قومی انسانی حقوق کمیشن
این ایچ آر سی ،بھارت نے پٹنہ میں بہار کی دو روزہ کھلی سماعت اور کیمپ اجلاس مکمل کیا
بندھوا مزدوری سمیت70سے زائد معاملات میں شکایت کنندگان، متاثرین اور متعلقہ افسران کی موجودگی میں سماعت کی گئی
کمیشن کی سفارشات پر متاثرین کو ایک کروڑ روپے سے زائد کی امدادی رقم ادا کی گئی؛ دیگر معاملات میں50لاکھ روپے سے زیادہ کی امداد دی گئی
خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم اور رپورٹیں بروقت پیش کرنے سے متعلق امور پر سینئر افسران کو حساس بنایا گیا
کمیشن نے رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے لیے غیر سرکاری تنظیموں، شہری سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے نمائندوں سے بھی تبادلۂ خیال کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 OCT 2026 9:05PM by PIB Delhi
قومی انسانی حقوق کمیشن،بھارت(این ایچ آر سی) کے چیئرپرسن جسٹس وی۔ راما سبرامنیم کی قیادت میں آج پٹنہ میں بہار کی دو روزہ کھلی سماعت اور کیمپ اجلاس کااختتام ہوا۔ چیئرپرسن اور کمیشن کے ارکان جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی اور محترمہ وجیا بھارتی سَیانی نے متاثرین اور متعلقہ افسران کی موجودگی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 70 سے زائد مبینہ معاملات کی سماعت کی۔ اس موقع پر ریاست کے چیف سکریٹری جناب پرتیایہ امرت، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس محترمہ پریتا ورما، قومی انسانی حقوق کمیشن کے سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل، ڈائریکٹر جنرل (تفتیش) محترمہ انوپما نیلیکر چندرا، جوائنٹ سکریٹری جناب سمیر کمار اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔
پہلے دن کمیشن نے 30 معاملات کی سماعت کی اور فریقین کو سننے اور سفارشات پر عمل درآمد کی تصدیق کے بعد 19 معاملات نمٹا دیے۔ ریاستی حکومت نے کمیشن کی سفارشات کے مطابق 10 معاملات میں ادائیگی کے ثبوت پیش کیے، جس سے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو راحت ملی۔ مجموعی طور پر ایک کروڑ روپے سے زائد معاوضہ تقسیم کیے جانے کی اطلاع دی گئی، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کو انصاف دلانے اور ان کی داد رسی یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق مختلف معاملات کی سماعت کی گئی۔ ایک خاتون متاثرہ کے معاملے میں کمیشن نے بہار کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت دی کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور ایک مخصوص ہیلپ لائن نمبر دیا جائے، جس پر وہ کسی بھی خطرے کی صورت میں یا ضرورت پڑنے پر رابطہ کر سکیں۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو کمیشن کی ہدایت کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کی ہدایت بھی دی گئی۔

پٹنہ ضلع کے منیر علاقے میں 10 سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے ایک اور معاملے میں کمیشن نے متاثرہ کے قریبی لواحقین کو 5 لاکھ روپے بطور امداد ادا کرنے کی سفارش کی۔ عدالتی تحویل میں موت کے دو دیگر معاملات میں کمیشن نے جیل اور طبی عملے کی غفلت کا مشاہدہ کیا اور 15 لاکھ روپے کی امداد دینے کی سفارش کی۔

آج سماعت کے دوسرے دن قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن نے بندھوا مزدوری کے 10 مبینہ معاملات کی سماعت کی۔ اس موقع پر بہار حکومت کے سکریٹری برائے محنت، لیبر کمشنر اور دیگر افسران موجود تھے۔ بندھوا مزدوری کے ایک معاملے میں کمیشن نے ضلع مجسٹریٹ کی نمائندگی کرنے والے جیل کے ایک افسر کے رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ بچوں سے مزدوری کے دو معاملات میں کمیشن نے سکریٹری برائے محنت کو ہدایت دی کہ کمیشن کے فراہم کردہ نمونے کے مطابق تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔
کئی نسلوں سے جاری مبینہ بندھوا مزدوری کے ایک معاملے میں کمیشن نے قومی انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل (تحقیقات) کو موقع پر جا کر انکوائری کرنے کی ہدایت دی۔
اسی دن کمیشن کے ارکان جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی اور محترمہ وجیا بھارتی سَیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 33 معاملات کی سماعت کی۔ ان میں سفارشات پر عمل درآمد سے متعلق معاملات اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی دیگر شکایات شامل تھیں۔ شکایت کنندہ کی درخواست پر فہرست میں شامل نہ ہونے والے تین معاملات کی بھی مقررہ ترتیب سے ہٹ کر سماعت کی گئی۔ کارروائی کے دوران کمیشن نے فریقین کو سننے اور عمل درآمد سے متعلق رپورٹوں کے ساتھ متوفی کے قریبی لواحقین کو 40 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیے جانے کے ثبوت کا جائزہ لینے کے بعد 10 معاملات نمٹا دیے۔ عدالتی یا پولیس تحویل میں موت کے پانچ دیگر معاملات میں، جن میں کمیشن نے جیل یا پولیس افسران کی غفلت پائی، 30 لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کی سفارش کی گئی۔ دیگر معاملات میں متعلقہ حکام سے مزید رپورٹیں طلب کی گئی ہیں۔
سماعت کے بعد کمیشن نے بہار سے متعلق اہم امور پر غیر سرکاری تنظیموں، شہری سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے نمائندوں سے تبادلۂ خیال کیا۔ چیئرپرسن نے قومی انسانی حقوق کمیشن کے ساتھ بہتر تال میل قائم کرنے کی ان کی تجویز قبول کر لی۔

کمیشن نے ریاستی حکومت کے سینئر افسران کے ساتھ ایک میٹنگ بھی کی۔ اس میں کمیشن کو رپورٹیں پیش نہ کرنے یا ان کی فراہمی میں تاخیر، قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بارے میں حکام میں معلومات کی کمی، بندھوا مزدوروں کی شناخت، بازیابی، رہائی اور بازآبادکاری سے متعلق مسائل، پولیس کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم، بشمول انسانی اسمگلنگ، امتناعی قوانین پر مناسب طریقے سے عمل درآمد نہ ہونے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات، بچوں کے تحفظ، بشمول بچوں سے مزدوری، اسکولوں میں تحفظ اور بچوں کی فلاح و بہبود، پناہ گاہوں، اصلاحی اداروں اور رہائشی نگہداشت کی دیگر سہولتوں کی نگرانی جیسے اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔کھلی سماعت اور کیمپ اجلاس کے اختتام پر قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن نے افسران کے تعاون کو سراہا، جس کی بدولت متاثرین کو راحت فراہم کرنے میں مدد ملی۔
***
) ش ح – رک )
U.NO- 4890
(ریلیز آئی ڈی: 2321192)
وزیٹر کاؤنٹر : 5