ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
این سی وی ای ٹی کے تحقیقی شعبے کی پیش رفت اور مستقبل کی ترجیحات کا تحقیقی مشاورتی کمیٹی نے جائزہ لیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 OCT 2026 5:00PM by PIB Delhi
قومی کونسل برائے پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (این سی وی ای ٹی) نے 8 اکتوبر 2026 کو اپنی تحقیقی مشاورتی کمیٹی (آر اے سی) کا دوسرا اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس کی صدارت این سی وی ای ٹی کی چیئرپرسن اور ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کی سکریٹری محترمہ دیباشری مکھرجی نے کی۔
اجلاس میں این سی وی ای ٹی کے ایگزیکٹو ممبر پروفیسر (ڈاکٹر) اشوک کمار گابا، این سی وی ای ٹی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل سوربھ ایس بِشٹ اور وزارت محنت و روزگار، نیتی آیوگ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لیبر اکنامکس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (نیلرڈ)، تحقیقی اداروں اور شریک ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں مہاراشٹر، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، آسام اور جموں و کشمیر کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کمیٹی نے 20 مئی 2026 کو منعقدہ اپنے پہلے اجلاس کے بعد سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور این سی وی ای ٹی کے تحقیقی شعبے کی مستقبل کی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔
این سی وی ای ٹی کی چیئرپرسن محترمہ دیباشری مکھرجی نے کہاکہ ’’ہندوستان کے پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے شعبے میں ایک مضبوط تحقیقی نظام قائم کرنے کے لیے اختراع، باہمی تعاون اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کے مشترکہ عزم کی ضرورت ہے۔ بات چیت کے دوران این سی وی ای ٹی کے تحقیقی شعبے کو مضبوط بنانے، ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرنے اور تحقیقی اداروں، سرکاری تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے نئے طریقوں پر غور کیا گیا۔ اس پہل میں ریاستوں کی شرکت ایک اہم پہلو ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ان تبادلۂ خیال کو بامعنی تحقیق اور مسلسل تعاون میں تبدیل کیا جائے گا، جس سے پالیسی سازی میں رہنمائی ملے گی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔‘‘
این سی وی ای ٹی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل سوربھ ایس بِشٹ نے گزشتہ اجلاس کے بعد انجام دی گئی سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کیں۔ کمیٹی نے این سی وی ای ٹی کے مجوزہ سالانہ تحقیقی منصوبے پر تبادلۂ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فوری طور پر کیے جانے والے مطالعات اور طویل مدتی تحقیق، بشمول طویل عرصے تک جاری رہنے والے مطالعات اور اثرات کے جائزے، کے درمیان واضح فرق کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی نے تحقیقی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے تعاون سے معیاری تحقیق کے لیے کام سونپنے اور اسے فروغ دینے میں تحقیقی شعبے کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔
کمیٹی نے پیشہ ورانہ تعلیم، تربیت اور ہنرمندی کے شعبے سے متعلق تحقیقی مواد کا ایک مشترکہ ذخیرہ تیار کرنے کے لیے کیے گئے کام کا جائزہ لیا۔ اراکین نے تحقیقی نتائج تک رسائی بہتر بنانے اور بہترین طریقۂ کار کو دستاویزی شکل دینے اور عام کرنے کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کرنے کے امکان پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
اجلاس میں این سی وی ای ٹی کی تحقیقی اسکیم سے متعلق رہنما خطوط کے مسودے پر غور کیا گیا۔ اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ رہنما خطوط آسان، قابلِ عمل، این سی وی ای ٹی کے دائرۂ کار سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں اور ان کے ذریعے تعلیمی اداروں سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ گرانٹس اور فیلوشپس کے ذریعے تحقیق میں معاونت فراہم کرنے کے امکان پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اراکین نے ہنرمندی کی طلب کی پیش گوئی، ہنرمندی کے فروغ کے نتائج کی پیمائش اور اس شعبے سے متعلق دیگر ترجیحی موضوعات پر خطبات اور ویبینارز کے سالانہ کیلنڈر کی تیاری پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
اجلاس میں اس بات کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا کہ پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرنے، ضابطہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے اور ہندوستان میں پیشہ ورانہ تعلیم، تربیت اور ہنرمندی کے پورے نظام کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے تحقیق، شواہد اور مختلف متعلقہ فریقوں کے نقطۂ نظر کو یکجا کیا جائے۔

***
ش ح۔م ح ۔رض
U-No.5083
(ریلیز آئی ڈی: 2322718)
وزیٹر کاؤنٹر : 2