سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
نشے کی لت سے خود انحصاری تک
اتر پردیش کے گورکھپور کے عمران خان کی نشے سے پاک زندگی کی جانب پیش رفت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 OCT 2026 6:26PM by PIB Delhi
بروقت طبی علاج، مشاورت اور بازآبادکاری کی سہولت ملنے سے افراد کو نشے کی لت سے نجات حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو ازسرِنو سنوارنے میں مدد مل سکتی ہے۔ نشہ آور اشیا پر انحصار کسی فرد کی صحت، خاندانی تعلقات اور ذریعۂ معاش کو متاثر کرسکتا ہے۔
اتر پردیش کے ضلع گورکھپور سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ خود روزگار اے سی مکینک عمران خان (بدلا ہوا نام) کی زندگی کی کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بازآبادکاری کے ذریعے کسی شخص کو صحت یابی اور مالی خود انحصاری کی جانب بڑھنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔
عمران کی نشے کی لت کا آغاز 12 سال کی عمر میں ہوا، جب انہوں نے دوستوں کے دباؤ میں آکر سگریٹ نوشی شروع کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا انحصار تمباکو، گٹکا، شراب، اسْمیک، انجکشن کے ذریعے استعمال کی جانے والی منشیات اور بھنگ تک پھیل گیا۔ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت بگڑنے لگی، انہیں رویّے سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ مالی طور پر دوسروں پر منحصر ہوگئے۔ نشہ آور اشیا پر ان کے انحصار نے زندگی کے کئی پہلوؤں کو متاثر کیا، جن میں ان کے تعلقات، ذریعۂ معاش اور سماجی حیثیت شامل تھے۔
عمران کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا، جس میں دو بھائی اور چھ بہنیں تھیں۔ ان کی نشے کی لت نے گھر والوں پر جذباتی اور مالی دباؤ بڑھا دیا، جب کہ سماجی بدنامی اور کشیدہ تعلقات نے خاندان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔ اگرچہ انہوں نے اے سی کی مرمت اور دیگر مشینی کام سیکھ رکھے تھے، لیکن ان کی آمدنی کا بڑا حصہ نشہ آور اشیا پر خرچ ہوجاتا تھا، جس کی وجہ سے وہ مالی استحکام حاصل نہیں کرپاتے تھے۔ ان کا خاندان ان کی صحت کے بارے میں مسلسل فکرمند رہتا تھا، جب کہ ان کے والد کو دل کی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث ان کی بائی پاس سرجری کرانی پڑی۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، خاندان نے عمران کا ساتھ نہیں چھوڑا اور انہیں علاج کروانے کی ترغیب دیتا رہا۔

22 اکتوبر 2019 کو عمران کو گورکھپور کے سونبراسا میں واقع ’’پنرجنم انٹیگریٹیڈ ری ہیبلٹیشن سینٹر فار ایڈکٹس‘‘ (آئی آر سی اے) میں مدد ملی۔ یہ مرکز باسودیو تیواری سیوا سنستھان کے زیرِ انتظام چلایا جاتا ہے۔ یہاں انہیں طبی علاج، جسم سے نشہ آور مادوں کے اثرات ختم کرنے میں مدد، نفسیاتی مشاورت، ترغیبی علاج اور منظم بازآبادکاری کی سہولت فراہم کی گئی۔ مرکز کی جانب سے ادویات، محفوظ رہائش، غذائیت سے بھرپور کھانا، جذباتی تعاون، خاندانی مشاورت اور باقاعدہ نگرانی کا بھی انتظام کیا گیا۔ اس کے ساتھ انہیں دوبارہ نشے کی لت میں مبتلا ہونے سے بچاؤ کے لیے رہنمائی اور ذریعۂ معاش سے متعلق مدد بھی فراہم کی گئی۔
ماہرانہ دیکھ بھال، مسلسل حوصلہ افزائی اور خاندان کی شمولیت کے نتیجے میں عمران میں خود اعتمادی اور اپنے اوپر قابو رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے تین ماہ کا بازآبادکاری پروگرام مکمل کیا اور نشہ آور اشیا پر انحصار سے نجات حاصل کرلی۔ اس اقدام سے انہیں اپنی صحت یابی پر توجہ مرکوز کرنے، خاندانی تعلقات بحال کرنے اور دوبارہ مفید کام کاج کی جانب لوٹنے میں مدد ملی۔
آج عمران نشے سے پاک زندگی گزار رہے ہیں اور آزادانہ طور پر اے سی مکینک کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ دیگر مشینی کام بھی انجام دیتے ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً 30,000–40,000 روپے ہے، جس سے وہ گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹاتے ہیں اور اپنے خاندان کی مالی حالت بہتر بنانے میں معاون ہیں۔ نشے سے نجات نے انہیں اپنے خاندان کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے اور معاشرے میں عزت و احترام بحال کرنے میں بھی مدد دی ہے۔
عمران کا تجربہ اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ نشے کی لت سے صحت یابی اور معاشرے میں دوبارہ باعزت زندگی گزارنے کے لیے قابلِ رسائی علاج، نفسیاتی مدد، منظم بازآبادکاری اور خاندان کی شمولیت کتنی اہم ہے۔ پنرجنم آئی آر سی اے کے ذریعے فراہم کی گئی معاونت نے انہیں اپنا ذریعۂ معاش دوبارہ قائم کرنے اور زیادہ مستحکم اور خود مختار مستقبل کی جانب بڑھنے میں مدد دی ہے۔
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 5042
(ریلیز آئی ڈی: 2322514)
وزیٹر کاؤنٹر : 8