سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
برقی سگنل کے ذریعے مشہور نیوٹران ستارے کے گرد پوشیدہ ساخت کا انکشاف
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 OCT 2026 4:46PM by PIB Delhi
سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ ایکس رے خارج کرنے والے روشن ترین برقی سگنلوں میں سے ایک، سینٹورس ایکس-3، اپنے گرد موجود مادّے کو ایک خاص چکر نما ساخت کے ذریعے اپنی طرف کھینچ کر جذب کر رہا ہے۔ اس قسم کے برقی سگنلوں میں مادّے کو اس طرح جذب کرنے کا عمل بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔
اس تحقیق سے سائنس دانوں کو اس نظام کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس کے زیادہ درست نمونے تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اپنی غیر معمولی چمک کے باعث سینٹورس ایکس-3 طویل عرصے سے سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور دو ستاروں پر مشتمل ان نظاموں میں شامل ہے جن کا سب سے زیادہ مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس تحقیق سے ایسے نظاموں کے بارے میں مجموعی طور پر ہماری سمجھ بوجھ میں بھی اضافہ ہوگا۔
ایکس رے خارج کرنے والے دو ستاروں پر مشتمل نظام میں ایک برقی سگنل ہوتا ہے، جو دراصل انتہائی مضبوط مقناطیسی میدان رکھنے والا نیوٹران ستارہ ہوتا ہے، جبکہ دوسرا سورج جیسا ستارہ ہوتا ہے۔ یہ دونوں اجرامِ فلکی ایک دوسرے کی کششِ ثقل کے زیرِ اثر گردش کرتے ہیں۔ نیوٹران ستارہ ایسا فلکی جسم ہے جس میں ہمارے سورج جتنی حجم بنگلورو شہر جتنی جسامت کے ایک گولے میں سمٹ جاتی ہے۔ ایسے نظام میں برقی سگنل کی انتہائی طاقتور کششِ ثقل اس کے ساتھی ستارے سے خارج ہونے والے مادّے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ پھر یہ برقی سگنل اس مادّے کو جذب کرنے لگتا ہے اور اس عمل کے دوران ایکس رے خارج کرتا ہے۔
سینٹورس ایکس-3 بھاری حجم والے ایکس رے بائنری نظام (ایچ ایم ایس بی)کا حصہ ہے، جس میں اس کا ساتھی ستارہ ہمارے سورج سے دس گنا سے بھی زیادہ حجم رکھتا ہے۔ یہ دریافت ہونے والے ابتدائی ایکس رے برقی سگنلوں میں سے ایک تھا اور برجِ سینٹورس میں دریافت ہونے والا تیسرا ایکس رے منبع تھا۔ یہ زمین سے تقریباً 24 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
برقی سگنل اپنے مقناطیسی سروں سے شعاعیں خارج کرتے ہیں، جنہیں بنیادی شعاعیں کہا جاتا ہے۔ جب برقی سگنل اپنے محور پر گھومتا ہے تو یہ شعاعیں بھی اس کے گرد گھومتی ہیں اور راستے میں موجود ایسے آلات تک پہنچتی ہیں جو انہیں دریافت کرنے کے لیے نصب کیے گئے ہوں۔ یہ شعاعیں نیوٹران ستارے کے اردگرد بھی پھیلتی ہیں۔ اس کے آس پاس موجود مختلف اجسام، مثلاً برقی سگنل کی سطح، اس کے ساتھی ستارے کی سطح اور ساتھی ستارے سے خارج ہونے والی گیس کی تیز دھار، ان شعاعوں کو جذب کرکے دوبارہ خارج کرتے ہیں۔ سائنس دان اس عمل میں خارج ہونے والی شعاعوں کو ثانوی شعاعیں کہتے ہیں۔ ان ساختوں کا مطالعہ اس نظام کی اہم خصوصیات، مثلاً اس کی سمت اور مقناطیسی میدان کی طاقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس سے دو ستاروں پر مشتمل ایسے نظاموں کے بارے میں سائنس دانوں کی معلومات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

تصویر 1 : بھاری والے ایکس رے بائنری نظام سینٹورس ایکس-3 کی فنکارانہ منظرکشی۔ (تصویر میں اجسام کی جسامت اور باہمی فاصلے اصل تناسب کے مطابق نہیں ہیں۔)
ان پیچیدہ ساختوں کا مطالعہ کرنے میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ایکس رے بائنری نظام زمین سے اتنے دور واقع ہیں کہ دوربینوں میں محض نقطوں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان ساختوں کا مطالعہ کرنے کے لیے ثانوی شعاعیں ایک امید افزا ذریعہ ہیں۔
اس سے پہلے کی تحقیقات میں معلوم ہوا تھا کہ ثانوی شعاعوں سے خارج ہونے والی مخصوص شعاعوں کی شدت برقی سگنل کی گردش کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ اب محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی)کے خود مختار ادارے رامن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آر آر آئی) کے سائنس دانوں نے، جن کی قیادت ادارے کے محقق کنجل رائے نے کی، ثانوی شعاعوں سے خارج ہونے والی چار مخصوص شعاعوں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان شعاعوں کی شدت میں تبدیلی کا سبب بننے والی ساخت لازماً برقی سگنل کے ساتھ ساتھ گردش کرتی ہے۔
مشاہدات سے حقائق اخذ کرنے والے ایک سراغ رساں کی طرح، رائے نے معلوم کیا کہ ثانوی شعاعوں کی شدت میں تبدیلی کی وجہ مادّے کی وہ دھار ہے جسے ’ایکریشَن اسٹریم‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ساخت ہے جو ایکریشَن ڈسک سے مادّے کو برقی سگنل کی طرف پہنچاتی ہے۔
مادّے کی یہ دھار اسی صورت میں وجود میں آسکتی ہے جب وہاں ایکریشَن ڈسک موجود ہو۔ یہ دھار ڈسک سے مادّے کو لے کر آتی ہے، جو مقناطیسی میدان کی لکیروں کے ساتھ بہتا ہوا برقی سگنل کے قطبین تک پہنچ جاتا ہے۔ جب گردش کے دوران مادّے کی یہ دھار سیارچے پر نصب آلے کی نظر میں برقی سگنل کو چھپا دیتی ہے تو اس سے خارج ہونے والی بنیادی شعاعوں کی شدت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مادّے کی اس دھار سے خارج ہونے والی ثانوی شعاعوں کی شدت بڑھ جاتی ہے۔
اس طرح معلوم ہوا کہ اس نظام میں مادّہ ایکریشَن ڈسک کے ذریعے جذب ہوتا ہے، جو بھاری حجم والے دو ستاروں پر مشتمل نظاموں میں ایک نایاب عمل ہے۔ ایسے نظاموں (ایچ ایم ایکس بی)میں عموماً ایک ستارے سے خارج ہونے والی گیس کی تیز دھار کو براہِ راست اپنی طرف کھینچ کر مادّہ جذب کیا جاتا ہے۔
رائے کا کہنا ہے، ’’بھاری حجم والے بائنری نظاموں میں ایکریشَن ڈسک کی موجودگی متوقع نہیں ہوتی۔ اس لیے اگر اس نظام میں ایکریشَن ڈسک بن رہی ہے تو شعاعوں کے اخراج سے متعلق ماڈلز میں تبدیلی کرنا ہوگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مستقبل میں جب سینٹورس ایکس-3 کا ماڈل تیار کیا جائے گا تو اس میں ڈسک سے خارج ہونے والی شعاعوں کو بھی مدِنظر رکھنا ضروری ہوگا۔‘‘

تصویر2: نیوٹران ستارے کے مقناطیسی میدان کی لکیروں کے ساتھ بہتا ہوا مادّہ جو اس پر آ گرتا ہے۔
اشاعت کا لنک: DOI: 10.3847/1538-4357/adf8e6
***
(ش ح ۔ ع و ۔ص ج )
U. No.6413
(ریلیز آئی ڈی: 2326052)
وزیٹر کاؤنٹر : 7