بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
آئی این اے میں واقع دہلی ہاٹ میں‘ کھادی میلہ-2026’ کے تحت کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے خصوصی کھادی اور دیہی صنعتوں کی نمائش کا افتتاح کیا
کھادی اور پی ایم ای جی پی یونٹوں کی مصنوعات کے 115 اسٹالوں میں ہندوستان کی متنوع وراثت کے ساتھ ‘منی انڈیا’ کی جھلک؛ نمائش 15 اکتوبر تک جاری رہے گی
نمائش کا بنیادی مقصد وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے پیغام ‘ہر گھر سودیشی، گھر گھر سودیشی’ کو لوگوں اور جین- زی تک پہنچانا ہے: کے وی آئی سی کے چیئرمین
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 OCT 2026 10:24PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے مطابق، ہندوستان کی متنوع ثقافتی وراثت، روایتی دستکاری اور گھریلو صنعت کاری کے حسین امتزاج کی عکاسی کرنے والی کھادی اور دیہی صنعتوں کی خصوصی نمائش کا افتتاح حکومت ہند کی بہت چھوٹی ،چھوٹی اوردرمیانے درجے کی صنعتوں کی وزارت (ایم ایس ایم ای) کے تحت کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن (کے وی آئی سی) کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے دہلی کے آئی این اے واقع دہلی ہاٹ میں کیا۔ یہ نمائش 15 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گی، جس میں مجموعی طور پر 115 اسٹال لگائے گئے ہیں۔ ان میں سے 48 اسٹال کھادی کے ہیں، جبکہ باقی اسٹال گرام اودیوگ اور پی ایم ای جی پی یونٹوں سے وابستہ صنعت کاروں اور دست کاروں کے ہیں۔ ملک کے تقریباً ہر خطے سے تعلق رکھنے والے دستکاروں، کھادی اداروں، دیہی صنعتوں کے اکائیوں اور صنعت کاروں نے یہاں اپنی مصنوعات کی نمائش کی ہے۔ دہلی ہاٹ میں منعقد یہ نمائش ‘منی انڈیا’ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ افتتاحی تقریب میں کے وی آئی سی کے سی ای او، ایم ایس ایم ای کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری (اے آر آئی)، کے وی آئی سی کے مالیاتی مشیر، افسران، ملازمین، کھادی اداروں کے نمائندوں اور دستکاروں نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب کے موقع پر مہمان خصوصی اور کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے کہا کہ کے وی آئی سی نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی سودیشی تحریک کی اپیل کو عوام اور جین – زی تک پہنچانے کے مقصد سے اس نمائش کا اہتمام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھادی اور دیہی صنعتیں محض مصنوعات کی فروخت کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ملک کے لاکھوں دستکاروں، بنکروں اور دیہی صنعت کاروں کی محنت اور خود انحصاری کی داستان بھی بیان کرتی ہیں۔ دہلی ہاٹ میں منعقد یہ نمائش ملک کے مختلف حصوں کی اسی رنگا رنگ روایت کو ایک ہی پلیٹ فارم پر پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھادی اور دیہی صنعتوں کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے لیے دیسی ساختہ مصنوعات کی تشہیر اور صارفین کو معیاری دیسی متبادل فراہم کرنا اہم ہے۔ انہوں نے دہلی کے باشندوں اور دہلی آنے والے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ دہلی ہاٹ میں منعقد اس نمائش کا دورہ کریں، ہندوستانی دستکاروں اور دیہی صنعت کاروں کی مصنوعات دیکھیں اور خریداری کے دوران دیسی ساختہ مصنوعات کو ترجیح دیں۔

کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب گوئل نے کہا کہ کھادی اور دیہی صنعتیں محض مصنوعات کی فروخت کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ لاکھوں دستکاروں، بنکروں اور دیہی صنعت کاروں کی محنت، ہنرمندی اور خود انحصاری کی داستان بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مودی حکومت نوجوانوں کو صرف روزگار سے ہی نہیں، بلکہ ہنر مندی، صنعت کاری، مالی وسائل اور منڈیوں سے جوڑ کر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ایک مکمل نظام تیار کر رہی ہے۔ اس سمت میں کھادی اور دیہی صنعتیں دیہی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع فراہم کرنے کا ایک مضبوط ذریعہ بن رہی ہیں۔‘‘

اس نمائش کی خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان کے مختلف جغرافیائی خطوں کی مخصوص کھادی، کپڑے اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات ایک ہی جگہ دیکھی اور خریدی جا سکتی ہیں۔ جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کرناٹک، تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کیرالہ سے تعلق رکھنے والے شرکاء کھادی اور ریشم کی خصوصی مصنوعات لے کر آئے ہیں۔ یہاں کرناٹک کی ریشمی مصنوعات، تمل ناڈو کی روایتی بُنائی اور ریشم، آندھرا پردیش کی قلم کاری مصنوعات، تلنگانہ کی اِکت روایت اور کیرالہ کے کپڑا بُننے کے روایتی ہنر کے نمونے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مشرقی ہندوستان سے مغربی بنگال کی نفیس ململ اور ہینڈ لوم پر بُنائی کی روایت، بہار کی ریشم اور تسر کی مصنوعات اور اوڈیشہ کی روایتی بُنائی اور اِکت دستکاری کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ شمال مشرقی ہندوستان کی کھادی کے ساتھ بانس اور قدرتی اشیاء سے تیار کردہ دلکش مصنوعات بھی نمائش میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ یہاں آسام کی روایتی ریشمی مصنوعات کے علاوہ شمال مشرقی خطے کے دستکاری اور بانس سے تیار کردہ مصنوعات بھی پیش کی گئی ہیں۔

شمالی اور مغربی ہندوستان سے بھی بڑی تعداد میں شرکاء اپنی منفرد مصنوعات کے ساتھ نمائش میں پہنچے ہیں۔ یہاں گجرات کی روایتی کپڑا سازی اور دستکاری، راجستھان کی رنگا رنگ دستکاری اور روایتی چھپائی کے نمونے، ہماچل پردیش کی اونی مصنوعات، اتر پردیش کی روایتی بُنائی اور دستکاری، ہریانہ کی دیہی مصنوعات اور جھارکھنڈ و چھتیس گڑھ کی قدرتی اشیاء سے تیار کردہ مصنوعات اور قبائلی دستکاری کے نمونے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں سے بھی شرکاء اپنے اپنے علاقوں کی روایتی شناخت سے جڑی کھادی کے کپڑے، ریشمی مصنوعات، دستکاری کے نمونے، قدرتی اشیاء، تیار شدہ غذائی مصنوعات، جڑی بوٹیوں سے بنی مصنوعات اور دیہی صنعتوں کی دیگر اشیاء لے کر آئے ہیں۔


میڈیا سے بات چیت کے دوران کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش سوچ اور پالیسیوں کے نتیجے میں کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے نے بھی غیر معمولی ترقی کی ہے۔ مالی سال 26-2025 میں کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے کا کاروبار 1.87 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس شعبے کے ذریعے2.04 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو روزگار مل رہا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے وقت میںیہ شعبہ 2.51 لاکھ کروڑ روپے کے کاروباری ہدف کو بھی حاصل کر لے گا۔
***
ش ح۔ م ش۔ش ت
U.NO-4884
(ریلیز آئی ڈی: 2321180)
وزیٹر کاؤنٹر : 5