مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
سکریٹری، محکمۂ شہری ترقی، وزارتِ ہاؤسنگ اور شہری امور (ایم او ایچ یو اے) نے پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت مرکزی منظوری و نگرانی کمیٹی(سی ایس ایم سی) کی 10ویں میٹنگ کی صدارت کی
اسکیم کے تحت 1.93 لاکھ اضافی مکانات کی منظوری دی گئی، جس سے منظور شدہ مکانات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 20.80 لاکھ ہو گئی
خواتین کو بااختیار بنانا، خاندانوں کو مستحکم کرنا: 97 فی صد مکانات خواتین کے نام پر یا مشترکہ ملکیت کے طور پر الاٹ کیے گئے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 9:39PM by PIB Delhi
پردھان منتری آواس یوجنا-اربن 2.0 (پی ایم اے وائی-یو 2.0) کے تحت مرکزی منظوری و نگرانی کمیٹی (سی ایس ایم سی) کی 10ویں میٹنگ 16 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں جناب ستیندر سنگھ، سکریٹری، محکمۂ شہری ترقی (ڈی او یو ڈی)، وزارتِ ہاؤسنگ اور شہری امور (ایم او ایچ یو اے) کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں 1.93 لاکھ سے زیادہ اضافی مکانات کی منظوری دی گئی۔
میٹنگ میں جناب کمار روی کانت سنگھ، جوائنٹ سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر (جے ایس اینڈ ایم ڈی)، ہاؤسنگ فار آل (ایچ ایف اے)؛ جناب سنجیت، جوائنٹ سکریٹری اور مالیاتی مشیر (جے ایس اینڈ ایف اے)؛ جناب ویبھو روندوال، ڈائریکٹر، ایچ ایف اے؛ وزارت کے عہدیداران کے علاوہ شریک 11 ریاستوں کے مشن ڈائریکٹر اور نمائندے بھی موجود تھے۔

1.93 لاکھ سے زیادہ اضافی مکانات کی منظوری کے ساتھ مشن کے تحت منظور شدہ مکانات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 20.80 لاکھ ہو گئی ہے۔ اس میٹنگ میں آندھرا پردیش (6,560 مکانات)، بہار (52,866 مکانات)، چھتیس گڑھ (4,670 مکانات)، گجرات (14,290 مکانات)، کرناٹک (3,116 مکانات)، میزورم (1,003 مکانات)، اڈیشہ (3,126 مکانات)، سکم (29 مکانات)، تلنگانہ (18,120 مکانات)، اتر پردیش (73,182 مکانات) اور مغربی بنگال (16,559 مکانات) میں اقتصادی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس) کے اہل شہری خاندانوں کے لیے مستفیدین کی قیادت میں مکان کی تعمیر (بی ایل سی) اور شراکت داری میں سستی رہائش (اے ایچ پی) کے تحت مکانات منظور کیے گئے۔
میٹنگ کے دوران کمیٹی نے پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے نفاذ میں تیزی لانے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر بروقت منظوریوں، مؤثر نگرانی اور اہل مستفیدین تک رہائش سے متعلق فوائد کی فراہمی پر زور دیا گیا۔
سستی رہائش تک رسائی میں توسیع
ستمبر 2024 میں شروع کی گئی پی ایم اے وائی-یو 2.0 کا مقصد شہری غریب اور متوسط طبقے کے ایک کروڑ اضافی خاندانوں کو پکے مکانات کی تعمیر یا خریداری کے لیے 2.50 لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 9 لاکھ روپے تک کی سالانہ گھریلو آمدنی والے اہل اقتصادی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس)، کم آمدنی والے طبقے (ایل آئی جی) اور متوسط آمدنی والے طبقے (ایم آئی جی) کے خاندانوں کو مدد فراہم کی جاتی ہے۔
پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت چار زمروں میں امداد فراہم کی جاتی ہے: مستفیدین کی قیادت میں تعمیر (بی ایل سی)، شراکت داری کے تحت سستی رہائش (اے ایچ پی)، سستی کرایے کی رہائش (اے آر ایچ) اور سود پر سبسڈی کی اسکیم (آئی ایس ایس)۔ یہ چاروں زمرے شہری خاندانوں کی اہلیت اور ضروریات کے مطابق رہائش کی مختلف ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔

- بی ایل سی: اہل خاندان اپنی زمین پر پکا مکان تعمیر کر سکتے ہیں۔
- اے ایچ پی: مستفیدین سرکاری یا نجی رہائشی منصوبوں کے تحت مکان خرید سکتے ہیں۔
- اے آر ایچ: یہ زمرہ ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں شہروں میں سستے کرایے پر رہائش درکار ہے۔
- آئی ایس ایس: 25 لاکھ روپے تک کے ہاؤسنگ لون لینے والے ای ڈبلیو ایس، ایل آئی جی اور ایم آئی جی خاندانوں کو 1.80 لاکھ روپے تک کی سود میں سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔
وفاقی تعاون کے ذریعے نفاذ کو مستحکم بنانا
میٹنگ کے دوران شہری ترقی (یو ڈی) کے سکریٹری نے وزارت، ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی) کے درمیان قریبی تال میل کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ رہائشی منصوبوں سے متعلق تجاویز بروقت پیش کی جا سکیں اور ان پر جلد کارروائی ہو۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں، منصوبوں کی نگرانی کا نظام مضبوط بنائیں، اہل مستفیدین کی شناخت کریں اور منظور شدہ منصوبوں کے تحت مکانات کی تکمیل اور ان پر مستفیدین کو قبضہ دلانے کے عمل میں تیزی لائیں۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ پی ایم اے وائی-یو کے تحت پہلے ہی مکمل کیے جا چکے اے ایچ پی مکانات کا قبضہ مستفیدین کو جلد دیا جائے، تاکہ اہل خاندان ان مکانات سے فائدہ اٹھا سکیں اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آ سکے۔
بروقت منظوریوں اور باقاعدہ نگرانی پر توجہ
شہری ترقی کے سکریٹری نے اسکیم کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ میٹنگوں، تجاویز بروقت پیش کرنے اور مسلسل نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تجاویز تیار کرنے اور جمع کرانے کے دوران پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے مقررہ رہنما خطوط پر مکمل عمل درآمد، درست معلومات کی فراہمی اور تمام ضروری تقاضوں کی تکمیل یقینی بنانے کے لیے مستعدی سے کام لینا چاہیے، تاکہ تاخیر اور طریقۂ کار سے متعلق دشواریوں سے بچا جا سکے۔
انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی کہ وہ نفاذ سے متعلق مسائل کو حل کرنے، جہاں ضروری ہو وہاں مداخلت کرنے اور منظور شدہ منصوبوں پر مقررہ مدت میں پیش رفت یقینی بنانے کے لیے وزارت کے ساتھ قریبی تعاون کریں، تاکہ اہل مستفیدین کو اسکیم کے تحت مطلوبہ فوائد بروقت حاصل ہو سکیں۔
خواتین پر مرکوز اور جامع ترقی
پی ایم اے وائی-یو 2.0 خواتین کو مکانات کی واحد یا مشترکہ مالک بنا خواتین کی قیادت میں ترقی کو ترجیح دیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کا مقصد خواتین کے مالی تحفظ کو مضبوط بنانا، گھریلو فیصلہ سازی میں ان کے کردار کو مؤثر بنانا اور خاندانوں کو طویل مدتی استحکام کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔
اس مشن کا مقصد شہری آبادی کے کمزور اور محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے اہل خاندانوں کو سستی رہائش کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ باقاعدہ اور قانونی رہائشی سہولتوں تک رسائی آسان بنا کر یہ اسکیم بہتر معیارِ زندگی کو فروغ دیتی ہے اور مستفید خاندانوں کی سماجی و معاشی بہبود میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت منظور شدہ 20.80 لاکھ مکانات میں سے 20.16 لاکھ مکانات (97 فیصد) خواتین کے نام پر یا مشترکہ ملکیت کے طور پر الاٹ کیے گئے ہیں۔
مزید برآں، شمولیت کو فروغ دینے کے لیے بزرگ شہریوں کے لیے 1.81 لاکھ مکانات، درج فہرست ذاتوں (ایس سی) سے تعلق رکھنے والے مستفیدین کے لیے 3.61 لاکھ مکانات، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے مستفیدین کے لیے 1.06 لاکھ مکانات اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے مستفیدین کے لیے 9.14 لاکھ مکانات منظور کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محفوظ، سستی اور باوقار رہائش تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اسکیم کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
’سب کے لیے رہائش‘ کے مقصد کی جانب
پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت 20.80 لاکھ مکانات کی منظوری اہل شہری خاندانوں کو سستی رہائش کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے مشن کے مقصد کی جانب مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ پی ایم اے وائی-یو اور پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت مجموعی طور پر 1.27 کروڑ سے زیادہ مکانات کی حکومت کی جانب سے منظوری دی جا چکی ہے، جب کہ 1.01 کروڑ مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں ۔
پی ایم اے وائی-یو 2.0 ’سب کے لیے رہائش‘ کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ اس کے ذریعے لاکھوں شہری خاندانوں کو محفوظ گھر، باوقار زندگی اور روشن مستقبل کی جانب گامزن ہونے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
***
UR-6246
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2324628)
وزیٹر کاؤنٹر : 9