کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تجارت و صنعت کی وزارت کے سکریٹری جناب راجیش اگروال نے سی ٹی آئی ایل کی نویں سالگرہ کی تقریب میں قانونی معاملات پر گہری اور جامع سوچ کی ضرورت پر زور دیا


سی ٹی آئی ایل نے تجارت اور پائیداری پر نویں سالگرہ کا رسالہ جاری کیا، ’’انویسٹمنٹ لا کمپاس‘‘  کاخصوصی شمارہ بھی لانچ کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 OCT 2026 11:33AM by PIB Delhi

تجارت و صنعت کی وزارت سکریٹری جناب راجیش اگروال نے 7 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں وزیر اعظم میوزیم اور لائبریری میں منعقدہ مرکز برائے تجارت و سرمایہ کاری قانون (سی ٹی آئی ایل) کی نویں سالگرہ کی تقریب سے ویڈیو  کانفرنسگ کے ذریعہ خطاب  کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مروجہ قواعد و ضوابط پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف پائیداری سے منسلک تجارتی اقدامات اور ڈیجیٹل تجارت جیسے نئے مسائل عالمی تجارتی ترجیحات کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں قانونی معاملات پر گہری اور جامع سوچ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے اور اس شعبے کے ایک سرکردہ ادارے کی حیثیت سے سی ٹی آئی ایل اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

تجارت و صنعت کی وزارت سکریٹری جناب راجیش اگروال نے سی ٹی آئی ایل کو نو سال مکمل کرنے پر مبارک باد  دیتے ہوئے کہا کہ اس مرکز نے مسلسل محنت اور جامع کام کے ذریعے حکومت، صنعت اور تجارت کے قانون سے وابستہ وسیع تر حلقوں کا اعتماد حاصل کیا ہے۔ انہوں نے آزاد تجارتی معاہدوں کے مذاکرات، تنازعات کے حل اور ادارہ جاتی معلومات و تجربات کو محفوظ رکھنے کے سلسلے میں قانونی تجزیے اور خصوصی معاونت کے ذریعے محکمہ تجارت کے لیے سی ٹی آئی ایل کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔

اس موقع پر سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج جسٹس پی ایس نرسمہا نے کہا کہ  ہندوستان کو سی ٹی آئی ایل جیسے اداروں کی ضرورت ہے، جو بین الاقوامی اقتصادی قانون میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے نئی سمت دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔

جسٹس نرسمہا نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاری قانون کا ارتقا ابتدا میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ پر مرکوز تھا، لیکن اب اس میں حکومتوں کے قانون سازی کے اختیار کو زیادہ تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ اب ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں ادارہ جاتی نظام کی تشکیل، قانونی جواز اور سرمایہ کاری و حکومتی اختیارات کے درمیان طویل مدتی توازن جیسے سوالات زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے پائیدار بین الاقوامی سرمایہ کاری قانونی نظام کی ضرورت پر زور دیا جو سرمایہ کاری کے تحفظ اورحکومتوں کے قانون سازی کے اختیار کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔

مرکز برائے تجارت و سرمایہ کاری قانون (سی ٹی آئی ایل)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فارن ٹریڈ (آئی آئی ایف ٹی) کے سربراہ اور عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے ہندوستانی چیئر  کےپروفیسر جیمز جے نیدومپارا نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سی ٹی آئی ایل کا قیام اقتصادی حکمت عملی کے وسیع تر حصے کے طور پر ہندوستان کی تجارتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سی ٹی آئی ایل اب تک چار ہزار سے زیادہ قانونی آرا پیش کر چکا ہے، تقریباً دس آزاد تجارتی معاہدوں سے متعلق مذاکرات میں حصہ لے چکا ہے اور عالمی تجارتی تنظیم کے مذاکرات، تحریری گزارشات، اطلاعات اور تنازعات کے تصفیے میں بھی تعاون کر چکا ہے۔

 تجارت و صنعت کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب یشویر سنگھ نے خصوصی خطاب میں کہا کہ  گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہندوستان کی اہم تجارتی سرگرمیوں میں سی ٹی آئی ایل کی خدمات کو اجاگر کیا۔ ان میں اہم آزاد تجارتی معاہدوں اور جی 20 اور برکس جیسے فورموں سے متعلق سرگرمیوں میں معاونت بھی شامل ہے۔ انہوں نے عالمی تجارتی تنظیم کے مذاکرات، اطلاعات اور تنازعات کے تصفیے میں سی ٹی آئی ایل کے کام کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی اقتصادی سفارت کاری اور بین الاقوامی اقتصادی قانون کے شعبے میں انسانی وسائل کی ترقی کے لیے اس کی خدمات کو بھی نمایاں کیا۔

آئی آئی ایف ٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر کے رنگاراجن نے اپنے خطاب میں ادارے میں تجارت سے متعلق پالیسی کے شعبے میں مہارت رکھنے والے خصوصی اداروں کے ارتقا کا ذکر کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی تجارتی مذاکرات اور پالیسی سے متعلق اقدامات کے لیے بروقت مہارت اور مشاورت فراہم کرنے میں سی ٹی آئی ایل کے  وسیع کردار کو بھی اجاگر کیا۔

تجارت و صنعت کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری محترمہ کپل چودھری نے اہم معدنیات، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، رسدی سلسلوں، آب و ہوا اور پائیداری سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں میں سی ٹی آئی ایل کی تحقیق کے دائرۂ کار میں توسیع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ادارہ جاتی معلومات و تجربات کے مؤثر انتظام اور محکمہ تجارت کے اندر صلاحیت سازی کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اس موقع پر سی ٹی آئی ایل کے رسالے کا نویں سالگرہ کا شمارہ جاری کیا گیا، جس کا عنوان ہے ’’پائیداری کا ابھرتا ہوا منظرنامہ: بدلتی صورتحال کے مطابق حکمت عملی‘‘۔ اس رسالے میں ان مستقبل کے مواقع اور چیلنجوں کا جائزہ لیا گیا ہے جن کا سامنا ترقی پذیر ممالک کو تجارت اور پائیداری کے بدلتے ہوئے باہمی تعلق کے شعبے میں اپنی شرکت بڑھانے کی کوششوں کے دوران کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس موقع پر ’’انویسٹمنٹ لا کمپاس‘‘ کا خصوصی سالگرہ شمارہ بھی جاری کیا گیا، جو سرمایہ کاری کے قانون اور پالیسی میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق سی ٹی آئی ایل کا ماہانہ خبرنامہ ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261009113428_197f09.jpg

تقریب کا باضابطہ اختتام سی ٹی آئی ایل کے تدریسی عملے اور دیگر ملازمین کو طویل عرصے تک ادارے کے لیے گراں قدر اور نمایاں خدمات انجام دینے کے اعتراف میں خصوصی اعزازی ایوارڈ پیش کرنے کے ساتھ ہوا۔ ان اعزازات کے ذریعے ادارے کے تئیں ان کے مسلسل تعاون، لگن اور خدمات کی پذیرائی کی گئی۔

***

ش ح۔ع و   ۔ ش ا

U.No. 4894


(ریلیز آئی ڈی: 2321218) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati