ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 سی آئی آئی کانفرنس میں ماحولیات کے مرکزی وزیر کی ہندوستان کی سرکلر اکانومی کو فروغ دینے کے لیے حکومت، صنعت اور شہری بلدیاتی اداروں کی مشترکہ کوششوں کی اپیل


واضح پالیسیوں اور ضابطہ جاتی اصلاحات کے ذریعے حکومت پالیسی ارادوں کو بامعنی اقدامات میں تبدیل کر رہی ہے: جناب بھوپیندر یادو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 OCT 2026 6:41PM by PIB Delhi

  ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کےمرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج نئی دہلی میں کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے زیر اہتمام سرکلر اکانومی کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے سرکلر اکانومی کو فروغ دینے کے لیے واضح پالیسیوں، ضابطہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل تعمیل نظام اور حکومت کی جامع حکمت عملی کے ذریعے پالیسی ارادوں کو بامعنی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے ہندوستان کی کوششوں کو اجاگر کیا۔

 اپنے خطاب میں جناب یادو نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے کچرے کے انتظام سے متعلق قانونی ڈھانچے کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ اس کے تحت پلاسٹک کچرے، بیٹری کچرے، ای-کچرے، استعمال شدہ ٹائروں، استعمال شدہ تیل، مدت پوری کرچکی گاڑیوں، تعمیراتی اور انہدامی کچرے، غیر فولادی کچرے، دھات اور ٹھوس کچرے سمیت کچرے کی نو اقسام کے لیے شعبہ جاتی قواعد متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان قواعد میں مصنوعات کے مکمل لائف سائیکل کے دوران کچرے کی روک تھام، ری سائیکلنگ، دوبارہ استعمال، دوبارہ تیاری اور وسائل کی بازیابی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ وزیرموصوف نے یہ بھی بتایا کہ اب تک ضابطے کے تحت آنے والی کچرے کی مختلف اقسام میں تقریباً 499.60 لاکھ میٹرک ٹن کچرے کو پروسیس کیا جا چکا ہے، جبکہ توسیعی پروڈیوسر ذمہ داری (ای پی آر) فریم ورک کے تحت 86,043 سے زیادہ پروڈیوسرز اور 4,880 ری سائیکلرز رجسٹرڈ ہیں۔

توسیعی پروڈیوسر ذمہ داری (ای پی آر) کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرموصوف نے کہا کہ اس فریم ورک کے تحت پروڈیوسرز، درآمد کنندگان اور برانڈ مالکان کو اپنی مصنوعات کی مدتِ استعمال ختم ہونے کے بعد ان کے ماحول دوست انتظام کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ ای پی آر سرٹیفکیٹس کی منتقلی سے ری سائیکلرز کو مالی ترغیبات ملتی ہیں، جس سے صلاحیت میں توسیع، ٹیکنالوجی میں ترقی اور ری سائیکلنگ میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ ری سائیکلنگ ویلیو چین میں روزگار اور روزی روٹی کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ جناب یادو نے زور دیا کہ صرف ضابطہ سازی سے سرکلر اکانومی قائم نہیں کی جا سکتی اور ماحولیات کے لیے طرز زندگی (لائف) پہل کی اہمیت اجاگر کی، جو وسائل کے تباہ کن استعمال کے بجائے محتاط اور سوچ سمجھ کر وسائل کے استعمال کی اپیل کرتی ہے۔

ڈیجیٹل تعمیل، ای پی آر مارکیٹ کے آپریشنز اور لین دین کی مدت سے متعلق صنعت کے خدشات پر جناب یادو نے متعلقہ فریقوں سے عملی مسائل اور تجاویز مسلسل شیئر کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار پر کام کر رہی ہے اور صنعت کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ زیر التوا مسائل کے حل کے لیے کھل کر بات چیت کریں۔ پلاسٹک کچرے کے انتظام کے حوالے سے وزیرموصوف نے قابل ری سائیکل مواد کی دستیابی اور ری سائیکلنگ کی صلاحیت سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے پروڈیوسرز اور ری سائیکلرز کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد صرف سرٹیفکیٹ جاری کرنے تک محدود نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنا، مقامی صنعتی صلاحیت کو مضبوط کرنا، معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانا بھی اس کا مقصد ہے۔

ٹھوس کچرے کے انتظام (ایس ڈبلیو ایم) قواعد کا ذکر کرتے ہوئے جناب یادو نے ٹیکنالوجی کے استعمال، صلاحیت سازی، آن لائن نگرانی، جواب دہی کو مضبوط بنانے اور شہری بلدیاتی اداروں کی مالی پائیداری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ٹھوس کچرے کو چار اقسام، یعنی گیلے، خشک، سینیٹری اور خصوصی نگہداشت والے کچرے میں الگ کرنے اور عوامی شراکت داری کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ جناب یادو نے کہا کہ ایس ڈبلیو ایم قواعد پر مؤثر عمل درآمد سے پرانے کچرے کے مسئلے پر قابو پانے اور شہری نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے سرکلر اکانومی کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت، صنعت اور شہری بلدیاتی اداروں کی مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے ای-کچرے اور بیٹریوں سے اہم معدنیات کی زیادہ سے زیادہ بازیابی، ثانوی خام مال کی منڈیوں کی ترقی اور سپلائی چین کی ٹریس ایبلٹی مضبوط بنانے میں صنعت کی مزید شمولیت کی بھی اپیل کی۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 6514 )


(ریلیز آئی ڈی: 2326910) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी