زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ضابطوں پر مبنی زراعت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 AUG 2026 5:44PM by PIB Delhi

زرعی تحقیق کی بھارتی  کونسل(آئی سی اے آر) نے قومی اہمیت کے ایک پروگرام، یعنی پریسیژن ایگریکلچر سے متعلق نیٹ ورک پروگرام(آئی سی اے آر- این ای پی پی اے) کا آغاز کیا ہے، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے آئی سی اے آر کے 16 تحقیقی ادارے شامل ہیں ۔ مذکورہ پروگرام کے تحت ضابطوں پر مبنی  زراعت کے شعبے میں بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار کے مطابق سینسرز، مختلف پلیٹ فارمز (زمین، فضائی یعنی ڈرون، اور سیٹلائٹ) سے حاصل کردہ ریموٹ سینسنگ، مصنوعی ذہانت(اے آئی) اور اطلاعات و مواصلات کی ٹیکنالوجیز(آئی سی ٹیز) کا استعمال کرتے ہوئے درج ذیل ٹیکنالوجیز تیار کی جا رہی ہیں:

  • فصلوں اور مٹی کی صحت کی نگرانی اور انتظام: مختلف مقامات اور وقت کے ساتھ فصلوں اور مٹی کی صحت کی نگرانی اور ان کا مؤثر انتظام۔
  • کٹائی کے بعد پیداوار کے معیار کی نگرانی: سینسرز کی مدد سے آم، کیلا، دالوں، چاول اور دیگر زرعی پیداوار کے معیار کی نگرانی اور انتظام۔
  • انٹرنیٹ آف تھنگز(آئی او ٹی) پر مبنی ضابطوں پر مبنی عمودی کاشت کاری: کنٹرول شدہ ماحول میں زیادہ قدر والی سبزیوں کی عمودی کاشت کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کی تیاری۔
  • آبی ماحول کی نگرانی اور انتظام: دقیق آبی زراعت کے لیے سینسرز پر مبنی نظام تیار کرنا، تاکہ آبی ماحول کی نگرانی اور اس کا مؤثر انتظام کیا جا سکے۔
  • مویشیوں کی صحت کی نگرانی: ضابطوں پر مبنی مویشی پروری کے لیے انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) سے منسلک مختلف سینسرز کے ذریعے ضابطوں پر مبنی مویشیوں کی صحت کی نگرانی اور انتظام۔
  • زرعی تحقیق کی بھارتی کونسل (آئی سی اے آر) بھارتی حالات کے مطابق ضابطوں پر مبنی زراعت اور زمین کے مؤثر استعمال کی جدید ٹیکنالوجیز کا مسلسل مطالعہ کرنے، ان میں ضروری تبدیلیاں  کرنے اور انہیں مزید ترقی دینے کا کام کر رہی ہے۔

آئی سی اے آر کے تحقیقی اداروں نے ایسی ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں اور ان کی افادیت کی تصدیق کی ہے، جن میں سینسر پر مبنی آب پاشی، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) سے منسلک ماحولیاتی نگرانی، ڈرون کے ذریعے چھڑکاؤ، مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے  آراستہ پریسیشن بیج بونے والی مشینیں، ریموٹ سینسنگ اور جغرافیائی اطلاعاتی نظام(جی آئی ایس) کا استعمال، ڈرِپ فرٹیگیشن (قطرہ قطرہ آب پاشی کے ذریعے کھاد کی فراہمی)، پالی  ملچنگ، اونچی کیاریوں پر کاشت، زمین کے تحفظ کے لیے اونچی اور نشیبی کیاریوں کے تبدیل شدہ نظام، زرعی و آبی سرگرمیوں کے لیے زمین کی موزوں ترتیب، مویشیوں کے انتظام کے خودکار نظام، کم لاگت والی محفوظ کاشت کاری، ہائیڈروپونکس (مٹی کے بغیر کاشت)، ایروپونکس (ہوا میں جڑوں کو غذائی محلول فراہم کرکے کاشت)، زرعی شمسی توانائی پر مبنی کاشت کاری (ایگری وولٹائکس)، زمین کے اندر دقیق ڈرِپ آب پاشی اور پانی کی بچت کرنے والی دیگر آب پاشی کی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ان ٹیکنالوجیز کا مقصد چھوٹے کاشت کاروں کے زرعی نظام میں پیداوار بڑھانا، وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا اور زراعت کو زیادہ پائیدار بنانا ہے۔آئی سی اے آر نے ٹینکوں میں جھینگوں کی انتہائی کثیف پریسیشن فارمنگ کا نظام بھی تیار کیا ہے اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا ہے۔ مذکورہ ٹیکنالوجی کے ذریعے سال میں تین پیداواری ادوار کے دوران فی ہیکٹر سالانہ 120 سے 150 ٹن جھینگوں کی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس نظام میں ذہین خودکار ٹیکنالوجی، حیاتیاتی تحفظ کے سخت اقدامات اور ماحول کے لیے سازگار  مؤثر انتظامی طریقے یکجا کیے گئے ہیں، جنہیں ہر حجم کے فارم میں اپنایا جا سکتا ہے۔

