پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 OCT 2026 2:38PM by PIB Delhi
محترم وزیرِ اعظم
دونوں ممالک کے وفود کے ارکان اور ذرائع ابلاغ کے ساتھیو!
نمسکار!
پولینڈ کے وزیرِ اعظم کا بھارت میں پُرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔
2024 میں اپنے دورۂ پولینڈ کے دوران انہوں نے میرا اور میرے وفد کا جس خلوص اور گرم جوشی سے استقبال کیا تھا، وہ میرے لیے یادگار ہے۔ اسی دورے کے دوران ہم نے اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا تھا۔
اسی مضبوط بنیاد پر گزشتہ دو برسوں میں ہماری شراکت داری کو نئی رفتار ملی ہے۔ آج محترم وزیرِ اعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ہم نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔
دوستو!
بھارت اور پولینڈ کی دوستی محض سفارتی تعلقات تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانیت اور احساسِ ہمدردی کی مشترکہ میراث پر استوار ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران جام نگر اور کولہاپور کے شاہی خاندانوں نے پولینڈ کے ہزاروں بچوں اور خاندانوں کو بھارت میں پناہ دی تھی۔ آج بھی پولینڈ کے عوام جام صاحب کو بڑے احترام سے ’’دوبری مہاراجہ‘‘ یعنی ’’نیک مہاراجہ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
2022 میں یوکرین سے ہمارے طلبہ کی بحفاظت واپسی میں تعاون کرکے پولینڈ نے بھی انسانیت کے اسی جذبے کو آگے بڑھایا۔ مجھے خوشی ہے کہ جام صاحب یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت پولینڈ کے نوجوان بھارت آ رہے ہیں اور ہماری تاریخی دوستی کو نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں۔
دوستو!
آج دنیا غیر یقینی صورتِ حال اور تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ اس کے باوجود بھارت اور پولینڈ، دونوں ترقی، ٹیکنالوجی اور اختراع کے اہم مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
گزشتہ سال پولینڈ کی جی ڈی پی نے ایک ٹریلین ڈالر کی تاریخی مرحلہ عبور کیا تھا۔ اس کامیابی پر میں وزیرِ اعظم صاحب کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ دوسری جانب، بھارت نے بھی گزشتہ سہ ماہی میں 7.8 فیصد کی شاندار شرحِ نمو درج کی ہے۔
ہماری بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت نے بھارت اور پولینڈ کی شراکت داری کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے نے ان مواقع کو مزید وسعت دی ہے۔ اس معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد بھارت سے پولینڈ کو مشینری، کیمیکلز، پلاسٹک اور انجینئرنگ کے سامان کی برآمد کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی، ہم ریلوے اور نقل و حمل، جدید مینوفیکچرنگ، فوڈ پروسیسنگ اور بایوٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں پولینڈ سے نئی سرمایہ کاری کو راغب کریں گے۔
مجھے خاص طور پر اس بات کی خوشی ہے کہ وزیرِ اعظم صاحب ایک بڑے کاروباری وفد کے ساتھ بھارت آئے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ دونوں ممالک کی کمپنیاں مل کر دنیا کے لیے قابلِ اعتماد سپلائی چین تیار کریں گی اور 2030 تک باہمی تجارت کو دوگنا کرنے کے ہمارے مشترکہ ہدف کو بھی حاصل کریں گی۔
دوستو!
آج ہم نے دفاع، خلائی شعبے اور نیو کلیائی توانائی میں اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان تمام اہم اسٹریٹجک شعبوں میں ہم پولینڈ کی کمپنیوں کو بھارت کے ساتھ مشترکہ طور پر ٹیکنالوجی کی تیاری اور مصنوعات کی پیداوار میں حصہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔
اہم معدنیات اور کوئلہ گیسیفکیشن کے شعبوں میں بھی ہم پولینڈ کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی شراکت داریاں قائم کریں گے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں ہمارے تعلقات پہلے ہی مضبوط ہیں۔ بھارت کی کئی آئی ٹی کمپنیاں پولینڈ میں کام کر رہی ہیں۔ اس تعاون کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے بھارت۔پولینڈ اسٹارٹ اَپ برج قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ہم دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان ٹیکنالوجی ہیکاتھون بھی منعقد کریں گے۔ ان اقدامات سے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، مالیاتی ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو نئی رفتار ملے گی اور دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
دوستو!
ثقافتی تعلقات اور عوام سے عوام کے درمیان روابط ہماری دوستی کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ہمیں یہ جان کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ پولینڈ میں سنسکرت کے مطالعے اور انڈولوجی کی ایک شاندار علمی روایت موجود ہے۔
کراکو وشہر میں ہم نے ہندوستانی مطالعات کے لیے ایک خصوصی چیئر قائم کی ہے۔ آج ہم نے ثقافت اور تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں اور سیاحت کے شعبوں میں بھی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوستو!
آج ہم نے علاقائی اور عالمی صورتِ حال پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ بھارت اور پولینڈ، دونوں جمہوری اقدار اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ عالمی نظم و نسق کے اداروں کو زیادہ مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں۔
خواہ یوکرین کا معاملہ ہو یا مغربی ایشیا کا، بھارت امن کے قیام کی سمت میں کی جانے والی ہر بامعنی کوشش کی حمایت کرتا رہے گا۔
عالی جناب!
ہماری مشترکہ تاریخ پر انسانیت اور احساسِ ہمدردی کی گہری چھاپ ہے، جبکہ ہمارے مشترکہ مستقبل میں اختراع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ آپ کے اس دورے سے بھارت اور پولینڈ کی اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی توانائی اور نئی بلندی حاصل ہوگی۔ میں ایک بار پھر آپ اور آپ کے وفد کا پُرتپاک خیرمقدم کرتا ہوں۔
آپ کا بہت بہت شکریہ۔
***
ش ح۔ش ب۔ م ذ
U N-6478