سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
شلپ سماگم میلہ 2026 - میسور
مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے کا میسور میں ’شلپ سماگم میلہ 2026‘ کا دورہ
معاشی بااختیاری کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی
میلے میں 83 اسٹالز ہیں، جن میں سے 80 دستکاروں کے لیے مختص ہیں؛ ان میں 37 خواتین دستکار بھی شامل ہیں
بارہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی شرکت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 7:10PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے زیر اہتمام منعقدہ نو روزہ ’شِلپ سماگم میلہ 2026‘، کرناٹک کے میسور دسہرہ ایگزیبیشن گراؤنڈز میں 11 اکتوبر سے جاری ہے۔ یہ میلہ پیر، 19 اکتوبر کو اختتام پذیر ہوگا۔

نیشنل شیڈولڈ کاسٹس فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ یہ میلہ شیڈولڈ کاسٹس ، دیگر پسماندہ طبقات اور صفائی کرمچاریوں سے تعلق رکھنے والے دستکاروں اور مستفیدین کے لیے مارکیٹنگ کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنی روایتی دستکاریوں، ہینڈلوم (کرگھے سے بنی) مصنوعات اور دیگر اشیاء کو ایک وسیع تر سامعین کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس میلے کا اہتمام وزارت کے تحت کام کرنے والے تین قومی کارپوریشنوں نے مشترکہ طور پر کیا ہے، جن میں نیشنل شیڈولڈ کاسٹس فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ، نیشنل بیکورڈ کلاسز فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور نیشنل صفائی کرمچاری فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن شامل ہیں۔ یہ ادارے دستکاروں اور اہل مستفیدین کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے مرکزی وزیر مملکت، جناب رام داس اٹھاولے نے ’شِلپ سماگم میلہ‘ کے اپنے دورے کے دوران، سماجی طور پر پسماندہ اور کمزور طبقات کی معاشی اور سماجی بااختیاری کے لیے مرکزی حکومت کے عزم کو اجاگر کیا۔
وزیر موصوف کو بتایا گیا کہ جاری میلے میں کل 83 اسٹالز ہیں، جن میں سے 80 اسٹالز دستکاروں کے لیے مختص کیے گئے ہیں؛ ان میں 37 خواتین دستکار بھی شامل ہیں۔ اس نمائش میں 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں—جن میں آندھرا پردیش، بہار، کرناٹک، کیرالہ، راجستھان، پڈوچیری، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، تلنگانہ، تمل ناڈو اور اتر پردیش شامل ہیںکے دستکار حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر موصوف نے مختلف مصنوعات پر مشتمل اسٹالز کا دورہ کیا اور ان کا معائنہ کیا۔ ان مصنوعات میں دستکاری، ہینڈلوم ساڑھیاں، مصالحے، اچار، اگربتیاں، شہد سے بنی اشیاء، بلاک پرنٹ شدہ سامان، چمڑے کی مصنوعات، لکڑی کے کھلونے، بیگ، پرس، مٹی کی مصنوعات (ٹیراکوٹا)، مصنوعی زیورات، روز ووڈ (شیشم کی لکڑی) سے بنی دیوار پر سجانے کی اشیاء، اور بیڈ اور کشن کے غلاف شامل تھے۔ انہوں نے کھانے پینے کے اسٹالز کا بھی دورہ کیا جہاں روایتی پکوان پیش کیے جا رہے تھے، جس سے آنے والوں کے تجربے میں مزید اضافہ ہوا۔
اس سے قبل میسور میں سرکاری گیسٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جناب اٹھاولے نے کہا کہ مرکزی حکومت نے درج فہرست ذاتوں، دیگر پسماندہ طبقات
، صفائی ملازمین، خواجہ سراؤں اور معذور افراد (بشمول بصارت سے محروم افراد) کی معاشی اور سماجی بااختیاری کو فروغ دینے کے لیے مختلف فلاحی اور ترقیاتی اسکیمیں متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے رعایتی مالی امداد فراہم کرنے میں نیشنل ڈیولپمنٹ کارپوریشنزکے کردار پر روشنی ڈالی۔ ان کے تحت مختلف اسکیموں کے ذریعے 1.5 لاکھ روپے سے لے کر 35 لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں، جو کہ اہلیت کے معیار اور اسکیم کی شرائط کے تابع ہیں۔

سماجی بہبود کے لیے حکومت کے عزم پر زور دیتے ہوئے، وزیر نے بتایا کہ مرکزی بجٹ (یونین بجٹ) میں، جو کہ کل 57 لاکھ کروڑ روپے کا ہے، سماجی بہبود کی اسکیموں کے لیے 1.98 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
جناب اٹھاولے نے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے ریزرویشن (مخصوص نشستوں/کوٹے) سے متعلق آئینی دفعات، منڈل کمیشن کی سفارشات کے بعد دیگر پسماندہ طبقات کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کی فراہمی، اور اس کے بعد معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے 10 فیصد ریزرویشن متعارف کرائے جانے کا بھی ذکر کیا۔
اہم فلاحی اقدامات کی رسائی پر روشنی ڈالتے ہوئے،جناب اٹھاولے نےپردھان منتری آواس یوجنا کا حوالہ دیا، جس کے تحت ملک بھر میں تقریباً چار کروڑ مستحقین نے فوائد حاصل کیے ہیں، جن میں کرناٹک کے تقریباً 10 لاکھ مستحقین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مالی شمولیت کو وسعت دینے میںپردھان منتری جن دھن یوجنا کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور بتایا کہ اس اسکیم کے تحت کرناٹک میں 2,22,23,000 (دو کروڑ بائیس لاکھ تئیس ہزار) بینک کھاتے کھولے گئے ہیں۔
میسور ضلع میں تعلیمی معاونت کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر نے بتایا کہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے تقریباً 13,000 طلباء اور میٹرک کے بعد کی تعلیم حاصل کرنے والے 31,000 طلباء نے تعلیمی معاونت سے استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع کے 84 سرکاری ہاسٹلوں میں رہائش پذیر 7,000 طلباء میں سے تقریباً 75 فیصد کا تعلق شیڈولڈ کاسٹس (درج فہرست ذاتوں) سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل مستحقین کو ماہانہ وظائف بھی دیے جا رہے ہیں، جن میں کالج کے طلباء کے لیے 1,850 روپے اور ہائی اسکول کے طلباء کے لیے 1,750 روپے شامل ہیں۔

اس میلے کا مقصد دستکاروں کے لیے مارکیٹ روابط کو مضبوط بنانا، روایتی دستکاری کو فروغ دینا اور روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کرنا ہے۔ زائرین اور ممکنہ خریداروں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے ذریعے، اس میں حصہ لینے والے دستکار اپنی مصنوعات کی نمائش کر سکتے ہیں، اپنے گاہکوں کے دائرے کو وسیع کر سکتے ہیں اور اپنے کاروبار کی مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ اقدام بھارت کے بھرپور ثقافتی ورثے کو بھی فروغ دیتا ہے اور روایتی فنون اور مہارتوں کے تحفظ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
’شِلپ سماگم میلہ‘ وزارت اور اس کے تین قومی کارپوریشنوں کی اسکیموں اور پروگراموں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ اس سے مستحق افراد کو دستیاب مالی امداد اور کاروباری مواقع کے بارے میں جاننے میں مدد ملتی ہے۔
وزارت، دستکاروں کی شرکت کو آسان بنانے کے لیے، مقررہ ضوابط کے مطابق انہیں مفت اسٹالز فراہم کرتی ہے اور سفری اخراجات، یومیہ الاؤنس، سامان کی نقل و حمل اور کھانے پینے کے سلسلے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔
اس میلے کے علاوہ، وزارت ’بھارت ٹیولپ( روایتی دستکاروں کی ترقی اور روزگار کا پروگرام) نامی اقدام کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ اس کا مقصد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے، بھارت اور بیرونِ ملک، ہدف بنائے گئے دستکاروں کی تیار کردہ مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی کو بڑھانا ہے۔ ’بھارت ٹیولپ‘ کے تحت مصنوعات کی برانڈنگ کا مقصد ان کی نمائش کو بہتر بنانا، آن لائن فروخت میں سہولت فراہم کرنا اور روایتی دستکاروں کو گاہکوں کے ایک وسیع حلقے سے جوڑنا ہے۔
وزارت 2022 سے ’شِلپ سماگم میلے‘ منعقد کر رہی ہے، اور اب تک منعقد ہونے والے 13 میلوں سے 975 دستکار مستفید ہو چکے ہیں۔
میسورو میں جاری یہ میلہ مالی سال 27-2026 کا پہلا ’شِلپ سماگم میلہ‘ ہے۔ وزارت کی جانب سے موجودہ مالی سال کے دوران گوہاٹی، نئی دہلی کےدلی ہاٹ جودھپور اور لکھنؤ میں مزید میلوں کے انعقاد کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، وزارت اہم نمائشوں میں بھی شرکت کرے گی، جن میں 14 سے 27 نومبر 2026 تک نئی دہلی کےبھارت منڈپم میں منعقد ہونے والاانڈیا انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر 2026اور فروری 2027 میں ہونے والاسورج کنڈ میلہ شامل ہیں۔
'شِلپ سماگم میلہ 2026میسور دسہرہ ایگزیبیشن گراؤنڈز میں پیر، 19 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ یہ میلہ زائرین کوبھارت کی روایتی دستکاریوں اور ہینڈلوم (ہاتھ سے بنی) مصنوعات کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے، اور ساتھ ہی دستکاروں کے روزگار کی معاونت بھی کرتا ہے۔ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے، وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات مارکیٹ تک رسائی کو مضبوط بنانے، کاروباری رجحان کی حوصلہ افزائی کرنے اور پسماندہ طبقات کی معاشی خود مختاری کو فروغ دینے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
*****
(ش ح۔اص)
UR No 1671
(ریلیز آئی ڈی: 2324119)
وزیٹر کاؤنٹر : 9