وزارت ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کا تہذیبی سفر صدیوں سے ثقافتی تبادلے کی داستان رہا ہے: وزیرِ اعظم


بِرہتّر بھارت مشترکہ تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے عالمی ثقافتی روابط کو مضبوط بنائے گا: مرکزی وزیرِ ثقافت و سیاحت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 OCT 2026 8:39PM by PIB Delhi

وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند کے تحت ایک خودمختار ادارے، اندرا گاندھی قومی مرکز برائے فنون (آئی جی این سی اے) کی جانب سے ’’دنیا بھر میں بھارت کے ثقافتی روابط‘‘ کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح مرکزی وزیرِ ثقافت و سیاحت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے کیا۔ یہ کانفرنس 14 سے 16 اکتوبر 2026 تک نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقد ہو رہی ہے۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے ایک پیغام کے ذریعے کانفرنس کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جسے وزارتِ ثقافت کے سکریٹری جناب وویک اگروال نے پڑھ کر سنایا۔ جناب وویک اگروال نے ابتدائی خطاب بھی کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261014204021_28fb85.jpg

آئی جی این سی اے کے رکن سکریٹری ڈاکٹر سچّیدانند جوشی نے استقبالیہ خطاب کیا، جب کہ حکومتِ ہند کی وزارتِ ثقافت کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر اروند کمار نے اظہارِ تشکر کیا۔ اس موقع پر آئی جی این سی اے کے برہتّر بھارت ڈویژن کے سربراہ پروفیسر دھرم چند چوبے بھی موجود تھے۔

کانفرنس کے دوران ’’ایشیا کا مشترکہ ثقافتی ورثہ‘‘ کے عنوان سے ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، جناب وویک اگروال اور دیگر معزز مہمانوں نے نمائش کا دورہ کیا۔ اس نمائش میں ہندوستان اور دیگر ایشیائی ممالک کے درمیان مشترکہ ورثے اور تاریخی ثقافتی روابط کو پیش کیا گیا ہے۔

اس موقع پر جناب وویک اگروال نے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ وزیرِ اعظم نے وزارتِ ثقافت اور اندرا گاندھی قومی مرکز برائے فنون کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کانفرنس میں شرکت کرنے والے ہندوستان اور بیرونِ ملک کے دانش وروں، محققین، سفارت کاروں اور دیگر معزز شرکاء کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔

اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہندوستان کا تہذیبی سفر صدیوں سے ثقافتی تبادلے کی داستان رہا ہے۔ نالندہ جیسے علمی مراکز نے ہندوستان اور ایشیا کے دیگر خطوں کے درمیان علم کے تبادلے کو مستحکم کیا، جب کہ بدھ بھکشوؤں، دانش وروں، تاجروں اور سیاحوں نے خشکی اور سمندری راستوں کے ذریعے ہندوستانی افکار کو دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ثقافتی مکالمہ آج بھی فروغ پا رہا ہے، جس میں ہندوستانی فلسفہ، موسیقی، رقص، ادب، سنیما اور کھانوں کی روایات دنیا بھر کے معاشروں کو ہندوستان سے جوڑ رہی ہیں۔ متعدد ممالک میں ہندوستانی تہواروں اور روایات کا جشن منایا جانا اور یوگا کا دنیا بھر میں پھیلاؤ اس بات کی مثالیں ہیں کہ ہندوستان کی قدیم علمی روایات آج بھی مختلف ممالک اور ثقافتوں کے لوگوں کو آپس میں جوڑ رہی ہیں۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر مسلسل بڑھتی ہوئی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے برہتّر بھارت سوسائٹی کے قیام کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس سوسائٹی نے ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں کے ساتھ ہندوستان کے ثقافتی اور علمی تعلقات کے مطالعے اور تفہیم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس میں ہونے والے تبادلۂ خیال سے ہندوستان اور دنیا کے درمیان تاریخی و ثقافتی روابط کی تفہیم مزید مستحکم ہوگی اور بین الاقوامی ثقافتی تعاون کو فروغ ملے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261014204026_064f3e.jpg

جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہا کہ برہتّر بھارت کانفرنس اس بات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ ماضی کی دانش مندی کس طرح ہمارے مستقبل کی رہنمائی کر سکتی ہے اور ثقافتی تبادلے تہذیبوں کو خیالات، علم اور فنون کی روایات ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے کے قابل کیسے بناتے ہیں۔ 14 اکتوبر 1926 کو کلکتہ میں قائم ہونے والی گریٹر انڈیا سوسائٹی کے قیام کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر منعقدہ یہ کانفرنس دنیا کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی اور ثقافتی روابط کے مطالعے کی اہمیت کی توثیق کرتی ہے۔ برہتّر بھارت کو کسی سیاسی یا علاقائی دعوے کے طور پر نہیں، بلکہ ثقافتی اور تاریخی روابط کے ایک وسیع دائرے کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان کا تہذیبی نقطۂ نظر، جس کا اظہار ’’پوری دنیا ایک خاندان ہے‘‘ کے اصول سے ہوتا ہے، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری کا ایک پائیدار پیغام پیش کرتا ہے۔ ثقافت کو دنیا کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے آپس میں جوڑنا چاہیے۔ سیاسی تعلقات میں مشکلات پیدا ہونے یا زبانیں رکاوٹ بننے کے باوجود ثقافتی تبادلے اور شواہد پر مبنی تحقیق باہمی تفہیم کو فروغ دے سکتے ہیں اور مکالمے کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261014204032_33290b.jpg

انہوں نے زور دیا کہ دنیا بھر میں ہندوستان کے ثقافتی روابط کا مطالعہ ایک ایسے متحرک شعبے کی شکل اختیار کرے، جس کی بنیاد شواہد پر ہو اور جسے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے فروغ دیا جائے۔ برہتّر بھارت کو ایسا پلیٹ فارم بننا چاہیے جہاں مشترکہ ورثہ مشترکہ تحقیق کی تحریک دے، باہمی تفہیم کو مضبوط کرے اور دیرپا بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دے۔ اس کانفرنس کا مقصد محض ایک اہم علمی کوشش کی یاد منانا نہیں، بلکہ ثقافتی روابط کے مطالعے، تحفظ اور تبادلے کے لیے ایک نئی بین الاقوامی تحریک کا آغاز بھی ہونا چاہیے، جو پوری انسانیت کو آپس میں جوڑتے ہیں۔

جناب وویک اگروال نے اجاگر کیا کہ برہتّر بھارت پروجیکٹ کا مقصد تقریباً 51 ممالک کے دانش وروں کی مشترکہ اور شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے دنیا کے ساتھ ہندوستان کے قدیم ثقافتی روابط کو بین الاقوامی سطح پر شناخت دلانا ہے۔ گریٹر انڈیا سوسائٹی کے قیام کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر اس پروجیکٹ کا مقصد مشترکہ تحقیق، سیمیناروں اور ورکشاپوں کے ذریعے عالمی نظام ہائے علم، زبانوں، علوم، فنون اور ثقافتی روایات میں ہندوستان کی خدمات کا جائزہ لینا ہے۔ اس میں بین الاقوامی علمی تبادلے کے لیے پانچ سالہ منظم لائحۂ عمل بھی شامل ہے، نیز یونیسکو کی نمائندہ فہرست میں مشترکہ غیر مادی ثقافتی ورثے کے کثیر ملکی اندراجات کے امکانات تلاش کرنا بھی اس کا مقصد ہے۔

برہتّر بھارت ایک مشترکہ علمی کوشش ہے، جس کا مقصد ہمارے مشترکہ ورثے کی تفہیم کو گہرا کرنا اور بین الاقوامی تعلقات کو مستحکم بنانا ہے۔ علمی تعاون اور ثقافتی مکالمے کو فروغ دے کر یہ پہل امن، اتحاد اور مشترکہ خوش حالی کا پیغام آگے بڑھانا چاہتی ہے، جس کی بنیاد ہندوستان کا لازوال اصول ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے۔

استقبالیہ خطاب میں ڈاکٹر سچّیدانند جوشی نے کہا کہ تہذیبوں کی شناخت صرف جغرافیائی سرحدوں سے نہیں، بلکہ خیالات کے سفر، لوگوں کی نقل و حرکت اور ان کے چھوڑے ہوئے نقوش سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں تاجروں نے پہاڑوں اور سمندروں کو عبور کیا، بدھ بھکشوؤں اور زائرین نے مقدس مقامات کے درمیان سفر کیا، دانش وروں نے خیالات کا تبادلہ کیا اور متون کے ترجمے کیے، جب کہ دست کار اپنی مہارتوں اور فنون کی روایات کو مختلف خطوں تک لے گئے۔ ان میل جول کے نتیجے میں ثقافتوں کو ایک دوسرے سے مکالمہ کرنے، سیکھنے اور ارتقا پذیر ہونے کے مواقع ملے، جس سے ایسے روابط وجود میں آئے جو آج بھی دنیا کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ برہتّر بھارت کا تصور ثقافتی تبادلے کی اسی بھرپور تاریخ میں اپنی بنیاد رکھتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ برہتّر بھارت، وزارتِ ثقافت کے آئی سی آر ڈویژن کا ایک اقدام ہے، جسے آئی جی این سی اے کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ہندوستانی تہذیب اور منتخب ممالک کے مشترکہ ثقافتی ورثے کی شناخت، دستاویز بندی، حفاظت اور اسے عوام کی رسائی میں لانا ہے۔ یہ پہل جغرافیائی اور سیاسی سرحدوں سے آگے بڑھ کر مختلف ممالک کے لوگوں کے درمیان تاریخی روابط اور ثقافتی تبادلوں کا جائزہ لینے کی کوشش کرتی ہے۔

افتتاحی اجلاس سے قبل وزارتِ خارجہ کے سابق سکریٹری اور انتر راشٹریہ سہیوگ پریشد (اے آر ایس پی) کے سابق صدر، سفیر ششانک (آئی ایف ایس، ریٹائرڈ) کی صدارت میں ایک عمومی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں لتھوانیا کی ہندوستان میں سفیر ڈیانا میکویچیئنے، فجی کے ہندوستان میں ہائی کمشنر سفیر جگن ناتھ سامی، وزارتِ ثقافت کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ للی پانڈیا اور سابق سفارت کار و مصنف جناب ٹی سی اے راگھون نے مقررین کی حیثیت سے شرکت کی۔ وزارتِ ثقافت کے بین الاقوامی ثقافتی تعلقات (آئی سی آر) ڈویژن کی ڈائریکٹر محترمہ پریانکا چندرا نے اجلاس کی نظامت کی۔ کانفرنس میں جنابک سفیر اور مندوبین بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اس کانفرنس کا مقصد بین الشعبہ جاتی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے گریٹر انڈیا سوسائٹی کی علمی روایت کو ازسرِنو فروغ دینا اور ہندوستان و دنیا کے درمیان تاریخی ثقافتی تبادلوں کا جائزہ لینا ہے۔ اس میں دس موضوعات کے تحت مختلف خطوں میں فلسفے، مذہب، زبانوں، فنون، کپڑوں، کھانوں، فنونِ لطیفہ، تجارت اور بیرونِ ملک آباد ہندوستانی برادریوں کی مشترکہ روایات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

برہتّر بھارت اسکیم (2026–2031) کے تحت منظم اس اقدام کا مقصد مشترکہ ثقافتی ورثے سے متعلق مشترکہ تحقیق، دستاویز بندی، رقمیانے اور تحفظ کے کام کو آگے بڑھانا ہے۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی علمی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا اور دنیا کے ساتھ ہندوستان کے ثقافتی روابط پر ہونے والی تحقیق کو عالمی سطح پر عام کرنا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہے۔

***

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6241


(ریلیز آئی ڈی: 2324613) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी