری، لیکن سدھی نے اپنے کاروبار کو ہی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کہتی ہیں، ”میں چاہتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ خواتین میری ٹیم سے جڑیں۔“ آنے والے چند برسوں میں، انہیں امید ہے کہ وہ گوا میں تقریباً 100 مزید خواتین کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کریں گی اور انہیں معاشی طور پر خود کفیل بننے میں مدد دیں گی۔

کنواری برووا، مہیلا وکاس منڈل بگھیما پالکوٹ ایف پی او، گملا، جھارکھنڈ: خواتین کسانوں کے ساتھ راگی (مڈوا) کا کاروبار کرنا

کنواری برووا کا سفر ان کے گاؤں کے ایک خود امدادی گروپ (ایس ایچ جی)سے شروع ہوا، جہاں خواتین نے 2-2 روپے کی بچت کرنا شروع کی۔ انہوں نے دوسری خواتین کو بھی گروپ سے جڑنے کی ترغیب دی اور جمع شدہ بچت سے قرض لے کر ایک گائے خریدی۔ بعد میں، بینک سے منسلک قرض کی سہولت کی مدد سے انہوں نے سبزیوں کی کاشت کے لیے ض روری آلات خریدے۔ اپنی فصل اگانے اور اسے فروخت کرنے سے انہیں اپنے خاندان کی کفالت کرنے اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کا ذریعہ مل گیا۔

جیسے جیسے گروپ کی خواتین ایک ساتھ آئیں، ان کا کام بھی بڑھتا گیا۔ 2022 میں، انہوں نے 381 ارکان کے ساتھ ایک ’فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن(ایف پی او)قائم کی۔ کنواری بتاتی ہیں کہ اب ان کے ارکان کی تعداد بڑھ کر 1,501 ہو گئی ہے۔ یہ گروپ کسانوں کو راگی کی کاشت کرنے میں مدد کرتا ہے، فصل کو جمع کرکے ذخیرہ کرتا ہے اور راگی کے لڈو، ٹھیکوا اور دیگر نمکین اسنیکس تیار کرتا ہے۔ گملا میں چھوٹی چھوٹی میزوں سے شروع ہونے والا ان کا کاروبار اب دہلی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں منعقد ہونے والے میلوں تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق، اس گروپ کی ماہانہ فروخت تقریباً 6 سے 7 لاکھ روپے ہے۔

اس کاروبار سے 150 سے زیادہ خواتین کو باقاعدہ کام ملتا ہے اور آرڈرز بڑھنے پر مزید خواتین کو بھی کام پر رکھا جاتا ہے۔ میلوں کی وجہ سے ان خواتین کو سفر کرنے کے مواقع بھی ملے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ”ہماری کچھ خواتین نے تو پہلے کبھی ریلوے لائن بھی نہیں دیکھی تھی۔ اب ہم ٹرین اور یہاں تک کہ ہوائی جہاز سے بھی سفر کرتی ہیں۔“

سنگم پلی پاروتی، زوجہ رامی نائیڈو، شری درگا بھوانی کسان پروڈیوسر گروپ، اناکاپلی ضلع، آندھرا پردیش: ایک چھوٹی سی شروعات، اپنا کاروبار قائم کرنے کا سفر

آندھرا پردیش کے اناکاپلی ضلع کے نتاورم گاؤں میں، سنگم پلی پاروتی کا خاندان اپنی گزر بسر کے لیے ایک چھوٹے سے کھیت، دودھ دینے والی دو بھینسوں اور ان کے شوہر کی یومیہ مزدوری سے ہونے والی آمدنی پر منحصر تھا۔ اگرچہ ان ذرائع سے کچھ آمدنی ہو جاتی تھی، لیکن گھر کے اخراجات اور اچانک پیش آنے والی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے اکثر یہ ناکافی ہوتی تھی۔ مشکل وقت میں، خاندان کے پاس زیادہ شرحِ سود پر قرض لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا تھا، جس سے ان پر مالی بوجھ مزید بڑھ جاتا تھا۔ ان چیلنجوں کے باوجود، پاروتی نے اپنا کاروبار شروع کرکے اپنے خاندان کی مالی حالت بہتر بنانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا۔ تاہم، سرمایہ تک محدود رسائی ان کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔

سال 2018 میں ایک اہم موڑ آیا، جب پاروتی ’شری درگا بھوانی فارمر پروڈیوسر گروپ‘سے وابستہ ہوئیں۔ اس گروپ کے ذریعے انہیں 20,000 روپے کا قرض ملا، جس سے انہوں نے کچے کاجو کی خرید و فروخت شروع کی۔ اس ابتدائی کام سے انہیں بازار کو سمجھنے، کاروبار کا تجربہ حاصل کرنے اور ایک کاروباری خاتون بننے کی سمت میں پہلا قدم اٹھانے کا موقع ملا۔ اس کام کے امکانات کو دیکھتے ہوئے، انہوں نے اگلے سال اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا۔ 50,000 روپے کا ایک اور قرض لے کر انہوں نے کاجو کاٹنے والی دو مشینیں خریدیں اور کاجو سے گری نکالنے کا کام شروع کیا۔ ان گِریوں کو انہوں نے ٹونی کے تاجروں کو فروخت کیا۔ کچے کاجو کی تجارت سے آگے بڑھ کر اس کی پروسیسنگ کرنے تک کا سفر، ان کی مصنوعات کی قدر بڑھانے اور کاروبار کے امکانات کو وسعت دینے کی سمت میں ایک بڑا قدم تھا۔

جیسے جیسے ان کا کاروبار بڑھا، پاروتی کو بازار کی مانگ پوری کرنے اور اپنی رسائی بڑھانے کے لیے زیادہ پروسیسنگ صلاحیت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس سفر میں ’فارمر پروڈیوسر گروپ‘ سے ملنے والی مالی مدد مسلسل ایک اہم کردار ادا کرتی رہی۔ گروپ سے ملنے والے 2 لاکھ روپے کے قرض اور ’پردھان منتری روزگار سِر جن پروگرام(پی ایم ای جی پی) کے تحت بینک سے حاصل ہونے والی 3 لاکھ روپے کی مالی مدد سے، انہوں نے کاجو کی پروسیسنگ کے لیے ایک بڑی یونٹ قائم کی۔ اس سرمایہ کاری نے انہیں اپنے کام کاج کو مضبوط بنانے اور اپنے کاروبار کو ایک معمولی شروعات سے آگے لے جانے میں مدد دی۔

آج پاروتی کاجو کو 11 مختلف گریڈز میں تیار کرتی ہیں تاکہ گاہکوں کی مختلف ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ وہ ملک بھر کے گاہکوں کو اپنی مصنوعات فراہم کرتی ہیں اور نمائشوں میں حصہ لے کر اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کرتی ہیں، جس سے انہیں نئی منڈیوں تک پہنچنے کے مواقع ملتے ہیں۔ ان کا کاروبار اب ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو چکا ہے جس کا سالانہ ٹرن اوور تقریباً 50 لاکھ روپے ہے۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے، خاص طور پر اس وقت جب انہوں نے اس کی شروعات محض 20,000 روپے کے ابتدائی قرض سے کی تھی۔

پاروتی کا سفر ظاہر کرتا ہے کہ بروقت قرض، اجتماعی تعاون اور کاروبار کرنے کے پختہ عزم سے دیہی خواتین کو پائیدار ذریعۂ معاش قائم کرنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔ جو کام کبھی خاندان کی آمدنی بڑھانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب ایک بڑے پروسیسنگ کاروبار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس کاروبار کے لیے کبھی سرمایہ جمع کرنا مشکل محسوس ہوتا تھا، وہ آج ان کے خاندان کی مالی حالت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ دیہی کاروبار کی اس صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے جو معاشی مواقع پیدا کر سکتی ہے اور خاندانوں کے ذرائعٔ معاش کو مستحکم بنا سکتی ہے۔

ان میں سے ہر کامیابی کے سفر میں ایک بات مشترک ہے۔ایک ہنر، اس پر بھروسا کرنے والی خواتین کا ایک گروپ اور ایک ایسی منڈی جو آہستہ آہستہ کبھی کسی میلے کے ذریعے، تو کبھی کسی آرڈر کے ذریعےان کے سامنے آتی گئی۔ ’لکھ پتی دیدی پویلین‘ میں آنے والے لوگ ان خواتین سے براہِ راست بات کر سکتے ہیں، جو ہنر اور اجتماعی شرکت کے ذریعے آگے بڑھ کر اپنا کاروبار قائم کر رہی ہیں، منڈی تک رسائی حاصل کر رہی ہیں اور اپنی آمدنی کو پائیدار بنا رہی ہیں۔

16 فٹ بلند تنصیب ”شکتی  دی اسپرٹ آف لکھ پتی دیدی“ کے نیچے موجود یہ چار خواتین ان متعدد خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں، جنہوں نے اسی طرح کا سفر طے کیا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، ہندوستان کی معزز صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے خواتین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ’لکھ پتی‘ بننے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر اپنے کاروبار کو مزید وسعت دیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ، اپنی کمائی اور جائیداد پر خواتین کا خود اختیار ہونا، ان کے بااختیار ہونے کی ایک بڑی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ریاستوں میں ہر سال ’سرس میلے‘منعقد کیے جائیں گے۔ اس سے دیہی خواتین کو اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کرنے، نئے گاہکوں تک براہِ راست پہنچنے اور اپنی معاشی خود مختاری کو مزید مضبوط بنانے کے زیادہ مواقع ملیں گے۔

پہلا قومی ’سرس میلہ‘ 31 اکتوبر 2026 تک وجے واڑہ کے پُنّامی گھاٹ پر جاری رہے گا۔ یہ میلہ روزانہ صبح 11:00 بجے سے رات 9:30 بجے تک کھلا رہے گا۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ت ع

U.NO.6703

 


(ریلیز آئی ڈی: 2328593) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English