ارضیاتی سائنس کی وزارت
آئی ایم ڈی نے 12 اکتوبر 2026 کو سمندری طوفان سے متعلق انتباہات اور سمندری موسمی خدمات کے لیے فیصلہ جاتی معاونتی نظام ملک کے نام وقف کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 OCT 2026 10:21PM by PIB Delhi
ہندوستان کے محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے 12 اکتوبر 2026 کو سمندری طوفان سے متعلق انتباہات اور سمندری موسمی خدمات کے لیے فیصلہ جاتی معاونتی نظام (ڈی ایس ایس) ملک کے نام وقف کیا۔ یہ ایک انٹرایکٹو ویب جی آئی ایس پر مبنی پلیٹ فارم ہے۔ اس کا آغاز مانسون کے بعد کے موسم (اکتوبر تا دسمبر) 2026 کے لیے منعقدہ دو سالہ قبل از سمندری طوفان مشق اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل اور عالمی موسمیاتی تنظیم کے تیسرے نائب صدر ڈاکٹر مرتیونجے موہاپاترا نے کی۔ عوام کے لیے یہ فیصلہ جاتی معاونتی نظام محکمۂ موسمیات کی ویب سائٹ (www.mausam.imd.gov.in) اور علاقائی خصوصی موسمیاتی مرکز (آر ایس ایم سی) کی ویب سائٹ (www.rsmcnewdelhi.imd.gov.in) پر دستیاب ہے۔ اس ویب پر مبنی پلیٹ فارم کا ربط درج ذیل ہے:
https://dss.imd.gov.in/dwr_img/GIS/marine.php

ڈی ایس ایس میں سمندری طوفان کے مشاہدہ شدہ اور پیش گوئی کردہ راستے اور شدت کے ساتھ غیر یقینی صورتِ حال کے دائرے اور ضلع وار بارش سے متعلق انتباہات کی عکاسی
ڈی ایس ایس ایک صارف دوست، انٹرایکٹو پلیٹ فارم ہے جو سمندری طوفان اور سمندری موسم سے متعلق اہم معلومات کو ایک ہی جگہ فراہم کرتا ہے۔ اس سے آفات کے انتظام سے متعلق حکام، سرکاری اداروں اور عام لوگوں سمیت مختلف صارفین کو ممکنہ خطرات اور ان کے متوقع اثرات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ سمندری طوفان کے راستوں، شدت، ہواؤں، بارش، سمندری طغیانی اور دریائی طاسوں میں بارش کی پیش گوئی کو انٹرایکٹو نقشوں اور تصویری خاکوں کے ذریعے پیش کرتے ہوئے یہ پلیٹ فارم صارفین کو متعلقہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کا مقصد موسمی پیش گوئیوں اور ان کے عملی استعمال کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے، تاکہ سمندری طوفانوں اور موسم کی دیگر شدید صورتِ حال کے دوران بہتر تیاری، بروقت کارروائی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈی ایس ایس میں سمندری طوفان کے مشاہدہ شدہ اور پیش گوئی کردہ راستے اور شدت کے ساتھ ہواؤں کی تقسیم اور ضلع وار بارش سے متعلق انتباہات کی عکاسی

ڈی ایس ایس میں سمندری طوفان کے مشاہدہ شدہ اور پیش گوئی کردہ راستے اور شدت کے ساتھ ہواؤں کی تقسیم اور سمندری طغیانی سے متعلق انتباہات کی عکاسی
یہ موقع خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ہندوستان کے محکمۂ موسمیات نے شدید ترین سمندری طوفان ’فائلن‘ (2013) اور شدید ترین سمندری طوفان ’ہُدہُد‘ (2014) کی کامیابی کے ساتھ پیش گوئی کی تھی۔ اتفاق سے یہ دونوں طوفان بالترتیب 12 اکتوبر 2013 اور 12 اکتوبر 2014 کو ساحل سے ٹکرائے تھے۔ ان طوفانوں کی پیش گوئی ہندوستان کی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں میں اہم سنگ میل ثابت ہوئی اور ابتدائی انتباہات جاری کرنے کی ملک کی صلاحیت کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔
ہندوستان کا محکمۂ موسمیات 2008 سے ہر سال دو مرتبہ یہ اجلاس منعقد کر رہا ہے۔ یہ مشق آنے والے سمندری طوفانوں کے موسم کے لیے تیاریوں کا جائزہ لینے، گزشتہ کارروائیوں کے نکات پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے، محکمۂ موسمیات کی تازہ ترین پہلوں سے آگاہ کرنے اور عملی امور سے متعلق درپیش چیلنجوں کو حل کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ محکمۂ موسمیات، آفات کے انتظام سے متعلق حکام، دفاعی افواج، ریاستی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے اور تال میل کو بھی فروغ دیتی ہے، تاکہ پیش گوئیوں اور انتباہات کو زمینی سطح پر بروقت کارروائی کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔
اس اجلاس میں ملک بھر کی 30 سے زائد تنظیموں نے شرکت کی، جبکہ شرکاء کی مجموعی تعداد تقریباً 230 رہی، جن میں 180 نے آن لائن اور 50 نے ذاتی طور پر شرکت کی۔ شرکت کرنے والی تنظیموں میں قومی آفات انتظامی اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، قومی آفات ردعمل فورس (این ڈی آر ایف)، وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے)، ہندوستانی بحریہ (آئی این)، ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف)، ہندوستانی ساحلی محافظ دستہ (آئی سی جی)، مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی)، پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)، ریاستی آفات انتظامی اتھارٹیاں اور ماہی پروری کے محکمے شامل تھے۔ سائنسی اور تکنیکی اداروں میں ہندوستان کا محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی)، قومی مرکز برائے متوسط مدتی موسمی پیش گوئی (این سی ایم آر ڈبلیو ایف) اور ہندوستانی ادارۂ ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) شامل تھے۔ مغربی بنگال، اوڈیشہ، انڈمان و نکوبار جزائر، آندھرا پردیش، تمل ناڈو، پڈوچیری، کیرالہ، کرناٹک، گوا، مہاراشٹر، گجرات، لکشدیپ، دمن و دیو اور دادرا و نگر حویلی سمیت ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت، بھاری صنعتوں کی وزارت، محکمۂ امور صارفین، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف لائٹ ہاؤسز اینڈ لائٹ شپس (ڈی جی ایل ایل) سمیت مختلف وزارتوں اور محکموں کے نمائندوں اور متعلقہ شعبوں کے دیگر فریقوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اس شرکت سے مختلف اداروں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے، عملی ضروریات کے تبادلے اور آنے والے سمندری طوفانوں کے موسم کے لیے تیاریوں کو بہتر بنانے کا اہم موقع فراہم ہوا۔
اجلاس کا آغاز سمندری طوفان سے متعلق انتباہات اور سمندری موسمی خدمات کے شعبے میں ہندوستان کے محکمۂ موسمیات کی سرگرمیوں اور حالیہ پیش رفت پر ایک پریزنٹیشن سے ہوا، جس کے بعد اپریل میں منعقدہ قبل از سمندری طوفان مشق اجلاس کی سفارشات پر کی گئی کارروائی کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد نئے شروع کیے گئے صارفین پر مرکوز فیصلہ جاتی معاونتی نظام (ڈی ایس ایس) کا براہِ راست مظاہرہ کیا گیا، جس میں اس کی انٹرایکٹو خصوصیات اور سمندری طوفانوں اور ان سے وابستہ خطرات کے بارے میں مقام کے لحاظ سے مخصوص معلومات فراہم کرنے کی صلاحیتوں کو پیش کیا گیا۔ مظاہرے کے بعد شرکاء نے قیمتی تبصرے، تجاویز اور آرا پیش کیں، جن کا مقصد اس پلیٹ فارم کو مزید بہتر بنانا اور اس کی عملی افادیت میں اضافہ کرنا تھا۔
اس اجلاس میں ہندوستان کے محکمۂ موسمیات نے ابتدائی انتباہی خدمات کو مضبوط بنانے، مختلف اداروں کے درمیان تال میل بہتر کرنے اور درست موسمی پیش گوئیوں کو بروقت کارروائی میں تبدیل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ سمندری طوفانوں کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

اجلاس میں آفات کے انتظام سے وابستہ مجموعی طور پر 230 افسران اور متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔
***
ش ح۔م ح ۔رض
U-No.5063
(ریلیز آئی ڈی: 2322711)
وزیٹر کاؤنٹر : 6