راجیہ سبھا سکریٹریٹ
تعلیم، خواتین، بچوں، نوجوانوں اور کھیلوں سے متعلق محکمانہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی قومی امتحانی ایجنسی (این ٹی اے) میں اصلاحات اور اسے مستحکم بنانے سے متعلق 382ویں رپورٹ پر پریس ریلیز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 OCT 2026 5:33PM by PIB Delhi
راجیہ سبھا کے رکن پارلیمان جناب مکل واسنک کی سربراہی میں تعلیم، خواتین، بچوں، نوجوانوں اور کھیلوں سے متعلق محکمانہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے وزارت تعلیم کے محکمۂ اعلیٰ تعلیم سے متعلق ’’قومی امتحانی ایجنسی (این ٹی اے) میں اصلاحات اور اسے مستحکم بنانے‘‘ کے موضوع پر اپنی 382ویں رپورٹ 9 اکتوبر 2026 کو راجیہ سبھا کے چیئرمین کو پیش کی۔
2۔ 382ویں رپورٹ کی تیاری کے دوران کمیٹی نے وزارت تعلیم کے محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے سکریٹری، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے سکریٹری، قومی امتحانی ایجنسی کی چیئرپرسن، قومی امتحانی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل، محکمۂ خلائی امور کے سابق سکریٹری اور ماہرین کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر کے۔ رادھا کرشنن اور متعلقہ محکمے کے دیگر نمائندوں کے خیالات سنے اور اس موضوع کا تفصیلی جائزہ لیا۔
3۔ کمیٹی نے 25 اگست 2026 کو منعقدہ اپنے اجلاس میں اس رپورٹ پر غور کرنے کے بعد اسے منظور کیا۔ رپورٹ میں کمیٹی کے مشاہدات اور سفارشات اس کے ساتھ منسلک ہیں۔
4۔ یہ رپورٹ درج ذیل لنک پر بھی دستیاب ہے:
https://sansad.in/rs/committees/16?departmentally-related-standing-committees
382ویں رپورٹ
کمیٹی کے مشاہدات اور سفارشات
10.1 کمیٹی اس بات کا مشاہدہ کرتی ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت قومی امتحانی ایجنسی (این ٹی اے) کو نہایت اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ یہ ایجنسی ملک کے اہم ترین عوامی امتحانات، مثلاً جے ای ای مین، نیٹ یو جی، یو جی سی نیٹ اور سی یو ای ٹی وغیرہ منعقد کرتی ہے اور اس طرح اعلیٰ تعلیمی نظام میں داخلے کا اہم ذریعہ ہے۔ مجموعی طور پر، این ٹی اے ایسے امتحانات منعقد کرتی ہے جن میں ہر سال تقریباً 1.2 کروڑ طلبہ شرکت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، نیٹ جیسے ملک گیر امتحان کو کامیابی کے ساتھ منعقد کرنے کے لیے مرکزی، ریاستی اور مقامی حکومتوں کی سطح پر مختلف محکموں کے درمیان مکمل تال میل اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح این ٹی اے پر نہایت اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اسے متعدد متعلقہ فریقوں کے ساتھ تال میل قائم کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
این ٹی اے مسلسل ارتقا کے مرحلے میں ہے۔ اس کے تنظیمی ڈھانچے کو اس طرح حتمی شکل دی جانی چاہیے کہ اس کے وسائل اور جواب دہی کا نظام اسے سونپی گئی ذمہ داریوں کے مطابق ہو۔ اس مقصد کے لیے محکمہ پارلیمنٹ کے سامنے این ٹی اے کی جواب دہی یقینی بنانے کے لیے مناسب پارلیمانی نظام متعارف کرا سکتا ہے۔
10.2 کمیٹی کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ سوالات بینک میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔ ایک ہی سوالات کے مجموعے کو بار بار استعمال کرنا یا ہر سال ممتحنین سے نئے سوالیہ پرچے تیار کرانا امتحانی عمل کی شفافیت اور سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لیے کمیٹی کی رائے ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو سوالات کا ایک وسیع، متنوع اور مسلسل اپڈیٹ کیا جانے والا بینک تیار کرنے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، جس سے سوالیہ پرچے تیار کرتے وقت سوالات اس طرح منتخب کیے جا سکیں کہ سوالات تیار کرنے والوں کو پہلے سے ان کے بارے میں معلومات نہ ہوں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر پر مبنی امتحان (سی بی ٹی) کے نظام میں اب سوالیہ پرچوں کی چھپائی اور انہیں امتحانی مراکز تک پہنچانے کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے۔ لہٰذا، سوالیہ پرچے بہت پہلے تیار کرنے کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔ اس کے مطابق، حتمی سوالیہ پرچے امتحان سے بالکل قریب تیار کیے جانے چاہئیں، جن کے سوالات ڈیجیٹل ذرائع کی مدد سے سوالات کے بینک سے منتخب کیے جائیں اور صرف ماہرین ان کی جانچ پڑتال کریں۔ آخر میں، کمیٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ حتمی سوالیہ پرچوں کی جانچ کرنے والے ماہرین کو امتحان کے اختتام تک سخت نگرانی میں الگ تھلگ رکھا جائے اور ان کا بیرونی رابطہ منقطع رکھا جائے۔
کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے کو سوالات کے بینک کی تیاری اور ترجمے کے لیے ہمارے معروف ترین تعلیمی اداروں، بشمول آئی آئی ٹی، ایمس، آئی آئی ایم وغیرہ کے مستند ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں۔ این ٹی اے کو ایسے ماہرین کی سابقہ کارکردگی اور پس منظر کی جانچ کے لیے بھی ایک نظام وضع کرنا چاہیے، تاکہ ان کی دیانت داری کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کے مفادات کے ٹکراؤ (مثلاً، نجی کوچنگ مراکز کے مالکان یا وہاں تدریس کرنے والے افراد، یا ایسے افراد کے اہل خانہ ، جو خود امتحان میں شریک ہو رہے ہوں)کا امکان ختم کیا جا سکے۔ یہ تمام پہلو ماہرین کی خدمات حاصل کرنے سے پہلے جانچ لیے جانے چاہئیں۔
10.3 محض طریقہ کار ہی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ثقافت بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس لیے کمیٹی کی رائے ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو ایسی ثقافت کو فروغ دینا چاہیے، جس میں ڈائریکٹر جنرل سے لے کر امتحانی مرکز کے نگراں تک ہر عہدیدار خود کو محض انتظامی نظام کا ایک ملازم نہیں، بلکہ امتحانات کی شفافیت اور دیانت داری کا محافظ سمجھے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ حالیہ چیلنجوں کے باعث قومی ٹیسٹنگ ایجنسی پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل، شفاف اور دوطرفہ رابطہ ضروری ہوگا۔ کمیٹی نے نشاندہی کی ہے کہ امیدواروں کے ساتھ این ٹی اے کا موجودہ رابطہ بڑی حد تک پورٹل اور اطلاعات کے ذریعے یک طرفہ ابلاغ تک محدود ہے۔ کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ طلبہ اور تعلیمی اداروں سے رائے حاصل کرنے کے لیے این ٹی اے کے ذرائع کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایسے ذرائع کو این ٹی اے کے روزمرہ کام کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور طلبہ، والدین اور اساتذہ کے درمیان ان کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جائے، تاکہ ایجنسی متعلقہ فریقوں کے خدشات اور مسائل پر زیادہ مؤثر انداز میں توجہ دے سکے۔
10.4 کمیٹی قومی ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے 2024 سے اب تک کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتی ہے۔ ادارہ جاتی نظام کے تحت ریاستی سطح کی رابطہ کمیٹیوں (ایس ایل سی سی)، ضلعی سطح کی رابطہ کمیٹیوں (ڈی ایل سی سی)، بایومیٹرک تصدیق، موبائل جیمرز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سی سی ٹی وی تجزیے جیسے اقدامات خوش آئند ہیں۔ تاہم، ان تمام اقدامات کے باوجود نیٹ (یو جی) 2026 کا امتحان منسوخ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طریقۂ کار اور ادارہ جاتی نظام میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔
10.5 کمیٹی اس بات کا مشاہدہ کرتی ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی میں منظور شدہ 39 عہدوں میں سے اس وقت صرف 23 افسران تعینات ہیں اور ایجنسی میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، جب کہ 41 فیصد عہدے خالی ہیں۔ کمیٹی اس بات کا بھی ذکر کرتی ہے کہ این ٹی اے کو مضبوط بنانے کے لیے افرادی قوت کی بھرتی، ڈاکٹر کے. رادھا کرشنن کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی کی اہم سفارشات میں شامل تھی۔ کمیٹی این ٹی اے میں افرادی قوت کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایجنسی پر زور دیتی ہے کہ وہ تمام منظور شدہ عہدوں پر بھرتی کا عمل تیز کرے۔
کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ این ٹی اے میں موجود تمام 39 مستقل عہدے فی الحال دوسرے محکموں سے افسران کی عارضی تعیناتی کے ذریعے پُر کیے جاتے ہیں۔ عموماً، اس طرح تعینات افسران دو سے تین سال کی محدود مدت تک خدمات انجام دینے کے بعد اپنے اصل محکموں میں واپس چلے جاتے ہیں۔ تاہم، قومی سطح کے داخلہ امتحانات کے انعقاد کے لیے خاصی مہارت درکار ہوتی ہے، جو عموماً کئی سال کے تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے عملے کا ایک مستقل کیڈر ضروری ہے۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے اپنے افسران مستقل بنیادوں پر بھرتی کرے، بالخصوص نفسیاتی پیمائش، امتحانات کے تحفظ، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، اعداد و شمار کے تجزیے اور امتحانی انتظامات کے ماہرین کو ترجیح دی جائے۔ مرکزی تعیناتی اسکیم کے تحت آنے والے 16 عہدوں کو اعلیٰ سطحی قیادت کی اضافی تہہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ متعلقہ شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کے متبادل کے طور پر۔
10.6 کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے منعقد کیے جانے والے کمپیوٹر پر مبنی امتحانات کے لیے محفوظ سرکاری امتحانی مراکز قائم کرنے کا ایک ٹھوس منصوبۂ عمل جلد از جلد حتمی شکل دیا جانا چاہیے۔ اس میں بجٹ کی فراہمی اور پہلے سے موجود سرکاری ملکیت والی سہولتوں کی تازہ ترین فہرست اور نقشہ بندی بھی شامل ہونی چاہیے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ سرکاری ملکیت میں مناسب بنیادی ڈھانچہ دستیاب ہونا چاہیے، تاکہ نجی امتحانی مراکز پر انحصار سے بچا جا سکے۔
10.7 کمیٹی کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام کی جانب مرحلہ وار منتقلی کے لیے اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی (ایچ ایل سی ای) کی سفارشات کا ذکر کرتی ہے اور اصولی طور پر اس طریقۂ کار سے اتفاق کرتی ہے۔ کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ این ٹی اے کے ذریعے منعقد کیے جانے والے زیادہ تر داخلہ امتحانات پہلے ہی کمپیوٹر پر مبنی نظام ( سی بی ٹی )کے تحت منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں جے ای ای مینز، یو جی سی نیٹ اور سی یو ای ٹی شامل ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل خواندگی ایک نہایت اہم تعلیمی اور پیشہ ورانہ مہارت ہے، جو طلبہ میں تیزی سے عام ہو رہی ہے۔ کمیٹی یہ بھی مشاہدہ کرتی ہے کہ نیٹ (یو جی) واحد ایسا امتحان ہے جس میں اب بھی قلم اور کاغذ کے ذریعے امتحان لینے پر انحصار کیا جاتا ہے۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ نیٹ کو بھی کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام میں منتقل کیا جائے۔
تاہم، کمیٹی کو اب بھی اس بات پر تشویش ہے کہ دور دراز علاقوں اور محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام (سی بی ٹی)تک رسائی کس حد تک ممکن ہوگی۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ اس نظام کی جانب منتقلی کے ساتھ ایک جامع قومی امتحانی حکمت عملی بھی اپنائی جائے، تاکہ ڈیجیٹل سہولتوں تک زیادہ سے زیادہ رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس حکمت عملی میں درج ذیل اقدامات شامل ہو سکتے ہیں:
- نیٹ (یو جی) کو کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام میں منتقل کرنے سے پہلے ملک بھر میں خاص طور پر دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں اور دیہی علاقوں میں سرکاری ملکیت والے کمپیوٹر پر مبنی امتحانی مراکز کے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جانی چاہیے ۔ اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی کی جانب سے تجویز کردہ 1,000 محفوظ سرکاری کمپیوٹر پر مبنی امتحانی مراکز قائم کرنے کی سفارش کو واضح اور مرحلہ وار مدتِ کار کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے، تاکہ امتحانات کے انعقاد میں سہولت ہو۔ کمیٹی تجویز کرتی ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی خود ملک بھر کے اسکولوں اور کالجوں میں درمیانے درجے کی کمپیوٹر لیبارٹریوں کے قیام کے لیے مالی مدد فراہم کرے، جن میں 100 سے 200 کمپیوٹر ہوں۔ اسکول یا کالج انتظامیہ کی جانب سے کمپیوٹر لیبارٹری کے لیے جگہ فراہم کیے جانے کی صورت میں، این ٹی اے ضروری کمپیوٹر اور دیگر آلات کی خریداری پر سرمایہ کاری کر سکتی ہے، بشرطیکہ یہ سہولتیں این ٹی اے کو مطلوبہ امتحانات منعقد کرنے کے لیے دستیاب کرائی جائیں۔
- کمیٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ ہر ضلع میں کم از کم ایک امتحانی مرکز ہونا چاہیے، جہاں تمام امتحانات منعقد کیے جا سکیں، تاکہ طلبہ کو نقل وحمل اور رہائش پر ہونے والے اخراجات اور اس سے پیدا ہونے والے دباؤ سے بچایا جا سکے۔
- کمیٹی کا کہنا ہے کہ ذیلی ٹھیکے کی بنیاد پر امتحانی مراکز کے طور پر کام کرنے والے نجی ادارے اکثر امتحانات کے تحفظ کے معاملے میں کمزور کڑی ثابت ہوئے ہیں۔ لہٰذا، تمام امتحانی مراکز مرکزی یا ریاستی حکومتوں کی ملکیت میں ہونے چاہئیں اور انہی کے زیر انتظام چلائے جانے چاہئیں۔
- طلبہ کو کمپیوٹر پر مبنی امتحانات (سی بی ٹی)کے موک ایگزام دینے کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں، تاکہ وہ اس طریقۂ امتحان اور ڈیجیٹل نظام سے اچھی طرح واقف ہو سکیں۔
- وزارت تعلیم اسکول کی سطح پر بھی کمپیوٹر پر مبنی امتحانات (سی بی ٹی)شامل کرنے پر غور کر سکتی ہے تاکہ طلبہ کو ڈیجیٹل امتحانی نظام سے مانوس کیا جا سکے۔
- کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام (سی بی ٹی)نافذ کرنے سے پہلے، ان علاقوں میں جہاں کمپیوٹر کی عدم دستیابی یا انٹرنیٹ رابطے کی کمی کے باعث ضروری بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے، ان جگہوں پر قومی ٹیسٹنگ ایجنسی کو ایک ہائبرڈ ماڈل پر غور کرنا چاہیے جس کے تحت سوالات کو خفیہ اور محفوظ شکل میں براہِ راست امتحانی مرکز تک پہنچایا جائے اور وہاں ہی ان کی چھپائی کر لی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ یہ طریقۂ کار قابلِ عمل ہے۔ اسے اس وقت تک اپنایا جا سکتا ہے، جب تک تمام مراکز کمپیوٹر پر مبنی امتحانات (سی بی ٹی)کے انعقاد کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہو جاتے۔
- کمپیوٹر پر مبنی نیٹ (یو جی) امتحان مختلف نشستوں میں منعقد کیے جانے کے باعث، نمبروں کو یکساں پیمانے پر لانے کے لیے ایک مضبوط، شفاف اور آزادانہ طور پر آڈٹ شدہ طریقۂ کار درکار ہوگا۔ کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام میں منتقلی سے پہلے اس طریقۂ کار کو وضع کیا جانا چاہیے اور عوام کو اس کی وضاحت بھی کی جانی چاہیے۔
- نیٹ (یو جی) کو کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام (سی بی ٹی)میں منتقل کرنے کے عمل میں متعلقہ فریقوں، مثلاً صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت، طبی تعلیم کے انضباطی اداروں، طلبہ اور ان کے اہل خانہ سے مشاورت کی جانی چاہیے۔
10.8 کمیٹی اپنے سامنے پیش کیے گئے طریقۂ کار سے متعلق دو خدشات کا مشاہدہ کرتی ہے:
- امتحان کے دوران نگراں کی جانب سے دستخط اور جانچ پڑتال کی رسمی کارروائیاں مکمل کرنے سے ان طلبہ کی توجہ متاثر ہوتی ہے، جو پہلے ہی محدود وقت میں امتحان مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے کمیٹی کی رائے ہے کہ ان رسمی کارروائیوں کے لیے امتحان سے پہلے یا بعد میں 15 منٹ کا الگ وقت مختص کیا جائے اور امتحان کے دوران یہ کارروائیاں نہ کی جائیں۔
- امتحانی مراکز پر چند منٹ تاخیر سے پہنچنے والے امیدواروں کو عموماً امتحان میں بیٹھنے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی، جس کے نتیجے میں معمولی تاخیر کی وجہ سے ان کی پورے سال کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ بعض حقیقی وجوہات کی بنا پر امیدوار امتحانی مرکز پر تاخیر سے پہنچ سکتے ہیں۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ ایسا کوئی طریقۂ کار وضع کیا جائے، جس کے تحت طلبہ کو اپنی تاخیر کی وجوہات درج کرتے ہوئے تحریری یقین دہانی جمع کرانے کے بعد امتحانی ہال میں داخلے کی اجازت دی جائے۔ تاہم، انہیں صرف باقی ماندہ وقت میں ہی امتحان دینے کی اجازت ہو اور کسی بھی صورت میں اضافی وقت نہ دیا جائے۔
10.9 کمیٹی کا کہنا ہے کہ امتحان کے دن عوامی ریلیوں، جلوسوں یا بڑے اجتماعات کی وجہ سے امیدواروں کو تاخیر ہو سکتی ہے اور وہ امتحانی مرکز پر پہنچنے کے مقررہ وقت سے محروم رہ سکتے ہیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024 میں ترمیم کی جائے، تاکہ ضلع انتظامیہ کو امتحان کے دن کسی بھی ریلی، جلوس یا دیگر عوامی اجتماع کی اجازت روکنے کی ہدایت دی جا سکے۔ اس کے علاوہ، پہلے ہی سے ٹریفک کی روانی اور نظم وضبط برقرار رکھنے کے مناسب انتظامات یقینی بنائے جائیں، تاکہ کسی بھی امیدوار کو قابلِ اجتناب بیرونی رکاوٹ کے باعث نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
10.10 کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ اس وقت نیٹ (یو جی) میں کامیاب قرار دیے جانے والے امیدواروں کی تعداد، ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، آیوش اور نرسنگ کے تمام کورسوں میں دستیاب نشستوں کی مجموعی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ کامیاب امیدواروں کی معقول حد تک بڑی تعداد طلبہ کو مشاورت کے مختلف ادوار اور نجی یا تسلیم شدہ خودمختار اداروں کی نشستوں کے ذریعے داخلہ حاصل کرنے کا مناسب موقع فراہم کرتی ہے، لیکن کامیاب امیدواروں اور دستیاب نشستوں کے درمیان حد سے زیادہ فرق لاکھوں طلبہ کے لیے غیر ضروری ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے کمیٹی کی رائے ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کو ہر سال کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کامیابی کے لیے مقررہ پرسنٹائل اور کٹ آف کے طریقۂ کار کا جائزہ لینا چاہیے، تاکہ کامیاب امیدواروں کی تعداد کو دستیاب نشستوں کے مطابق مناسب حد تک رکھا جا سکے، البتہ اس عمل میں قابلیت اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
10.11 کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ سول سروسز امتحان کے برعکس، جس میں امیدواروں کو کثیرمرحلہ وار جانچ کے ذریعے چھانٹا جاتا ہے، نیٹ (یو جی) اب بھی ایک ہی مرحلے کا امتحان ہے، جس کے ذریعے ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، نرسنگ اور آیوش کے کورسوں میں داخلے کے لیے 22 لاکھ سے زیادہ طلبہ کی جانچ کی جاتی ہے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی کو اپنے بڑے امتحانات کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل نظام متعارف کرانے کے امکان کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس کے تحت تمام طبی شعبوں کے لیے ایک مشترکہ ابتدائی امتحان منعقد کیا جا سکتا ہے، جب کہ مخصوص کورسوں کے لیے الگ الگ خصوصی مرکزی امتحان لیا جائے۔ اس طرح نرسنگ یا آیوش میں داخلہ لینے کے خواہش مند امیدواروں کی جانچ اور درجہ بندی ایم بی بی ایس میں داخلہ لینے کے خواہش مند امیدواروں سے الگ کی جا سکے گی اور غیر ضروری مسابقت میں کمی آئے گی۔
10.12 کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ امتحانات سے متعلق خدمات، مثلاً سوالیہ پرچوں کی تیاری، نقل و حمل، چھپائی اور انتظامی امور انجام دینے والی ایسی کمپنیاں، جنہیں ایک یا زیادہ ریاستی حکومتوں یا اداروں نے بلیک لسٹ کر دیا ہے، دیگر ریاستوں اور اداروں سے ٹھیکے حاصل کرتی رہی ہیں۔ فی الحال اس بدعنوانی کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔
کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) بلیک لسٹ کی گئی امتحانی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کا ایک قومی رجسٹر تیار کرے اور اسے برقرار رکھے۔ اس رجسٹر میں کمپنیوں، ان سے وابستہ افراد اور اداروں کے نام، نااہل قرار دیے جانے کی وجوہات اور نااہلی عائد کرنے والے متعلقہ ادارے کی تفصیلات شامل ہونی چاہئیں۔ یہ رجسٹر آن لائن عوام کے لیے دستیاب ہونا چاہیے۔ این ٹی اے، کسی بھی ریاستی حکومت یا کسی دوسرے سرکاری امتحانی ادارے کی جانب سے اس فہرست میں شامل کسی بھی ادارے کو ٹھیکہ دینا، پبلک امتحانات (غلط طور طریقوں کی روک تھام) ایکٹ، 2024 کے تحت قابلِ غور معاملہ سمجھا جانا چاہیے۔ کمیٹی یاد دلاتی ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے محکمے کے خودمختار اداروں سے متعلق اپنی 371ویں رپورٹ میں بھی یہی سفارش کر چکی ہے۔
10.13 کمیٹی کا کہنا ہے کہ کوچنگ کی صنعت نے مؤثر طور پر ایک متوازی نصاب تیار کر لیا ہے، جس کی اہمیت اکثر اسکولوں کے سرکاری نصاب سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس صورتِ حال کی براہِ راست وجہ امتحانات کے طریقۂ کار سے متعلق فیصلے ہیں۔ جب امتحانی پرچوں میں این سی ای آر ٹی یا ریاستی تعلیمی بورڈوں کے نصاب سے باہر کے سوالات پوچھے جاتے ہیں، یا حقیقی تصورات کی سمجھ کے بجائے بار بار مشق کے ذریعے حاصل ہونے والی فوری یادداشت اور سوالات کے نمونوں کو پہچاننے کی صلاحیت کو جانچا جاتا ہے، تو لازماً سیکھنے کے بجائے کوچنگ کو زیادہ اہمیت ملتی ہے۔ امتحانات کے اس طریقۂ کار نے نجی کوچنگ کے ایک بڑے اور بڑی حد تک غیر منضبط شعبے کو فروغ دیا ہے، جس نے ان امتحانات کی تیاری کے لیے اسکول کی سطح پر تعلیم کی جگہ لے لی ہے۔ اس کے علاوہ ، اس سے سماجی و اقتصادی ترقی کے مواقع میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، کیونکہ کوچنگ کی فیس برداشت کرنے والے طلبہ کو ان باصلاحیت طلبہ کے مقابلے میں ایک بنیادی برتری حاصل ہو جاتی ہے، جو اس کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔
کمیٹی کی رائے ہے کہ وزارت تعلیم کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ نیٹ (یو جی)، جے ای ای (مینز) اور سی یو ای ٹی کے سوالیہ پرچوں میں اسکول کے سرکاری نصاب پر مبنی تصورات کی سمجھ کو جانچنے کے لیے مخصوص اور قابلِ پیمائش معیارات مقرر ہوں، نہ کہ ایسے طریقوں کو ترجیح دی جائے جو خاص طور پر کوچنگ کے ذریعے سکھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کوچنگ کی صنعت کے لیے ایک ضابطہ جاتی نظام بھی ہونا چاہیے، جس میں فیس کے معاملے میں شفافیت، تحفظ کے معیارات اور کوچنگ مراکز میں زیرتعلیم طلبہ کی ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے۔
10.14 کمیٹی کو اپنی میٹنگوں کے دوران مطلع کیا گیا کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی کے پاس مختلف امتحانات کے لیے مختلف ریاستوں سے رجسٹریشن کرانے والے امیدواروں کی تعداد کا ہی اعداد و شمار موجود ہے، لیکن اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے طلبہ کامیاب ہوئے۔ امتحان میں شرکت کے اعداد و شمار اور کامیابی کے اعداد و شمار دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ کسی ریاست سے بڑی تعداد میں امیدوار رجسٹریشن کرا سکتے ہیں، لیکن اگر کامیابی کی شرح کم ہو تو یہ تعلیم کے معیار یا سہولتوں تک رسائی میں کسی مسئلے کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے)ہر سال مساوات سے متعلق ایک جائزہ لے، جس میں ہر بڑے امتحان کے لیے امیدواروں کی شرکت کی شرح، کامیابی کی شرح اور کٹ آف حاصل کرنے کی شرح کا ریاست، جنس، اسکول کے تعلیمی بورڈ کی نوعیت (سرکاری، امداد یافتہ، نجی)، ذریعۂ تعلیم اور سماجی زمرے (دیگر پسماندہ طبقات، درج فہرست ذاتیں، درج فہرست قبائل، معاشی طور پر کمزور طبقہ اور عمومی زمرہ) کے لحاظ سے الگ الگ تجزیہ کیا جائے۔ اس جائزے کے نتائج این ٹی اے کی سالانہ رپورٹ میں شائع کیے جانے چاہئیں اور پالیسی سازی کے لیے وزارت تعلیم کو پیش کیے جانے چاہئیں۔ وزارت تعلیم پالیسی سے متعلق فیصلے کرنے کے لیے ان اعداد و شمار سے استفادہ کر سکتی ہے۔
10.15 کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایک ہی انتہائی اہم امتحان سے وابستہ شدید دباؤ لاکھوں نوجوان امیدواروں کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ یہ دباؤ امتحان سے پہلے، امتحان کے دوران اور نتائج کے اعلان کے بعد بھی برقرار رہتا ہے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی کو ذہنی صحت کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے، تاکہ مفت اور آسانی سے دستیاب مشاورتی ہیلپ لائنیں فراہم کی جا سکیں، ہر امتحان سے کافی پہلے ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے آسان اور مفید مواد تقسیم کیا جا سکے اور امتحانی مراکز میں پُرسکون اور معاون ماحول ، خاص طور پر نتائج کے اعلان کے آس پاس کے حساس عرصے میں ،کو یقینی بنایا جا سکے ۔
10.16 کمیٹی کو اپنی میٹنگوں کے دوران بتایا گیا کہ فی الحال نیٹ (یو جی) میں امیدوار کے امتحان میں شرکت کی کوششوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی زیادہ سے زیادہ عمر کی کوئی مؤثر حد مقرر ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسی غیر معمولی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے کہ 70 سال سے زیادہ عمر کے امیدوار بھی نیٹ کے امتحان میں شرکت کر رہے ہیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارتِ تعلیم، صحت و خاندانی بہبود کی وزارت اور دیگر تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر نیٹ (یو جی) سمیت تمام بڑے امتحانات کے لیے عمر کی مناسب حد اور امتحان میں شرکت کی کوششوں کی معقول تعداد مقرر کرنے کے امکانات کا جائزہ لے۔ کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ اس اصول سے استثنا صرف یو جی سی نیٹ کے لیے دیا جا سکتا ہے۔
10.17 کمیٹی کا کہنا ہے کہ امتحانات کی کامیابی کے ساتھ انعقاد کے لیے ریاستی حکومتوں کا تعاون اور ان کی مہارت انتہائی اہم ہے۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی تنظیم نو کے بعد اس کی گورننگ باڈی میں ریاستی حکومتوں کی مناسب نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
10.18 کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو صرف امتحانات منعقد کرنے والے ادارے کے طور پر نہیں، بلکہ امتحانات سے متعلق تمام امور اور پالیسیوں کے لیے ایک تھنک ٹینک (تحقیقی و مشاورتی ادارے )کے طور پر ازسرِنو تشکیل دیا جانا چاہیے۔ این ٹی اے میں تحقیق کا ایک شعبہ ہونا چاہیے، جس میں بیوروکریٹس اور افسران کے علاوہ تعلیمی تحقیق کے مستند ماہرین کو بھی شامل کیا جائے۔ فی الحال تحقیقی شعبہ نہ ہونے کی وجہ سے این ٹی اے ایسے اہم کام انجام نہیں دے پاتا، جیسے طویل مدتی مطالعات کے ذریعے یہ جانچنا کہ نیٹ، سی یو ای ٹی، یو جی سی نیٹ وغیرہ جیسے امتحانات اپنے مقررہ مقاصد کو حقیقتاً پورا کر رہے ہیں یا نہیں۔ اسی طرح، گہری علمی مہارت رکھنے والا این ٹی اے دیگر تعلیمی اداروں، مثلاً سی بی ایس ای، کے لیے بھی ایک اہم وسیلہ ثابت ہو سکتا ہے، جو بورڈ امتحانات میں اسکرین پر جانچ کے نظام جیسے اقدامات نافذ کر رہے ہیں۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے میں تعلیمی اور تحقیقی مہارت کو فروغ دیا جائے، تاکہ وہ اپنے امتحانات بہتر طور پر منعقد کر سکے اور مستقبل میں این ٹی اے کے علاوہ دیگر امتحانات کے انعقاد میں بھی سہولت فراہم کر سکے۔
10.19 کمیٹی کا کہنا ہے کہ جب این ٹی اے کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر ترقی یافتہ ہو جائے تو امتحانات کمپیوٹر پر مبنی نظام (سی بی ٹی)کے تحت، کمپیوٹر کے ذریعے موافق ہونے والے امتحانی ماڈل (سی اے ٹی) کے مطابق منعقد کیے جانے چاہئیں، جسے امتحانی جانچ کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ بہترین معیار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے مصنوعی ذہانت کے ایسے آلات (اے آئی ٹول) استعمال کرنا ہوں گے، جو سوالات کے ایک وسیع بینک سے سوالات منتخب کر سکیں، طالب علم کی صلاحیت کے مطابق ان میں ردوبدل کر سکیں، جوابات کی درست جانچ کر سکیں اور سوالات کی مشکل جیسی آبجکٹیو بنیادوں پر نمبروں کو یکساں پیمانے پر لا سکیں۔ اس طرح کے نظام سے امتحانات میں بدعنوانی کے امکانات کم سے کم ہو جائیں گے۔ کوئی ایک مقررہ سوالیہ پرچہ نہیں ہوگا جسے افشا کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ایک ہی امتحانی مرکز میں کسی بھی دو امیدواروں کو سوالات کا یکساں مجموعہ نہیں ملے گا، جس سے نقل کے امکانات کم ہوں گے۔ اس لیے این ٹی اے کو ایک ایسی تکنیکی ٹیم تشکیل دینی چاہیے، جو ان آلات کو تیار کرنے، ان کی نگرانی کرنے اور انہیں مسلسل بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
10.20 کمیٹی کو قومی ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی جانب سے بتایا گیا کہ کمپیوٹر پر مبنی امتحانات (سی بی ٹی)میں ایک خطرہ یہ ہے کہ کمپیوٹر نظام کو شرارتی عناصر ہیک کر سکتے ہیں اور اس طرح کی ہیکنگ کا سراغ لگانا بھی مشکل ہوتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2021 میں آئی آئی ٹی جے ای ای مینز کے امتحان کے دوران ایسی ہی ایک کوشش کی گئی تھی، جس کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے تحقیقات کی تھیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام کی جانب منتقلی سے نئے چیلنجز سامنے آتے ہیں، جن کا این ٹی اے کو پہلے سے اندازہ لگانا اور ان سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ براہِ راست سی سی ٹی وی نگرانی کے علاوہ، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے کے اندر سائبر تحفظ کی ایک مضبوط ٹیم قائم کی جائے، جو ایسا محفوظ امتحانی سافٹ ویئر تیار کرے اور نافذ کرے، جو دور سے نظام تک رسائی، اسکرین کی ریکارڈنگ اور ورچوئل مشینوں کے استعمال کو روکے۔ اس کے علاوہ، این ٹی اے کو مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیاتی آلات بھی اپنانے چاہئیں تاکہ جوابات کے غیر معمولی انداز کی نشاندہی کی جا سکے اور ایسے معاملات کی نشاندہی کی جا سکے جو امتحان میں بے ضابطگی یا بدعنوانی کی طرف اشارہ کرتے ہوں۔
10.21 کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ ڈائریکٹر جنرل، قومی ٹیسٹنگ ایجنسی کا اہم ترین انتظامی عہدیدار ہوتا ہے۔ تاہم، 23 جون 2024 سے یکم اپریل 2026 کے درمیان یہ عہدہ ایسے افسران کو اضافی چارج کے طور پر سونپا گیا، جن کے پاس پہلے ہی انڈیا ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن (آئی ٹی پی او) کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر اور نوودیہ ودیالیہ سمیتی (این وی ایس) کے کمشنر کی حیثیت سے اہم بنیادی ذمہ داریاں تھیں۔ کمیٹی این ٹی اے میں اہم عہدوں پر افسران کو اضافی ذمہ داری دینے کے طریقۂ کار کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔
10.22 اگرچہ 2024 کے بعد منظور شدہ عہدوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ تمام 39 افسران کی تقرری کے باوجود این ٹی اے کو تیسرے فریق کے نجی ٹھیکے داروں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے کو بالآخر اپنی سرگرمیوں اور صلاحیتوں کو اس حد تک وسعت دینی چاہیے کہ وہ تمام امتحانات کے انتظامی اور لاجسٹک امور خود انجام دے سکے۔ این ٹی اے کے علاوہ دیگر ملازمین کی خدمات صرف سوالیہ پرچوں کی تیاری اور دیگر تعلیمی امور تک محدود رکھی جانی چاہئیں، جن کے لیے بیرونی تعلیمی ماہرین پر انحصار ناگزیر ہے۔
10.23 کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ این ٹی اے کو مناسب سالانہ اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے اور مالی سال 2019-2018 سے مالی سال 2025-2024 کے درمیان اس کے پاس مجموعی طور پر 590 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی جمع ہو چکی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ این ٹی اے کے پاس وقتاً فوقتاً دستیاب ہونے والی اضافی رقم کو اس وقت تک بہتر استعمال کے لیے مقررہ مدت کی جمع پونجی میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جب تک اس کی ضرورت انتظامی امور کے لیے نہ پڑے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس جمع شدہ رقم کو سرکاری ملکیت والے کمپیوٹر پر مبنی امتحانی مراکز میں سرمایہ کاری، ان کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور طلبہ کو کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام سے مانوس کرانے کے لیے فرضی امتحانات منعقد کرنے پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
10.24 کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ نیٹ (یو جی) کے نتائج عموماً عوامی طور پر ہموار طریقے سے شائع نہیں کیے جاتے ہیں۔ تاہم، 2024 میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر این ٹی اے نے نتائج کی تفصیلات شائع کیں، جس کے بعد مختلف شہروں اور امتحانی مراکز میں طلبہ کی کارکردگی کے فرق کے بارے میں وسیع عوامی بحث شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں این ٹی اے نے طلبہ کی جانب سے اپنی پسند کے امتحانی مراکز منتخب کرنے کے امکان کو محدود کر دیا۔ کمیٹی نے اس اقدام کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے، جس سے غلط استعمال کے امکانات کم ہوئے ہیں۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے کو یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کی جانب سے نتائج میں شفافیت کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی شفافیت سے این ٹی اے امیدواروں اور امتحانی مراکز کی کارکردگی میں کسی بھی غیر معمولی رجحان کی نشاندہی کر سکے گا اور نیٹ امتحان پر عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
10.25 کمیٹی کی خواہش ہے کہ قومی ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے پاس اندرونی طور پر ایسی صلاحیتیں ہونی چاہئیں، جن کی مدد سے امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کا پتہ لگایا جا سکے، ان کا سراغ لگایا جا سکے اور ابتدائی طور پر ان کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔ اس طرح کی اندرونی صلاحیتیں بحران کی صورت میں این ٹی اے کی فوری کارروائی کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارت این ٹی اے کے اندر ایسی بعض صلاحیتیں پیدا کرنے پر غور کرے۔
10.26 کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ فی الحال سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے، اس سلسلے میں درج ایف آئی آر اور مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سمیت دیگر تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے ان معاملات کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بارے میں کوئی سرکاری عوامی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے محکمے نے کمیٹی کو بتایا کہ اگرچہ امتحانات میں بے ضابطگیاں اور خلل ڈالنے کے واقعات پیش آئے ہیں، لیکن 2017 میں این ٹی اے کے قیام سے لے کر 2025 تک اس کے ذریعے منعقد کیے گئے کسی بھی امتحان کا سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوا۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ وزارت کا یہ دعویٰ کمیٹی کے بعض ارکان کی رائے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے، اعلیٰ تعلیم کے محکمے اور دیگر سرکاری ایجنسیوں اور محکموں کے ساتھ مل کر ایک ایسی رپورٹ جاری کرے جو عوام کے لیے دستیاب ہو اور جس میں این ٹی اے کے ذریعے منعقد کیے گئے تمام امتحانات اور ان سے متعلق کسی بھی تحقیقات کی تمام ضروری تفصیلات درج ہوں۔
10.27 کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر کے رادھا کرشنن کی سربراہی میں قائم ماہرین کی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ این ٹی اے کا دائرۂ کار صرف داخلہ جاتی امتحانات کے انعقاد تک محدود رکھا جائے اور اسے اضافی ذمہ داریاں صرف اسی وقت تفویض کی جائیں، جب وہ اپنی ادارہ جاتی صلاحیت میں توسیع کا ثبوت دے دے۔ کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ این ٹی اے اب بھی ایسے بھرتی امتحانات منعقد کر رہی ہے، جن کا اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے کو فوری طور پر اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرتے ہوئے صرف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے امتحانات کے انعقاد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس طرح ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنا این ٹی اے کے مشن کے بیان: ’’تحقیق پر مبنی، معتبر، قابلِ اعتماد، مؤثر، شفاف، منصفانہ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق جانچ کے ذریعے تعلیم میں مساوات اور معیار کو بہتر بنانا، سے بھی مطابقت رکھے گا ۔‘‘
10.28کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے امیدواروں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو واضح طور پر متعین کرے۔ اس میں انتظامی وجوہات کی بنا پر امتحانات منسوخ ہونے سے متاثرہ امیدواروں کو مالی معاوضہ دینے کی گنجائش شامل کی جا سکتی ہے اور شکایات کے ازالے کے لیے مدت بھی مقرر کی جانی چاہیے۔ اس سے ایسے واقعات کے باعث امیدواروں پر پڑنے والے مالی اور ذہنی دباؤ میں کمی آئے گی۔
10.29 کمیٹی یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ امتحان کے تمام پہلوؤں سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک محفوظ ذریعہ فراہم کیا جائے۔
10.30کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ تعلیمی امتحانات کے لیے ایک آزادانہ نظام قائم کیا جائے، جو این ٹی اے سے الگ ہو۔ اسے امتحانات کے تحفظ سے متعلق ضابطوں کا جائزہ لینے، امیدواروں کی شکایات کی تحقیقات کرنے اور اپنی رپورٹ براہِ راست وزارت کو پیش کرنے کے اختیارات حاصل ہوں۔
10.31 کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے تمام متعلقہ شراکت داروں کی تربیت اور صلاحیت سازی میں سرمایہ کاری کرے۔ ان میں ریاستی حکومتوں اور دیگر ایجنسیوں کے وہ افراد بھی شامل ہوں جو ضلع اور امتحانی مرکز کی سطح پر امتحانات کے انعقاد کے اصل ذمہ دار ہیں، تاکہ اصلاحات پر محض عمل درآمد کرنے کے بجائے انہیں عملی طور پر اپنایا جا سکے۔
10.32 کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ امتحانی عمل کو مضبوط بنانے کے لیے ڈاکٹر رادھا کرشنن کمیٹی کی 101 سفارشات پر عمل درآمد جاری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ زیادہ تر اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں، کیونکہ ان 101 سفارشات میں سے 60 کا تعلق 2025 اور 2026 سے تھا۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ زیرِ التوا اصلاحات پر عمل درآمد میں تیزی لائی جائے، جن میں 2025 اور 2026 سے متعلق وہ 60 اصلاحات بھی شامل ہیں جنہیں ابھی تک نافذ نہیں کیا گیا ہے۔
10.33 کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این ٹی اے معذور طلبہ کے امتحانات کے انعقاد کے لیے بھی ایک ضابطۂ کار تیار کرے، کیونکہ ان کی ضروریات اور تقاضے الگ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ این ٹی اے کو امتحانی مراکز تک آسان رسائی، ضرورت کے مطابق لکھنے میں مدد دینے کے لیے لکھنے والوں کی مناسب دستیابی، اضافی وقت، قابلِ رسائی ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک مخصوص نظام یقینی بنا کر معذور طلبہ کی مدد کو مضبوط کرنا چاہیے۔ اس طرح کی سہولت سے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو آسان بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
10.34 کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کمپیوٹر پر مبنی امتحانات (سی بی ٹی) کی جانب منتقلی کے بعد اگر کسی بھی قسم کی طباعت درکار ہو تو وہ صرف این ٹی اے کی ملکیت اور اس کے زیرِ انتظام چلنے والے طباعتی مراکز میں کی جائے۔ اس مقصد کے لیے نجی طباعتی اداروں پر کسی بھی صورت انحصار نہیں کیا جانا چاہیے۔
10.35 کمیٹی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ تعلیم قومی ترقی اور سماجی پیش رفت کا ایک بنیادی ستون ہے، جس میں افراد کو بااختیار بنانے اور ملک کے مستقبل کو مضبوط بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ امتحانی نظام میں مسلسل اصلاحات اب ایک قومی ضرورت بن چکی ہیں، تاکہ ناجائز ذرائع کے استعمال کو ختم کیا جا سکے، غیر ضروری دباؤ کو کم کیا جا سکے اور طلبہ کی صلاحیتوں کا زیادہ جامع انداز میں جائزہ لینے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ کمیٹی اس معاملے میں ہونے والی پیش رفت سے باخبر رہنے کا عزم کرتی ہے اور امتحانات اور تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے اس مشترکہ قومی مشن میں تمام متعلقہ شراکت داروں کو اپنے خیالات پیش کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
-----------------------
ش ح۔م ش ۔ ع ن
U NO: 6054
(ریلیز آئی ڈی: 2323160)
وزیٹر کاؤنٹر : 5