صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
قومی طبی کتب خانے کے زیر اہتمام ’’ڈیجیٹل صحت کے وسائل: کتب خانوں کے ذریعے رسائی کے نئے امکانات‘‘ کے موضوع پر ای آر ایم ای ڈی کنسورشیم کی پانچویں قومی تربیتی کانفرنس کا انعقاد
صحت کے شعبے میں تحقیق کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے ڈیجیٹل طبی وسائل کلیدی اہمیت رکھتے ہیں: محترمہ پنیا سلیلا سری واستو، ہیلتھ سکریٹری
سنٹرل ہیلتھ سکریٹری کا کا تمام طبی کالجوں، خصوصاً پسماندہ علاقوں میں واقع کالجوں تک ڈیجیٹل طبی وسائل کی رسائی بڑھانے پر زور
ڈیجیٹل صحت کے وسائل کو معلومات کو شواہد اور شواہد کو بہتر طبی خدمات میں تبدیل کرنا چاہیے: ڈاکٹر لوونیش جی کرشنا، ڈی جی ایچ ایس
ای آر ایم ای ڈی کانفرنس میں طبی معلومات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے چار ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر عملی تربیت کا اہتمام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 OCT 2026 12:15PM by PIB Delhi
حکومت ہندکی صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے تحت صحت خدمات کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی ایچ ایس) کے قومی طبی کتب خانے (این ایم ایل) نے آج نئی دہلی میں ای آر ایم ای ڈی کنسورشیم کے موضوع پر پانچویں یک روزہ قومی تربیتی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس کا موضوع ’’ڈیجیٹل صحت کے وسائل: کتب خانوں کے ذریعے رسائی کے نئے امکانات‘‘ تھا۔ اس میں صحت کی خدمات کی فراہمی، طبی تعلیم اور شواہد پر مبنی طبی عمل کو مضبوط بنانے میں ڈیجیٹل علمی وسائل کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
افتتاحی سیشن میں صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی سکریٹری محترمہ پنیا سلیلا سری واستو، وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر (محترمہ) ونود کوٹوال اور صحت خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر لوونیش جی کرشنا نے شرکت کی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت میں سکریٹری محترمہ پنیا سلیلا سری واستو نے علم اور معلومات تک رسائی کو آسان بنانے اور طبی تعلیم، تحقیق اور صحت کی خدمات کی فراہمی کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں قومی طبی کتب خانے (این ایم ایل) کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ قومی طبی کتب خانے کے نیٹ ورک کو وسعت دے کر 93 طبی کالجوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے تمام طبی کالجوں، خصوصاً ان علاقوں میں واقع کالجوں تک اس کی رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ،جہاں سہولیات کی کمی ہے، تاکہ معیاری طبی لٹریچر اور ڈیجیٹل تعلیمی وسائل تک سب کی یکساں رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
طبی شعبے میں مسلسل سیکھنے اور پیشہ ورانہ ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، نئی بیماریوں کی شناخت ہو رہی ہے، جدید طریقۂ علاج سامنے آ رہے ہیں اور طبی طریقۂ کار میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سہولیات سے آراستہ کتب خانے اور قابلِ رسائی ڈیجیٹل وسائل پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کو مریضوں کی بہترین ممکنہ نگہداشت فراہم کرنے کے قابل بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل صحت کے وسائل محض معلومات تک رسائی کے ذرائع ہی نہیں ہیں، بلکہ ملک میں تحقیق کے مضبوط رجحان کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کی اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور سائنسی مزاج پروان چڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، جو اختراع اور اصل تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان دیگر مقامات پر ہونے والی تحقیق سے استفادہ تو کر سکتا ہے، لیکن اپنی تحقیقی صلاحیتوں اور تحقیقی سوچ کو فروغ دیے بغیر اپنے بڑے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ ہم کہیں اور کی گئی تحقیق سے اپنا کام تو چلا سکتے ہیں، لیکن صرف اس سے اپنا مضبوط تحقیقی نظام قائم کرنے کا عزم پورا نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ہمیں تحقیقی سوچ پیدا کرنی ہوگی اور اس خیال کو پروان چڑھانے کے لیے ڈیجیٹل صحت کے وسائل تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔‘‘ اس تناظر میں انہوں نے ’ایک ملک، ایک رکنیت‘ پہل اور ای آر ایم ای ڈی کنسورشیم کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ یہ اقدامات تحقیقی اشاعتوں تک رسائی بڑھانے، شواہد پر مبنی سیکھنے کے عمل کو آسان بنانے اور تحقیق و اختراع کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے قومی طبی کتب خانے کو ایک تاریخی ادارہ قرار دیا، جس کی ذمہ داری علم تک رسائی کا دروازہ بننا اور ’وکست بھارت‘ کے وژن کو حقیقت میں بدلنے میں بامعنی تعاون دینا ہے۔
آئندہ کے لائحۂ عمل پر بات کرتے ہوئے محترمہ سری واستو نے قومی طبی کتب خانے سے اپیل کی کہ وہ ڈیجیٹل صحت کے وسائل تک رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل تیار کرے، جس میں صحت کی تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی میں مصنوعی ذہانت کے کردار کا جائزہ لینا بھی شامل ہو۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو رہنمائی اور تعاون فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ علم کے تبادلے کو آسان بنایا جا سکے اور مختلف اداروں میں طبی کتب خانوں کے بہتر طریقۂ کار کو اپنایا جا سکے۔ انہوں نے مؤثر نمونوں کی شناخت، بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور ملک بھر میں ڈیجیٹل تعلیمی وسائل تک رسائی اور ان کے استعمال کو بہتر بنانے کے لیے مخصوص موضوعات پر مرکوز مذاکروں اور پیشہ ورانہ تبادلۂ خیال کی تقریبات کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کی۔
کانفرنس میں ہونے والے تبادلۂ خیال پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کتب خانوں کے ذمہ داروں، صحت کے ماہرین اور دیگر شرکاء پر زور دیا کہ وہ ایک ایسے طبی علمی نظام کی تشکیل کے لیے اپنے تجربات، بصیرت اور قابلِ عمل تجاویز پیش کریں جو زیادہ قابلِ رسائی، جامع اور تحقیق پر مبنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ طبی اداروں کو قابلِ اعتماد علمی وسائل سے آراستہ کرنا اور زندگی بھر سیکھنے کے رجحان کو فروغ دینا، طبی تعلیم کو آگے بڑھانے، تحقیق کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں مریضوں کی نگہداشت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر (محترمہ) ونود کوٹوال نے علم کی منفرد نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مادی دولت خرچ کرنے سے کم ہو جاتی ہے، لیکن علم بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتب خانے اسی جذبۂ اشتراک علم کی بنیاد پر قائم ہیں اور معیاری طبی و تعلیمی مواد کو سب کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے لیے ڈیجیٹل وسائل سے بھرپور استفادہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی طبی کالج کے تین بنیادی ستون ’اس کے تدریسی عملے، بنیادی ڈھانچے اور علمی وسائل ‘پر مشتمل ہوتے ہیں، جن میں کتابیں، رسائل اور دیگر علمی مواد شامل ہیں۔ یہ تمام عناصر طبی تعلیم اور تحقیق کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر کوٹوال نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل تعلیمی وسائل محض دستیاب ہی نہ ہوں، بلکہ طبی ماہرین، محققین اور طلبہ کے لیے قابل رسائی اور مفید بھی ہوں۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک کتب خانوں کے ذمہ داروں اور دیگر شرکاء سے اپیل کی کہ وہ تبادلۂ خیال میں سرگرمی سے حصہ لیں، اپنے تجربات پیش کریں اور ڈیجیٹل علمی وسائل کے معیار، افادیت اور رسائی کو بہتر بنانے کے لیے تعمیری آرا اور قابلِ عمل تجاویز سے نوازیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی اجتماعی کوششوں سے طبی کتب خانے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی بدلتی ہوئی تعلیمی اور تحقیقی ضروریات کو زیادہ مؤثر انداز میں پورا کر سکیں گے۔
صحت خدمات کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ایچ ایس) ڈاکٹر لوونیش جی کرشنا نے ڈیجیٹل دور میں کتب خانوں کے بدلتے ہوئے کردارپر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کتب خانے اب ایسی جگہوں سے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں میں تبدیل ہو رہے ہیں، جہاں لوگ خود جا کر علم حاصل کرتے تھے، جبکہ اب یہ پلیٹ فارم علم کو براہ راست صارفین تک پہنچاتے ہیں۔ صحیح علم ،صحیح شخص تک ،صحیح وقت پر پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2024 میں ای آر ایم ای ڈی کنسورشیم کا ارتقا علم تک مشترکہ رسائی کی سمت ایک اہم تبدیلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ معیاری طبی اور علمی وسائل تک معالجین، محققین، طلبہ اور نرسنگ کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کی رسائی علم کو سب کے لیے یکساں طور پر قابلِ حصول بنانے اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 اور ’ایک ملک، ایک رکنیت‘ پہل کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر کرشنا نے ٹیکنالوجی سے آراستہ، مساوی اور تحقیق پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا، جسے علمی وسائل تک وسیع تر رسائی سے تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی کتب خانوں کے مستقبل کا مقصد محض معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ معلومات کو شواہد، شواہد کو علم اور علم کو بہتر طبی خدمات میں تبدیل کرنا بھی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ ساتھ انسانیت پرمرکوز نقطۂ نظر اپنانا بھی ضروری ہے۔ اس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی، تحقیقی صلاحیتوں اور معلومات کا تنقیدی جائزہ لینے نیز شواہد کو بامعنی عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی صلاحیتوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر کرشنا نے تمام متعلقہ فریقوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ آئندہ پانچ سے دس برسوں میں قومی طبی کتب خانے اور ای آر ایم ای ڈی کنسورشیم کی شکل کیسی ہونی چاہیے۔ انہوں نے علم کے زیادہ مربوط، پائیدار، جامع اور ذمہ دار نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے طبی کتب خانوں کے مستقبل کے لیے رسائی، علم، وژن اور اثرات کو رہنما اصول قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کی کامیابی کا اظہار بالآخر بہتر طبی تعلیم، تحقیق، شواہد پر مبنی طبی عمل اور صحت کی خدمات کے بہتر نتائج کی صورت میں ہونا چاہیے۔
کانفرنس کے دوران صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی سکریٹری محترمہ پنیا سلیلا سری واستو نے قومی طبی کتب خانے (این ایم ایل) کے نیوز لیٹر(خبرنامے) اور یادگاری مجلے کا اجرا کیا۔ یہ کتب خانے کی سرگرمیوں، اقدامات اور طبی علم کی ترسیل اور پیشہ ورانہ تبادلے کے فروغ میں اس کے تعاون کو دستاویزی شکل دینے کے حوالے سے ایک اہم موقع تھا۔
کانفرنس میں ڈیجیٹل صحت کے نظام میں طبی کتب خانوں کے بدلتے ہوئے کردار اور مستند، معیاری سائنسی اور طبی لٹریچر تک رسائی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ طبی فیصلوں، تحقیق اور طبی تعلیم میں ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر، اس پروگرام نے طبی کتب خانوں کے ذمہ داروں اور صحت کے ماہرین کو علم کے تبادلے، نئے طریقۂ کار کا جائزہ لینے اور شواہد پر مبنی صحت کی خدمات کی معاونت کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کیا۔
کانفرنس کی ایک اہم خصوصیت ای آر ایم ای ڈی کے چار بڑے وسائل پر مبنی پلیٹ فارموں، کلینیکل کی، بی ایم جے، ایکسیس میڈیسن اور میڈ ون پر عملی تربیت تھی۔ اس تربیت کا مقصد شرکاء کو ان ڈیجیٹل پلیٹ فارموں سے واقف کرانا اور متعلقہ طبی لٹریچر، طبی معلومات اور علمی وسائل تک مؤثر انداز میں رسائی حاصل کرنے اور انہیں استعمال کرنے کی ان کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔
کانفرنس میں ’’نگہبان سے طبی شراکت دار تک: طبی کتب خانوں کے ذمہ داروں کا اگلا کردار‘‘ کے موضوع پر ایک پینل مذاکرہ بھی منعقد ہوا۔ اس مذاکرے میں طبی کتب خانوں کے ذمہ داروں کی بدلتی ہوئی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ان کا کردار معلوماتی وسائل کے انتظام سے آگے بڑھ کر طبی ٹیموں، محققین، اساتذہ اور طلبہ کو شواہد پر مبنی علم تک رسائی حاصل کرنے اور اسے بروئے کار لانے میں فعال مدد فراہم کرنے تک وسیع ہو رہا ہے۔
کانفرنس میں طبی اور سائنسی معلومات تک ڈیجیٹل رسائی کو مضبوط بنانے اور صحت کے اداروں، طبی تعلیم اور تحقیق کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے طبی کتب خانوں کے ذمہ داروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔ علم کے تبادلے، عملی تربیت اور پیشہ ورانہ تبادلۂ خیال کے ذریعے ای آر ایم ای ڈی کنسورشیم طبی برادری میں ڈیجیٹل صحت کے وسائل کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مسلسل ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
اس موقع پر قومی طبی کتب خانے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مکیش پاٹھک، صحت خدمات کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بی سری نواس، معزز مہمانان اور شعبے کے ماہرین موجود تھے۔
********
ش ح۔ م ع ن۔ ن ع
U-NO-4897
(ریلیز آئی ڈی: 2321308)
وزیٹر کاؤنٹر : 13