 

آئی سی اے آر ضابطوں پر مبنی زراعت کو درج ذیل طریقوں سے فروغ دے رہا ہے:

  • فصلوں اور قدرتی وسائل کے انتظام کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، انٹرنیٹ آف تھنگز(آئی او ٹی) اور اطلاعات و مواصلات کی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) پر مبنی فیصلہ سازی میں معاون نظام کی تیاری اور ان کی افادیت کی توثیق۔
  • فصلوں کی نگرانی، زرعی مداخل (زرعی ضروریات، مثلاً کھاد اور ادویات) کے درست استعمال اور فصلوں کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے ڈرونز کا استعمال۔
  • فصلوں کی صورتِ حال کا جائزہ لینے اور وسائل کے نقشے تیار کرنے کے لیے ریموٹ سینسنگ، جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) اور سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی۔
  • پانی اور غذائی اجزا کے مؤثر انتظام کے لیے سینسرز اور انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) پر مبنی آب پاشی اور کھاد کی فراہمی کے نظام۔
  • زیادہ مؤثر فرٹیلائزرس، نینو فرٹیلائزرس اور حیاتیاتی فرٹیلائزرس کے ذریعے غذائی اجزا کے استعمال کا درست اور مؤثر انتظام۔
  • ڈیجیٹل مائیکروکلائمیٹ مانیٹر اور پانی کی کمی کے دباؤ کا جائزہ لینے اور مویشیوں کے انتظام کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز جیسے ڈیجیٹل ٹولز کی تیاری۔
  • بغیر پائلٹ کے فضائی آلات (یو اے ویز) اور ڈرونز کی تربیت کے لیے دہرادون میں ریموٹ پائلٹ ٹریننگ آرگنائزیشن (آر پی  ٹی او) کا قیام۔
  • آئی سی اے آر کے تحقیقی اداروں، آل انڈیا کوآرڈینیٹڈ ریسرچ پروجیکٹس (اے آئی سی آر پی ایس) اور کرشی وگیان کیندروں (کے وی کیز) کے ذریعے ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ، کسانوں کی تربیت، صلاحیت سازی اور ڈیجیٹل مشاورتی خدمات کی فراہمی۔
  •  مصنوعی ذہانت، سینسرز اور انٹرنیٹ آف تھنگز پر مبنی ٹیکنالوجیز، آلات اور نظام کی تیاری: زرعی پیداوار اور کٹائی کے بعد کے مراحل میں استعمال کے لیے درج ذیل جدید ٹیکنالوجیز تیار کی گئی ہیں: پانی کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے کے لیے خودکاری اور سینسر نیٹ ورکس پر مبنی اسمارٹ مائیکرو آب پاشی نظام۔ ضرورت کے مطابق کھاد کی مختلف مقدار ڈالنے والا نظام (ویری ایبل ریٹ فرٹیلائزر ایپلی کیٹر)۔ مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز سے لیس پٹ سن کی درجہ بندی کا نظام۔ پتوں میں کلوروفل کی مقدار کی پیمائش کے لیے ایس پی اے ڈی میٹر 2.0۔ کولڈ اسٹوریج کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے انٹرنیٹ آف تھنگز پر مبنی نظام۔ مکئی میں افلاٹوکسِن-بی ون کی فوری شناخت کرنے والا آلہ۔ اسمارٹ کیلے کی سپلائی چین، جس میں سینسرز کے ذریعے نگرانی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے مصنوعات کی نقل و حرکت اور ماخذ کا سراغ لگانے کی سہولت شامل ہے۔ ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی پر مبنی پھلوں کے معیار کی نگرانی۔ اناج کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر۔- چاول کے بیجوں کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام۔ بیج والی روئی میں تصویری تجزیے کے ذریعے آلودگی کی پیمائش کی تکنیکیں۔ کمپیوٹر وژن اور مشین لرننگ پر مبنی ایسا قابلِ حمل آلہ، جو روئی سے ریشہ الگ کرنے کی شرح (جننگ پرسنٹیج) کی تیز رفتار اور غیر تباہ کن پیمائش کرتا ہے۔اس کے علاوہ، 230 ہیکٹر رقبے پر ڈرون ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے کیے گئے، جن سے 2,487 کسان مستفید ہوئے۔
  • آئی سی اے آر کے تحقیقی ادارے ڈرونز اور موبائل ایپس کے ذریعے کسانوں کو بعض فصلوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی فرٹیلائزرس اور کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، آئی سی اے آر درج ذیل شعبوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرتا ہے:

  • ماہی پروری میں ڈرونز کا استعمال: کھلے آبی ذخائر اور دشوار گزار علاقوں سے تجزیے کے لیے پانی کے نمونے جمع کرنا، مچھلیوں کی پرورش کے نظام تک خوراک اور ادویات پہنچانا، مچھلیوں اور دیگر سامان کی نقل و حمل، آبی حیاتیاتی مادّے کی مقدار کا تخمینہ لگانا اور صحت کی نگرانی کرنا وغیرہ۔
  • تحلیل شدہ آکسیجن کے انتظام کا نظام: آئی سی اے آر نے انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) پر مبنی پانی میں تحلیل شدہ آکسیجن کی سطح کی نگرانی اور انتظام کرنے والا نظام تیار کیا ہے۔
  •  ماہی گیری کے وسائل کا جائزہ اور پیش گوئی: مصنوعی ذہانت اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے تجزیے (بگ ڈیٹا) پر مبنی پلیٹ فارم کے ذریعے اندرونِ ملک کھلے آبی ذخائر میں ماہی گیری کے وسائل کا جائزہ لینا اور ان کے بارے میں پیش گوئیاں کرنا۔
  •  اسمارٹ پیداواری نظام اور ہیچریوں کا قیام: پیداوار میں اضافے کے لیے خودکار آلات اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس اسمارٹ پیداواری نظام اور مچھلیوں کی افزائش کے مراکز (ہیچریوں) کا قیام۔
  •  مویشیوں کے تحفظ اور انتظام میں جدید ٹیکنالوجی: مویشیوں کی صحت کے تحفظ، بیماریوں سے بچاؤ اور مجموعی انتظام کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) کے سینسرز، ڈرونز اور سیٹلائٹ تصاویر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے بیماریوں کی ابتدائی انتباہی اطلاع، حیاتیاتی تحفظ اور مویشیوں کی بہتر دیکھ بھال کو تقویت فراہم کی جاتی ہے۔
  •  سیٹلائٹ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ابتدائی انتباہی نظام: آئی سی اے آر کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ویٹرنری ایپیڈیمیولوجی اینڈ ڈیزیز انفارمیٹکس (این ا ٓئی وی ای ڈی آئی) جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس)، سیٹلائٹ سے حاصل کردہ اسپیٹیل معلومات اور پیش گوئی کرنے والے مشین لرننگ ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اس کے ذریعے معاشی لحاظ سے اہم مویشیوں کی 15 بیماریوں کے ممکنہ پھیلاؤ کی دو ماہ پہلے تک پیش گوئی کی جاتی ہے، جس سے ریاستی حکام اور کسانوں کو احتیاطی اقدامات کرنے میں مدد حاصل ہو تی ہے۔
  •  سینسرز کے ذریعے صحت اور تولیدی سرگرمیوں کی نگرانی: مویشیوں کے گلے میں پہنائے جانے والے اسمارٹ کالرز، جگالی کی سرگرمی ریکارڈ کرنے والے ٹیگز اور ٹانگوں میں پہنائے جانے والے قدم شمار کرنے والے آلات جیسے قابلِ حمل سینسرز کو ریوڑ کے انتظامی نظاموں سے منسلک کیا جاتا ہے۔ یہ سینسرز ریئل ٹائم میں جسمانی درجۂ حرارت، جگالی کی سرگرمی اور ہیٹ (تولیدی آمادگی) کے دورانیے کی نگرانی کرتے ہیں، جس سے بیماری کی ظاہری علامات سامنے آنے سے پہلے ہی اس کی ابتدائی تشخیص ممکن ہوپاتی ہے۔
  •  زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ میں کرشی وگیان کیندروں کا کردار: کرشی وگیان کیندر(کے وی کی) اسکیم کے تحت زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں نئی ٹیکنالوجیز، بشمول زرعی ڈرونز، کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکنالوجی کی جانچ، عملی مظاہروں اور کسانوں کی صلاحیت سازی پر توجہ کی جاتی ہے۔کرشی وگیان کیندروں، آئی سی اے آر کے تحقیقی اداروں اور زرعی یونیورسٹیوں نے 41,280 ہیکٹر رقبے پر زرعی ڈرونز کے ذریعے فرٹیلائزرس، غذائی اجزا اور کیمیائی ادویات، بشمول کیڑے مار ادویات، کے چھڑکاؤ کے 38,402 عملی مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں اور کھیتوں میں عملی سرگرمیوں سے مجموعی طور پر 4,54,083 کسانوں نے استفادہ کیا۔

آئی سی اے آر (زرعی تحقیق کی بھارتی کونسل) ضابطوں پر مبنی  زراعت کے ایک مربوط نظام کو فروغ دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف علاقوں کی ضروریات اور مقامی حالات کے مطابق پریسیشن آب پاشی، غذائی اجزا کے انتظام، محفوظ کاشت کاری، زرعی مشین کاری، ڈیجیٹل فیصلہ سازی میں معاون نظام اور آب ہوا کی  تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کے لیے ٹیکنالوجیز تیار کی جا رہی ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کو کسانوں تک پہنچانے اور انہیں اپنانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کھیتوں میں عملی مظاہرے، کسانوں کی تربیت، صلاحیت سازی کے پروگرام اور ریاستی محکموں، کرشی وگیان کیندروں  (کے وی کیز)اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ اشتراک کیا جا رہا ہے۔

ضابطے پر مبنی زراعت کی ٹیکنالوجیز نے زرعی پیداوار، منافع، وسائل کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری ظاہر کی ہے۔پریسیشن آب پاشی کی ٹیکنالوجیز کے فوائد: شمسی توانائی سے چلنے والے جھولا کنڈی نظام، کھیتوں میں تالابوں اور مائیکرو آب پاشی سمیت پریسیشن آب پاشی کی ٹیکنالوجیز کے استعمال سے متعدد اہم فوائد حاصل ہوئے ہیں: فصلوں کی کاشت کی شدت 137 فیصد سے بڑھ کر 272 فیصد ہو گئی۔ فصلوں کے تنوع کا اشاریہ 0.40 سے بڑھ کر 0.80 ہو گیا، یعنی اس میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 4,644 روپے سے بڑھ کر 19,676 روپے ہو گئی ہے۔ ڈیزل اور بجلی پر انحصار کم ہواہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں سالانہ تقریباً 40.5 ٹن کی کمی لانے میں مدد ملی ہے۔گوا میں ضابطے پر مبنی زراعت کے نتائج: گوا میں دقیق زراعت کی ٹیکنالوجیز کے استعمال سے دھان کی پیداوار میں 4.69 فیصد اور لوبیا کی پیداوار میں 6.58 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ آب پاشی کے پانی کے استعمال میں 92.9 فیصد اور مزدوری کی ضرورت میں تقریباً 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔بارش کے پانی کا ذخیرہ اور محفوظ کاشت کاری: کھیتوں میں تالاب بنا کر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام سے فصلوں کی پیداوار میں 20 سے 55 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ خودکار ڈرِپ آب پاشی اور کھاد کی فراہمی کے نظام سے منسلک پولی ہاؤس کاشت کاری کے ذریعے فی 15 گھنٹے رقبے پر 2.72 لاکھ روپے کا خالص منافع حاصل ہوا، جبکہ فائدے اور لاگت کا تناسب 4.57 رہا۔بہار میں غذائی اجزا کے مؤثر استعمال میں اضافہ: بہار میں اونچی کیاریوں، ڈرِپ فرٹیگیشن (قطرہ قطرہ آب پاشی کے ذریعے کھاد کی فراہمی) اور پلاسٹک ملچنگ کو یکجا کرنے سے غذائی اجزا کے استعمال کی افادیت میں 30 سے 85 فیصد تک بہتری آئی۔پانی کی بچت کرنے والی جدید ٹیکنالوجیز: ڈرِپ آب پاشی اور محفوظ کاشت کاری اپنانے سے آب پاشی کے لیے درکار پانی میں 70 سے 80 فیصد تک کمی آئی۔ ہائیڈروپونکس، یعنی مٹی کے بغیر کاشت کاری، سے پانی کے استعمال میں 90 فیصد تک کمی ممکن ہوئی۔

زرعی ڈرونز کے ذریعے کھاد کا چھڑکاؤ: ڈرونز کے ذریعے پتوں پر غذائی اجزا کے چھڑکاؤ سے فصلوں کی پیداوار میں 4 سے 5 فیصد تک اضافہ ہوا اور اسپرے کے اخراجات میں تقریباً 15 فیصد کمی آئی۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صرف 9.5 لیٹر پانی اور 0.5 لیٹر نینو کھاد استعمال کرتے ہوئے تقریباً 6 منٹ میں ایک ایکڑ رقبے پر چھڑکاؤ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کا امکان کم ہوتا ہے اور کھاد یکساں طور پر پھیلتی ہے۔مجموعی طور پر، یہ ٹیکنالوجیز کسانوں کی آمدنی بڑھانے، پانی اور کھاد کے بہتر استعمال، پیداواری اخراجات کم کرنے اور پائیدار و موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی زرعی ترقی کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت(اے آئی)، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی)، ڈرونز اور سیٹلائٹ تصاویر کو یکجا کرنے سے مویشیوں کے انتظام کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے ذریعے بیماریوں کی پیشگی اطلاع دینے والے فعال نظام قائم کیے جا سکتے ہیں، حیاتیاتی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور فارم کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے اہم فوائد درج ذیل ہیں:

 بیماریوں کی پیشگی روک تھام اور مویشیوں کی اموات میں کمی: مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز اور انٹرنیٹ آف تھنگز سے منسلک حیاتیاتی پیمائش کرنے والے سینسرز جسمانی دباؤ کی علامات کا پتا لگا سکتے ہیں اور بیماری کی ظاہری علامات سامنے آنے سے 5 سے 12 دن پہلے ممکنہ وبا کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ اس سے بروقت علاج اور احتیاطی اقدامات ممکن ہوتے ہیں، ویٹرنری اخراجات میں 20 سے 40 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے اور مویشیوں کے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان کو روکا جا سکتا ہے۔

 پیداواری صلاحیت اور افزائشِ نسل کی کارکردگی میں بہتری: حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرنے والے قابلِ حمل سینسرز کے ذریعے مویشیوں میں ہیٹ (تولیدی آمادگی) کی خودکار شناخت ممکن ہوتی ہے، جس سے مصنوعی نسل کشی (آرٹیفیشل انسیمینیشن) کی کامیابی کی شرح میں 15 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، مائیکروکلائمیٹ (مقامی ماحول) کے اسمارٹ کنٹرول اور خوراک کے درست انتظام سے دودھ کی پیداوار میں 18 فیصد تک اضافہ ممکن ہے، جس سے مویشیوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔

***

ش ح۔ ش  م ۔ ع ن

U NO: 6392


(ریلیز آئی ڈی: 2325843) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English