تعاون کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بستر میں 9ویں قومی جائزہ ورکشاپ کا آغاز؛ ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کو زمینی سطح پر ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے پر توجہ


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کی رہنمائی میں اور مرکزی وزیر داخلہ و وزیر تعاون جناب امت شاہ کی قیادت میں تعاون پر مبنی تبدیلی، ادارہ جاتی مضبوطی اور جامع ترقی کو تیز کرنے پر زور دیا گیا

وزارتِ تعاون کے سکریٹری ڈاکٹر آشیش کمار بھوٹانی نے کوآپریٹو اداروں میں جمہوری حکمرانی، شفافیت، جواب دہی اور اچھی حکمرانی کو مضبوط بنانے پر زور دیا

کوآپریٹو بینکوں کی خودمختاری کے ساتھ جواب دہ اور مؤثر نگرانی بھی ہونی چاہیے؛ ریاستی رجسٹراروں کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے: ڈاکٹر بھوٹانی

این سی ڈی سی ایکٹ میں حالیہ ترمیم سے تعاون پر مبنی ترقی کے فروغ میں مصروف اداروں کے لیے مالی امداد کے نئے راستے کھلے ہیں

کوآپریٹو مصنوعات کے لیے ایک مشترکہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ پلیٹ فارم اور ایک ماڈل کوآپریٹو بینکاری فریم ورک تیار کرنے کے سلسلے میں ریاستوں سے مشاورت کی جائے گی

قومی کوآپریٹو اداروں این سی ای ایل، این سی او ایل اور بی بی ایس ایس ایل کے ذریعے برآمدات، نامیاتی مصنوعات اور بیجوں کی ویلیو چین کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ

پی اے سی ایس، ڈیری کوآپریٹو اداروں، کوآپریٹو بینکاری، ڈیجیٹلائزیشن اور کاروباری تنوع کے شعبوں میں ریاستوں کی کامیاب اقدامات اور آئندہ تین ماہ کے ایکشن پلان کا جائزہ

دو روزہ ورکشاپ میں ریاستی تجربات، چیلنجوں اور اختراعات کے تبادلے کے ذریعے کوآپریٹو شعبے کے لیے عملی ماڈلز اور مستقبل کی حکمتِ عملی تیار کرنے پر زور دیا گیا۔

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 7:24PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے اور مرکزی وزیر داخلہ و وزیر تعاون جناب امت شاہ کی قیادت میں ہندوستان کے تعاون کے شعبے کو مضبوط، زیادہ شفاف، جوابدہ اور اقتصادی طور پر متحرک بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، وزارتِ تعاون 8 اور 9 اکتوبر 2026 کو بستر، چھتیس گڑھ میں 9ویں قومی جائزہ ورکشاپ کا انعقاد کر رہی ہے۔ ورکشاپ کا موضوع ’سہکار سے سمردھی—آگے کا راستہ: تعاون پر مبنی تبدیلی کے ذریعے بڑے پیمانے پر اثر‘ ہے۔

ورکشاپ کا مقصد بڑے تعاون پر مبنی اقدامات کے تحت پیش رفت کا جائزہ لینا، ریاستوں کے درمیان کامیاب طریقۂ کار اور زمینی سطح کے تجربات کے تبادلے کو آسان بنانا اور آئندہ تین ماہ کے لیے نتائج پر مبنی ایکشن پلان تیار کرنا ہے۔ اس ورکشاپ میں مختلف ریاستوں کے سینئر عہدیداران، کوآپریٹو سوسائٹیوں کے رجسٹرار، قومی کوآپریٹو اداروں اور فیڈریشنوں کے نمائندگان اور کوآپریٹو ماحولیاتی نظام کے اہم اسٹیک ہولڈرز شرکت کر رہے ہیں۔ دو روزہ ورکشاپ کو ریاستوں کی قیادت میں بات چیت اور علم کے تبادلے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، جس میں کوآپریٹو اداروں کی بحالی، مالی استحکام، کاروبار میں تنوع، ڈیجیٹلائزیشن، صلاحیت سازی اور بازار تک بہتر رسائی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ تعاون کے سکریٹری ڈاکٹر آشیش کمار بھوٹانی نے کہا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے طویل عرصے سے متاثرہ ضلع بستر میں تعاون پر مبنی ترقی کے موضوع پر اس ورکشاپ کے انعقاد کی تجویز خود مرکزی وزیر داخلہ و وزیر تعاون جناب امت شاہ نے پیش کی تھی، جس نے اس پہل کو خاص طور پر اہم اور بامعنی بنا دیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ورکشاپ کا مقصد محض مختلف اسکیموں اور اقدامات پر تبادلۂ خیال کرنا نہیں، بلکہ حاصل شدہ تجربات اور بصیرت کو زمینی سطح پر ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی، زیادہ سے زیادہ ادارہ جاتی تعاون اور کامیاب طریقۂ کار کو وسیع پیمانے پر اپنانے سے کوآپریٹو تحریک کو مزید تقویت ملے گی۔

ہر سطح پر جمہوری حکمرانی، شفافیت اور تعاون کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر بھوٹانی نے چھوٹے کاروباروں اور عام شہریوں، خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں، معاشی طور پر بااختیار بنانے میں کوآپریٹو اداروں کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔

کوآپریٹو بینکاری شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر بھوٹانی نے کہا کہ کوآپریٹو بینک معاشرے کے ان طبقات کو مالی خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں جنہیں اکثر تجارتی اور نجی بینکوں سے مناسب قرض اور دیگر بینکاری سہولیات حاصل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ادارہ جاتی خودمختاری کے ساتھ جوابدہ اور مؤثر نگرانی بھی ضروری ہے۔

کوآپریٹو بینکوں کے انتظام اور حکمرانی میں خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے زیادہ منظم اور حکمتِ عملی پر مبنی نگرانی کے فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں میں کوآپریٹو سوسائٹیوں کے رجسٹراروں پر زور دیا کہ وہ زیادہ چوکسی کا مظاہرہ کریں اور نگرانی کو مضبوط بنانے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نگرانی میں کمزوریوں کے نتائج انفرادی اداروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ مجموعی طور پر کوآپریٹو شعبے کی ساکھ پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

سکریٹری نے کہا کہ وزارتِ تعاون کوآپریٹو بینکوں کی وسائل کو متحرک کرنے کی صلاحیت کو مستحکم کرنے اور کسانوں اور کوآپریٹو شعبے سے وابستہ دیگر اسٹیک ہولڈرز کو رعایتی شرحوں پر مالی معاونت فراہم کرنے کے مواقع بڑھانے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا کے ساتھ قریبی تال میل میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے، رسک مینجمنٹ کے مضبوط طریقۂ کار اختیار کرنے اور صارفین کا اعتماد بڑھانے کے اقدامات کے ذریعے کوآپریٹو بینکاری کو مزید مسابقتی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

تعاون پر مبنی ترقی کے لیے مالی وسائل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر بھوٹانی نے کہا کہ ورکشاپ میں نابارڈ کی ٹیم کی شرکت سے مختلف اسکیموں اور اداروں کے لیے مالی اعانت کے امور پر بامعنی غور و خوض کا موقع فراہم ہوگا۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا، جس میں کوآپریٹو اقدامات کے لیے مالی امداد کی دستیابی اور ریاستوں کی مخصوص ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ این سی ڈی سی گزشتہ دو سے تین برسوں کے دوران کوآپریٹو شعبے کو مالی اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے والے ایک اہم ادارے کے طور پر ابھرا ہے۔

این سی ڈی سی ایکٹ میں حالیہ ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے ایسے اداروں کو بھی مالی امداد فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے جو خود کوآپریٹو ادارے نہیں ہیں، لیکن کوآپریٹو ترقی کے فروغ میں مصروف ہیں۔ اس سے ریاستی سطح کے مختلف اداروں کے لیے این سی ڈی سی سے براہِ راست مالی امداد حاصل کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ان مواقع سے مؤثر طور پر فائدہ اٹھائیں اور مضبوط تال میل کے ذریعے مالی اقدامات کو آگے بڑھائیں۔

ڈیری شعبے کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر بھوٹانی نے کہا کہ ورکشاپ میں ڈیری اداروں کی جانب سے کیے گئے اقدامات، انہیں کوآپریٹو اداروں میں ترقی دینے کے مواقع اور متعلقہ ویلیو چینز کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ بات چیت میں انسانی وسائل سے متعلق پالیسیوں، ادارہ جاتی صلاحیت سازی، اختراع اور تعاون کے شعبے کی ابھرتی ہوئی ضروریات کا بھی احاطہ کیا جائے گا۔

سکریٹری، وزارتِ تعاون نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اپنے متعلقہ تعاون کے شعبوں میں کیے جانے والے نئے تجربات، کامیاب ماڈلز اور اختراعات کا اشتراک کریں۔ انہوں نے کہا کہ کئی قابلِ ذکر اقدامات ریاستوں میں نافذ کیے جا رہے ہیں، لیکن ان کوششوں کے بارے میں معلومات ہمیشہ دوسری ریاستوں تک نہیں پہنچ پاتیں۔ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق سرگرمیوں میں بعض ریاستوں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تجربات کا اشتراک کامیاب طریقۂ کار کی ایک مضبوط قومی علمی بنیاد تیار کرنے میں مدد دے گا اور دیگر ریاستوں کو بھی اسی طرح کی اختراعات کرنے کی ترغیب دے گا۔

کوآپریٹو مصنوعات اور زرعی پیداوار کی زیادہ مؤثر مارکیٹنگ کے لیے ایک مشترکہ کوآپریٹو ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کرنے کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر بھوٹانی نے کہا کہ ورکشاپ میں اس پہل کے تحت ہونے والی پیش رفت اور اسے آگے بڑھانے میں ریاستوں کے ممکنہ کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) نے بھی اس پہل کے لیے اپنی حمایت کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت، کوآپریٹو اداروں کو وسیع تر بازاروں سے جوڑنے کے لیے ایک عملی اور مؤثر طریقۂ کار تیار کرنے کی غرض سے مزید پیش رفت سے قبل ریاستوں سے تجاویز اور رہنمائی حاصل کرے گی۔

ڈاکٹر آشیش کمار بھوٹانی نے اس بات پر زور دیا کہ ورکشاپ میں ہونے والی بات چیت کو زیادہ شراکتی بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جس سے وزارت کو ریاستوں کے تجربات، خدشات اور تجاویز کو قریب سے سننے کا موقع ملے گا۔ یہ معلومات زمینی سطح کی ضروریات کے مطابق عملی ماڈلز، رہنما خطوط اور سرکلرز تیار کرنے میں مدد دیں گی۔ انہوں نے ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کوآپریٹو اداروں کے کام کاج، مالی اعانت، انتظامیہ اور کاروبار کو وسعت دینے سے متعلق چیلنجوں کو کھل کر سامنے رکھیں۔

پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (پی اے سی ایس) اور قبائلی کوآپریٹو اداروں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے سکریٹری، وزارتِ تعاون نے کہا کہ ورکشاپ کے پروگرام میں منتخب کوآپریٹو اداروں کے دورے بھی شامل ہیں۔ یہ دورے شرکاء کو ان اداروں کے کام کاج کا براہِ راست مشاہدہ کرنے اور مقامی سطح پر اپنائے جانے والے طریقۂ کار کو سمجھنے کا موقع فراہم کریں گے۔ انہوں نے پی اے سی ایس اور قبائلی کوآپریٹو اداروں کو ریاستی اور قومی کوآپریٹو فیڈریشنوں کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ ان کی مصنوعات اور پیداوار کے لیے بازار تک رسائی بہتر بنائی جا سکے اور اراکین کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

پی اے سی ایس کے ذریعے کی جانے والی سرکاری خریداری کی سرگرمیوں کا قریب سے جائزہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر بھوٹانی نے کہا کہ جن ریاستوں میں پی اے سی ایس سرکاری خریداری میں شامل ہیں، انہیں اپنے عملی تجربات کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ پی اے سی ایس کو موصول ہونے والے کمیشن، ان سے حاصل ہونے والے حقیقی معاشی فوائد، ادائیگیوں میں تاخیر اور ایسی سرگرمیوں کی مجموعی مالی پائیداری سے متعلق معلومات کا اشتراک کریں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں اختیار کیے گئے کامیاب طریقۂ کار کو ملک بھر میں وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے عملی ماڈلز میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

افتتاحی اجلاس کے دوران چھتیس گڑھ کے چیف سکریٹری جناب وکاس شیل نے تمام شریک ریاستوں اور اداروں کے نمائندگان کا خیرمقدم کیا اور تعاون کے شعبے کی ترقی کے لیے چھتیس گڑھ حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ بستر میں منعقد ہونے والی یہ ورکشاپ ریاستوں کے درمیان تعاون، تجربات کے تبادلے اور عملی حل کی تیاری کو نئی تحریک فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ سے سامنے آنے والی تجاویز اور نتائج کو کوآپریٹو اداروں کو مضبوط، زیادہ شفاف، جوابدہ اور مؤثر بنانے کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

ورکشاپ کے پہلے روز گزشتہ تین ماہ کے دوران وزارتِ تعاون کے اہم اقدامات کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ تین ماہ کے لیے قومی ترجیحات اور ایکشن پلان کے مطابق پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان اقدامات میں کثیر مقصدی پی اے سی ایس کا قیام، پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن، کوآپریٹو شعبے میں دنیا کے سب سے بڑے اناج ذخیرہ کرنے کے منصوبے، کاروبار میں تنوع، کوآپریٹو بینکاری اور این سی ای ایل، این سی او ایل، بی بی ایس ایس ایل اور این سی ڈی سی سے متعلق اقدامات شامل تھے۔

ورکشاپ کے دوران چھتیس گڑھ اور اڈیشہ کے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ اضلاع میں تعاون پر مبنی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے ’کوآپریٹو گروتھ اسٹوری—نارتھ ایسٹرن اسٹیٹس اینڈ ایسٹرن فرنٹیئر‘ کے موضوع پر سیشن منعقد کیا گیا۔ اس کے علاوہ ’کوآپریٹو بینکاری شعبے اور کریڈٹ کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے اقدامات، کاروبار میں تنوع کو فروغ دینا، نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا، رسک مینجمنٹ کو بہتر بنانا اور صارفین کا اعتماد بڑھانا‘ کے موضوعات پر بھی سیشن منعقد کیے گئے۔

نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹس لمیٹڈ (این سی ای ایل)، نیشنل کوآپریٹو آرگینکس لمیٹڈ (این سی او ایل) اور بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ (بی بی ایس ایس ایل) جیسے قومی کوآپریٹو اداروں کے ذریعے بنیادی سطح کے کوآپریٹو اداروں کو بااختیار بنانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بات چیت میں کوآپریٹو اداروں کی انتظامی اور کاروباری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، اراکین کے لیے فوائد میں اضافہ کرنے اور پائیدار ترقی کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ملٹی پرپز پرائمری کوآپریٹیو  (ایم پی پی) اور ملٹی پرپز کوآپریٹو کمیٹیوں (ایم سی سی) کے ذریعے ابھرتی ہوئی ویلیو چینز کا بھی احاطہ کیا گیا۔

*****

UR-4876

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2321080) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी