قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

’’مضبوط ریاستیں، مضبوط وفاق کی ضامن ہیں؛ باہمی اشتراکی طرزِ حکمرانی آئینی تصورات کو عوامی فلاح و بہبود میں تبدیل کرتا ہے‘‘: نائب صدرجمہوریہ


قانونی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے قومی کانفرنس میں مرکزی حکومت اور ریاستوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے لاءکمیشن کی پہل

’’تعاون پر مبنی وفاقیت اور قانونی اصلاحات: قومی اور ریاستی تناظر‘‘ کے موضوع پر قومی کانفرنس کا انعقاد

قانون و انصاف کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب ارجن رام میگھوال نے قانونی اصلاحات کے لیے چار ترجیحات کا خاکہ پیش کیا: اداروں کے درمیان مسلسل  بات چیت، شواہد پر مبنی اور شراکتی قانونی اصلاحات، انسانی نگرانی کے ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال اور شہریوں کی ضروریات پر مرکوز قانونی نظام کی تشکیل

لاءکمیشن کے چیئرمین نے قوانین کے باعث شہریوں کو درپیش وقت، اخراجات اور طریقۂ کار سے متعلق دشواریوں کا جائزہ لینے کے لیے ’’شہری دشواری جانچ‘‘متعارف کرانے کی تجویز پیش کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 OCT 2026 5:08PM by PIB Delhi

23ویں لاءکمیشن آف انڈیا نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں ’’تعاون پر مبنی وفاقیت اور قانونی اصلاحات: قومی اور ریاستی تناظر‘‘ کے موضوع پر ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس میں قومی اور ریاستی سطح کے قانونی اصلاحات سے متعلق اداروں، ماہرینِ قانون، سابق ججوں، قانونی اسکالروں، پالیسی سازوں، قانون کے طلبہ، وکلا اور علمی حلقوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد ہندوستان کے وفاقی نظام کے دائرے میں قانونی اصلاحات کے حوالے سے باہمی  بات چیت اور اشتراک کو فروغ دینا تھا۔

کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے نائب صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا تنوع میں اتحاد ہے۔ آئین ایسا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جو وفاق کی مضبوطی اور ریاستوں کی ذمہ داریوں نیز ان کی جائز خودمختاری کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی وفاقیت کی حقیقی قوت اس میں مضمر ہے کہ تنوع کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ قومی مقاصد کے حصول کے لیے مل جل کر کام کیا جائے۔

سال 2047 تک ’’وکست بھارت @2047‘‘ کے حصول میں قانونی اصلاحات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ترقی کے لیے مضبوط قوانین، شفاف اداروں، مؤثر انتظامیہ اور سب کے لیے انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔نائب صدر نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی اصلاحات کے شعبے میں تعاون پر مبنی وفاقیت کا مطلب ہر معاملے میں یکسانیت نافذ کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں وفاقی حکومت اور ریاستوں کی آئینی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے مربوط ہوتی ہیں، وہاں دونوں کو باہمی تعاون سے کام کرنا چاہیے، تاہم ریاستوں کو اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق فیصلے کرنے کے لیے ان کا جائز دائرۂ اختیار بھی برقرار رہنا چاہیے۔

انہوں نے لاء کمیشن آف انڈیا، ریاستی  لاءکمیشن اور ریاستی محکمہ قانون کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بین ریاستی مشاورت، بہترین طور طریقوں کے تبادلے اور فرسودہ قوانین کے منظم جائزے کو فروغ دینے کی اپیل کی۔

 

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے قانون و انصاف کےمرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ، جناب ارجن رام میگھوال نے کہا کہ قانونی اصلاحات میں قومی آئینی مقاصد کے ساتھ ساتھ ریاستوں کے سماجی، اقتصادی اور انتظامی تجربات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے مستقبل میں قانونی اصلاحات کے لیے چار اہم ترجیحات کی نشاندہی کی:1. ادارہ جاتی سطح پر مسلسل بات چیت: متعلقہ اداروں کے درمیان مستقل رابطے اور تبادلۂ خیال کو فروغ دینا۔2. شواہد پر مبنی اور شراکتی قانونی اصلاحات: مستند شواہد اور مختلف متعلقہ فریقوں کی شرکت کی بنیاد پر قوانین میں اصلاحات کرنا۔3. انسانی نگرانی کے ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال: قانونی عمل میں ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے انسانی نگرانی کو یقینی بنانا۔4. شہریوں کی ضروریات کے مطابق قانونی نظام کی تشکیل: ایسا قانونی نظام وضع کرنا جو شہریوں کی ضروریات، سہولتوں اور مسائل کو مرکزی اہمیت دے۔

آئینِ ہند کے آرٹیکل 1 اور دستور ساز اسمبلی میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی وضاحت کا حوالہ دیتے ہوئے جناب میگھوال نے ہندوستان کو ’’ریاستوں کا وفاق‘‘ قرار دینے کے تصور کو یاد کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے پیش کردہ ’’ٹیم انڈیا‘‘ کے جذبے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قومی نقطۂ نظر مشترکہ آئینی مقاصد کے حصول کے لیے سمت متعین کرتے ہیں، جب کہ ریاستیں اپنی سماجی، اقتصادی اور انتظامی تجربات کی روشنی میں قانونی اصلاحات کے عمل میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی ، زندگی گزارنے میں سہولت  اور انصاف تک آسان رسائی  کو یکجا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ قوانین کو آسان بنانے کے عمل میں شہریوں کے حقوق اور انہیں حاصل قانونی تحفظات پر کوئی آنچ نہیں آنی چاہیے۔مستقبل کے لائحۂ عمل کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ‘‘ سشکت بھارت، سرل قانون، سلبھ نیائے، یہی ہماری مشترکہ سمت ہونی چاہیے۔‘‘

لاءکمیشن آف انڈیا کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) دنیش مہیشوری نے قومی اور ریاستی سطح کے قانونی اصلاحات سے متعلق اداروں کے درمیان تعاون کے لیے ایک زیادہ منظم نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے قانونی اصلاحات کے مشترکہ ایجنڈے، مشترکہ مطالعات اور قانون نافذ ہونے کے بعد اس کے اثرات کے جائزے کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے ’’شہری دشواری جانچ‘‘متعارف کرانے کی تجویز بھی دی، جس کے ذریعے یہ جانچا جا سکے کہ مجوزہ قانون شہریوں کے لیے وقت، اخراجات اور طریقۂ کار سے متعلق مشکلات کو کم کرتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ شریک ریاستی کمیشن ہائے قانون اور ان کے مساوی ادارے تقریباً چھ ماہ کے اندر اپنے پہلے مشترکہ موضوعاتی مطالعاتی مسودے  تیار کرکے متعلقہ ریاستی حکومتوں کے غور و خوض کے لیے پیش کر سکتے ہیں۔

 

جسٹس مہیشوری نے کہاکہ’’شہری کے لیے انصاف، آئین کے ساتویں شیڈول کی مختلف فہرستوں میں تقسیم نہیں ہوتا۔ انصاف کی توقع ایک ہی ہوتی ہے، لہٰذا اس کی فراہمی کے لیے ہمارا عزم بھی یکساں ہونا چاہیے۔‘‘

ملک بھر سے آئے ہوئے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے لاءکمیشن آف انڈیا کی رکن سکریٹری، ڈاکٹر انجو راٹھی رانا، آئی ایل ایس نے کہا کہ کمیشن ایک پُل کا کردار ادا کر سکتا ہے، تاکہ قانونی شعبے میں حاصل ہونے والا قیمتی تجربہ ادارہ جاتی یا جغرافیائی حدود تک محدود نہ رہ جائے۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے پیش کردہ تصور ’’ناگرک دیوو بھوا‘‘ (اور حال ہی میں جن وشواس اصلاحات کے حوالے سے ان کے اس بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہ یہ اصلاحات ’’اعتماد پر مبنی ایسے نظام کو مضبوط کرتی ہیں جو ہمارے شہریوں کو بااختیار بناتا ہے‘‘، ڈاکٹر رانا نے کہاکہ’’قانونی اصلاحات کی اصل اکائی قانون کی کتاب نہیں، بلکہ شہری ہے۔‘‘قومی اور ریاستی سطح کے قانونی اصلاحات سے متعلق اداروں کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا:’’مقصد یہ نہیں کہ ہر ریاست ایک جیسا سوچے، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی ریاست کو تنہا سوچنے اور فیصلے کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔‘‘

افتتاحی اجلاس کے بعد دو تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے، جن کے موضوعات بالترتیب ’’قانون میں اصلاحات: ضروریات اور طریقۂ کار‘‘ اور ’’تفویض کردہ اختیارات، مشترکہ اہداف: اشتراکی  قانون کے ذریعے مستقبل کی تشکیل‘‘ تھے۔ان اجلاسوں میں حالات اور ضروریات کے مطابق جواب دہ اور شواہد پر مبنی قانونی اصلاحات کے مختلف طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ ’نیائے‘ (انصاف)، ’کرتویہ‘ (فرائض) اور ’لوک کلیان‘ (عوامی فلاح و بہبود) جیسے تصورات کو مساوات، آزادی اور انسانی وقار کے اصولوں سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے مقامی حالات کے مطابق قانونی اصلاحات کی بنیاد کس طرح بنایا جا سکتا ہے۔اجلاسوں میں قومی اور ریاستی سطح کے قانونی اصلاحات سے متعلق اداروں کے درمیان تعاون اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا، جبکہ ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی تنوع کے احترام کو برقرار رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔

ایک روزہ اس قومی کانفرنس نے مرکزی اور ریاستی اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا، جہاں اس امر پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں اور دائرۂ اختیار میں قوانین کے نفاذ کی عملی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی اصلاحات کو کس طرح زیادہ مؤثر، عوامی ضروریات سے ہم آہنگ اور جواب دہ بنایا جا سکتا ہے۔

کانفرنس کا اختتام اختتامی اجلاس کے ساتھ ہوا۔.

****

ش ح۔ ع ح۔ ت ع

UN-NO-6501


(ریلیز آئی ڈی: 2326758) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी