وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

پانچواں کوٹلیہ اقتصادی کانکلیو (کے ای سی 2026) نئی دہلی میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر


’غیر یقینی تبدیلیوں کے دور میں لچک‘ کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ کانکلیو میں پالیسی سازوں، ماہرین اقتصادیات، دانشوروں، کاروباری رہنماؤں اور بین الاقوامی مفکرین نے شرکت کی؛ اقتصادی استحکام، عالمی تقسیم، ٹیکنالوجی، تجارت اور ہندوستان کی اقتصادی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 OCT 2026 9:25PM by PIB Delhi

انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ (آئی ای جی) نے حکومت ہند کی وزارت خزانہ کے اشتراک سے 3 سے 5 اکتوبر 2026 تک نئی دہلی میں پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کانکلیو (کے ای سی 2026) کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا۔ ’غیر یقینی تبدیلیوں کے دور میں لچک‘ کے موضوع پر منعقدہ اس تین روزہ کانکلیو میں 200 سے زائد پالیسی سازوں، ماہرین اقتصادیات، دانشوروں، مالیاتی ماہرین اور بین الاقوامی مفکرین نے شرکت کی۔ ان میں تقریباً 30 ممالک کے 80 سے زائد بین الاقوامی شرکا شامل تھے۔ اس دوران موجودہ دور کے اقتصادی اور پالیسی سے متعلق چیلنجوں پر اعلیٰ سطحی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کانکلیو کا افتتاح 3 اکتوبر 2026 کو ہندوستان کے نائب صدر جناب سی پی رادھا کرشنن نے کیا اور افتتاحی خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں نائب صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی استحکام کو سماجی استحکام سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں شمولیت کو استحکام کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے ایسی پالیسی سازی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جو زمینی حقائق پر مبنی ہو اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261010212800_5c3e63.jpg

تین روزہ کانکلیو کے دوران مکمل اجلاسوں، باہمی تبادلہ خیال کی نشستوں اور مخصوص موضوعات پر گول میز مباحثوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں عالمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجوں اور مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ مباحثوں کا محور عالمی سطح پر بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں اور غیر یقینی صورت حال کے درمیان ترقی، کھلے پن اور ادارہ جاتی اعتبار کو برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی استحکام کو مضبوط بنانا تھا۔

کے ای سی 2026 کی ایک اہم خصوصیت ’’غیر یقینی تبدیلیوں کے دور میں استحکام: ہندوستان کی اقتصادی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر خصوصی اجلاس تھا۔ اس سے مرکزی وزیر خزانہ اور کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتا رمن نے خطاب کیا، جبکہ فرانس کی کور دے کومپت (حسابات کی عدالت) کی صدر محترمہ امیلی دے مونتشان نے مباحثے میں حصہ لیا۔ اس اجلاس میں جائزہ لیا گیا کہ عالمی تقسیم، تکنیکی تبدیلیوں اور بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں کے درمیان ہندوستان کس طرح ترقی کی رفتار برقرار رکھ سکتا ہے، مجموعی اقتصادی استحکام کو محفوظ رکھ سکتا ہے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرسکتا ہے، نیز طویل مدتی اقتصادی استحکام کی بنیادوں کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261010212827_533f4a.jpg

کانکلیو میں مرکزی بینکاری، مالیاتی استحکام اور مجموعی اقتصادی مضبوطی سے متعلق اہم نقطہ ہائے نظر بھی پیش کیے گئے۔ مباحثوں میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ عالمی سطح پر بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں کے ماحول میں مالیاتی حکام افراط زر، مالیاتی نظام کی کمزوریوں، سرمائے کی نقل و حرکت اور ادارہ جاتی ساکھ سے متعلق چیلنجوں سے کس طرح نمٹ سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت بھی کے ای سی 2026 کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر جناب جیوتیرادتیہ ایم سندھیا نے ’’مربوط ہندوستان، بااختیار مالیات: مصنوعی ذہانت کی معیشت کے لیے قابل اعتماد ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر‘‘ کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔ اس اجلاس میں جائزہ لیا گیا کہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، مصنوعی ذہانت اور مواصلات کے نئے نیٹ ورک کس طرح اعتماد اور مسابقت کو برقرار رکھتے ہوئے پیداواری صلاحیت میں اضافے اور اقتصادی تبدیلی میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261010212843_d9add8.jpg

کانکلیو میں ثقافت، ورثے اور اقتصادی ترقی کے باہمی تعلق کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مرکزی وزیر ثقافت و سیاحت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے ’’سرمائے کی حیثیت سے ثقافت: ورثے سے نئے افق تک‘‘ کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔ اس دوران اقتصادی ترقی کے وسیع تر ڈھانچے میں ثقافتی سرمائے اور ورثے کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261010212906_59d38d.jpg

بدلتے ہوئے عالمی نظام میں ہندوستان کی ابھرتی ہوئی حیثیت پر تبادلہ خیال کے ذریعے کانکلیو کے عالمی تناظر کو مزید تقویت ملی۔ ’’ہندوستان اور دنیا: حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ خصوصی اختتامی اجلاس کی صدارت آئی ای جی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر جناب این کے سنگھ نے کی۔ مرکزی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اختتامی خصوصی خطاب کیا، جبکہ سنگاپور کے سابق وزیر خارجہ جناب جارج ییو نے مباحثے میں حصہ لیا۔ اس اجلاس میں ہندوستان کی تزویراتی خودمختاری، شراکت داریوں اور تیزی سے پیچیدہ اور غیر یقینی ہوتے عالمی ماحول میں لچک کے ساتھ ردعمل دینے کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261010212922_eba8af.jpg

کانکلیو میں عصر حاضر کے اقتصادی مسائل کی ایک وسیع رینج پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں عالمی تقسیم، تجارت اور سپلائی چین، مالیاتی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مالیاتی منڈیاں، ترقیاتی مالیات، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، روزگار اور ہنر مندی، آبادیاتی تبدیلیاں، غذائی نظام، پائیداری اور موسمیاتی مالیات شامل ہیں۔ ان مباحثوں میں ہندوستان اور دنیا بھر کے ماہرین نے اپنے نقطہ نظر پیش کیے، جو اقتصادی تحقیق کو پالیسی سازی اور عالمی تجربات سے جوڑنے کے کانکلیو کے مقصد کی عکاسی کرتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261010212940_b91d26.jpg

 

پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کانکلیو میں اعلیٰ پالیسی سازوں اور ممتاز ماہرین اقتصادیات نے بھی شرکت کی۔ ان میں وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر پی کے مشرا، وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری-2 اور ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر جناب شکتی کانت داس، ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر جناب سنجے ملہوترا، محکمہ اقتصادی امور کی سکریٹری محترمہ انورادھا ٹھاکر، چیف اکنامک ایڈوائزر ڈاکٹر وی اننتھا ناگیشورن، لارڈ نکولس اسٹرن، پروفیسر مائیکل گرین اسٹون، یورپی مرکزی بینک کے سابق صدر ژاں کلاڈ تریشے کے علاوہ ہندوستان اور دیگر ممالک کے ممتاز ماہرین اقتصادیات، پالیسی سازوں اور کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image007_20261010213015_b7023e.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image008_20261010213044_c7146f.jpg

2022 میں اپنے آغاز کے بعد سے کوٹلیہ اقتصادی کانکلیو عصر حاضر کے اقتصادی اور پالیسی سے متعلق چیلنجوں پر تبادلہ خیال کا ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ اور حکومت ہند کی وزارت خزانہ کے مشترکہ اہتمام میں منعقد ہونے والا یہ کانکلیو علمی تحقیق، پالیسی سازی اور عالمی نقطہ نظر کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ اس کے گزشتہ اجلاس بالترتیب 2022 میں ’’مستقبل کی ازسرنو تشکیل‘‘، 2023 میں ’’بحرانوں سے دوچار دنیا میں آگے بڑھنا‘‘، 2024 میں ’’ہندوستان کا دور‘‘ اور 2025 میں ’’ہنگامہ خیز حالات میں خوشحالی کی تلاش‘‘ کے موضوعات پر منعقد ہوئے تھے۔

آئی ای جی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ڈاکٹر مائیکل دیبراٹا پاترا اور ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر سبیا ساچی کر نے کانکلیو کی رہنمائی اور اس کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image009_20261010213102_3baa7c.jpg

پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کانکلیو نے اس بات کی اہمیت کی توثیق کی کہ تیزی سے پیچیدہ ہوتے عالمی ماحول میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مسلسل تبادلہ خیال اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی ضروری ہے۔ ’’غیر یقینی تبدیلیوں کے دور میں استحکام‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اس کانکلیو میں اس ضرورت کو اجاگر کیا گیا کہ ہندوستان اور عالمی برادری کو ایسے ادارے، پالیسیاں اور شراکت داریاں تشکیل دینی چاہئیں جو غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ شمولیتی ترقی، سرمایہ کاری، اختراع اور طویل مدتی ترقی کے تسلسل کو بھی یقینی بنا سکیں۔

*****

ش ح۔ ش ت۔ ج

uno-4999


(ریلیز آئی ڈی: 2322138) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी