پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 OCT 2026 4:24PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ، جو طب اور ذیابیطس کے شعبے میں پروفیسر بھی ہیں، انہوں نے آج کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت کی رہنمائی اور جین پر مبنی درست ادویات کے دور میں داخل ہو رہی ہے، جبکہ ہندوستان جدید طبی سہولیات اور صحت کی دیکھ بھال کے جدید حل فراہم کرنے والے صفِ اوّل کے ممالک میں ابھر رہا ہے۔
چنئی کے سری رام چندر انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (ایس آر آئی ایچ ای آر) میں 42ویں جلسۂ تقسیمِ اسناد سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے اور طلبہ کو میڈیکل کی ڈگریاں عطا کرنے سے قبل انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی نئی نسل کو جدید معاون ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کا اعزاز حاصل ہوگا، تاہم ان ٹیکنالوجیز کو طبی عمل کے ساتھ بہترین انداز میں مربوط کرنا ان کے لیے ایک چیلنج بھی ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ طب کا مستقبل تکنیکی ترقی کو مستند طبی فیصلوں کے ساتھ یکجا کرنے پر منحصر ہوگا، جبکہ نوجوانوں میں طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے احتیاطی طبی نگہداشت کو بھی مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
وزیرموصوف نے وائس چانسلر وی آر وینکٹاچلم، پرو وائس چانسلر آر وی سنگھروتاوار اور ادارے کے دیگر سینئر اراکین کی موجودگی میں فارغ التحصیل طلبہ، اساتذہ اور دیگر معزز شخصیات سے خطاب کیا۔ انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور سپر اسپیشلٹی کورسز مکمل کرنے والے طلبہ، نیز طلائی تمغے حاصل کرنے والوں کو مبارک باد دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ادارے کی ترقی اور طبی تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں اس کے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر اوما کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا، جو تقریب میں شرکت نہیں کر سکیں۔
تقریباً چار دہائیوں پر محیط اپنے طبی تجربے کی روشنی میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے طبی عمل میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے توجہ متعدی بیماریوں پر مرکوز تھی، جبکہ اب ذیابیطس اور قلبی امراض جیسی طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدی اور غیر متعدی، دونوں طرح کی بیماریاں اب بھی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہیں، جبکہ اوسط عمر میں اضافے کے ساتھ طبی ضروریات کی نئی صورتیں سامنے آ رہی ہیں۔ کم عمری میں دائمی بیماریوں کے ظاہر ہونے کے باعث احتیاطی تدابیر، بروقت اقدامات اور بیماریوں کے طویل مدتی انتظام کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ ذیابیطس اور قلبی امراض، جو ماضی میں زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں عام سمجھے جاتے تھے، اب تیزی سے نوجوانوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو 30 سال کی عمر میں ذیابیطس ہو جائے تو اسے کئی دہائیوں تک اس کے اثرات کے ساتھ زندگی گزارنی پڑ سکتی ہے۔ اس لیے جسم کے اہم اعضاء کو محفوظ رکھنا اور بیماری کی پیچیدگیوں سے بچاؤ کو یقینی بنانا ڈاکٹروں، خاندانوں اور مریضوں کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں میں طویل مدتی بیماریوں کی روک تھام ہندوستان کی انسانی صلاحیتوں کے تحفظ اور وِکست بھارت 2047 کے وژن کی تکمیل کے لیے نہایت اہم ہے۔
مصنوعی ذہانت، جینومکس اور دیگر جدید ترین ٹیکنالوجیز میں تیز رفتار پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مستقبل میں طبی پیشہ ور افراد ایسے ماحول میں کام کریں گے جہاں مصنوعی ذہانت کی مدد سے صحت کی دیکھ بھال اور جین پر مبنی درست ادوایات کا کردار مسلسل بڑھتا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجیز تشخیص، علاج اور مریضوں کی انفرادی ضروریات کے مطابق نگہداشت کے نئے امکانات پیدا کریں گی، تاہم ان کو طبی عمل میں مؤثر طور پر ضم کرنا ڈاکٹروں کی ایک اہم ذمہ داری بھی ہوگی۔ ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہوگا کہ مریضوں کی نگہداشت کے لیے ناگزیر طبی سمجھ اور فیصلہ سازی کو برقرار رکھتے ہوئے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے بہترین استفادہ کیا جائے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان نے مقامی سطح پر طبی تحقیق کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور وہ عالمی سطح پر صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں جدت طرازی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ کووڈ-19 کے خلاف ہندوستان کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ ڈی این اے ویکسین کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ویکسین کی تحقیق میں ملک کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی، جس میں ڈینگی اور ملیریا جیسی بیماریوں پر جاری تحقیق بھی شامل ہے۔ انہوں نے ہیموفیلیا کے علاج کے لیے جین تھراپی میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہندوستان کے تحقیقی ادارے پیچیدہ طبی امراض کے حل تیار کرنے میں کس طرح اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیرموصوف نے مقامی طور پر ادویات کی تیاری کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا، جس میں کمیونٹی سے لاحق ہونے والے بیکٹیریائی نمونیا کے علاج کے لیے نیفیتھرومائسن کی تیاری، نیز ایکیوٹ لمفوبلاسٹک لیوکیمیا اور فیٹی لیور کی بیماری جیسے امراض سے متعلق نیوکلیائی طب کی تحقیق میں پیش رفت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں ہندوستان کے سائنسی اور طبی اداروں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاس ہیں، جو علاج کے نئے طریقے وضع کرنے اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق تحقیق میں ملک کے کردار کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
سائنسی پیش رفت کو طبی نتائج میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایس آر آئی ایچ ای آر کو جینومکس، بایو مینوفیکچرنگ اور نیوکلیائی طب جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں قومی تحقیقی اقدامات کے ساتھ اپنا اشتراک بڑھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری تحقیقی اداروں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں اور صنعت کے درمیان تعاون سے سائنسی مہارت اور طبی تجربے کو یکجا کرنے، جدت طرازی کے عمل کو تیز کرنے اور صحت کی دیکھ بھال کے مؤثر اور سستے حل تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیرموصوف نے نیوکلیائی طب سمیت جدید سائنسی شعبوں میں تحقیق اور جدت طرازی کے بڑھتے ہوئے مواقع کا ذکر کیا اور ادارے کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی تحقیقی صلاحیتوں، طبی مہارت اور اسٹارٹ اپ کے نظام کو مزید فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ محققین، طبی پیشہ ور افراد اور ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں کے درمیان قریبی تعاون نئی تھراپیز، طبی ٹیکنالوجیز اوردرست ادویات کو آگے بڑھانے کے لیے اہم ہوگا۔
جینومکس کی صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جینوم سے متعلق معلومات کو طبی نتائج کے ساتھ یکجا کرنے سے ڈاکٹروں کو انفرادی مریضوں کے جینیاتی خاکے، طرزِ زندگی اور ماحولیاتی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج کو ان کی مخصوص ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسےدرست ادویات ترقی کرے گی، طبی پیشہ ور افراد کو نئے سائنسی علم اور اپنے طبی تجربے کو یکجا کرنا ہوگا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ نئی ٹیکنالوجیز مریضوں کی نگہداشت میں حقیقی اور بامعنی بہتری لائیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر موصوف نے زور دیا کہ طویل مدتی بیماریوں، بالخصوص نوجوانوں کو تیزی سے متاثر کرنے والے امراض کی روک تھام کو قومی سطح پر ایک مشترکہ ترجیح بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے نوجوانوں کی صحت اور ان کی پیداواری صلاحیت کا تحفظ وزیر اعظم نریندر مودی کے خوابوں کے وِکست بھارت 2047 کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہوگا۔ اس ضمن میں انہوں نے بیماریوں کی روک تھام، طبی تحقیق، تکنیکی جدت طرازی اور ذمہ دارانہ طبی عمل کے شعبوں میں مسلسل کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔




*****
ش ح۔ اع خ۔ اش ق
U. No- 6489