سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تحقیق و ترقی اور جدت طرازی فنڈ کے تحت دوسرے درجے کے 19 سرمایہ کاری فنڈز کے منتظمین کے پہلے گروپ کا اعلان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 4:37PM by PIB Delhi

تحقیق، ترقی اور جدت طرازی فنڈ (آر ڈی آئی ایف، جو حکومتِ ہند کا ایک اہم اور نمایاں اقدام ہے، نے دوسرے درجے کے 19 فنڈ مینیجرز (ایس ایل ایف ایم )کے پہلے گروپ کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے فنڈ پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ 8 اکتوبر 2026 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں بااختیار سیکریٹریوں کے گروپ (ای جی او ایس)نے 14 متبادل سرمایہ کاری فنڈز( اے آئی ایف )اور 5 مخصوص تحقیقی اداروں (ایف آر او) کی منظوری دی، جن کے لئے تحقیق، ترقی اور جدت طرازی فنڈ کی جانب سے مجموعی طور پر 7,131 کروڑ روپے مختص کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

ایک لاکھ کروڑ روپے کی تحقیق، ترقی اور جدت طرازی اسکیم (آر ڈی آئی اسکیم) کا آغاز نومبر 2025 میں وزیرِ اعظمِ ہند، جناب نریندر مودی نے کیا تھا۔ یہ اقدام حکومت کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد بھارت کو ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ملک سے تبدیل کرکے ایسی قوم بنانا ہے جو عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات تیار کرے اور دنیا میں ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ملک کے طور پر ابھرے۔

تحقیق، ترقی اور جدت طرازی فنڈ بھارت کے تحقیقی اور اختراعی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے ملک کے سب سے بڑے اور اختراعی اقدامات میں سے ایک ہے۔ اس فنڈ کے ذریعے زیادہ خطرات اور وسیع اثرات کے حامل تحقیقی و ترقیاتی منصوبوں کے لیے طویل مدتی سرمایہ فراہم کیا جائے گا، جس سے ایسے منصوبوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور نتائج حاصل کرنے کے لیے درکار وقت میسر آئے گا۔ اس فنڈ کا مقصد سرمایہ کاری میں موجود اس اہم خلا کو پُر کرنا ہے جس نے تاریخی طور پر ابھرتی ہوئی اور تزویراتی اہمیت کی حامل ٹیکنالوجیز میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو محدود رکھا ہے۔

تحقیق، ترقی اور جدت طرازی فنڈ (آرڈی آئی ایف) کا انتظام ایک خودمختار کاروباری یونٹ کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جو وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی، حکومتِ ہند کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے تحت انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) میں قائم ہے۔ دوسرے درجے کے فنڈ مینیجرز (ایس ایل ایف ایم) کے انتخاب کے لیے درخواستیں طلب کرنے کا پہلا مرحلہ جنوری 2026 میں شروع کیا گیا۔ اس سلسلے میں موصول ہونے والی درخواستوں کا کثیر مرحلہ جاتی اور سخت جانچ کے عمل کے تحت جائزہ لیا گیا، جس میں درخواستوں کی تفصیلی اور معروضی جانچ کے ساتھ ماہرین کی مشاورتی کمیٹی کے روبرو بالمشافہ تبادلۂ خیال بھی شامل تھا۔ اس عمل کی تکمیل کے بعد تجاویز کو غور و خوض اور منظوری کے لیے پہلے انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کی مجلسِ عاملہ اور بعد ازاں بااختیار سیکریٹریوں کے گروپ (ای جی او ایس) کے سامنے پیش کیا گیا۔

پہلے گروپ کے تحت منظور کیے گئے 19 ادارے اہل ٹیکنالوجی اداروں (ای ٹی ای) تک تحقیق، ترقی اور جدت طرازی فنڈ کا سرمایہ پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان اداروں میں وہ ادارے شامل ہیں جو ٹیکنالوجی کی تیاری، تحقیق اور جدت طرازی کی سرگرمیاں ٹیکنالوجی تیاری کی سطح (ٹی آر ایل)4یا اس سے اوپر انجام دے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ دوسرے درجے کے فنڈ مینیجرز، تحقیق، ترقی اور جدت طرازی فنڈ کی جانب سے فراہم کردہ سرمائے کے مساوی نجی سرمایہ بھی متحرک کریں گے۔

پہلے گروپ کے عملی آغاز کو بھارت کی تکنیکی خودمختاری کو فروغ دینے، درآمد شدہ ٹیکنالوجیز پر انحصار کم کرنے اور جدت طرازی پر مبنی عالمی سطح پر مسابقتی معیشت کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سائنس کو ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنے کے تصور، یعنی ’سائنس 4 ٹیکنالوجی‘کے تحت نجی شعبے کی قیادت میں تحقیق و ترقی کے ایک مضبوط نظام کو فروغ دے کر یہ فنڈ بھارت کو ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدت طرازی کا عالمی مرکز بنانے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ یہ اقدام آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت 2047 کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔

بااختیار سیکریٹریوں کے گروپ (ای جی او ایس)نے تحقیق، ترقی اور جدت طرازی فنڈ (آر ڈی آئی فنڈ)کے دائرۂ کار میں شامل کرنے کے لیے مزید پانچ ٹیکنالوجیز کی بھی منظوری دی ہے۔

اس اہم پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے، تحقیق، ترقی اور جدت طرازی فنڈ مستقبل قریب میں درخواستیں طلب کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور دوسرے درجے کے فنڈ مینیجرز (ایس ایل ایف ایم) کے مزید گروپس کو اس نظام میں شامل کرے گا۔ اس اقدام سے فنڈ کے دائرۂ کار اور رسائی کو وسعت ملے گی، نیز بھارت کے تحقیقی، ترقیاتی اور اختراعی نظام میں سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان شراکت داری اور سرمایہ کاری کو تیز تر کرنے میں مدد ملے گی۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ن ع

U.NO.5028

 


(ریلیز آئی ڈی: 2322402) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी