عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
خصوصی صفائی مہم 6.0 کے تحت 17 دنوں میں صفائی مہم کے مقامات کی تعداد تین گنا زیادہ رہی اور 491.28 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی، خصوصی مہم 5.0 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا
خصوصی صفائی مہم 6.0 کے تحت عملہ جاتی امور کی وزارت کے محکمۂ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی) نے اپنے دفتر کی ایک منزل پر 1,200 مربع فٹ جگہ خالی کرائی
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مہم کی درمیانی مدت کی پیش رفت کا جائزہ لیا؛ 19 اکتوبر 2026 تک 116 لاکھ مربع فٹ جگہ خالی کرائی جا چکی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 OCT 2026 4:56PM by PIB Delhi
ڈاکٹر جتیندر سنگھ، مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، نیز وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر (پی ایم او)، محکمۂ جوہری توانائی، محکمۂ خلائی امور، عملہ جاتی امور، عوامی شکایات اور پنشن نے خصوصی مہم 6.0 کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے گزشتہ سال کی خصوصی صفائی مہم 5.0 کے مقابلے میں کارکردگی میں ہونے والی بہتری کو اجاگر کیا، جس میں صفائی مہم کے تحت شامل کیے گئے مقامات کی تعداد، ناکارہ اشیا کو ٹھکانے لگا کر حاصل ہونے والی آمدنی اور خالی کرائی گئی جگہ شامل ہیں۔
آج یعنی 19 اکتوبر 2026 تک خصوصی صفائی مہم 6.0 کے تحت صفائی مہم کے 8,34,509 مقامات کا احاطہ کیا جا چکا تھا، جبکہ 2025 میں خصوصی مہم 5.0 کے اسی مدت کے دوران 2,75,432 مقامات کا احاطہ کیا گیا تھا۔ اس طرح مقامات کی تعداد میں 3.03 گنا اضافہ درج کیا گیا۔ ناکارہ اشیا کو ٹھکانے لگا کر حاصل ہونے والی آمدنی 491.28 کروڑ روپے رہی، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ آمدنی 304.72 کروڑ روپے تھی، جو 1.61 گنا اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح مہم کے تحت 116 لاکھ مربع فٹ جگہ خالی کرائی گئی، جبکہ خصوصی مہم 5.0 کے اسی مدت کے دوران 113.12 لاکھ مربع فٹ جگہ خالی کرائی گئی تھی۔
وزارتِ عملہ جاتی امور کے محکمۂ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی) نے خصوصی مہم 6.0 کے تحت اپنے دفتری احاطے میں ایک منزل پر 1,200 مربع فٹ جگہ خالی کرائی ہے۔ یہ اقدام دستیاب دفتری جگہ کے بہترین استعمال اور دفاتر کے احاطوں کو عملی ضروریات کے مطابق بروئے کار لانے پر مہم کی توجہ کا عکاس ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ یہ مہم گزشتہ برسوں میں منعقد کی گئی مہمات کے تجربات کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے، جس کا مقصد ہر سال کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔ کاغذی فائلوں کو نمٹانے سے شروع ہونے والی یہ مہم بتدریج وسعت اختیار کرتے ہوئے الیکٹرانک فائلوں، الیکٹرانک کچرے کے انتظام اور ناکارہ و غیر ضروری اشیا کو ٹھکانے لگانے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ناکارہ اشیا کو فروخت کرکے آمدنی حاصل کرنا بھی مہم کا ایک اہم جزو بن کر ابھرا ہے۔
جاری نفاذی مرحلے کے تحت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تمام سکریٹریوں پر زور دیا ہے کہ وہ خصوصی مہم 6.0 میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر کے فیلڈ دفاتر اور اداروں تک اس کی سرگرمیوں کو وسعت دیں۔ انہوں نے دفاتر اور اداروں میں خصوصی طور پر ایک روزہ مہمات منعقد کرنے کی اہمیت پر زور دیا، ساتھ ہی صفائی ستھرائی کو بہتر بنانے اور ناکارہ و غیر ضروری اشیا کو مؤثر طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی بھی ہدایت دی۔
اس مہم کا مقصد زیرِ التوا حوالہ جات اور عوامی شکایات کا ازالہ کرنا، کاغذی اور الیکٹرانک فائلوں کا جائزہ لینا اور دفتری جگہ کو خالی کرا کے اسے مفید سرگرمیوں کے لیے استعمال میں لانا بھی ہے۔ یہ اقدامات صفائی ستھرائی کی عملی مہم کو تقویت دیتے ہیں اور اس کے دائرۂ کار کو سرکاری دفاتر کے نظامِ کار تک وسعت دیتے ہیں۔
نمایاں کردار ادا کرنے والے محکموں میں، محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی نے صفائی مہم کے تحت 4,15,353 مقامات کی اطلاع دی، جبکہ 19 اکتوبر 2026 تک وزارتِ ریلوے نے ناکارہ اشیا کو ٹھکانے لگا کر 425.06 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی تھی۔
خصوصی مہم 6 کا نفاذ 2 اکتوبر سے 31 اکتوبر 2026 تک کیا جا رہا ہے۔ پیش رفت کے جائزے میں جاری مہم کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کا احاطہ کیا گیا، جبکہ اس پر عمل درآمد 31 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
وزیر موصوف نے صفائی ستھرائی، کچرے کو ذمہ داری کے ساتھ ٹھکانے لگانے اور اس کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے عام لوگوں میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے اور انہیں ترغیب دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے الیکٹرانک کچرے کے سائنسی انتظام کو فروغ دینے اور کچرے کو دوبارہ استعمال کرنے اور ری سائیکل کرنے کی ٹیکنالوجیز کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ان میں استعمال شدہ خوردنی تیل اور پلاسٹک سے متعلق ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں، تاکہ کچرے کے پائیدار انتظام کے طریقوں کے بارے میں وسیع پیمانے پر آگاہی کو فروغ دیا جا سکے۔
اس اجلاس میں حکومتِ ہند کے سکریٹریوں نے شرکت کی۔ ان میں محترمہ نویدیتا شکلا ورما، سکریٹری، محکمۂ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی)؛ محترمہ رچنا شاہ، سکریٹری، محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی)؛ پروفیسر امیش وی واگھمارے، سکریٹری، محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی)؛ ڈاکٹر سری نیواسا کمار تمّالا، سکریٹری، وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس)؛ ڈاکٹر این کالیسیلوی، سکریٹری، محکمۂ سائنسی و صنعتی تحقیق (ڈی ایس آئی آر)؛ اور ڈاکٹر راجیش سدھیر گوکھلے، سکریٹری، محکمۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) نے بالمشافہ شرکت کی۔ حکومتِ ہند کے دیگر سکریٹریوں نے اجلاس میں ورچوئل طور پر شرکت کی۔
ڈی اے آر پی جی کے سکریٹری نے مختلف وزارتوں، محکموں اور ان کے ماتحت فیلڈ دفاتر میں خصوصی مہم 6 کے تحت ہونے والی پیش رفت پیش کی۔ ڈی او پی ٹی نے اجلاس کو بتایا کہ اس نے محکمے کے لیے الیکٹرک گاڑیاں اختیار کی ہیں، جو صفائی ستھرائی اور خصوصی مہم 6 کے مقاصد کے حصول میں معاون ہیں۔
محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے سکریٹری نے دفتری جگہ کے بہترین استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ’’ضرورت بمقابلہ دستیابی‘‘ کے نقطۂ نظر سے اس کا جائزہ لینے کی اہمیت اجاگر کی۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تمام سکریٹریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی متعلقہ وزارتوں اور محکموں میں دفتری جگہ کا جائزہ لیتے وقت اس طریقۂ کار کو اپنائیں اور جگہ کے استعمال کو حقیقی عملی ضروریات کے مطابق بنائیں۔
وزیر موصوف نے تمام سکریٹریوں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ اپنی کامیاب پہل اور بہترین طور طریقوں کو ڈی اے آر پی جی اور دیگر وزارتوں و محکموں کے ساتھ شیئر کریں، تاکہ کامیاب نمونوں کو وسیع پیمانے پر متعارف کرانے اور دوسری جگہوں پر بھی اپنانے میں سہولت ہو۔ اس سے دیگر وزارتوں اور محکموں کو ان تجربات سے سیکھنے اور جہاں موزوں ہو، اسی طرح کے طریقے اختیار کرنے کا موقع ملے گا، جس سے خصوصی مہم 6 پر عمل درآمد مزید مؤثر ہو سکے گا۔




**********
) ش ح – رک )
U.No. 6323
(ریلیز آئی ڈی: 2325196)
وزیٹر کاؤنٹر : 8