سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکباتی ساخت میں معمولی تبدیلی سے جدید حیاتیاتی مادّوں کی تیاری کی نئی راہ کھل گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 OCT 2026 4:05PM by PIB Delhi
محققین نے ثابت کیا ہے کہ مرکباتی ساخت میں معمولی سی تبدیلی بھی پیپٹائڈ پر مبنی سالمات کی ترتیب اور ان کے کام کرنے کے طریقے پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
اس طریقۂ کار سے پیپٹائڈ پر مبنی ایسے قابلِ موافقت نینو مادّوں کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے ، جنہیں حیاتیاتی حسّاس آلات، حیاتیاتی تصویر برداری، جدید ضیائی مادّوں، ضیائی برقیات اور مرکباتی برقیات کے شعبوں میں استعمال کیا جا سکے۔
پیپٹائڈ، جو پروٹین کی بنیادی اکائیاں ہیں، خودبخود ایک منظم عمل کے ذریعے نینو ساختوں میں ڈھل سکتے ہیں۔ تاہم، اس عمل کو قابو میں رکھ کر مطلوبہ ساخت اور خصوصیات حاصل کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
بنگلورو میں واقع مرکز برائے نینو اینڈ سافٹ میٹر سائنسز ( سی ای این ایس ) ، جو سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے ( ڈی ایس ٹی ) کا ایک خود مختار ادارہ ہے، اس کی ایک تحقیق میں پایا گیا کہ پیپٹائڈ اور روشنی خارج کرنے والے پائرین سالمے کے درمیان صرف ایک میتھیلین (–CH₂– ) ا کائی شامل کرنے سے سالمے کی ساخت میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اس نظام کے خودبخود ترتیب پانے کے طریقے پر بھی اثر پڑتا ہے۔
بنگلورو میں واقع مرکز برائے نینو اینڈ سافٹ میٹر سائنسز ( سی ای این ایس ) میں ڈاکٹر گوتم گھوش نے اپنے پی ایچ ڈی کے طالب علم سورَو موئرا کے ساتھ مل کر یہ تحقیق کی۔ اس تحقیق میں بنگلورو کے جواہر لعل نہرو مرکز برائے جدید سائنسی تحقیق ( جے این سی اے ایس آر ) کے جناب تارک ناتھ داس اور مغربی بنگال کے گھاٹال رابندر شتا بارسکی مہا ودیالیہ کے ڈاکٹر رابندر ناتھ منا نے بھی تعاون کیا۔ تحقیق سے ظاہر ہوا کہ کاربن کے صرف ایک ایٹم کے معمولی اضافے سے سالمے کے مختلف اجزا کی باہمی سمت بدل گئی۔ اس کے نتیجے میں سالمات کی ترتیب، فوق مرکباتی کائیرلٹی، روشنی خارج کرنے کے دورانیے کے رویے اور نینو سطح پر تنظیم میں واضح تبدیلیاں آئیں، جب کہ پیپٹائڈ کی بنیادی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

شکل: مرکباتی ساخت میں معمولی تبدیلی کے ذریعے خودبخود ترتیب پانے کے عمل اور مادّے کی خصوصیات کو تبدیل کرنے کے طریقے کی خاکہ جاتی وضاحت
اس تحقیق کے نتائج، کیمیائی ساخت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کے بجائے سالمات کی ترتیب کو قابو میں رکھ کر کارآمد نرم مادّے تیار کرنے کے لیے ایک مفید مرکباتی ڈیزائن حکمتِ عملی پیش کرتے ہیں۔ یہ تحقیق رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کے جریدے ’’ پولیمر کیمسٹری ‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔
یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ مرکباتی ساخت میں معمولی تبدیلیاں فوق مرکباتی تنظیم اور مادّے کی افادیت کو مؤثر طریقے سے قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ اس سے اگلی نسل کے کارآمد اور ماحول یا حالات کے مطابق ردِعمل ظاہر کرنے والے حیاتیاتی مادّوں کی سائنسی بنیادوں پر تیاری کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
اشاعت کا لنک : https://doi.org/10.1039/d6py00525j
.....................
) ش ح – ش م - ع ا )
U.No. 5021
(ریلیز آئی ڈی: 2322311)
وزیٹر کاؤنٹر : 9