سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ساتھیوں کے دباؤ سے بامقصد زندگی تک


ناگپور، مہاراشٹر کے پرکاش لونڈھے کی خود انحصاری کی داستان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 SEP 2026 2:54PM by PIB Delhi

بروقت مشاورت، بحالی اور رویّوں میں مثبت تبدیلی کے لیے معاونت، افراد کو نقصان دہ اثرات سے نکلنے، اپنا اعتماد بحال کرنے اور دوبارہ باعزت اور مفید معاشی سرگرمیوں سے وابستہ ہونے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ضرورت کے مطابق فراہم کی جانے والی معاونت سے مستفید ہونے والے افراد کو اپنی توجہ دوبارہ اپنے مقاصد پر مرکوز کرنے، خاندان کے مالی استحکام کو بہتر بنانے اور زیادہ منظم و خود کفیل زندگی کی جانب بڑھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

مہاراشٹر کے شہر ناگپور سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ پرکاش لونڈھے (تبدیل شدہ نام)، جو درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والے مستفید ہیں، اپنے ہم عمر ساتھیوں کے منفی اثرات سے نبرد آزما تھے۔ اس صورتِ حال نے ان کے روزمرہ معمولات کو متاثر کیا اور انہیں اپنے آٹو رکشہ کے کاروبار سے غافل کر دیا۔ نتیجتاً، ان کے کام کے اوقات بے قاعدہ ہو گئے، وہ رش کے اوقات میں سفر کرنے والے مسافروں سے محروم رہنے لگے، روزانہ کی آمدنی کم ہو گئی اور مالی عدم استحکام بڑھنے لگا۔ ان کی غیر مستقل آمدنی کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور ان کے مستقبل کے حوالے سے اہلِ خانہ کو گہری تشویش لاحق تھی۔

نقصاندہ عادات سے چھٹکارا پانے اور اپنے روزگار پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنے کی خواہش کے تحت، جناب لونڈھے نے ناگپور کے ‘نو جیون انٹیگریٹڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر فار ایڈکٹ’ (نشے کے عادی افراد کے لیے مربوط بحالی مرکز) میں منشیات کی طلب میں کمی کے قومی لائحۂ عمل(این اے پی ڈی ڈی آر) کے تحت معاونت حاصل کی۔ یہ ادارہ نشے کے عادی افراد کے لیے ایک مربوط بحالی مرکز(آئی آر سی اے) ہے۔ اس مرکز میں انہیں پیشہ ورانہ نفسیاتی مشاورت، ترغیبی نشستوں، رویّوں میں مثبت تبدیلی کے لیے معاونت، بحالی کی سہولیات اور ساتھیوں کے دباؤ میں آکر منشیات یا دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو قبول کرنے سے انکار کرنے کی تربیت فراہم کی گئی، تاکہ وہ منفی اثرات کا مقابلہ کر سکیں۔

مشاورت اور رویّوں میں مثبت تبدیلی کے لیے فراہم کردہ معاونت کے نتیجے میں، جناب پرکاش کو بری صحبت اور منشیات کے استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں زیادہ بہتر شعور حاصل ہوا۔ اہلِ خانہ کی مسلسل رہنمائی اور جذباتی تعاون سے انہوں نے منفی اثرات ڈالنے والے ساتھیوں سے تعلق ختم کر لیا اور اپنی زندگی میں نظم و ضبط پر مبنی معمولات اپنا لیے۔ اب وہ باقاعدگی سے اپنا آٹو رکشہ چلانے اور رش کے اوقات میں مسافروں کی زیادہ طلب سے بہتر طور پر فائدہ اٹھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260930145534_86fdd0.jpg

پورا وقت کام کرنے اور مسافروں کی زیادہ آمدورفت کے اوقات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنا آٹو رکشہ چلانے سے پرکاش لونڈھے کی روزانہ کی سواریوں کی تعداد اور آمدنی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس بہتری سے ان کے خاندان کی مالی حالت مستحکم ہوئی ہے اور اپنے روزگار کو جاری رکھنے کے حوالے سے ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

پرکاش لونڈھے کا سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشاورت، بحالی اور اہلِ خانہ کی معاونت کسی فرد کو منفی اثرات سے نکلنے، اپنی توجہ دوبارہ اپنے مقصد پر مرکوز کرنے اور زیادہ سے زیادہ معاشی خود کفالت کی جانب بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کا تجربہ اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ منشیات کی طلب میں کمی کے قومی لائحۂ عمل(این اے پی ڈی ڈی آر) کے تحت بروقت معاونت مستفید ہونے والے افراد کو نظم و ضبط، خودداری اور نئے عزم کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

***

 ش ح۔ س ک۔ ج ا

U.No. 6127


(ریلیز آئی ڈی: 2323726) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी