جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زرعی شمسی توانائی سے متعلق عالمی کانفرنس 2026


ہندوستان نے عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ زرعی شمسی توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا

ساتویں عالمی زرعی شمسی توانائی کانفرنس کسانوں کو مرکز میں رکھ کر حل تلاش کرنے کے عمل کو تیز کرنے کی اپیل کے ساتھ  اختتام  پذیر ہوئی؛ آٹھویں کانفرنس 2027 میں فرانس میں منعقد ہوگی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 8:33PM by PIB Delhi

ہندوستان نے زرعی شمسی توانائی سے متعلق مذاکرات میں کسانوں اور عالمی جنوب کے ممالک کی ترجیحات کو مرکزی اہمیت دی۔ نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت، حکومت ہند کے زیر اہتمام ساتویں عالمی زرعی شمسی توانائی کانفرنس 2026 کا آج یہاں اختتام ہوا۔ تین روزہ کانفرنس کے دوران سائنسی تبادلۂ خیال، کسانوں کے تجربات اور صنعتی شعبے کی شمولیت کے ذریعے اس مشترکہ موقع کو بروئے کار لانے پر توجہ مرکوز کی گئی کہ زرعی زمین پر غذائی اجناس کی پیداوار کے ساتھ شمسی توانائی بھی پیدا کی جائے، کسانوں کی آمدنی کو مستحکم کیا جائے اور صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔

کانفرنس میں ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر ہندوستان کے رول کو اجاگر کیا گیا، جو تحقیقی کام، زمینی تجربات اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو باہم مربوط کرتا ہے۔ پالیسی سازوں، محققین، صنعت کے قائدین، ترقیاتی شراکت داروں اور کسانوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ زرعی شمسی توانائی کے ذریعے ہندوستان اور عالمی جنوب کے ممالک میں خوراک کی یقینی فراہمی، توانائی تک رسائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت سے متعلق باہم مربوط چیلنجوں کا کس طرح مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

کانفرنس میں عملی اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ تبادلۂ خیال کے دوران زرعی آب و ہوا کے خطوں کی درجہ بندی، فصلوں کا انتخاب، پانی کے مؤثر استعمال، اختراعی مالیاتی طریقوں اور ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا گیا، جب کہ کسانوں کو مرکز میں رکھ کر تیار کیے گئے ماڈلز کو بنیادی اہمیت دی گئی۔ ان مباحث سے اس ضرورت کو تقویت ملی کہ ایسے حل وضع کیے جائیں جنہیں مختلف ممالک اپنے زرعی حالات اور ترقیاتی ترجیحات کے مطابق اپنا سکیں۔

ہندوستانی کونسل برائے زرعی تحقیق (آئی سی اے آر) اور آبی بندوبست کے بین الاقوامی ادارے (آئی ڈبلیو ایم آئی) کے اشتراک سے منعقدہ ایک اجلاس میں جائزہ لیا گیا کہ زرعی آب و ہوا کے خطوں کی درجہ بندی کس طرح زرعی شمسی توانائی کے نظاموں کے نفاذ کی رہنمائی کر سکتی ہے۔ اس دوران سایہ برداشت کرنے والی فصلوں، پانی کے مؤثر استعمال کے اشاریوں اور مختلف زرعی آب و ہوا والے خطوں میں شمسی پینلوں کی قطاروں کے آب و ہوا پر مرتب ہونے والے کم سے کم اثرات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ان تبادلۂ خیال سے زرعی شمسی توانائی کے نظاموں کو وسعت دینے کے عمل میں سائنسی شواہد کی اہمیت اجاگر ہوئی۔ اس تحقیقی مکالمے میں ہندوستان کی شرکت، عالمی جنوب کے ان شراکت دار ممالک کے ساتھ وسیع تر تبادلۂ علم کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جو شمسی توانائی کو پیداواری زراعت کے ساتھ مربوط کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کے لیے کہ کسانوں کے لیے کون سے طریقے مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور کن مقامات پر انہیں کامیابی سے نافذ کیا جا سکتا ہے، مقامی حالات سے متعلق شواہد ناگزیر ہوں گے۔

جی آئی زیڈ کی قیادت میں منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں ترقی پسند کسانوں، کسان پیداواری تنظیموں (ایف پی اوز) کی وفاقی تنظیموں اور دیہی صنعت کاروں کو تبادلۂ خیال میں شامل کیا گیا۔ شرکاء نے زرعی شمسی توانائی کے نظاموں کی تنصیب سے حاصل ہونے والے اپنے تجربات پیش کیے، جن میں نظاموں کے عملی استعمال سے حاصل ہونے والے اسباق، آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور دیکھ بھال کے طریقوں پر روشنی ڈالی گئی۔

ان کے خیالات نے مباحث کو واضح عملی سمت دی کہ منصوبوں کی تشکیل کسانوں کی ضروریات اور زمینی حالات کے مطابق ہونی چاہیے۔ ہندوستان اور عالمی جنوب کے دیگر ممالک میں اس نظام کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے ایسے معاشی طور پر قابلِ عمل نمونے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، جو زرعی پیداوار کو برقرار رکھ سکیں۔ پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی، مالی وسائل کی فراہمی اور عملی نفاذ کے طریقۂ کار وضع کرنے میں کسانوں کے تجربات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

کانفرنس کی کارروائی اور اہم نتائج کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) کے ڈائریکٹر جنرل جناب آشیش کھنہ نے تحقیق، اختراع اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے زرعی شمسی توانائی کو فروغ دینے کے امکانات کو اجاگر کیا۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب مینک تیواری نے اس بات پر زور دیا کہ مباحث کو مسلسل تعاون اور عملی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھانا اہم ہے۔

اس تبادلہ خیال سے مشترکہ طور پر سیکھنے اور شراکت داریوں کے ذریعے ہندوستان کے رول اور اس کی خدمات کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہوئی۔ ہندوستانی تحقیق اور کسانوں کے تجربات کو بین الاقوامی مہارت کے ساتھ مربوط کرنے سے زرعی شمسی توانائی کے ایسے طریقۂ کار وضع کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جو عالمی جنوب کے ممالک میں زراعت اور توانائی کی متنوع ضروریات کے مطابق ہوں۔

معزز شخصیات نے زرعی شمسی توانائی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو اعزازات سے نوازا۔ قومی زرعی شمسی توانائی پچ ہب ایوارڈ کے ذریعے ایسے امید افزا کاروباری منصوبوں اور نئے کاروباری اداروں کی اختراعات کو تسلیم کیا گیا، جن میں قابلِ عمل حل کو فروغ دینے کی صلاحیت موجود ہے۔

سائنسی تحقیق کے چھ موضوعاتی شعبوں میں بہترین مقالے کے اعزازات دیے گئے۔ ان کے ذریعے نظاموں کی تشکیل، زرعی علوم، نگرانی، کاروباری نمونوں اور سماجی و اقتصادی مساوات سے متعلق تحقیق کو سراہا گیا۔ ان اعزازات نے ان محققین، اختراع کاروں اور صنعت کاروں کی خدمات کا اعتراف کیا، جو سائنسی علم کو زراعت اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں عملی پیش رفت میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اختتامی تقریب میں باضابطہ طور پر 2027 میں آٹھویں عالمی زرعی شمسی توانائی کانفرنس کی میزبانی کی ذمہ داری فرانس کے سپرد کی گئی۔ اس موقع پر نئی دہلی میں قائم ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے اور علم کے تبادلے، شراکت داریوں کو مضبوط بنانے اور زراعت کے متنوع حالات میں زرعی شمسی توانائی کے حل کو فروغ دینے کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو مزید تقویت ملی۔

ہندوستان میں جرمنی کے سفارت خانے میں شعبۂ آب و ہوا و ماحولیات کی سربراہ اور مشیر محترمہ ٹائنا ڈِک ہاف نے اختتامی تقریب میں اظہارِ تشکر کیا۔

نئی دہلی سے دیا گیا پیغام واضح تھا: سائنسی بنیادوں پر مستند تحقیق، قابلِ عمل مالیاتی انتظامات اور کسانوں کے ساتھ مسلسل تعاون کے ذریعے زرعی شمسی توانائی کے نظاموں کو عملی طور پر کھیتوں تک پہنچایا جائے۔ ان ترجیحات کو یکجا کرکے ہندوستان نے ایک ایسے عالمی مکالمے کو مضبوط بنانے میں مدد کی ہے، جس کی بنیاد عالمی جنوب کے ممالک کی ضروریات پر ہے۔ 2027 میں کانفرنس فرانس منتقل ہونے کے ساتھ اب اگلا مرحلہ اس پیش رفت کو ایسے عملی حل میں تبدیل کرنا ہے، جو زمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں، کسانوں کی آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کریں اور مشترکہ خوش حالی کے لیے صاف توانائی کی پیداوار کو وسعت دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ش ب۔ع ن)

U. No. 6678

 


(ریلیز آئی ڈی: 2328348) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी