پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 OCT 2026 7:41PM by PIB Delhi
قومی انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ، کنڈلی نے ’ہیک دی فورک‘ کی میزبانی کی۔ یہ بھارت کا پہلا ’اے آئی فوڈ ٹیک ہیکاتھون‘ تھا، جس کا مقصد ’متبادل پروٹین‘ کی صنعت میں درپیش حقیقی دنیا کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرنا تھا۔ 24 گھنٹے جاری رہنے والے اس ہیکاتھون کا افتتاح 24 اکتوبر کو ’ہیک دی فورک‘ کی ڈائریکٹر محترمہ ایلس پیجی نے کیا، اور اس کا اختتام 25 اکتوبر کو ہوا۔ اس دوران شریک ٹیموں نے ماہرین پر مشتمل جیوری کے سامنے اپنے اختراعی حل پیش کیے۔

این آئی ایف ٹی ای ایم ،کے کے تعاون سے فرانس میں قائم ایک غیر منافع بخش اقدام ہیک دی فورک کے زیر اہتمام، اس تقریب کا مقصد نوجوان اختراع کاروں، محققین اور ٹیکنالوجی کے شائقین کو اکٹھا کرنا تھا تاکہ پائیدار فوڈ سسٹمز کے لیے اے آئی سے چلنے والے حل تلاش کریں۔ 85 سے زیادہ درخواست گزار ٹیموں کے ابتدائی پول سے، 25 ٹیموں کو فائنل راؤنڈ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ ان میں سے، 10 ریاستوں کی 22 ٹیموں نے، جن میں 90 سے زیادہ شرکاء شامل ہیں، نے انسٹی ٹیوٹ میں شدید اختراعی چیلنج میں حصہ لیا۔ شرکاء نے آئی آئی ٹیز ، آئی آئی ٹی اور دہلی یونیورسٹی سمیت مختلف شعبوں اور اداروں کی نمائندگی کی۔

این آئی ایف ٹی ای ایم ،کے کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر ہریندر سنگھ اوبرائے نے ’انڈیا کے پہلے اے آئی × فوڈ ٹیک ہیکاتھون‘ (اے آئی فوڈ ہیک تھون کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جدید خیالات کو جنم دینے اور ملک کے ’فوڈ ایکو سسٹم‘ (غذائی نظام) کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ پہل تخلیقی سوچ، مختلف شعبوں کے مابین باہمی تعاون، اور غذائی شعبے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ ڈاکٹر اوبرائے نے تمام شریک ٹیموں کو ان کے جوش و جذبے، تخلیقی صلاحیتوں اور جدت طرازی کے عزم پر مبارکباد دی۔ انہوں نے نوجوان جدت کاروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، نئے امکانات تلاش کریں اور ایسے عملی حل وضع کریں جو ایک زیادہ مضبوط، پائیدار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ’فوڈ پروسیسنگ ایکو سسٹم‘ کی تشکیل میں معاون ثابت ہوں۔
اس تقریب کے انتظامات این آئی ایف ، این آئی ایف ٹی ای ایم ،کے کے پروفیسر اور این ٹی آئی بی ایف کے سی ای او، ڈاکٹر وِمل پنت کی زیرِ نگرانی مکمل ہوئے۔ ہیکاتھون کو ماہرین (مینٹورز) کے ایک ممتاز پینل کا تعاون حاصل تھا، جن میں گڈ فوڈ انسٹی ٹیوٹ انڈیا کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایسوسی ایٹ چیتنیا چلوکوری، جی ایف آئی انڈیا کی ریجنل مینٹور سورنم سامنت، آئی آئی ٹی سونی پت کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سوربھ جین، اور دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر ابھیشیک شکلا شامل تھے۔ ان ماہرین نے شریک ٹیموں کو خصوصی رہنمائی فراہم کی، جس سے انہیں اپنے خیالات کو نکھارنے اور ’متبادل پروٹین‘ کی صنعت میں درپیش نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید، عملی اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کرنے میں مدد ملی۔

اس چیلنج میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ متبادل پروٹین کی صنعت کو آگے بڑھایا جا سکے، جس میں پودوں پر مبنی خوراک کی جدت، ابال کی ٹیکنالوجیز اور وسیع تر فوڈ سسٹمز پر محیط ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ ریسرچ کے کلیدی شعبوں میں غذائیت کی اصلاح، خوراک کی حفاظت، پائیدار خوراک کی پیداوار اور خوراک کے فضلے میں کمی، شرکاء کو زیادہ پائیدار اور لچکدار فوڈ ایکو سسٹم کے لیے اختراعی، ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کرنے کی ترغیب دینا شامل ہے۔
جیتنے والی ٹیموں نے 1.5 لاکھ روپے کے انعامات کے ساتھ ساتھ این آئی ایف ٹی ای ایم ،کے ،کے اسٹارٹ اپ انکیوبیشن پروگرام میں شریک ہونے کے لیے مقابلہ آرائی کیا۔ اس اقدام نے بین ضابطہ جدت طرازی، انٹرپرینیورشپ اور پائیدار فوڈ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ادارے کے عزم کو تقویت دی۔
***
ش ح ۔ ال ۔ ع ر
UR-6669