عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
ای-حکمرانی میں اصلاحات سے متعلق دو روزہ قومی کانفرنس کا دھرم شالہ میں آغاز
افتتاحی اجلاس سے وزیرِ اعلیٰ ہماچل پردیش، سکریٹری ڈی اے آر پی جی اور چیف سکریٹری ہماچل پردیش کا خطاب
پہلے دن ڈیجیٹل اختراع، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور شہریوں پر مرکوز حکمرانی پر توجہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 6:28PM by PIB Delhi
ای-حکمرانی میں اصلاحات سے متعلق دو روزہ قومی کانفرنس کا آج ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں آغاز ہوا۔ اس کانفرنس میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے نمائندوں کے ساتھ ماہرین بھی شرکت کر رہے ہیں، جہاں ڈیجیٹل تبدیلی، حکمرانی کے اختراعی طریقوں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی کے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔
افتتاحی اجلاس میں حکومتِ ہند کے محکمۂ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی) کی سکریٹری محترمہ نِویدیتا شکلا ورما نے استقبالیہ خطاب کیا۔ اس کے بعد ہماچل پردیش حکومت کے چیف سکریٹری جناب کملیش کمار پنت اور ہماچل پردیش کے وزیرِ اعلیٰ جناب سکھویندر سنگھ سکھو نے خطاب کیا۔ ڈی اے آر پی جی کے ایڈیشنل سکریٹری جناب پُنیت یادو نے اظہارِ تشکر کیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مستفیدین کی فلاح و بہبود یقینی بنانے کے لیے اصلاحات لانا ضروری ہے اور جدید ٹیکنالوجی مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اچھی حکمرانی پر توجہ دے رہی ہے اور محکموں کو چاہیے کہ وہ ریاست کے لوگوں کو ان کے گھروں کے قریب معیاری خدمات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔ انہوں نے ہماچل پردیش میں اس کانفرنس کے انعقاد پر مرکزی وزیر مملکت (عملہ) ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور ڈی اے آر پی جی کی ستائش کی۔
قومی ای-حکمرانی ایوارڈز اور وزیرِ اعظم ایوارڈز کے تحت موصول ہونے والی نامزدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی اے آر پی جی کی سکریٹری نے اپنے خطاب میں اضلاع، ریاستوں اور وزارتوں کی جانب سے حکمرانی کو زیادہ مضبوط اور شہری مرکوز بنانے کے لیے کیے گئے اختراعی کاموں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ ایسے طریقوں کو بڑے پیمانے پر رائج کیا جائے اور ایک مقام پر کامیاب ہونے والی اختراع کو متعدد مقامات پر قابلِ عمل بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی کامیاب تجرباتی منصوبے کو قومی سطح پر رائج طریقۂ کار میں تبدیل کرنے کے درمیان حائل فاصلے کو ختم کرنا ہی قومی کانفرنس کا مقصد ہے۔
ہماچل پردیش کے وزیرِ اعلیٰ اور ریاستی انتظامیہ کا کانفرنس کی میزبانی میں تعاون اور مہمان نوازی کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے سکریٹری نے مرکزی وزیر مملکت (عملہ) ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی دوراندیش قیادت اور ڈی اے آر پی جی کے حکمرانی سے متعلق اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی مسلسل رہنمائی کا ذکر کیا۔ مرکزی وزیرِ صحت جناب جے پی نڈا کے تعاون کا بھی اعتراف کیا گیا۔ دونوں وزراء نے قومی کانفرنس کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
ہماچل پردیش حکومت کے چیف سکریٹری جناب کملیش کمار پنت نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ای-حکمرانی کے ذریعے شہری اپنے گھر کی دہلیز پر سرکاری خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہماچل پردیش حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے مختلف اقدامات کا ذکر کیا اور وضاحت کی کہ ڈیجیٹل حکمرانی طریقۂ کار کی رکاوٹوں کو کم کرنے میں کس طرح مدد دے رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کا مقصد رکاوٹوں کو ختم کرنا، مساوات کو فروغ دینا اور عوام تک سرکاری خدمات زیادہ مؤثر انداز میں پہنچانا یقینی بنانا ہے۔
اس اجلاس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی اور حکمرانی میں اصلاحات نیز عوامی انتظامیہ میں ڈیجیٹل اختراع کے کردار پر تبادلۂ خیال کیا۔
کانفرنس کے پہلے دن ہماچل پردیش حکومت کے پانچ اہم اقدامات پیش کیے گئے، جن میں ہِم پریوار، سکھاشریہ، ودیا سمیکشا کیندر (وی ایس کے)، گرین ہماچل اور راجیو گاندھی ون سَموَردھن یوجنا شامل ہیں۔ ان پیش کشوں میں صحت، سماجی انصاف، تعلیم، ماحولیات اور جنگلات کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں حکمرانی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔
دیگر اجلاسوں میں ایوارڈ یافتہ اقدامات پر پیش کشیں کی گئیں، جن میں حکمرانی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو نمایاں کیا گیا۔ ان اقدامات میں ایگری اسٹیک، ای-جاگرتی، ای-سنجیونی ٹیلی میڈیسن سروس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی طبی فیصلہ سازی معاون نظام، کثیر النوع آفات سے متعلق ابتدائی انتباہی فیصلہ سازی معاون نظام اور آئی جی او ٹی کرم یوگی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ای آروگیہ دھمنی، ضلعی عدالتوں کے مقدمات کے انتظام کا نظام (ڈی سی ایم ایس)، آئی سی ایم آر-مائنڈز، ہندوستانی ہائی بلڈ پریشر کنٹرول پہل اور ڈیجی یاترا پر بھی پیش کشیں کی گئیں۔
کانفرنس کے دوسرے دن، جو 17 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوگا، سائبر سکیورٹی، ای-حکمرانی کے بہترین طریقوں، کامیاب اقدامات کو دیگر مقامات پر نافذ کرنے، اعداد و شمار کے تجزیے اور ریاستی، ضلعی اور نچلی سطح کے اقدامات پر اجلاس ہوں گے، جس کے بعد اختتامی اجلاس منعقد ہوگا۔
ای-حکمرانی میں اصلاحات سے متعلق قومی کانفرنس کا مقصد سرکاری اداروں کے درمیان خیالات اور تجربات کے تبادلے کو مضبوط بنانا اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے مؤثر، اختراعی اور شہری مرکوز حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔




***
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-6230
(ریلیز آئی ڈی: 2324523)
وزیٹر کاؤنٹر : 10